چین میں خواتین دوسرے درجہ کی شہری

چین، صنعت کی دنیا میں چاہے جتنی ترقی کرلے مگر انسانی حقوق کی ادائیگی میں بہت پیچھے ہے۔ وہاں خواتین کو کمتر سمجھنا، انہیں مردوں کے برابر نہ سمجھنا اور عورتوںکو شوہر کی ہر پسندیدہ و نا پاپسندیدہ باتوں کو مان لینے کی ترغیب دینا عوام میں روایت بنتا جارہا ہے۔جدید دور میں یہ باتیں بڑی عجیب لگتی ہیں مگر سچائی یہی ہے ۔ چین کے تربیتی مراکز میں خواتین کوبتایا جاتا ہے کہ نسوانیت اور کرئیر ساتھ ساتھ نہیں چلتے، یہاں خواتین کو عام طور پر چھوٹے موٹے کام کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ادارے حقیقت میں کیا کام کر رہے ہیں؟جب یہ خبر سامنے آئی تو عقل حیران رہ گئی۔ شمالی چین کے علاقے فیوشن میں موجود روایتی اور کلچرل انسٹی ٹیوٹ میں خواتین کو اخلاقیات سکھائی جاتی ہیں۔جن خواتین نے ان سکولوں میں تربیت حاصل کی،انہیں وہاں کچھ اس قسم کے پیغامات دیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کے ہر سوال کے جواب میں ’’یس نو پرابلم کہیں‘‘۔
17 سالہ جِنگ فقت کہتی ہیں کہ انھیں تربیتی اداروں میں دیا گیا اب بھی تربیت کا وہ حصہ یاد ہے جب ہاتھوں پر کچھ بھی پہنے بغیر ٹوائلٹ صاف کرنے کو کہا جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتنا قابل نفرت عمل ہے کہ محض خاتون ہونے کی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ٹوائلٹ صاف کرے اور وہ بھی بغیر دستانہ پہنے۔وہ کہتی ہیں کہ انھیں سکھایا جاتا تھا کہ یہ وہ سب عمل ہے جو عورت کو کرنا ہوتا ہے اور عورت کی پیدائش مرد کی خدمت کے لیے ہوئی ہے۔
حالانکہ سرکاری سطح پراس بات سے انکار کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ چین کے چھوٹے شہروں اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں اس قسم کی فرسودہ روایات اب بھی موجود ہیں۔رواں سال مئی میں جیوجیانگ شہر میں طالبات کو عورت کے کنوارے پن کی اہمیت پر لیکچر دیا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ چست لباس عریانیت کے قریب ہوتا ہے۔ اسی طرح 2014 میں ڈونگوان شہر میں اراکین کو یہ بھی پڑھایا گیا کہ کریئر بنانے والی ایک عورت کو شاید اپنی چھاتی اور بچہ دانی بھی کاٹنی پڑے۔یعنی ایک عورت سے ہر طرح کی قربانی لی جاسکتی ہے ،چاہے وہ اس کے وقار کے خلاف کیوں نہ ہو جبکہ اس طرح کامطالبہ مردوں سے نہیں ہوتا۔

 

 

 

 

 

 

چین میں ہزاروں برس تک قائم رہنے والے جاگیردارانہ دور میں خواتین کو فضائل اور نیکی کی تربیت دینے والے یہ سینٹرز قابل قبول سمجھے جاتے تھے۔والد، شوہر اور بیٹے کی اطاعت، اپنے کنوارے پن کو اہمیت دینا اور اس کی حفاظت کرنا اور اس بات کو سمجھنا کہ جو عورت قابل نہیں ہے وہ نیکوکار ہے، اس تربیت کا حصہ تھا۔یہ اصول خواتین کو اسکولوں اور گھروں میں سکھائے جاتے تھے جن کی مدد سے چین کے قدیم دور میں عورتوں کو محکوم بنایا اور دبایا جاتا تھا۔
حالیہ عرصے میں سابقہ دور جیسے اداروں کا چلایا جانا بہت سے لوگوں کے لیے تشویش کا باعثہے کہ کہیں پھر سے جاگیردارانہ خیالات دوبارہ نہ پنپنے لگیں۔ہوسکتا ہے کہ ان تربیتی اداروں کے پیچھے مکمل طور پر نظریات کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔لیکن واقعہ یہی ہے کہ عورتوں کے حقوق کی پامالی چین کے دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہورہی ہے ۔
فیوشن سینٹر کی مثال لیں جس کی منظوری عوامی فلاح کے لیے فیوشن سول افیئر بیورو نے دیہے۔ اس ادارے نے کبھی بھی ان سکولوں کو چلانے کی اجازت نہیں دی تھی۔کیونکہ اس ادارے کے نزدیک لڑکیوں کی تعلیم بہتر سماج کے لئے بہت ضروری نہیں ہے کیونکہ لڑکیوں کی پیدائش محض گھریلو کام کاج کے لئے ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ یہ ادارہ ایک سائڈ لائن بزنس بھی چلا رہا تھا جس میں چین کے روایتی لباس تیار کیے جاتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ چین میںزیادہ تر طالبات کم تعلیم یافتہ ہیں ان میں سے کچھ ایسی بھی ہیں جو اپنے شوہر کے رویے کی وجہ سے اپنی شادی شدہ زندگی سے خوش نہیں ہیں۔یہ خواتین اسی قسم کے مسائل کا شکار خواتین کے ساتھ مل کر اور ان اداروں میں تربیت لے کر سکون محسوس کرتی ہیں۔ جہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ خواتین مردوں سے کم تر ہیں۔ یہ بظاہر ان کو ان کے مسائل کا حل بتاتی ہیں۔
ایک لیک ہونے والی ویڈیو میں ایک طالبہ نے کہا کہ ان کے شوہر کو امید ہے کہ وہ یہاں ان کا بحیثیت خاتون ’نرم‘ اور طابع انداز لوٹ آئے گا۔پھر بعد میں یہی خواتین ایک گروہ کی صورت میں نئی آنے والی طالبات کو بلا معاوضہ پڑھاتی ہیں۔دیہی خواتین سے متعلق ایک رسالے کی مدیر اعلیٰ زائی لیہوا کا کہنا ہے کہ بنیادی مدد پالیسی بنانے والوں کی طرف سے ملنی چاہیے۔وہ کہتی ہیں کہ دیہی خواتین جنسی تشدد اور جائیداد میں حصہ نہ ملنے جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔چین میں اخلاقی سکولوں کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ انھیں بہت سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔وہ سمجھتی ہیں کہ تاریخ رخ موڑا نہیں جا سکتا اور چینی معاشرہ اب صنفی مساوات کی جانب بڑھ رہا ہے اور درست یہ ہے کہ اس پر ہنسیں اور اسے بھول جائیں۔بہر کیف چین جس کی مصنوعات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا کے بیشتر ملکوںمیں اپنا دبدبہ بنائے ہوئی ہیں لیکن وہاں کی تہذیب اور خواتین کو حقوق دینے کے حق میں مایوس کن ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *