ملک کے طلباء یونین انتخابات بی جے پی کے لیے آئینہ ہیں

اس ملک میںبہت لوگ آئے بابر سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک۔انگریز کے وائسرائے۔ وہ سارے لوگ خود انڈین ہوگئے۔ یہاںکی کچھ عادتیں انھوں نے لے لیں۔ ان کی کچھ عادتیں ہم نے لے لیں۔ لیکن اس ملک کا اپنا ایک وقار ہے، طاقت ہے۔ آج اچانک کوئی سوچے کہ اس ملک کو بدل دیں گے تو یہ غلط ہے۔ میںہندو ہوں۔ میںپھر بول رہا ہوں کہ میںہندو ہوں اور سب پوجا پاٹھ منتروں میں یقین کرنے والا ہندو ہوں۔ لیکن کہیںبھی میرے ہندو درشن (فلسفہ) میں نہیںلکھا ہوا ہے کہ دوسروں کے دھرم کی، مذہب کا جو طریقہ ہے، اس میں ہم دخل دیں۔ اس پر ہم تبصرہ کریں۔ یہ ہمارا کام نام نہیںہے۔ یہ جو اچانک ایک ماحول بن گیا ہے کہ ملک میںجو ہندو ہے،وہ صحیح ہے، جو پاکستان کے خلاف ہے، وہ صحیح ہے، جو آرمی کا اپاسک ہے، وہ صحیح ہے۔ یہ کہاں جارہے ہیں ہم لوگ؟ جو چیز غیر ملکی ہے،وہ صحیح ہے۔ بلیٹ ٹرین جاپان سے آرہی ہے تو وہ ٹھیک ہے۔ اب کیا بولوںمیں؟ میںصنعتی دنیا سے آتا ہوں لیکن صنعتی دنیا کے جتنے ادارے ہیں یعنی فکی، ایسوچیم، سی آئی آئی ایم سب ڈر کے بیٹھ گئے ہیں۔ جو پالیسیاں انڈسٹری کے خلاف ہیں،اس کے بارے میں بھی بہت کچھ نہیں بول رہے ہیں کہ کم سے کم یہ تو مت کریے۔ اب سرکار نے ایک نئی پالیسی نکالی ہے۔ جن کمپنیوں پر بہت دین داری ہے، ان کو بند کرکے نیلام کردیجئے۔ نیلامی انڈیا میںبہت ہی خراب لفظ ہے۔ امریکہ میںخراب لفظ نہیںہے۔ نیلامی لاء لانے کی وجہ سے ورلڈ بینک نے سرکار کو شاباشی دی۔

 

 

 

 

 

 

اِز آف ڈوئنگ بزنس رینکنگ میں ہم 130 سے 100 نمبر پر آگئے۔ امریکہ تو چاہے گا کہ ہمارا پورا ملک نیلام ہوجائے اور ان کے لوگ آکر خرید لیں۔ ان کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ ہماری کمپنیوں کی قیمت ان کے پیسے سے بہت کم ہے۔ سرکار کو اپنی پالیسی بتانی چاہیے۔ ایک کمیشن بنا کر اعلان کرنا چاہیے کہ ہمیںصنعت کاری کرنا ہے۔ غیر ملکی آکر ہماری کمپنی خرید کر کریں گے کیا؟ ہمارے اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا، اسکل ڈیولپمنٹ انڈیا کا کیا ہوگا؟ 50 سال سے ایک آدمی کام کررہا ہے، اس کا کیا ہوگا؟ اس طرح، ہم لوگ غلامی کی طرف جارہے ہیں۔ 1947کے بعد بہت مشکل سے لوگوں نے اناج پیدا کیا۔ کافی محنت کے بعد ہم نے ایک مقام حاصل کیا۔ آج اچانک مودی جی کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوا، اتنے سالوںتک۔ کانگریس پارٹی سب پیسہ کھاگئی۔ ملک کو بیچ دیا، نہرو ایسا ہے، نہرو ویسا ہے۔ یہ غلط ہے۔ کاٹھ کی ہانڈی ایک بار ہی چڑھتی ہے، بار بار نہیں چڑھتی۔ گجرات ایک اشارہ ہوگا۔ بی جے پی کی ہمت ہے تو گجرات میںای وی ایم میں دھاندلی کر کے دیکھے۔طلبہ سڑ ک پر آجائیںگے، آپ کی سرکار بننے نہیں دیں گے۔ پولیس فائرنگ آپ کو ہر شہر میںکرنی پڑے گی۔ ملک کا مزاج بدل چکا ہے۔ بہت خطرناک دور سے ہم لوگ گزررہے ہیں۔ بی جے پی کے سارے وزرائے اعلیٰ سمجھتے ہیں کہ ان کی کامیابی بہت بڑی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے اقتدار میںآنے کے بعد سے اترپردیش میںریپ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ میںنہیں کہتا ہوںکہ اس میں ان کا کوئی ہاتھ ہے لیکن یہ بتاتا ہے کہ اس حکومت پر ان کی پکڑ نہیںہے۔ اگر بی جے پی کو ڈیڑھ سال میںخود کو بچانا ہے تو وزیر اعلیٰ بدلنا ہوگا۔ جو آدمی کام جانتا ہے، اس کو ذمہ داری دیجئے۔مرسڈیز گاڑی آپ خرید سکتے ہیں۔ ڈرائیور اناڑی ہے تو ایکسیڈنٹ ہوگا ہی۔ یوپی خطرے میں ہے اور لوکل باڈیز کے نتائج اس کا اشارہ ہیں۔
مرکز کی بی جے پی سرکار کو صرف 31 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس میں سے 20-22 فیصد ان کا کور ووٹ ہے۔ باقی لوگوں نے اس لیے ووٹ دیے تھے کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ نوکریاںدیںگے، یہ کریںگے، وہ کریںگے۔ وہ ووٹ اب 2019میںنہیںملنے والے ہیں۔ آپ واپس اپنی جگہ پر آجائیںگے۔ کیا رزلٹ ہوگا نہیںپتہ؟ کانگریس پارٹی اگر آرگنائز نہیںکرپائے گی تو اسے پھر ہار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہر اسٹیٹ میںالگ الگ پارٹیاںہیں، وہ جیتیںگی۔ لیکن جو 2014 میںہوا ، وہ تو دوبارہ ہونے کا سوال ہی نہیںہے۔ 2014 کا الیکشن فیئر تھا ،اس لیے آپ پاور میں آگئے۔ اگریہی ہتھکنڈہ کانگریس کرتی تو کیا ہوتا، پتہ نہیں۔ اپوزیشن کے لیڈروں کو ای وی ایم مدعے پر آل پارٹی میٹنگ کرنی چاہیے۔ انتخابی عمل افریقی ملکوں کی طرح نہیںہونا چاہیے۔

 

 

 

 

1962 میںمیرے والد صاحب نے کتاب لکھی تھی ’سماجواد ایک ادھین‘۔ وہ تو صنعتی گھرانے کے ہیڈتھے۔ انھوںنے لکھا کہ اخباروں کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے، کیونکہ اخبار تو ایڈمنسٹریٹرس کے ہاتھ میںہے، پبلشر کے ہاتھ میں ہے اور وہ سرمایہ دار ہیں۔ اخبار ہونا چاہیے صحافیوں کے ہاتھ میں۔ اگر بی جے پی اتنی مقبول ہے تویونیورسٹیوںکے الیکشن میںکیوںہار رہی ہے؟ ابھی آٹھ یونیورسٹیوں کے الیکشن رزلٹ آئے۔ گجرات میںپوری طرح ہار گئی۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد ہار گئی۔ یہ وارننگ ہے۔
اس ملک کے لیے بی جے پی اہم پارٹی ہے۔ کانگریس مکت بھارت بول کر اصل میںآپ چاہتے ہیںکہ لوک تنتر مکت بھارت ہو۔ جہاںاپوزیشن نہیں ہوگا ، وہاں جمہوریت کیسے بچے گی؟ راہل گاندھی، جن کو میںنہیںسمجھتا تھا کہ بہت ذہین آدمی ہیں، نے ایک بیان دیا کہ ہم نہیں چاہتے کہ بی جے پی مکت بھارت ہو۔ بی جے پی رہے۔ وہ اپنا موقف رکھے، ہم اپنا موقف رکھیںگے۔ یہ جمہوریت کی بات ہوئی۔ لیکن بی جے پی تو شروع سے کانگریس مکت بھارت کی بات کررہی ہے۔ مانو نہرو خاندان سے ان کی کوئی آبائی دشمنی ہو۔ وہ بار بار نہرو کا نام لے رہے ہیں، جو 53 سال پہلے وفات پاچکے ہیں۔ آر ایس ایس کیا کہہ رہا ہے، یہ وہ جانے یا بھگوان جانیں۔ ہندو فلسفہ اتنا وسیع ہے،اتنابڑا ہے کہ یہ لوگ ہندوتو کی بات کرکر کے ہندو فلسفہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وسودیو کٹمب کی بات کرتے ہوئے آپ مسلمان، عیسائی کے بارے میںکیا بولتے رہتے ہیں؟ ہم لوگ ہمارے ہی درشن کو ، ہمارے ہی دھرم کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *