چین کا ایپس وار ہندوستان کیوں نہیں کرپارہا ہے مقابلہ؟

چین کے بنے ہوئے فون میںیہ تکنیک ہے کہ آپ اس میں جو بھی جانکاری ڈالیںگے، وہ جانکاری براہ راست چین کے پاس پہنچ جائے گی۔ سستے ہونے کی وجہ سے ہمارے ملک میں چینی موبائل فون کی کھپت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ چینی فون ہر سیکٹر میں ہیں۔ سرکاری افسروں سے لے کر کلرک، آئی اے ایس افسر اور یہاںتک کہ فوج کے لوگوں اور ان کے بچوںکے پاس بھی چینی فون ہیں۔ ہمارے ملک کی فوج نے بھی بتایا کہ ان چینی فونوں میںجو بھی جانکاری ڈالی جاتی ہے، وہ راست طور پر چین کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ اب ایک نئی چیز سامنے آئی ہے کہ اپنے ایپس کے ذریعہ چین کسی بھی ملک میں بنے اسمارٹ فون میں نقب لگا سکتا ہے۔ موبائل چاہے شمالی کوریا کی کمپنی کے ہوںیا جاپان کی یا امریکہ کے، ان میںچینی ایپس ڈالتے ہی وہ چین کے لیے کام کرنے لگتے ہیں۔ آپ کسی بھی کمپنی کا کوئی بھی اسمارٹ فون لیں، جیسے ہی اس میںچین کے ایپس ڈاؤن لوڈ کریں گے، آپ کے موبائل کی جانکاریاںچین کو ملنے لگیں گی۔
اسے لے کر ہماری فوج بہت فکر مند ہے ۔ فوج پہلے ہی ایڈوائزری جاری کرچکی ہے کہ چینی فون ہو یا کوئی بھی اسمارٹ فون،فوج کے افسران اسے اپنے پاس نہیں رکھیں گے۔ حالانکہ فوج کے پاس ایسی کوئی تکنیک نہیں ہے، جس سے یہ پتہ لگایا جاسکے کہ ان کے کن افسروں کے پاس ابھی بھی اسمارٹ فون ہیں۔ اب اسے لے کر حکومت ہند نے بھی ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ حکومت نے 42 ایپس کی نشاندہی کی ہے اور کہا ہے کہ کوئی بھی سرکاری افسر چاہے وہ فوج سے جڑا ہوا یا انتظامی خدمات سے جڑا ہویا چھوٹا بڑا کیسا بھی افسر ہو کسی کو بھی ان ایپس کا استعمال نہیںکرناچاہیے۔ اس بارے میںحکومت کی طرف سے 24 نومبر کو سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے۔ حالانکہ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ گزشتہ دنوں جب جموں و کشمیر کے پولیس ڈائریکٹر جنرل ویدیہ سے صحافیوںنے پوچھا کہ کیا آپ کو ایسی کسی ایڈوائزری کی جانکاری ہے تو انھوںنے کہا کہ نہیں، مجھے تو ابھی تک ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

 

 

 

 

 

ملک کی اندرونی حفاظت میں نقب لگانے لگنے سے روکنے کے معاملے میں اٹھائے گئے قدم میںبھی ایسی لاپروائی تشویشناک ہے۔ سرکار کی طرف سے جن 42 ایپس سے بچنے کی بات کہی گئی ہے، ان میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جو اینڈرائڈ یوزرس کے لیے بے حد عام ہیں۔ یہ ایپس سرکار کے وزیروں سے لے کر افسروں اور عام لوگوں کے موبائل میں بھی موجود ہیں۔سرکار نے جن 40 سے زیادہ ایپس کو لے کر ایڈوائزری جاری کی ہے،وہ اس طرح ہیں۔ ویوو، وی چیٹ، شیئر اِٹ، ٹرو کالر، یوسی نیوز، یوسی براؤزر، بیوٹی پلس، نیوز ڈاگ، ویوا ویڈیو، کیو ویڈیو، آئی این سی، پیریلل اسپیس،آپُس براؤزر، پرفیکٹ، پرفیکٹ کارپ، وائرس کلینر، ہائی سیکورٹی لیب، سی ایم براؤزر، ایم آئی کمیونٹی، ڈی یو ریکارڈر، والٹ ہائڈ، یو کیم، میک اَپ، ایم آئی اسٹور، کیچ کلینر، ڈی یو ایپس، ڈی یو بیٹری، ڈی یو بیٹری سیور، ڈی یو کلینر، ڈی یو پرائیویسی، 360 سیکورٹی، ڈی یو براؤزر کلین، کلین ماسٹرس، چیتا موبائل، بیڈو ٹرانسلیٹ، بیڈو ایپس، ونڈل کیمرہ، ای اسمائل، ایکسپلور، فوٹو ونڈر، کیو-کیو میوزک، کیو -میل، کیو-کیو پلیئر ، کیو- کیو نیوز فیڈ، کیو- کیو سیکورٹی، کیو – کیو لانچر، سیلفی سٹی، میل ماسٹرس اور ایم آئی ویڈیو کال۔
یہ فہرست پڑھنے کے بعد آپ اپنا موبائل دیکھئے تو پتہ چلے گا کہ ان میں سے کئی ایپس آپ کے موبائل میںہیں۔ ان میں سے کئی ایپس ایسے ہوںگے جنھیں آپ نے بیٹری بچانے کے لیے ڈاؤن لوڈ کیے ہوں گے۔ کئی ایسے ہوںگے جنھیں آپ نے وائرس سے بچنے کے لیے انسٹال کیا ہوگا۔ آپ نے ٹرو کالر بھی رکھا ہوگا تاکہ آنے والے فون کال کے بارے میںجانا جاسکے کہ کس کا فون ہے۔ آپ نے فائل ٹرانسفر کے لیے شیئر اِٹ بھی رکھا ہوگا۔ جلدی جلدی بیٹری چارج کرنے کے ٹینشن سے بچنے کے لیے آپ نے بیٹری سیور بھی انسٹال کیا ہوگا۔ یو سی براؤزر تو تقریباً سبھی اینڈرائڈ فون تک اپنی پہنچ بنا چکا ہے۔ خبروںکے لیے لوگ یو سی نیوز کا استعمال کرتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیںکہ آپ اس کے ذریعہ ملک و دنیا کی خبریںجانیںگے لیکن یہ سبھی ایپس آپ کی پل پل کی خبر چین تک بھیج رہے ہیں اور ان ایپس کا استعمال ملک مخالف سرگرمیوںمیںہو رہا ہے۔

 

 

 

 

 

ان ایپس کے ذریعہ ہماری اور آپ کی پوری جانکاری چین میںجارہی ہے۔ ہمارے کئی لیڈر اور افسر بھی اپنے موبائل میںان میںسے کئی ایپس رکھے ہوںگے۔ ان کے پاس ملک کی کئی خفیہ جانکاریاں بھی ہوتی ہیں، کئی ایسی جانکاریاں بھی ہوتی ہیں، جن کا دوسرے ملکوںتک پہنچنا ہندوستان کے لیے نقصاندہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ان ایپس کے ذریعہ چین ان لیڈروں اور افسروںکے موبائل تک پہنچ سکتا ہے اور وہ جانکاریاں حاصل کرسکتا ہے۔ پھر ان ایپس کے ذریعہ ملی ہوئی جانکاریوںکا استعمال چین ہمارے خلاف کرتا ہے اور انھیں بیچتا ہے۔
اب تو نئی تکنیک بھی آگئی ہے کہ آپ اگر موبائل بند بھی رکھیں تو بھی اس میںکا ڈاٹا ایپس کے ذریعہ چرایا جاسکتا ہے۔ فون اگر آپ کے پاس بھی رکھا ہوتو آپ کی بات چیت ریکارڈ ہو سکتی ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم انفارمیشن کے میدان میں کتنے غیر محفوظ ہیں۔ ہماری ہر بات چین تک پہنچ رہی ہے۔ اس کے ذریعہ بہت ساری خفیہ جانکاریاں اور سرکار کی حکمت عملی بھی چین حاصل کررہا ہے۔ لیکن ہم سب خاموش ہیں، ہماری سرکار خاموش ہے۔ صرف سرکاری سطح پر ایڈوائزری جاری کرنے سے اس سنگین مسئلے کا حل نہیںنکل سکتا ہے۔ سستا ہونے کی وجہ سے لوگ دھڑلے سے چینی فون خرید رہے ہیں اور استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن حکومت ہند کے پاس ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے ، جس سے ہندوستان کے بازاروں میںچینی سامان کو آنے سے روکا جاسکے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *