چترکوٹ کا پیغام اصل ایشو بی جے پی کی عدم کارکردگی

تمامتر کوششوںکے باوجود بی جے پی چترکوٹ کے ضمنی انتخاب میںچت ہوگئی ہے۔اٹیر اسمبلی کے ضمنی انتخاب میںہار کے بعد چترکوٹ ضمنی انتخاب میںبی جے پی کی یہ لگاتار دوسری ہار تھی۔ اب اس کڑی میںمُرینا کے سبل گڑھ قصبے کی نگر پالیکا کے انتخاب کی ہار بھی شامل ہوگئی ہے۔مدھیہ پردیش الیکشن کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہاں2018 میںاسمبلی اور 2019 میںپارلیمنٹ کے الیکشن ہونے ہیں۔ ایسے میںلگاتار اپنی تیسری پاری پوری کرنے جارہی برسراقتدار پارٹی کے لیے یہ ہاریںخطرے کی گھنٹی کی طرح ہیں۔وہیںدوسری طرف چند مہینے پہلے تک جو کانگریس اپنی واپسی کے لیے بھوپال میںواقع اسٹیٹ کانگریس ہیڈ کوارٹر اندرا بھون درست کرا رہی تھی،وہی آج پورے اعتماد کے ساتھ زمینی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے دکھائی پڑ رہی ہے۔
کانگریس کے لیے اچھی خبر
طویل عرصہ سے اپنے لیڈروں کی آپسی گٹ بندی کی شکار کانگریس پارٹی کے لیے لگاتار اچھی خبریںآ رہی ہیں۔ چترکوٹ ضمنی انتخاب میں ملی جیت سے کانگریسی خیمہ پرجوش ہے اور وہ اس میں2018 کی جیت کی چابی دیکھ رہا ہے۔ گروپوں میںبنٹے لیڈر بھی آپسی میل ملاپ کی ضرورت محسوس کرنے لگے ہیں۔ ادھر دگوجے سنگھ کی نرمدا کی غیر سیاسی یاترا بھی اپنا سیاسی اثر دکھا رہی ہے۔
اگست میں ریاست کے دورے پر آئے ریاستی قومی صدر امت شاہ نے 2018 کے اسمبلی انتخابات کے لیے اب کی بار 200 پار کا نعرہ دیا تھا اور کہہ کر گئے تھے کہ بی جے پی کو کانگریس کی روایتی سیٹوں کو بھی جیتنا ہوگا، پھر چاہے اس کے لیے کچھ بھی کیوںنہ کرنا پڑے ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کانگریس اس بار تھالی سجانے کو تیار نہیںہے۔ ایسے میںیہ طے ہے کہ مشن2018 بی جے پی کے لیے یکطرفہ ثابت نہیںہونے جارہا ہے۔ اس بار بی جے پی کو اپنے پندرہ سالوں کے اقتدار کا جواب دینا ہے جبکہ کانگریس کو بس متحد ہوکر ان پندرہ سالوںکا حساب مانگنا ہے۔ اگر کانگریسی ایک ٹیم بن کر صحیح حکمت عملی کے ساتھ لڑتے ہیں تو پھر لڑائی دو طرفہ ہوگی اورپھر ایسے میںاونٹ کسی بھی کروٹ بیٹھ سکتا ہے۔

 

 

 

 

 

کیا چترکوٹ اسمبلی ضمنی انتخاب میںکانگریس کی جیت کو اس بات کا پیغام مانا جائے کہ ووٹروں کابی جے پی اور شیوراج سے موہ بھنگ ہوچلا ہے؟ یا پھر اسے محض ایک سیٹ کے ضمنی انتخاب کی طرح دیکھا جائے جس کا اثر وہیںتک محدود رہنے والا ہے۔ دونوںپارٹیوںکے اپنے اپنے دعوے ہیں۔ایک طرف جہاں کانگریس کے قومی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا اسے ہوا میںتبدیلی کی علامت بتاتے ہیں وہیں بی جے پی کے ریاستی صدر نند کمار سنگھ چوہان کا کہنا ہے کہ اس نتیجے کا 2018 کے انتخابات پر کوئی اثر نہیںپڑے گا۔
لیکن بی جے پی نے جس طرح سے چترکوٹ میں حکومت اور تنظیم کی پوری طاقت جھونک دی تھی اسے کیا کہا جائے گا؟ بی جے پی اس سیٹ کو کتنا اہم مان رہی تھی ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس ضمنی انتخاب میںریاستی بی جے پی کی تنظیم تو وہاں لگی ہی رہی، خود وزیراعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے چتر کوٹ میں29 سبھائیں اور درجنوں روڈ شو کیے۔ اس دوران وہ تین دنوں تک چتر کوٹ میںرکے بھی تھے۔ ان کے علاوہ مدھیہ پردیش کیبنٹ کے درجن بھر وزیر بھی وہاںلگائے گئے تھے۔یہاںتک کہ پڑوسی ریاست اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کو بھی پرچار کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس دوران کئی اعلانات کیے گئے۔ کروڑوں کے ترقیاتی کاموںکا سنگ بنیاد رکھا گیا ،لیکن ایڑی چوٹی کا زور لگادینے کے باوجود کانگریس کے نیلانشو چترویدی نے بی جے پی کے شنکر دیال ترپاٹھی کو 14,133 ووٹوںسے مات دے دی۔
عدم کارکردگی
وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان جس آدیواسی گاؤں میں رکے تھے، وہاںبھی بی جے پی امیدوار کو کم ووٹ ملے ہیں۔اس سے مخالفین کو شیوراج سنگھ چوہان کی مقبولیت پر سوال کھڑے کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ دراصل وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے انتخابی تشہیر کے دوران جس آدیواسی کے گھر پر رات گزاری تھی، اس کے گھر ٹائلٹ کا انتظام ہی نہیںتھا۔ پھر انتظامیہ کے ذریعہ وہاںآناًفاناً میںٹائلٹ سمیت دیگر ضروری انتطام کیے گئے لیکن دوسرے دن وزیر اعلیٰ کے واپس جاتے ہی انتظامیہ کے ذریعہ ٹائلٹ سمیت سارے سامان واپس لے لیے گئے۔ یہ واقعہ ایک طرح سے وزیر اعلیٰ کے پچھلے 12سالوںمیںکیے گئے دعووںکی پول کھولنے کی علامت بن گیا۔
ظاہر ہے کہنے کو یہ محض ایک اسمبلی کا ضمنی انتخاب تھا لیکن اسے جس طرح سے لڑا گیا،اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ اس لیے اس کے نتیجے سے نکلے اشاروں کی اپنی اہمیت ہے۔ کانگریس کی پوری کوشش ہوگی کہ چترکوٹ کی جیت کو وہ 2018 کے انتخابی سال میںایک علامت کی شکل میںاستعمال کرے۔
اس جیت کے شلپی لیڈر اجے سنگھ ہیں جو اس جیت کے بعد مضبوط ہوکر ابھرے ہیں۔ اس جیت سے کانگریس کو ایک فارمولہ بھی ملا ہے کہ اگر کانگریس کے لیڈر اپنے اثر والے علاقوںپر فوکس کرتے ہوئے وہیںپورا زور لگائیںاور دوسروں کے علاقے میںدخل نہ دیںتو لڑائی آسان ہوسکتی ہے۔
کانگریس کی امیدیں
چترکوٹ کی جیت کانگریس کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ اسے کانگریسی لیڈروں کے ردعمل سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اجے سنگھ کا بیان تھا کہ کانگریس کے بنواس کے دن اب ختم ہوگئے ہیں۔ سندھیا نے اپنے ٹویٹ میںلکھا ہے کہ اٹیر کے بعد اب چترکوٹ کی جیت سے واضح ہے کہ مدھیہ پردیش اب بی جے پی کی بد انتظامی سے نجات چاہتا ہے۔ کمل ناتھ نے ٹویٹ کیا کہ کانگریسیوںکو جیت کی بدھائی۔یہ مینڈیٹ شیوراج سرکار کی ریاست سے بنواس کی شروعات ہے۔ اسی طرح سے پارٹی کے ریاستی صدر ارون یادو کابیان آیا تھا کہ اس نتیجے نے بی جے پی کے ’اب کی بار 200 بار‘ کے ہوائی دعووں اور اہنکاری جملوں کو بھی دھاراشائی کردیا ہے۔ لیکن سب سے دلچسپ ردعمل مدھیہ پردیش کانگریس کے ٹویٹر ہینڈل سے کیا گیا تھا جس میں لکھا تھا کہ چترکوٹ میںبی جے پی کے لگ گئے کام جے شری رام ۔۔جے شری رام۔
کانگریس میںتنظیمی تبدیلی
گزشتہ کچھ مہینوںمیںریاست میںکافی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کمل ناتھ اور جیوترادتیہ سندھیا جیسے لیڈر ریاست میںاپنی سرگرمی بڑھا رہے ہیں۔ دگوجے سنگھ کی نرمدا پریکرما غیر سیاسی ہوتے ہوئے بھی سیاسی حلقوں میںہلچل مچائے ہوئیہے۔ ماہرین بتاتے ہیںکہ سافٹ ہندوتو کا لبادہ اوڑھے یہ یاترا وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی نرمدا سیوا یاترا کا جواب ہے جو ریاست کی 120 اسمبلی سیٹوں پراپنا اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ یاترا ایک طرح سے مدھیہ پردیش کے کانگریسی لیڈروں کو متحد کرنے کا پیغام دے رہی ہے۔ریاست کے سبھی بڑے کانگریسی لیڈر اس یاترا میںشامل ہوچکے ہیں۔
ادھر ریاستی کانگریس کمیٹی کے انچارج کو بدلا جاچکا ہے اور موہن پرکاش کی جگہ دیپک بابریا نے لے لی ہے، جنھوںنے چترکوٹ ضمنی انتخاب کی جیت کے بعد گزشتہ 14 نومبر کو ریاست کے لیڈروں کے بیچ تال میل بنانے کے مقصد سے دہلی میںایک میٹنگ بلائی تھی جس میںریاستی کانگریس کے سبھی اہم لیڈر شامل ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میںسبھی لیڈروں کو اپنے علاقوں کی ذمہ داری دیتے ہوئے ریاست کو 6 حصوں میں بانٹا گیاجس میں کانتی لال بھوریا اور جیتو پٹواری کو مالوہ،جیوترادتیہ سندھیا کو گوالیار-چنبل ، وندھیہ علاقے کی ذمہ داری اجے سنگھ، نماڑ کی ذمہ داری ارون یادو، مہا کوشل -گونڈاوانا کی ذمہ داری کمل ناتھ اور وویک تنکھا اورنرمدا چل کی ذمہ داری دگوجے سنگھ اور سریش پچوری کودی گئی ہے۔
5 نومبر کوبھوپال میںہوئی اروند کجریوال کی ریلی اپنا اثر چھوڑنے میںناکام رہی ہے۔ ایسے میںہمیشہ کی طرح مقابلہ اہم طور پر دو پارٹیوںکے ہی بیچ ہونے والا ہے۔ کانگریس کی یہ کوشش بھی ہوگی کہ 2018 میںوہ اپوزیشن پارٹیوںکے ساتھ مل کر الیکشن لڑے۔ ایسے میںاگر وہ ایس پی، بی ایس پی اور گونڈوانا گن تنتر پارٹی کے ساتھ اتحاد کرلیتی ہے تو بی جے پی کو مشکل پیش آسکتی ہے۔ ان تینوںپارٹیوں کا ساٹھ سے ستر سیٹوںپر اثر ہے۔
لیکن 2018 میںشیوراج کے مقابلے میں کانگریس کی طرف سے کس کا چہرہ ہوگا،یہ سوال ابھی بھی ہے۔ 2018 میںپارٹی کے چہرے کے سوال کو پارٹی اور زیادہ وقت تک ملتوی نہیںرکھ سکتی۔ اسے اپنے کپتان کا فیصلہ کرنا ہی ہوگا لیکن کانگریس کے لیے اس سوال کو حل کرنا آسان بھی نہیںہے۔ پچھلے کچھ عر صہ سے کمل ناتھ اور جیوترا دتیہ کے نام اس کے لیے چرچا میںرہے ہیں لیکن فیصلہ ابھی تک نہیںہوسکاہے۔ ادھر دگوجے سنگھ کی یاترا نے نئی ایکوئیشن کو جنم دیا ہے۔ کسی کو بھی اندازہ نہیں ہے کہ دس سال تک ریاست میںحکومت کرچکے دگی راجہ کے دماغ میںکیا چل رہا ہے؟
اس بار مقابلہ کانٹے کا
مندسور میں کسانوںکی تحریک کے دوران ان پر کی گئی پولیس کی گولی باری کو لے کر کسان ابھی بھی غصے میںہیں۔ ترقی کے تمام دعووں کے باوجود زمینی حالات بے قابو ہیں۔ میڈیا میںچھپی خبروںکے مطابق مدھیہ پردیش میںسنگھ نے ایک سروے کرایا ہے جس کے مطابق یہاںکسانوںاور آدیواسیوں میں سرکار کے خلاف ماحول ہے ۔قریب 148اسمبلی سیٹوںپر بی جے پی کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور پارٹی کے آدھے سے زیادہ موجودہ اراکین اسمبلی کے خلاف ان کے اسمبلی حلقوں میںعدم اطمینان ہے۔ ادھر دگوجے سنگھ نرمدا ندی کی پریکرما شروع کرنے سے پہلے مدھیہ پردیش سرکار کے ذریعہ نرمدا ندی کے کنارے لگائے گئے پلانٹ میںکیے گئے گھوٹالے کی ایک رپورٹ وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کو سونپ چکے ہیںجسے کانگریس الیکشن میں مدعا بنا سکتی ہے۔ایسے ماحول میں کانگریس کو لگتا ہے کہ اگر ٹھیک سے الیکشن لڑا جائے تو اس باربی جے پی کو ہرایا جاسکتا ہے۔
چوہان اب بھی بی جے پی میںمعتبر
لیکن تمام اتارچڑھاؤ کے باوجود شیو راج سنگھ چوہان ابھی بھی ریاست میں پارٹی کا سب سے معتبر چہرہ بنے ہوئے ہیں۔ تمام خدشات کے بیچ انھوں نے امت شاہ اور نریندر مودی کی مرکزی قیادت سے تال میل بنا لیا ہے۔ آج کی تاریخ میںپارٹی کی ریاستی اکائی میںانھیںچیلنج دے سکنے والا کوئی بھی لیڈر موجود نہیںہے۔ ادھر سی بی آئی نے بھی ویاپم گھوٹالے میںہارڈ ڈسک سے چھیڑ چھاڑ کے الزاموں کو خارج کرتے ہوئے انھیںکلین چٹ دے دی ہے جس کے بعد وہ اعتماد کے ساتھ یہ کہنے کی حالت میںآگئے ہیںکہ ہم کلین تھے تو چٹ تو ملنی ہی چاہیے تھی۔ دراصل ویاپم گھوٹالہ پچھلے کئی سالوںسے شیو راج سنگھ چوہان کے لیے گلے کی پھانس بنا ہوا ہے۔ ظاہر ہے سی بی آئی سے انھیںبڑی راحت ملی ہے۔
دونوں پارٹیوں کا اگلا مقابلہ کولارس اور مونگاولی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میںہونا ہے جہاںدونوں خیمے اپنا پورا زور لگا دیںگے۔ یہاںہار جیت تو اہم ہوگی ہی، ساتھ ہی یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا کہ دونوں پارٹیاں الیکشن کس طرح سے لڑتی ہیں۔ اگر ان دونوں سیٹوں پر کانگریس جیتتی ہے اور اس بیچ وہ آپس میںکسی ایک چہرے پر رضامند ہوجاتے ہیں تو یہ بی جے پی کے لیے اسمبلی انتخابات کے امکانات پر بڑا اثرانداز ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *