بی جے پی کی بے پرواہی اور کانگریس کا احتیاط درمیان میں جھول رہا ہے گجرات کا مسلمان

اس بار 9 اور 14 دسمبر کو 182 ارکان گجرات اسمبلی کے ہورہے انتخابات میں مسلمانوں اور ان کے ایشوز سے گزشتہ انتخابات سے ہٹ کر الگ رویہ اختیار کیا گیا۔ برسراقتدار بی جے پی نے 2011 کی مردم شماری کے مطابق 9.6 فیصد کمیونٹی کے تعلق سے انہیں نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا جبکہ چینلوں اور اخبارات میں رپورٹوں کے ساتھ تصاویر میں اس کی اہم میٹنگوں میں مسلم چہروں کو خاص طور پر دکھایا گیا۔ ویسے یہ بھی ہوا کہ وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے احمد آباد میں مسلم اکثریتی علاقے جمال پور کھادیا ہوکر اپنا روڈ شو کیا اور اقلیتی مورچہ کے لیڈروں نے سورت میں مسلمانوں کے درمیان انتخابی مہم چلائی۔ اسی کے ساتھ ساتھ بی جے پی یہ تاثر دیتی رہی کہ مسلمان کم و بیش اس کے ساتھ ہیں۔
دوسری جانب کانگریس نے اس بار 6 مسلمانوں کو ٹکٹ دیئے جبکہ گزشتہ بار 2012 کے اسمبلی انتخابات میں 7 مسلمانوں کو کھڑا کیاگیاتھا جس میں دو مسلمان جیت کر آئے تھے۔ اس طرح اس بار کانگریس کی جانب سے انتخابات لڑرہے مسلمانوں کی تعداد گزشتہ بار کے مقابلے کم ہوگئی ۔ علاوہ ازیں بی جے پی کے برخلاف کانگریس مسلمانوں میں کھل کر مہم چلانے میں بہت احتیاط کررہی ہے۔ تبھی تو ابھی تک کانگریس کسی بھی مسلم علاقہ میں کھل کر انتخابی مہم کرنے نہیں گئی۔کہا جارہا ہے کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی جو کہ گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے میں ریاست میں متعدد مندروں میں جاچکے ہیں، نے بھی کسی بھی کہیں بھی مسلم اکثریتی علاقہ کا دورہ نہیں کیا ۔
اس طرح گجرات میں اس بار کا اسمبلی انتخاب اس لحاظ سے عجیب و غریب ہے کہ دونوں سیاسی پارٹیاں مسلم ووٹ کے تعلق سے کچھ الگ رائے رکھتی ہیں۔بی جے پی اپنے مسلم حامیوں کو سامنے لاکر اور مسلم اکثریتی علاقوں سے گزر کر بظاہر یہ تاثر دے رہی ہے کہ مسلمان اس کے ساتھ ہیں اور اسے ان کا ووٹ شیئر اس بار بڑھے گا جبکہ کانگریس یہ مان کر چل رہی ہے کہ مسلمانوں کے پاس دوسرا کوئی متبادل نہیں ہے۔لہٰذا ان کا ووٹ تو اسے ہر حال میں ملے گا ہی۔ اس لئے سے ان کا ووٹ مانگنے کے لئے کسی خصوصی مہم کو چلانے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اب انتخابات کے نتائج سے ہی یہ بات ثابت ہوگی کہ کانگریس کا یہ بھرم اور احتیاط کتنا صحیح یا غلط تھا؟

 

 

 

 

 

 

کانگریس کی حکمت عملی
ریاست میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے تعلق سے یہی حکمت عملی بنائی ہے کہ مسلم ووٹ لیں گے مگر اس سلسلے میں کوئی تشہیر یا ہنگامہ نہیں کریں گے تاکہ بی جے پی کو اس سے ہندو ووٹوں کو موبیلائز یا پولرائز کرنے کا خواہ مخواہ بہانہ نہ مل جائے۔ اس تعلق سے مسلم کمیونٹی میں ایک تعداد جہاں کانگریس کی اس حکمت عملی کی پذیرائی اور تعریف کررہی ہے، وہیں کچھ لوگ اسے کانگریس کی روایتی مسلم مخالف پالیسی یا مسلمانوں کو اہمیت نہ دینے کا حصہ مان رہے ہیں۔
’’چوتھی دنیا ‘‘کو احمد آباد کے معروف صحافی اور سماجی کارکن عبد الحفیظ لاکھانی نے بتایا کہ ’’ دراصل بی جے پی کانگریس پر مسلم نوازی کا الزام لگا کر اقتدار میں ہے ‘‘۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مسلمانوں سے دوری بنائے رکھنے کی حکمت عملی کو ’ سافٹ ہندوتو ‘کہا جاسکتا ہے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کے ریاست میں اقتدار میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ ریاست میں انتخابات کے وقت ایسا ماحول پیدا ہوگیا ہے جو کہ کانگریس کی حمایت میں ہے اور ایسا اس لئے ممکن ہوسکا ہے کہ یہ ابھی تک بی جے پی کی ووٹروں کو پولرائز کرنے کی کوششوں کو نیو ٹرلائز کرنے میں کامیاب رہی ہے اور ایسے تمام اقدام سے پرہیز کیا ہے جس سے بی جے پی ہندوووٹروں کو پولرائز کرسکے۔
لاکھانی نے یہ بھی کہا کہ احمد پٹیل کو آئی ایس کے کسی مبینہ ایکٹویسٹ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی مگر یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی کیونکہ اسی دوران ذات و برادری کا ایجی ٹیشن مذہب کی بنیاد پر کسی بھی ایشو پر چھا گیا۔ لاکھانی کی بات میں وزن تو دکھائی دیتا ہے جب ریاست کی مسلم تنظیموں کا رجحان بھی عمومی طور پر یہی محسوس ہوتاہے ۔مختلف مسلم تنظیموں کا یہ مسلم ووٹروں کو مشورہ ہے کہ وہ کانگریس کی اس حکمت عملی پر کوئی اعتراض نہ کریں۔ مگر وہیں کچھ ایسے طبقات بھی مسلم کمیونٹی میں ہیں جو کہ کانگریس کی اس حکمت عملی میں اس کی محض مفاد پرستی دیکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں صوفی ازم سے قریب سماجی و قانونی کارکن انوارشیخ کہتے ہیں کہ ’’ کانگریس کی ہمیشہ سے یہ حکمت عملی رہی ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر مارجینلائز کردیا جائے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ’سافٹ ہندوتو‘ کی جانب سیاسی فائدے کے لئے قدم بڑھا رہی ہے ‘‘۔
اسی سلسلے میں گودھرا کے تاجر محمد امین سیٹھ کا کہنا ہے کہ یہ اہم نہیں ہے کہ راہل گاندھی یا کوئی اور مقامی کانگریس لیڈر انتخابات کے وقت مسلم علاقے میں جاتے ہیں یا نہیں بلکہ اہم تو یہ ہے کہ وہ انصاف کی بات کرتے ہیں یا نہیں۔ یہی رائے ودودرا کے کپڑے کے تاجر ابراہیم کپاڈیا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ کانگریس تمام کمیونٹیوں اور گروپوں کو لے کر چلتی ہے جبکہ بی جے پی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کرسکتی ہے ۔

 

 

 

 

 

 

موضوع بحث ایشو
عیاں رہے کہ کانگریس کی موجودہ حکمت عملی اس لئے موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ زیادہ ترلوگوں کا ماننا ہے کہ یہ مسلم ووٹوں کو ’’ایز گرانٹیڈ‘‘ مان کر انہیں نظر انداز کرتی ہے اور پھر انتخابات کے بعد بھی مسلمان ان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنتے ہیں۔نیز یہ بات بھی ہے کہ اس بار جہاں بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں حسب روایت مسلمانوں کے تعلق سے کوئی بات نہیں کی ہے، وہیں کانگریس نے بھی اپنے انتخابی منشور میں مسلم ایشوز سے مکمل طور پر پرہیز کیا ہے۔
اس طرح یہ یقینا عجیب و غریب حکمت عملی ہے کہ جس 9.6 فیصد آبادی کے ووٹ پر کانگریس بھروسہ کئے بیٹھی ہے، اسے اس کمیونٹی سے کوئی عملی لگائو نہیں ہے۔تبھی تو اس کی مسلم نمائندگی 1980 سے ابھی تک مجموعی طور پر کم ہوتی جارہی ہے۔ 1980 میں اس نے 17 مسلم امیدوار کھڑے کئے تھے جن میں سے 12 اسمبلی میں پہنچے تھے۔ اسی طرح 1985 میں 8 ، 1990 میں 2، 1995 میں ایک ، 1998 میں 5 ، 2002 میں 3 ، 2007 میں 5، اور 2012 میں 2 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے جو کہ کانگریس کی مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کی بدترین مثال تھی۔
ویسے بھی کانگریس کے اقتدار میں مستقل ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمان جتنے نقصان میں رہے ہیں ،وہ کسی سے ڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت کانگریس کے پاس مسلمانوں کے تعلق سے کھل کر نہ بولنا اس کے حق میں جاتا ہوامحسوس ہورہا ہے کیونکہ بی جے پی ان کے ووٹ کو لینے کا دعویٰ کرنے کے باوجود ان کی فلاح کے بارے میں کوئی عملی بات نہیں کررہی ہے۔
بہر حال اس صورت حال میں کانگریس کے لئے یہی مشورہ ہے کہ وہ اس بار ماحول کو پولرائز ہونے سے بچانے کے لئے انتخابات میں بھلے محتاط رہے مگر جیتنے کی صورت میں مسلمانوں کے لئے کچھ مثبت اور تعمیری کام بھی کرے ورنہ انہیں دھوکے میں ہمیشہ نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ وہ بات ہے جو کہ ہر مسلم گجراتی ووٹر صاف طور پر کہتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *