راہل گاندھی کو درپیش چیلنجز

راہل گاندھی انڈین نیشنل کانگریس کے قومی صدر منتخب ہوگئے ۔ شاید کوئی دوسرا صدر بن ہی نہیں سکتا تھا۔یہ ان کے مقدر میں تھا۔راہل گاندھی کے صدر بنتے ہی انہیں کئی سبق سیکھنے کا موقع مل گیا۔ ان کے سامنے سوالا ت بھی ہیں اور ان کے سر پر انڈین نیشنل کانگریس کو ملک کے سیاسی افق پر دوبارہ قائم کرنے کا موقع بھی ہے لیکن کیا خود راہل گاندھی کو یہ پتہ ہے کہ ان کے سامنے کس طرح کے اور کتنے چیلنجز ہیں؟ سیدھے سیدھے تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ انہیں یقینا علم ہوگا، ان کے سامنے کیا چیلنجز ہیں اور انہیں ان چیلنجز کا سامنا کیسے کرنا ہوگا؟لیکن جب ہم پچھلے 10 سے 15 برسوں کا تجزیہ کرتے ہیں تب ایسا لگتا ہے کہ یہ سوچنا کہ انہیں ساے مسائل کا علم ہے، صحیح نہیں ہے۔
راہل گاندھی کے سر پر ان کے دادا پنڈت جواہر لال نہرو، ان کی دادی اندرا گاندھی ، ان کے والد راجیو گاندھی اور ان کی ماں سونیا گاندھی کے ذریعہ کئے گئے کاموں کا، ان کے ذریعہ دکھائی گئی تنظیمی صلاحیتوں کا اور انہیں عوام سے ملے بھروسے کا بوجھ تو ہے ہی، لیکن ان کے سامنے یہ بھی چیلنج ہے کہ وہ ان تمام سامنے آئے مسائل اور ان کے ازالے کے طریقوں کا تجزیہ کریں گے اور اپنے لئے نیا راستہ کھوجنے کی مہارت میں پیش رفت کریں گے ۔
کارکنوں سے دور ہیں راہل
راہل گاندھی کو لے کر ملک میں ایک عام تاثر ہے کہ انہیں ملک کے مسائل کا علم نہیں ہے اور وہ ان مسائل سے روبرو بھی نہیں ہونا چاہتے ہیں۔ ملک کے مسائل جیسے غربت، مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی ، ان کے صحیح اسباب، ملک کے دبے سماج،کچلی برادری،مذہبی اور طبقاتی تضادات،ہندوستانی سماج کے آگے بڑھنے کی تحریری و غیر تحریری وجوہات اور ساتھ ہی سماج کو بانٹنے والے نکات ، ان سب کے بارے میں راہل گاندھی کتنے جانکار ہیں،یہ بھی سامنے آنا باقی ہے۔
یہ اس لئے کہا جاسکتا ہے کیونکہ راہل گاندھی کا ان کے کارکنوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ اتنے دنوں میں راہل گاندھی کارکنوں سے کم ملے، اپنے پسند کے لوگوں سے زیادہ ملے۔ ان سماجی ماہرین سے ملے جو سطحی قسم کے سماجی ماہرین رہے ہیں،جنہیں خود اس ملک کے چھپے ہوئے طاقتور ذرائع کا پتہ نہیں ہے۔ پچھلے 6 سے 8 سال کا تو تجربہ یا جانکاری ہم لوگوں کے پاس ہے۔ جب بھی ان کا کارکن ان سے ملنے کے لئے وقت مانگتا ہے، اسے وقت نہیں ملتا اور جسے وقت ملتا ہے، ان کی باتوں سے مسئلے کی جڑ تلاش کرنے میں ان کی دلچسپی نہیں ہے۔ دو تین چار منٹ بات سننے کے بعد ان کا کہناہوتا ہے کہ اس بات کو لکھ کر دے دیجئے یا کبھی کہتے ہیں کہ یہ کنشک ( راہل ٹیم کے اہم ممبر ) کو بتا دیجئے ۔جو کارکن ان سے بات کرنے جاتا تھا، وہ مایوس ہوکر لوٹ آتا تھا ۔راہل گاندھی نے کبھی اس بات کی اہمیت کونہیں جانا کہ اپنے بنیادی کارکنوں کو وہ ان کے نام سے جانیں۔
وہ آج کے زمانے کے سیاست داں ہیں۔ ان کے صدر بننے سے پہلے جب بھی کوئی ان سے ملنے جاتا تھا، تو اس کی طرف ان کا دھیان کم اوراپنے موبائل اور آئی پیڈ پر زیادہ ہوتا تھا۔ کانگریس کے وہ سبھی سینئر لیڈر، جنہوں نے اپنی زندگی کے 30 ، 40 سال کانگریس کو دیئے اور جنہوں نے کانگریس کے نشیب و فراز کو بھی دیکھا، ان سب سے راہل گاندھی کا کوئی رابطہ، رشتہ نہیں رہا۔ کانگریس پارٹی میں یہ تاثر بنا ہوا ہے کہ راہل گاندھی کا ماننا ہے کہ کانگریس پارٹی میں سب کچھ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے، نئی عمر کے لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے، نئی نسل کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔ پرانے لوگ اب اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس سماج کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ ان کا تجربہ آج کی بدلتی تکنیکی دنیا میں بیکار کی چیز ہے ۔اس تاثر نے کانگریس کے سارے بزرگ لیڈروں کو، جنہوں نے کانگریس کا نشیب و فراز دیکھا،جنہوں نے کانگریس کو بنایا، وہ سارے لوگ اپنے کو اکیلا اور بیکار سمجھنے لگے۔ خاص طور پر وہ ٹیم ،جس نے ان کی ماں سونیا گاندھی کے ساتھ رہ کر20 سال تک کانگریس کو قائم کرنے کا کام کیا۔

 

 

 

 

 

 

بی جے پی کو واک اُوَر
یہ چیلنجز شاید اس لئے زیادہ اہم ہیں، کیونکہ ابھی ابھی گجرات کے فیصلے آئے ہیں۔ فیصلے تو اس کے پہلے بھی کئی ریاستوں اور لوک سبھا کے آئے اور ان سے راہل گاندھی کو سبق لینا چاہئے لیکن راہل گاندھی نے ان سے کوئی سبق نہیں لیا۔ پچھلے 10 سال کا سب بڑا سبق یہ تھا کہ کانگریس پارٹی کی تنظیم کیسے پژمردگی سے زندہ ہو، اس کا پورا ذمہ راہل گاندھی کے کندھوں پر تھا۔ راہل گاندھی نے تنظیم کو لے کر کبھی اپنی سمجھداری نہیں دکھائی۔ چاہے ریاست ہو یا مرکز ، کانگریس کے پاس جتنے بھی لوگ تھے،چاہے کسی بھی عمر کے تھے، لیکن جو کام کرنا چاہتے تھے،انہیں کام میں لگانے کا راہل گاندھی کے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔
کانگریس کے پاس ہر ریاست میں اب بھی ایم ایل ایز کی بڑی تعداد ہے۔ ارکان پارلیمنٹ اور سابق اراکین پارلیمنٹ کی ایک لمبی فوج ہے۔ ان سب کو منظم کرنے کے کام میں یا پچھلے 10 سال میں ریاستوں میں ہوئے انتخابات میں لگانے کا کام راہل گاندھی نے نہیں کیا۔ ہر ریاست میں تنظیم پژمردہ ہے۔ تنظیم میں چند لیڈروں کے بعد جو آتے ہیں، جو سب سے اہم ہوتے ہیں، ان سے راہل گاندھی کا کوئی رابطہ نہیں ہے اور اسی لئے چاہے بہار ، اترپردیش ،مدھیہ پردیش،راجستھان ،بنگال یا اڑیسہ ہو ،پچھلے 10 سے 15 سال میں ان سب ریاستوں میں تنظیم بنانے کی کوئی کوشش ہی نہیں ہوئی ہے۔
اس کے پیچھے راہل گاندھی کی کیا سوچ تھی، یہ کسی کو نہیں پتہ لیکن راہل گاندھی یہ بھی نہیں سمجھ پائے کہ اگر ایک الیکشن ہار جاتے ہیں تو اس ریاست میں 5 سال تک ان کے پاس اقتدار میں آنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا ہے۔ بیچ کے سالوں میں سارے کارکنوں ، سارے موجودہ یا سابقہ ایم ایل ایز یا اراکین پارلیمنٹ کو اس ریاست میں جس طرح لگانا چاہئے، اسے لگانے کے بارے میں راہل گاندھی نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ اسی لئے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں راہل گاندھی یہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ انہیں بی جے پی کے نریندر مودی کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اور ملک کے سامنے انہوں نے یہ چھاپ چھوڑ دی کہ انہوں نے نریندر مودی کا سامنا کرنے کی جگہ واک اُوَر دینا زیادہ ٹھیک سمجھا۔
پوناوالا کے پیچھے رابرٹ واڈرا
راہل گاندھی کے سامنے دوسرا چیلنج خود ان کے خاندان کو لے کر ہے۔ جیسے کانگریس ترجمان بنے شہزاد پوناوالا پہلا نام ہے اور درست مثال بھی ہے۔ پوناوالا نے کئی سالوں تک ٹی وی پر کانگریس کا پہلو مضبوط ڈھنگ سے رکھا۔ وہ راہل گاندھی سے ملنے کا وقت مانگتے رہے ۔راہل گاندھی نے وقت نہیں دیا۔ بالآخر پوناوالا راہل گاندھی کے صدر بننے کے فیصلے کی تنقید کرتے ہوئے کانگریس سے دور ہو گئے۔ راہل گاندھی کا رشتہ اپنی بہن پرینکا گاندھی سے ہے، لیکن میری جانکاری کے حساب سے، پچھلے 7 مہینوں سے پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ واڈرا سے راہل گاندھی نے ملاقات نہیں کی ہے۔وہ رابرٹ واڈرا کو پسند نہیں کرتے، لیکن آپ جب کسی کو بہت کونے کی طرف پھینکتے ہیں تو وہ پلٹ کر کچھ ایسا کرتا ہے کہ پریشانیاں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ایک جانکاری کے حساب سے شہزاد پونوالہ کے بیان کے پیچھے رابرٹ واڈرا کا ہی ہاتھ تھا۔ اس بیان سے تھوڑے وقت کے لئے راہل گاندھی پریشان ہو گئے تھے۔
اب جب راہل گاندھی کانگریس صدر ہو گئے ہیں تو وہ اپنی بہن پرینکا گاندھی کا سیاست میں کیسا، کسے اور کتنا استعمال کرتے ہیں، یہ سوال لوگوں کے سامنے کھڑا ہے۔ کانگریس کے ذہن میں شروع سے یہ بات چل رہی تھی کہ اگر پرینکا گاندھی انتخاب میں پرچار کرنے اترتی ہیں تو کانگریس کو زیادہ فائدہ ہو سکتاہے۔ پرینکا گاندھی اترپردیش میں بھی انتخابی تشہیر کرنے جانے والی تھیں۔آخری وقت پر ان کا پروگرام رد ہو گیا۔ وہ گجرات بھی جانے و الی تھیں،لیکن ان کا پروگرام یہاں بھی رد ہو گیا۔ لوگ اس کے پیچھے راہل گاندھی کے صلاح کاروں کے ڈر کو دیکھتے ہیں۔ وہ ڈر یہ ہے کہ اگر پرینکا گاندھی کے اجلاس میں بھیڑ زیادہ ہوئی یا ان کے پرچار کرنے کا طریقہ کار کانگریس کے لوگوں کو پسند آیا تو اس کا نقصان راہل گاندھی کے مستقبل پر پڑ سکتاہے۔یہ سچ ہے یا نہیں ،یہ ہم نہیں کہہ سکتے لیکن راہل گاندھی کے گھر سے جو خبریں چھن کر آتی ہیں ان کے نزدیک کے صلاح کاروں سے ،وہ اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔
اتر پردیش الیکشن میں پرینکا گاندھی نے بیک آفس کو بخوبی سنبھالاتھا۔ ان کے صلاح کاروں میں پرشانت کیشور سمیت 40 لوگوں کی ٹیم تھی جس نے کامیابی کے ساتھ اترپردیش کا کام سنبھالا، لیکن مکمل ہم آہنگی نہ ہونے اور پالیسی کے فقدان نے کانگریس کو اترپردیش کی تاریخ میں سب سے کم سیٹ پر سمیٹ دیا۔ اس انتخاب میں پرینکا گاندھی کا استعمال کرنے کے بارے میں راہل گاندھی اور ان کے صلاح کاروں نے سوچا ہی نہیں۔ شاید ماں کی بیماری، بھائی کو لے کر بی جے پی کے تابڑتوڑ حملے اور راہل گاندھی کی منفی شبیہ نے پرینکا گاندھی کو بھی کہیں توڑ کر رکھ دیا ہے۔ اسی لئے پرینکا گاندھی کی تازہ تصویریں بتاتی ہیں کہ وہ کسی بڑی نفسیاتی الجھن میں ہیں۔ ان کا چہرہ ،ان کی آنکھیں، جو کبھی ملک کے عوام کو متوجہ کرتی تھیں اور اندرا گاندھی کی یاد دلاتی تھیں، اب اس میں بہت بدلائو آگیا ہے۔
راہل ٹیم ایماندار لیکن جانکار نہیں
راہل گاندھی کے پاس بہت اچھی خوبیاں بھی ہیں۔راہل گاندھی جہاں پرانے لوگوں پر بھروسہ نہیں کرتے ،وہاں اپنے دوستوں کے اوپر،جو راہل ٹیم کہلاتی ہے ،پر بہت بھروسہ کرتے ہیں۔ اگرچہ اس ٹیم میں ہندوستان کو جاننے والے کم لوگ ہیں لیکن جو ہیں وہ ایماندار ہیں۔ لیکن ایماندار ہونا کافی نہیں،جانکار ہونا بھی ضروری ہے۔ راہل گاندھی انفارمیشن اور نالج کا فرق نہیں سمجھ پائے۔ وہ انفارمیشن کی بنیاد پر فیصلے لیتے ہیں۔جسے ٹاپک کا بنیادی علم نہیں ہو، وہ انفارمیشن کو کسوٹی پر نہیں کس سکتا۔ وہ انفارمیشن کے جال میں پھنس جاتا ہے اور غلط فیصلے بھی لے لیتا ہے۔ راہل گاندھی کو نالج اور انفارمیشن کا فرق سمجھنا چاہئے۔
راہل گاندھی ایماندار ہیں۔ ابھی تک کوئی ایسی جانکاری نہیں ہے کہ انہوں نے کسی بدعنوان شخص کو بچایا ہو یا اپنی سرکار سے کسی بڑے بزنس ہائوس کے لئے کام کرنے کو کہا ہو۔ شاید اسی لئے ان کا اور رابرٹ واڈرا کا کوئی رشتہ عوام کے سامنے نہیں ہے۔ کانگریس کے لوگ اچھی طرح سے اس بات کو سمجھتے ہیں کہ راہل گاندھی کن وجوہات سے رابرٹ واڈرا کو پسند نہیں کرتے کیونکہ رابرٹ واڈرا بی جے پی کے لئے بہت آسان ہدف ہیں اور وہ انہیں یا ان کے کئے گئے کاموں کو اسی لئے بڑا بنا رہے ہیں تاکہ وقت آنے پر واڈرا کو راہل گاندھی کے سامنے استعمال کر سکیں۔ جو بھی لوگ راہل گاندھی سے پچھلے ایک سال میں ملے ہیں، ان کا یہ اندازہ ہے کہ ان میں بہت بدلائو آیا ہے۔یہ بدلائو کیا ہے، اسی کی جانچ باقی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

آس پاس کے گھیرے کوتھوڑا ڈھیلا کریں
اب تک راہل گاندھی اوسطاً 8مہینے باہر اور 4مہینے ملک میں رہے ہیں۔ اس معاملے میں انہیں موڈی مانا جاتا ہے اور ان کا جب من ہوتا ہے وہ چھٹی منانے یا اپنے دوستوں سے ملنے بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ کانگریس صدر بننے کے بعد راہل گاندھی کے خود کے لئے پہلا بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ملک میں کتنے دن رہتے ہیں یا وہ بیرون ملک جانے کی اپنی عادت کو بغیر بدلے پھر سے بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ ہندوستان جیسے ملک میں سیاسی پارٹی کو چلانا تھوڑا مشکل ہے۔ اس کے لئے 25 گھنٹے کا سیاست داں ہونا پڑتا ہے۔ سارے بنیادی کارکنوں سے سیدھے رابطہ رکھنا پڑتا ہے۔ سارے پرانے لوگوں کو عزت دینی پڑتی ہے اور اپنی پارٹی جیسی نظریہ والی پارٹیوں کے لوگوں سے بھی رابطہ رکھنا پڑتا ہے۔
ایک اچھے سیاست داں اور صدر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی انانیت کو یا اپنے آس پاس کے گھیرے کو تھوڑا ڈھیلا کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو لوگ اس سے نہیں جڑتے اور جب لوگ نہیں جڑتے تو پارٹی کو جیت نہیں ملتی۔ یہ طریقہ اپنی پارٹی کے لئے بھی ضروری ہے اور یہ طریقہ اتحادی پارٹیوں کے ساتھ رشتوں کے لئے بھی ضروری ہے۔ ملک کے سامنے آنے والے مسائل کو لے کر ان کا تجزیہ کرنا، پارٹی صدر کے لئے بہت اہم ہے۔ لیکن وہ تجزیہ کبھی اکیلا نہیں کر سکتا۔ اسے سب کو سن کر ، سب کی رائے لے کر فیصلہ لینا چاہئے۔ جو اکیلا فیصلہ لیتا ہے وہ کبھی اچھا صدر نہیں مانا جاسکتا۔
یہ بدلائو راہل گاندھی میں انتہائی ضروری ہے۔ لوگ اس بات پر نظر گڑائے بیٹھے ہیں کہ کیا راہل گاندھی میں یہ بدلائو ہوگا یا جس طرح وہ پہلے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کرتے تھے، اسی راستے پر وہ آگے بڑھنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ان کی دادی آنجہانی اندرا گاندھی کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ ملک بھر کے اپنے کارکنوں سے اتنا زیادہ ملتی تھیں،ان کی باتیں دھیان سے سن کر اندازہ لگا لیتی تھیں کہ اس علاقے میں کانگریس کا کیا مسئلہ ہے اور پھر اس کا حل نکالنے کے لئے اپنے بھروسہ مند لوگوں کو ہدایت دیتی تھیں۔
ان کے والد آنجہانی راجیو گاندھی کلین سلیٹ کی طرح آئے تھے اور ملک کو ان سے بہت امیدیں تھیں۔ لیکن وہ انتخاب کے سال بھر کے اندر بہت تھوڑے لوگوں کی صلاح کے عادی ہو گئے۔ اس عادت نے انہیں پارٹی کی سطح پر کارکنوں سے جوڑے رکھا، لیکن دماغ اور فیصلوں کی سطح پر وہ کارکنوں سے دور ہو گئے۔ س لئے تیسرا سال گزرتے گزرتے ایسے مسائل آئے کہ ان کی وزیر اعظم اور کانگریس صدر کے طور پر ساکھ کم ہوتی چلی گئی۔یہ سارے نکات راہل گاندھی کے لئے تجزیہ کا موٖضوع ہیں۔ اگر راہل گاندھی ان کا تجزیہ نہیں کرتے اور اپنی پارٹی کے سبھی لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں رکھتے تو کیسے کامیاب صدر بنیں گے،یہ سمجھ میں آتا ہے۔کسی بھی لیڈر یا پارٹی صدر کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی کے اندر جتنے گروپ ہیں، سب سے رابطہ رکھے اور سب کے لئے کام تلاش کرے، اگر ایسا نہیں ہوگا تو سب کمزور ہو جائیںگے اور بکھر جائیںگے۔ بی جے پی اس لئے آگے بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ ان طریقوں کی تعمیل کررہی ہے۔ کانگریس ان طریقوں کی تعمیل نہیں کررہی ہے۔
راہل گاندھی کو سمجھنا چاہئے کہ سائنس کا ایک طریقہ ہے کہ ایک طے شدہ درجہ حرارت پر ہی پانی میں ابال آتا ہے۔ اس سے زیادہ حرارت ہو تو پانی بھاپ بن کر اڑ جاتاہے اور اگر اس سے کم ہو تو پانی ٹھنڈا کا ٹھنڈا یعنی گنگنا ہوکر رہ جاتا ہے۔یہ اصول راہل گاندھی کو سمجھنا چاہئے کہ بالکل مناسب وقت پر مناسب فیصلہ لیں ۔اس سے پہلے مکمل صلاح و مشورہ اور مکمل تجزیہ اور اس فیصلے کے کیا نتائج ہوں گے اور ان نتائج کا کیسے سامنا کرناہے، یہ پہلے سے پتہ ہونا چاہئے۔
جمہوریت کو بچانے میں راہل کا کردار
راہل گاندھی کے اوپر ایک تاریخی ذمہ داری ہے۔ کانگریس ملک پر بہت وقت تک حکومت کر چکی ہے اور اس وقت بنیادی اپوزیشن پارٹی ہے۔جمہوریت میں اپوزیشن کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ اگر اپوزیشن پارٹی لوگوں کے مسائل نہ جانیں، ان مسائل کے حل کے لئے لوگوں کو اپنے ساتھ نہ جوڑیں اور اسے صحیح فورم پر نہ اٹھائے تو اپوزیشن پارٹی کا کوئی کردار بچتا نہیں۔کانگریس نے پہلے تین سالوں میں یہی کیا۔
پچھلے دس سال کے دور حکومت کے بعد کانگریس اپوزیشن میں آئی، لیکن کانگریس یہ قبول کرنے کو ہی تیار نہیں ہے کہ وہ اپوزیشن میں ہے۔ بی جے پی ’’کانگریس مکت ہندوستان ‘‘کا نعرہ دے رہی ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کانگریس کے سبھی لیڈروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس سرگرمی کو قائم کرنے اور منطقی انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری راہل گاندھی کی ہے۔ دراصل ملک میں جمہوریت کو بچائے رکھنے میں اپوزیشن کا اور خاص طور پر راہل گاندھی کا بہت بڑا کردار ہے۔ چونکہ راہل گاندھی کانگریس کے صدر ہیں، اس لئے راہل گاندھی کو یہ کردار نبھانا ہی چاہئے۔ ملک کے لئے راہل گاندھی کے پاس کیا سوچ ہے، ان کا منصوبہ کیا ہے،لوگوں کے دل پر وہ کیسے اپنی چھاپ چھوڑیںگے،یہ سارے سوالات جواب طلب ہیں۔اپنی عادت کے مطابق اگر وہ ان سوالوں کے جوابات دینے میں وقت لگائیں گے تو وقت ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔راہل گاندھی کو وقت ہاتھ سے نہیں نکلنے دینا چاہئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *