نئے سال پر جشن یا مبارکباد دینا یا خوشیاں منانااسلام میں فضول عمل ہے: مولانا محمد رحمانی مدنی

muhammad-rahmani-madani
اللہ رب العالمین نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم غیرمسلموں اور بالخصوص اہل کتاب کی مشابہت اختیار نہ کریں اور نہ ہی ان سے دوستی اور ولایت کا اظہار کریں کیونکہ اسلام دشمنوں سے دوستی کرنے والے ان ہی میں سے ہوجاتے ہیں، دین اسلام کا مذاق اڑانے والوں اور دین کو کھلواڑ بنانے والوں سے بھی ہمیں دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔اور مسلمانوں کو قطعا اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ غیروں کی تہذیب اور دوسرے مذاہب کے ریت ورواج کو اپنائیں اور اسلامی تعلیمات کو نظر انداز کریں۔ اسی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود ونصاری کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی کے ساتھ روکا ہے، عصبیت اور اونچ نیچ کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ اسلام اللہ تعالی کو پہچاننے والے کو بہت اونچا تصور کرتا ہے، اس وجہ سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو اختیار کرکے بلندی حاصل کریں اور غیر اقوام کی مشابہت کو ترک کئے بغیریہ بلندی مل پانا اور سچا مسلمان بننا ممکن نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے29دسمبرکو جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا نئے سال کی آمد کی مناسبت سے اسلامی احکام ومسائل پر خطاب فرمارہے تھے نیز انہوں نے طلاق ثلاثہ پر آنے والے قانون پر بھی تبصرہ فرمایا۔
خطیب محترم نے فرمایا کہ عورتوں کا بے پردہ نکلنا، عصبیت اختیار کرنا، کفار کی عیدوں میں شریک ہونا، لباس اور رہن سہن میں کفار کی مشابہت اختیار کرنا،داڑھی مونڈنا اور مونچھیں بڑھانا، میوزک اور موسیقی کو استعمال کرنا وغیرہ سب غیر اقوام سے مشابہت اختیار کرنے اور ان کی تقلید کرنے کی ایک شکل ہے۔نئے سال پر مبارکباد پیش کرنا، خوشیاں منانا، پارٹیاں کرنا یا تقریبات کا اہتمام کرنا بھی ہے اور اس کی بھی اسلام میں گنجائش نہیں ہے۔۔اسلامی دلائل کی روشنی میں ان پر حرمت کا حکم لگایاجاتا ہے۔اس وجہ سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسی چیزوں سے اجتناب کریں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں۔
مولانا نے طلاق ثلاثہ پر لوک سبھا میں پاس کئے گئے بل پر بھی کھل کر گفتگو کی اور فرمایا کہ یہ ہماری کوتاہیوں کا نتیجہ ہے، اگر ہم نے وقت پر قرآن وسنت کی جانب رجوع کرلیا ہوتا اور محض اپنی فقہی رائے پر اس کے کمزور ہونے کے باوجود بھی اڑے نہ رہتے تو آج سارے مسلمانوں کو ایسی رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔مولانا نے قرآن میں سورۂ بقرہ، سورۂ طلاق،اور کتب حدیث میں صحیح مسلم،سنن ابوداؤد،مسند احمد، ابویعلی، بیہقی، سنن نسائی اور بہت سے حوالوں سے ثابت کیا کہ اسلام میں ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی شمار کی جانی چاہئے لیکن ہم نے اپنی ضد کی وجہ سے شریعت کے قانون کو ماننے سے گریز کیا تو اب ہمیں یہ نتائج تو بھگتنے ہی پڑیں گے۔ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ میں ہمیں قرآن وسنت پر مبنی جماعت اہل حدیث کے واضح موقف کو بہت پہلے ہی اختیار کرلیا ہوتا تو یہ ساری مصیبتیں ہمیں نہ دیکھنی پڑتیں۔خطیب محترم نے فقہ حنفی کی بعض اہم علماء کا تذکرہ بھی کیا کہ ان میں بھی بہت سے اہم علماء ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ہی شمار کرنے کے قائل رہے ہیں تو ہمیں اسے تسلیم کرنے اور قرآن وسنت کے فیصلہ کو ماننے میں کیوں تردد ہورہا ہے؟
مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اندر اعتدال پیدا کریں، قرآن وسنت کی طرف رجوع کریں اور غیروں کی مشابہت سے خود بھی بچیں اور نئی نسلوں کو بھی بچائیں نیز اپنے تمام امور اور اختلافات نیز مسائل قرآن وسنت اور اسوۂ صحابہ ہی کی روشنی میں حل کریں۔اخیر میں دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

B

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *