قومی پالیسی کو انتخابی نظریہ سے مت دیکھئے

آخری مرحلے میں بھی گجرات میں انتخابی سرگرمی زوروں پر ہے ۔ہر روز برسراقتدار اور اپوزیشن کے درمیان ہر طرح کی باتیں ہورہی ہیں۔بی جے پی کا اپنا نظریہ ہے کہ نریندر مودی کی مقبولیت انتہائی حد پر ہے اور گجرات چونکہ ان کا ہوم اسٹیٹ ہے، وہ 12سال وہاں وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں، اس لئے انہیں لگ رہا تھا کہ گجرات میں الیکشن جیسی کوئی چیز نہیں ہوگی۔انہیں لگ رہا تھا کہ یہ تو الیکشن ہے ،وہ جسے نامزد کر یں گے، وہ آسانی سے جیت جائے گا۔ اس لئے وہ 182 ممبروں والی اسمبلی میں 150 سیٹیں جیتنے کا نعرہ لگا رہے تھے لیکن جیسے ہی سرگرمی شروع ہوئی، معاملہ بدل گیا۔ بی جے پی سکتے میں آگئی۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے،کیوں؟اس لئے کہ ایک تو عوام کی خواہشات بہت بڑھ گئی ہیں۔ کسی بھی سرکار کے لئے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا مشکل ہے۔ ادھر کسان پریشان ہیں۔ شہری لوگ بھلے ہی نوٹ بندی کی کتنی ہی تعریف کریں، لیکن کسان جانتے ہیں کہ نوٹ بندی کی وجہ سے انہیں کتنی مشکلوں کا سامنا کرناپڑا۔ جی ایس ٹی بھلے ہی کسانوں کو متاثر نہ کرے، لیکن چھوٹے کسان اور دکاندار اس سے پریشان ہوئے ہیں۔کل ملا کر دیہی علاقوں کا تجربہ یہ ہے کہ بی جے پی سرکار قابل، ثابت نہیں ہوئی۔
اسی کے بعد الیکشن آگیا ۔ان کی تقریروں کا اگر آپ تجزیہ کریں تو سب سمجھ میں آجائے گا۔ پہلے یہ وکاس کی بات کررہے تھے، گجرات کو وکاس کا ماڈل بتا رہے تھے۔ اب مودی جی خود ہر جگہ جاکر بولتے ہیں کہ کانگریس نے تعاون نہیں کیا اس لئے گجرات کا وکاس نہیں ہو سکا۔ یہ تو حیرانی کی بات ہے ۔ کانگریس پر الزام لگانا ٹھیک ہے ،کیونکہ سیاست میں الزام تراشی ہوتی رہتی ہے۔لیکن یہ کہنا کہ گجرات کا وکاس ہی نہیں ہوا، یہ بات تو گلے سے نیچے نہیں اترتی۔

 

 

 

 

 

بی جے پی کی ایک دوسری بیماری ہے، ہر بات میں جواہر لال نہرو کو سامنے لانا۔ جواہر لال نہرو کاتو 53 سال پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ ان کا نام لینے کا کیا فائدہ۔ کانگریس بھی جواہر لال نہرو کی حصولیابیوں کو نہیں گناتی ہے،کیونکہ جواہر لال نہرو تاریخ میں چلے گئے۔ انہوں نے تو 17 سال راج کیا اور آج جتنے جمہوری ادارے ہیں،سب انہی کے قائم کردہ ہیں اور انہی کی دین ہے کہ ہم پاکستان نہیں ہوئے۔ پاکستان اور ہندوستان ایک ہی دن آزاد ہوئے تھے لیکن پہلے 11 سال میں ہی پاکستان نے 7 وزیراعظم بدل دیئے۔ 1958 میں ایوب خاں پاکستان کے فوجی سربراہ تھے، انہوں نے کہا کہ آپ کے بس کا نہیں ہے، ہم لوگ راج کریں گے۔ اتنے سال ہو گئے، آج تک وہ لوگ پریشانی میں ہیں۔ وہاں جمہوریت کا بس نام ہوتا ہے، سرکار چنی جاتی ہے، لیکن دخل فوج کا رہتا ہے۔ یہ سب ہندوستان میں نہیں ہے اور یہ نہرو جی کی دین ہے۔ ان کے بعد شاستری جی آئے اور ان کی حادثاتی موت کے بعد پھر اندرا گاندھی 16سال وزیراعظم رہیں۔ ایمرجینسی ان کی ایک بھول تھی، لیکن الیکشن کراکر انہوں نے وہ بھول سدھار دی۔
حال میں 19نومبر کو اندرا گاندھی کا صد سالہ یوم پیدائش منایا گیا لیکن جس شکل میں ملک میں اسے منایا جانا چاہئے تھا ،ویسے نہیں منایا گیا کیونکہ بی جے پی حکومت میں ہے۔وہ ہر چیز اور ہر پالیسی کو انتخابی چشمے سے دیکھتی ہے۔ یہ کوئی صحت مند اشارہ نہیں ہے، یہ بہت اچھی چیز نہیں ہے۔ ہر پانچ سال میں انتخابات ہوتے ہیں۔ کبھی کسی ریاست کے، کبھی کسی اور ریاست کے، لیکن آپ نیشنل پالیسی کو انتخابی نظریئے سے دیکھیں گے تو آپ کے خود کا تجزیہ غلط ہوگا ،خود کی سوچ غلط ہوگی، پالیسیاں غلط ہوں گی اور نتائج غلط ہوں گے۔وہی ہو بھی رہا ہے۔
ساڑھے تین سال ہو گئے مودی سرکار کو آئے ہوئے۔ڈھائی سال تک انہوں نے ٹھیک سے سرکار چلائی۔ تھوڑی تھوڑی تنقید کرتے تھے کانگریس کی وہ، لیکن بعد میں وہ سمجھ گئے کہ سرکار کا طریقہ کار ہی یہی ہے۔نوٹ بندی کیوں کئے، یہ کسی کو پتہ نہیں، ان کی پارٹی والوں کو بھی نہیں پتہ۔لیکن نوٹ بندی والا نشانہ چوک گیا۔ مودی جی میں عاجزی نہیں ہے،یہ ان کی شخصیت کی کمی ہے۔کوئی بھی آدمی ٹینس میچ کھیلتا ہے تو جیتنے کے لئے کھیلتا ہے لیکن ہار کی تیاری بھی رہتی ہے، کیونکہ کوئی ایک ہی جیت سکتا ہے ۔ انتخابات بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔آپ الیکشن لڑتے ہیں، اگر ہار گئے تو ہار گئے۔ یہ ہارنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لئے گجرات انتخابات میں ان کی زبان تیز ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کانگریس مجھے پسند نہیں کرتی، کیونکہ میں غریب خاندان سے آیا ہوں اور میں چائے بیچتا تھا، ملک کو تو نہیں بیچا میں نے۔
کیسی ستم ظریفی ہے۔آپ پہلی بار تو پاور میں آئے ہیں۔ آپ ملک کو بیچتے یا نہیں بیچتے، یہ تو تب پتہ چلتا جب آپ پاور میں ہوتے۔ عوام نے آپ کو کبھی نہیں چنا۔ ایک بار بی جے پی کی سرکار آئی تھی، جسے اٹل بہار ی واجپئی جیسے سوجھ بوجھ والے وزیر اعظم چلا رہے تھے۔ ملک بیچنے جیسی باتیں تو دور ، ان کے ایک بیان میں بھی ہلکا پن نہیں ملے گا آپ کو ۔ 6سال میں جتنی تقریریں اٹل جی نے کئے ہیں اور ساڑھے تین سال میں جتنی تقریریں مودی جی نے کئے ہیں، دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اٹل جی ایک اسٹیٹس مین کی طرح ، ایک لیڈر کی طرح بولتے تھے ،وہیں مودی جی ضلع سطح کے ایک کارکن کی طرح بولتے ہیں۔
ایک نئی بات سامنے آئی ہے کہ ان کا چائے بیچنا بھی ایک فالس ہے ۔کیونکہ وڈنگر اسٹیشن پر ٹرین ہی نہیں رکتی تھی، وہاں چائے بیچنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ کانگریس کے خود کے وزیر اعظم جیسے نرسمہا رائو اور منموہن سنگھ بہت غریب گھروں سے آئے ہیں۔ان کا خاندانی پس منظر بہت عمومی رہاہے ۔لیکن منموہن سنگھ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں غریب تھا۔ غریبی ایک سچائی ہے لیکن وہ اپنی محنت اور لگن سے ماہر اقتصادیات بن گئے ۔ 10سال وزیراعظم رہے ۔نرسمہا رائو سیڑھی در سیڑھی وزیراعظم عہدہ تک پہنچ گئے۔ غریبی کا تمغہ پہن کر گھومنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔آج کی نسل ان باتوں سے بہت دور چلی گئی ہے۔ اب تو گجرات میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم نہرو خاندان کے بارے میںبہت سن لئے، اب آپ بتائیے کہ آپ نے کیا کیا اور کیا کرنے جارہے ہیں ہمارے لئے۔ اب تو یہ خود ذات پات میں پڑ گئے ہیں۔ انہوں نے آنندی پٹیل کو ہٹا دیا ۔وہ پاٹیدار تھیں، کیوں ہٹایا ان کو ؟ان کے یہاں تانا شاہی چلتی ہے۔ آنندی بین کو ہٹا کر انہوں نے ایسے آدمی کو وزیراعلیٰ بنایا جس کی کوئی عوامی مقبولیت ہی نہیں ہے۔ اب بات الٹی پڑ رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

اب آپ دیکھئے کہ جو صحافی گجرات جاکر آئے ہیں، وہ بتا رہے ہیں کہ ابھی بھی ان میں خود اعتمادی بہت ہے لیکن کیسی خود اعتمادی ، کیا یہ خود اعتمادی کی زبان ہے؟خود اعتمادی والے لوگ گالی گلوچ نہیں کرتے۔ راہل گاندھی کو لوگوں نے لیڈر بنا دیا، جسے سب مان کر چل رہے تھے کہ وہ وزیر اعظم بننے کے لائق نہیں ہیں،ان میں قائدانہ صلاحیت نہیں ہے،و ہ تقریر اچھی نہیں کرتے۔ایسا نہیں ہے کہ راہل گاندھی میں اچانک کوئی خوبی آگئی ہے۔ جو لوگ بی جے پی سے ناراض ہیں، ان کی حکومت سے ناراض ہیں،وہ راہل کی ریلیوں میں جارہے ہیں۔ہاردک پٹیل یا جو اور نوجوان ہیں، وہ سب راہل کی طرف دیکھ رہے ہیں،کیونکہ بی جے پی سے بہت زیادہ مایوسی ہوئی ہے ان کو۔ جس ہمدردی کے ساتھ وہ 2014 میں اقتدار میں آئے تھے، وہ اب نہیں دکھائی دے رہا۔ بی جے پی کو 2014 میں کل 31فیصد ووٹ ملے۔ اس میں سے 20-22 فیصد ووٹ ان کے کوسپورٹر جیسے سنگھی نظریات اور مسلم مخالف ذہنیت والے لوگوں کا تھا۔ 8-10 فیصد جو اضافی ووٹ ملے ،وہ اس امید میں کہ آپ کوئی بڑا کام کرنے والے ہیں،نوکریاں دینے اور اقتصادی حالت کو ٹھیک کریں گے۔ اب یہ ان کو بھی پتہ ہے کہ 2019 میں تو وہ ووٹ گئے۔ صرف کور ووٹ بچے گا اور کور ووٹ تو پہلے بھی ساتھ تھا۔
آر ایس ایس تو بی جے پی کو ہمیشہ سے حمایت دیتی آئی ہے۔یہ سمجھ گئے ہیں کہ ایسے چلے گا نہیں۔ نیا کچھ ان کے پاس ہے نہیں۔ اب ایک نئی بات آئی ہے کہ راہل گاندھی تو کوئی نئی پالیسی نہیں لائے جیسے مودی جی لائے۔یہی توکھوٹ ہے ۔اتنے پرانے ملک میں روز نئی پالیسی کی ضرورت نہیں ہے۔ جو پرانی پالیسیاں ہیں ،انہی کو صحیح طریقے سے لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی نے کہا تھا کہ یو پی اے کے دور حکومت میں گھوٹالے ہوئے۔ اب انہیں چاہئے تھا کہ صاف ستھری سرکار چلائیں بغیر گھوٹالوں کے ۔ بدقسمتی سے وہ بھی نہیں ہو رہاہے۔ کانگریس صدر کے داماد رابرٹ واڈرا کسی کاروباری بے ضابطگی میں پائے گئے ،تو ادھر امیت شاہ کے بیٹے بھی ویسے اسی طرح سامنے آئے۔ سسٹم تو وہی ہے، سبھی کی انسانی کمزوریاںوہی ہیں۔ ایسے معاملوں پر اگر یہ جلد سے کنٹرول نہیں کریں گے تو میں نہیں سمجھتا کہ ملک کا کوئی بھلا ہوگا۔
الیکشن کوئی ہارے یا جیتے ،اس سے مجھے کوئی مطلب بھی نہیں ہے۔ میں کانگریسی نہیں ہوں۔ لیکن آپ کو یہ اندازہ کرنا چاہئے کہ آپ کے گڑھ میں اچانک بدلائو کیوں آگیا؟اندر جھانکئے ، آئینہ دیکھئے، اپنی غلطیوں کو سدھاریئے ، ابھی ڈیڑھ سال ہے آپ کے پاس ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *