37سالہ اقتدار کا خاتمہ زمبابوے کی غربت سے بے پرواہ موگابے

93سالہ زمبابوے صدر رابرٹ موگابے نے ملکی صدر کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ۔انہوں نے 1970 میں برطانوی تسلط سے آزادی کے لئے جدوجہد شروع کی ، 1980 میں زمبابوے کو آزادی ملنے کے بعد اقتدار سنبھالا اور 37برس اقتدار میں رہنے کے بعد استعفیٰ دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی 37 سالہ حکمرانی کا اختتام ہوگیا۔
صدر رابرٹ موگابے نے اپنی آخری تقریر میںمخالفین کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو تسلیم کیا اور کہا کہ ملکی صورتحال کو دوبارہ معمول پر لانے کی ضرورت ہے۔وہ بحیثیت فوج کمانڈر ان چیف فوج کے تحفظات کو سمجھ سکتے ہیں اور انہیں جلد دور کیا جائے گا۔حکمراں جماعت زمبابوے افریقن نیشنل یونین پیٹریاٹک فرنٹ ( زانو پی ایف ) نے اعلان کیا تھا کہ اگر صدر موگابے نے استعفیٰ نہیں دیا تو پارلیمنٹ سے ان کا مواخذہ کیا جائے گا جبکہ ان کے مخالفین نے بھی سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا تھا۔
پس منظر
اس سے قبل حکمران جماعت نے صدر موگابے کو پارٹی کی صدارت سے ہٹا دیا تھا ۔یاد رہے کہ صدر موگابے کی جانب سے نائب صدر ایمرسن مننگاوا کی برطرفی کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا تھا جس کے بعد فوج نے 15 نومبر کو اہم سرکاری اداروں کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے صدر موگابے کو ان کی رہائش گاہ تک محدود کر دیا تھا۔ایمرسن مننگاوا کو 93 سالہ صدر موگابے کے بعد صدارت کا ممکنہ امیدوار سمجھا جاتا تھا تاہم موگابے اپنی اہلیہ کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔
کسی کی دولت پر عیاشی کرنا بہت آسان کتنا ہے، اس کا اندازہ موگابے اور اس کے اہل خانہ کی شاہ خرچی سے لگایا جاسکتا ہے۔ جانے کون سی بے حسی ہے کہ اقتدار کا نشہ انسان کو دوسروں کے درد کو سمجھنے کا احساس ختم کردیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیاست داں اپنی خوشی کے لئے لاکھوں روپے خرچ کردیتے ہیں اور انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ ان پیسوں کو بچا کر ہزاروں غریبوں کا پیٹ بھر سکتے ہیں۔کچھ سیاست داں اپنی سالگرہ کو خوب ذوق و شوق سے مناتے ہیں۔اس موقع پر لاکھوں روپے پانی کی طرح بہا دیئے جاتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ملائم سنگھ یادو کی سالگرہ تقریب تنقید کا نشانہ بنی۔اس سے پہلے مایا وتی نے بھی اپنی ایک سالگرہ تقریب جوش و خروش سے منائی تھی اور اس موقع پر انہیں پانچ کروڑ کی مالا پیش کی گئی تھی۔یہ سلسلہ دنیا بھر کے سیاست دانوں میں پایا جاتا ہے۔
حال ہی میں زمبابوے کے صدر موگابے کے بارے میں یہ خبرآئی تھی کہ انہوں نے اپنی اس تقریب پر جتنا خرچ کیا ہے اس سے زمبابوے کے لاکھوں لوگوں کا پیٹ بھرا جاسکتا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ زمبابوے جو کہ افریقہ کے ان ملکوں میں سے ہے جہاں فاقہ کشی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور تقریباً30لاکھ افراد شدید قحط کے شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق جنوبی افریقہ کے چار ممالک میں ایک کروڑ لوگ فاقہ کشی کا سامنا کررہے ہیں اور انہیں انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ ان ممالک میں زمبابوے شامل ہے۔ اگر بین الاقوامی برادری نے ہنگامی امداد فراہم نہ کی تو حالات سنگین ہوسکتے ہیں۔ حالات کے سنگین ہونے کی کئی وجوہات ہیں جیسے اقتصادی پالیسیاں اور زمبابوے میں حکومت کی متنازعہ زراعتی پالیسیاں۔ملک میں مکئی ،گیہوں اور چاول کی قیمت جوکہ افریقہ میں عوام کی مقبول غذا ہے قحط کی وجہ سے کافی بڑھ گئی ہے۔یہ ملک کی غربت کا حال ہے جہاں تقریباً 30 لاکھ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے جس کے لئے کم سے کم ڈیڑھ ارب ڈالر کی ضرورت ہے ،جس کے لئے اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے اپیل کر رکھی ہے۔ لیکن جب آپ وہاں کے برسراقتدار کی ٹھاٹ باٹ کو سنیں گے تو حیران رہ جائیں گے کہ جس ملک کے لوگ فاقہ کشی کا سامنا کرہے ہیں اس ملک کے صدر رابرٹ موگابے نے اپنی 92 ویں سالگرہ پرتعیش طریقے سے منانے پر تقریبا 8 لاکھ ڈالر کی رقم خرچ کردی۔زمبابوے کے عمر رسیدہ رہنما کے ساتھ تقریب میں ان کی اہلیہ گریس بھی موجود تھیں۔ انہوں نے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں 92 غبارے فضا میں چھوڑ کر تقریب کا آغاز کیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ زمبابوے میں غربت اپنے عروج پر ہے۔یہ غربت حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے ہے۔ یہاں کی زمین کو قدرت نے کئی قیمتی وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ 1980 میں یہاں سے پیتل کا اخراج 27ہزار ٹن ، کچے نکل کا اخراج 15ہزار ٹن، سونا367 کلو گرام ، کروم 553 ہزار ٹن اخراج کیا گیاتھا۔ اس اخراج میں یوروپین ممالک کا تعاون حاصل تھا،مگر موگابے کے اقتدار میںآنے کے بعد یورپین ممالک خاص طور پر امریکہ سے دوری ہوگئی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اخراج کے اوسط میں کمی آتی گئی۔ایک طرف قدرتی وسائل کے اخراج میں کمی اور دوسری طرف اقتصادی پالیسی میں کوتاہی نے زمبابوے کو قحط سالی کی سنگین حالت تک پہنچا دیا ہے ۔

 

 

 

 

 

 

موگابے کا عروج و زوال
رابرٹ موگابے نے تعلیم ایک مشن اسکول سے حاصل کی اور پھر اسکول ٹیچر بننے کی تربیت مکمل کرنے کے لیے انھوں نے فورٹ ہرارے نامی یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی۔ یہ وہی یونیورسٹی ہے جہاں نیلسن منڈیلا بھی گئے۔پھر ان کی ملاقات سیلی ہیفرون سے ہوئی جن سے انھوں نے 1961 میں شادی کر لی۔ اس وقت وہ سیاسی طور پر موگابے سے زیادہ فعال تھیں اور ابھی تک موگابے سیاہ فام قوم پرستوں میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ بعد میں رھوڈیشیا کی حکومت نے انھیں قید کر دیا، جس دوران ان کا بیٹا انتقال کر گیا لیکن موگابے کو آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
1974 میں جیل سے رہائی کے بعد رابرٹ موگابے اس وقت لوگوں کی نظروں میں آنے لگے جب انھوں نے سفید فام اقلیتی حکومت کے خلاف گوریلا جنگ میں جوشوا نکومو کا ساتھ دینا شروع کیا۔برطانیہ کی میزبانی میں منعقد ہونے والے امن مذاکرات کے بعد دونوں رہنما ہتھیار پھینکنے پر متفق ہو گئے۔ دونوں نے دیگر محب وطن رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنایا جس نے 1980 کے انتخابات میں زبردست برتری حاصل کر کے مغربی دنیا کو حیران کر دیا۔
رابرٹ موگابے ان انتخابات سے محض چھ ہفتے قبل ہی دس سال کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچے تھے۔ انھوں نے تمام فریقوں کو ملا کر اپنی حکومت تشکیل دی اور وزیر اعظم بن گئے۔اقتدار کے پہلے سال میں انھوں نے دنیا بھر سے بڑے بڑے رہنما کو اپنے ہاں خوش آمدید کہا، جن میں کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو بھی شامل تھے جنھوں نے 1986 میں زمبابوے کا دورہ کیا۔
رابرٹ موگابے کے برطانیہ کی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور شروع شروع میں موگابے نے اپنے سابقہ سفید فام دشمنوں کے ساتھ مفاہمت کی پالسی اپنائی اور ان کے معاشی مفادات کو تحفظ بھی دیا۔اپنی پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد انھوں نے 1996 میں اپنی ٹائپسٹ گریس ماروفو سے شادی کر لی۔ شادی سے پہلے ان دونوں کے ہاں دو بچے پیدا ہو چکے تھے۔1990 کے عشرے میں ہی رابرٹ موگابے نے ملک کو کانگو میں جاری جنگ میں جھونک دیا جس سے زمبابوے کی معیشت کو خاصا نقصان ہوا۔
1997 میں ٹونی بلیئر کی جانب سے زمبابوے میں زرعی اصلاحات کے ایک پروگرام میں شرکت سے انکار اور پھر تین سال بعد ایک نئے آئینی ریفرنڈم میں شکست کے بعد موگابے کے حامی مسلح گروہوں نے سفید فام لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔یہ وہی وقت تھا جب مسٹر موگابے نے قیمتی ڈیزائنر سوٹ ترک کر کے شوخ رنگوں کے لباس پہننا شروع کر دیے اور انتخابی مہم کے دوران ان کا یہ نیا انداز بہت مشہور ہوا۔اس وقت تک رابرٹ موگابے کی شخصیت ایک مذہبی رہنما یا پیر جیسی بن چکی تھی اور ہر سال حکمراں جماعت ان کی سالگرہ کی تقریبات بڑے دھوم دھام سے منانے لگی۔
سالگرہ کی ان تقریبات میں بڑے بڑے کیک کاٹے جاتے تھے۔ اس کیک میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ رابرٹ موگابے کتنے افریقی ممالک میں سفید فاموں کی بالادستی کے خلاف جد وجہد کر رہے ہیں۔لیکن خود ان کے ملک، خاص طور پر شہری علاقوں میں، ان کی مقبولیت مسلسل کم ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ 2008 کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ بعد میں ایم ڈی سی پارٹی کے انتخابات سے باہر ہو جانے کی وجہ سے انھیں آخری مرحلے میں کامیاب مل گئی۔اس کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے کے بعد موگابے کی نظر مشرق کی طرف ہو گئی۔ انھوں نے علاج معالجے کے لیے بھی ایشائی ممالک کو جانا شروع کر دیا جہاں سنگاپور اور ہانگ کانگ میں ان کی بیٹی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔
چار سال تک حکومت میں دوسری جماعتوں کی شراکت کے بعد ان کی جماعت زانو پی ایف 2013 کے انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ان کی جماعت کا نعرہ ملک کی اپنی روایات اور معیشت پر انحصار تھا۔ لیکن پھر 2016 میں زر کی کمی کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔
لیکن ان ہنگامہ خیز دنوں میں ملک کی افواج ہمیشہ موگابے کے ساتھ رہیں، تاوقتیکہ ان کی اہلیہ کی اقتدار کی خواہش اتنی زیادہ ہو گئی کہ فوج کے لیے ان کا ساتھ دینا ممکن نہ رہا اور پھر 15 نومبر 2017 کو فوج نے مسٹر موگابے کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ٹھان لی۔
فوج بے چین تھی کہ مسٹر موگابے کو یہ احساس نہیں کہ اب ان کی حکومت کے دن واقعی ختم ہو چکے ہیں۔ اس دوران موگابے نے معمول کی مصروفیات جار رکھیں، تاہم گریجویشن کی تقریب میں کرسی پر سو جانے کا مطلب یہی تھا کہ اب ان کی عمر ان کا ساتھ نہیں دے رہی۔لیکن پھر ان کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی اسمبلی میں پیش ہو گئی اور یوں مظاہروں کے درمیان اس 93 سالہ رہنما نے 21 نومبر کو استعفیٰ دے دیا۔ یوں موگابے کا 37 سال پر محیط اقتدار اپنے اختتام کو پہنچا اور ملک کی سڑکوں پر لوگ جشن منانے لگے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *