ہاردک کی ناتجربہ کاری ، کانگریس کی خود اعتمادی اور بی جے پی کی تشویش؟

گجرات میں انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ یہاںواقعات روزانہ تیزی سے بدل رہے ہیں۔ بی جے پی اور کانگریس ایک دوسرے کو ٹکر دینے کے لیے کمر کسے ہوئے ہیں۔ ہاردک پٹیل اس الیکشن میںایک اہم نام کے طور پر ابھرے ہیں۔ ہاردک نوجوان ہیںلیکن سیاست میںصرف نوجوان ہونا ہی کافی نہیںہوتا۔ اگر آپ سیاست میں ہیںتو سیاسی سمجھ کا ہونا بہت ضروری ہے اور سیاسی سمجھ تجربہ سے ہی بنتی ہے۔ یہ باتیںمیںاس لیے بول رہاں، کیونکہ ابھی پاٹیدار ریزرویشن کو لے کر ہاردک اور کانگریس کے بیچ ایک سمجھوتہ ہواہے۔ اس سمجھوتے کو لے کر ہاردک کافی عرصہ سے کانگریس کو دی جانے والی حمایت لٹکائے ہوئے تھے۔ اب ہاردک نے کانگریس کو اپنی حمایت دینے کا اعلان کردیا ہے۔ لیکن یہ خبر نہیں ہے۔ خبر یہ ہے کہ کانگریس نے ہاردک کو بس زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ اقتدار میںآنے کے بعد پاٹیدار کے لیے وہ اسمبلی میںبل لائے گی۔ لیکن کیسے لائے گی؟ کانگریس کیسے 50 فیصدریزرویشن کی حد کو پار کرتے ہوئے پاٹیداروںکو ریزرویشن دے گی؟ سپریم کورٹ کا واضح حکم ہے کہ ریزرویشن کی حد 50فیصد کے پار نہیںہونی چاہیے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہاردک پٹیل کو یہ بات سمجھ میںنہیںآئی؟ ہاردک بول رہے ہیں کہ انھوںنے ماہرین سے بات کی ہے، ریزرویشن کی 50 فیصد حد سے زیادہ بھی ریزرویشن مل سکتا ہے۔ کیا ہاردک خود کو سپریم کورٹ سے بھی زیادہ سمجھدار مانتے ہیں؟
دراصل اب ہاردک ایک ایسے سیاسی جال میںپھنس چکے ہیں ، جہاںسے نکلنا ان کے لیے مشکل ہوگیا ہے۔ اسی وجہ سے انھیںکانگریس کی زبانی یقین دہانی بھی ماننی پڑ رہی ہے اور کانگریس کو اپنی حمایت دینی پڑ رہی ہے۔ یہ ہاردک کی ناتجربہ کاری، ناسمجھی اور سیاسی ناپختگی ہی ظاہر کرتی ہے۔ ہاردک کی سب سے بڑی بھول یہ رہی کہ انھوںنے گجرات میںکانگریس، غیر بی جے پی متبادل بنانے پر کبھی غور نہیں کیا۔ ہاردک نے کبھی بھی تیسرے متبادل یا کہیںکہ تھرڈ فورس بنانے کے بارے میں سوچاہی نہیں۔ بی جے پی کی مخالفت کے نام پر بس وہ کانگریس کے بھروسے رہ گئے۔ وہ کانگریس پر دباؤ نہیںبنا پائے۔ تب تک کانگریس بھی ان کی یہ کمزوری سمجھ چکی تھی۔ اس لیے ریزرویشن کے نام پر صرف زبانی یقین دہانی دے کر کانگریس نے ہاردک پٹیل کی حمایت حاصل کرلی۔ اس پورے سیاسی لین دین کے عمل میںہاردک کے ہاتھ صرف اور صرف زبانی جمع خرچ ہیلگا ہے۔ ہاردک کے لیے ایک اور تشویش کی بات یہ ہے کہ کانگریس کی یہ زبانی یقین دہانی کہیں اقتدار ملنے کے بعد بی جے پی کا جملہ نہ ثابت ہو جائے۔ آزادی کے بعد اقلیتی سماج کے لیے کانگریس کے ذریعہ کیے گئے وعدوںکا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ یقین دہانی صرف یقین دہانی ہی رہ جاتی ہے۔

 

 

 

 

 

دوسری طرف ،کانگریس کی کمزوری یہ ہے کہ گجرات میںاس نے غیر بی جے پی طاقتوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش نہیںکی۔ یہ کانگریس کے انتہائی اعتماد کانتیجہ ہے۔ گجرات میںاین سی پی ، شنکر سنگھ واگھیلا، عام آدمی پارٹی جیسی سیاسی طاقتوں پر کانگریس نے کوئی توجہ نہیںدی ہے۔ ظاہر ہے یہ طاقتیں بھی الیکشن لڑیںگی اور بی جے پی مخالف ووٹ کو بانٹیںگی۔ اس کا سیدھا نقصان کانگریس کو اور سیدھا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہی ملے گا۔ اس کے علاوہ، کانگریس اب تک گجرات میںریاستی سطح کا ایک بھی لیڈر تیار نہیںکرسکی ہے۔ آج کی تاریخ میںاس کے پاس ایک بھی ایسا لیڈر نہیں ہے، جس کی ساکھ اور تصویر کو پوری ریاست میںدکھا کر کانگریس الیکشن لڑ سکے۔ شنکر سنگھ واگھیلا ایک ایسے لیڈر تھے، جن کی ریاست گیر شناخت تھی۔ ان کے لیے بھی کانگریس نے ایسی صورت حال پیدا کردی کہ انھیںکانگریس چھوڑنا پڑی۔ شاید اسی وجہ سے گجرات کے الیکشن کے لیے کانگریس کا اہم چہرہ خود راہل گاندھی کو بننا پڑا۔
لیکن کانگریس اور خود راہل گاندھی بھی مغالطے میںہیں۔ راہل گاندھی کے جلسوںمیںجو بھیڑ آرہی ہے، وہ کانگریس کی بھیڑ نہیںہے۔ یہ وہ بھیڑ نہیںہے، جو کانگریس کی پالیسیوں کی حمایت میںجٹی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کانگریس کی اسکیموں اور کانگریس کے وعدوں سے متاثر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیںجو بی جے پی سے چڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بی جے پی کی پالیسیوںسے پریشان ہیں۔ یہ وہ بھیڑ ہے جو بی جے پی کی 22سالہ سرکار سے اوب گئیہے۔ یہ لوگ پچھلے تین سال کے دوران ریاست کے دو وزرائے اعلیٰ کے کام کاج سے ناخوش ہیں۔ لیکن کانگریس ان لوگوںکو اپنا لوگ ، اپنا ووٹر سمجھنے کی بھول کررہی ہے۔ یہ بھول شاید کانگریس پر بھاری پڑ جائے۔ اس کے بعد بھی، کانگریس اگر گجرات میںجیتتی ہے تو اسے بلی کے بھاگ سے چھینکا ٹوٹنا ہی کہا جائے گا۔ یہ جیت کانگریس کی اپنی محنت،پالیسی اور حکمت عملی کی جیت نہیںہوگی۔
ابھی جب میںیہ لائنیںلکھ رہا ہوں، مجھے بھارتیہ جنتا پارٹی زیادہ فائدے میںنظر آتی ہے۔ کانگریس کا خیمہ بکھرا ہوا ہے۔ کانگریس کے پرانے لوگ کتنے ایکٹو ہوئے ہیں، پتہ نہیں،لیکن نئے لوگ ضرور اس کے ساتھ جڑے ہیں۔ کانگریس کے پرانے کارکنوں میںہوسکتا ہے یہ تشویش پیدا ہوئی ہو۔ یہ نئی کانگریس بن رہی ہے، جس میںجگنیش، الپیش ٹھاکور اور ہاردک پٹیل شامل ہیں۔ اس لیے انھیںتشویش ہے کہ اگر کانگریس جیتے تو وزیر اعلیٰ یہ ہوںگے یا وزیر اعلیٰ سیم پترودا ہوںگے، جس کو راہل گاندھی گجرات میںوزیر اعلیٰ بناکر ایک نیا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس لیے بھی فائدے میںہے کیونکہ وہ رفتہ رفتہ اپنے گھر کو سنبھال رہی ہے۔ بی جے پی نے گجرات میںیہ ماحول بنا دیا ہے کہ نریندر مودی گجرات کا ساری دنیا میں چہرہ ہیں اور یہ چہرہ اگر گجرات میںنریندر مودی یا بی جے پی ہارتی ہے تو پھر ساری دنیا میںگجرات کا نام خراب ہوگا۔ یہ احساس وہاںکے تاجروں کے بیچ میںزیادہ پھیلایا جارہا ہے۔ دوسری چیز ہماچل سے خبر آرہی ہے کہ وہاںپر غریب بی جے پی سے دور ہوگیا ہے۔ غریب کانگریس کو ووٹ دے رہا ہے، اس لیے ہماچل کا الیکشن غیر یقینی ہوگیا ہے۔ گجرات کا غریب کیا سوچ رہا ہے ، یہ نہیں پتہ لیکن اگر گجرات کا غریب بھی یہ سوچنے لگے کہ اسے کوئی فائدہ نہیںہوا ہے تو گجرات میں بی جے پی پریشانی میں آسکتی ہے۔

 

 

 

 

 

؎بی جے پی نے اس کا دوسرا توڑ نکالا ہے۔ وہ توڑ اس نے یہ نکالا ہے کہ گجرات میںفطری طور پر ہندو مسلمان کے بیچ کی خلیج 20-30 سالوں میںبڑھی ہے۔ اسی جذبے کو نئے سرے سے گجرات میںبھنانے کی کوشش بی جے پی کررہی ہے۔ گجرات کے گاؤںمیںبی جے پی یا سنگھ کے سوئم سیوک تیزی سے یہ احساس پھیلارہے ہیں کہ اگر گجرات میںبھارتیہ جنتا پارٹی ہارتی ہے اور کانگریس آتی ہے تو کانگریس صرف اور صرف مسلم ایجنڈا نافذ کرے گی۔ بی جے پی کو ایک نئی تشویش یہ ہوگئی ہے کہ راہل گاندھی جہاںبھی جارہے ہیں،مسلمانوں کی بات نہیںکررہے ہیں۔ فساد کی بات نہیںکررہے ہیں۔ وہ مندروںمیںجا رہے ہیں۔ بی جے پی اپنے ہاتھ سے اس مدعے کو جاتا ہوا دیکھ رہی ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ راہل گاندھی یہ کوشش کررہے ہیںکہ گجرات کے لوگوںمیںلگے کہ وہ بھی نان مسلم طبقے کے ساتھ ہیں۔ اس تضاد نے بی جے پی کو اتنا پریشان کر دیا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے تابڑ توڑ 30 سے زیادہ جلسوںکا منصوبہ گجرات میںبنا ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ گجرات میںہی کئی مقامات پر بی جے پی کے لیڈروں کے خلاف لوگوںکا غصہ پھوٹا ہے۔ اب یہ ساری چیزیںٹیلی ویژن پر نہیں ہیں۔ اخبارات کے صفحات میںبھی کم ہیں۔ یہ ساری چیزیںسوشل میڈیا پر ہیں۔
میںنے سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیو کلپ دیکھے ہیں، جن میںبی جے پی کے لیڈروں کو لوگ گھیر کر ، دوڑا کر، اپنے یہاںسے بھگاکر کچھ کچھ بول رہے ہیں۔ یہ جمہوریت نہیںہے لیکن سوشل میڈیا کہہ رہا ہے کہ لوگ اتنے غصے میںہیںکہ جو بھی ملتا ہے، اس سے سوال اٹھاتے ہیں۔ اب یہ ویڈیو اسپانسرڈ ہیںیا صحیح ہیں، مجھے نہیں پتہ۔ لیکن یہ صورت حال گجرات میںکہیںتو ہے۔ اگر نہیںہوتی تو گجرات کا الیکشن اب تک یک طرفہ ہوجاتا۔ جو ٹیلی ویژن چینل یا جو سروے ایجنسیاں ہیں،ان لوگوںنے شروع میںگجرات الیکشن کو یک طرفہ دکھایا تھا اورکانگریس کو 20-25 سیٹیںدکھائی تھیں۔ اب وہی ٹیلی ویژن چینل ان ساری خبروں کو دکھانے سے بچ رہے ہیں، وہ صرف بحث دکھا رہے ہیں۔ ابھی تو اوپینین پول سامنے آسکتے ہیں لیکن ابھی نہیں دکھا رہے ہیں۔
خبر یہ ہے کہ 48 فیصد ووٹ کانگریس کے حق میںہوگئے اور 52 فیصد بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ 2 فیصد کی لڑائی بری طرح گجرات میںہو رہی ہے۔ اگر 2 فیصد ووٹ کو اپنے حق میںلانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا استعمال کرنا پڑے تب پھر گجرات میںبی جے پی کی جیت داغدار جیت ہوگی۔ ایسی جیت نہیںہوگی جسے ہم جیت کہتے ہیں۔ جیت ہوگی لیکن تھوڑی سی شرم کے ساتھ ہوگی۔ یہیںپر پتہ چلتا ہے کہ سرکاروںکے کام، سرکاروں کا لاء اینڈ آرڈر ہینڈل کرنے کا طریقہ ، سرکار کی شبیہ، یہ سب لوگوںکے بیچ الیکشن کے وقت سوال بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب گجرات میںکوئی اہم مدعا نہ کانگریس نے شروع کیا ہے، نہ بی جے پی نے۔ دونوں ہی یہ نہیں کہہ رہے ہیںکہ جیتنے کے بعد ایسے کون سے یہ کام کریںگے جس سے گجرات کے لوگوںکی روزی روٹی یا زندگی میںکوئی فرق آئے۔ گجرات میں تعلیم ہے، لیکن پیسے والوںکے لیے ہے۔ گجرات میںصحت ہے،لیکن پیسے والوں کے لیے ہے۔ غریب کے لیے کیا ہے؟ شاید یہی غریب کہہ رہا ہے اور گجرات میںگاؤں گاؤں سے بھی یہ آواز آرہی ہے کہ ہمارے روزگار، ہماری تعلیم یا ہماری صحت کے لیے سرکار نے آخر کیا کیا؟ کیا کوئی وعدہ کرے گی یا نہیںکرے گی۔ یہ سوال مدعے تو نہیںبن پا رہے ہیں لیکن لوگوںکے بیچ یہ مدعے ہیں۔ دیکھتے ہیں ان سوالوںکے اوپر لوگ کانگریس پر بھروسہ کرتے ہیں یا بھارتیہ جنتا پارٹی پر بھروسہ کرتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *