اے ایم یو:فیکلٹی آف میڈیسن میں ڈاکٹر جیوتسنا نائر کا خصوصی لیکچر

JNMC-Faculty
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو)کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کی فیکلٹی آف میڈیسن میں ’علیگ اکیڈمک اِنرچمنٹ پروگرام‘ کے زیر اہتمام ڈاکٹر جیوتسنا نائر (ایم ڈی) کے خصوصی لیکچر کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع تھا : ’’آٹزم اور نشو و نما کی دیگر بیماریاں: کلینیکل نقطۂ نظر‘‘۔کمبائنڈ کلینیکل میٹ میں میڈیکل کالج کے کئی اساتذہ اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے شرکت کی۔ آخر میںآٹزم کے مریضوں میں خودکشی کی رجحانات، ڈپریشن کا خطرہ اور دیگر متعلقہ موضوعات پر سوالات کئے گئے اور سائنسی طریقہ سے گفتگو کی گئی ۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 18؍مہینے کی عمر سے ہی آٹزم کی علامتیں ظاہر ہوجاتی ہیں اس لئے اس عمر کے بچوں کی اسکرینننگ اس پہلو سے کی جانی چاہئے۔ آرتھوپیڈکس شعبہ کے پروفیسر خالد شیروانی نے کلینیکل میٹ کو سراہا اور آٹزم کے مریضوں کے تعلق سے اپنے طبی تجربات بیان کئے۔ انھوں نے کہاکہ والدین عموماً اس بیماری کی علامتوں سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے معقول توجہ نہیں دے پاتے۔
شعبۂ دماغی امراض کے پروفیسر سہیل اعظمی نے کہاکہ آٹزم کے 70فیصد مریضوں کو قبض، بھوک نہ لگنے کی شکایت یا ڈپریشن وغیرہ میں سے کم سے کم ایک شکایت رہتی ہے، جب کہ 40؍فیصد مریضوں میں دو یا اس سے زائد شکایات رہتی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ایسے مریضوں کی معقول نگہداشت کے لئے دماغی امراض کے ماہر، ماہر نفسیات، ماہر امراض اطفال اور اکیوپیشنل و اسپیچ تھیریپسٹ کی ٹیم کو مل کر علاج کرنا ہوتا ہے۔ اس سے قبل ڈین فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر ایس سی شرما نے مہمان مقرر ڈاکٹر جیوتسنا نائر کا خیرمقدم کیاجب کہ ’علیگ اکیڈمک اِنرچمنٹ پروگرام‘ کے کوآرڈنیٹر پروفیسر سید ضیاء الرحمان نے ان کا تعارف پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اپنے ہی ایک ایلومنائی کو فیکلٹی آف میڈیسن میں مدعو کرکے خوشی ہورہی ہے جو اس وقت سائیکیاٹرک پروگرام، بریل بیہیویئر ہیلتھ، مِسوری، امریکہ کی ڈائرکٹر ہیں۔ انھوں نے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور اور ڈاکٹر اشرف خاں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ آخر میں پروفیسر ایم یو ربّانی نے مہمان مقرر کا شکریہ ادا کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *