سابق وزیراعظم اوربھارت رتن اٹل بہاری واجپئی 93برس کے ہوگئے

atalvajpayee
بھارت رتن ایوارڈ یافتہ اورسابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کاآج 25دسمبرکوجنم دن ہے۔اٹل بہاری واجپئی آج 93برس کے ہوگئے ہیں۔ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں واجپئی نام چوٹی کے سیاسی رہنماؤں میں درج ہے۔اٹل بہاری کے جنم دن پران سے ملنے اورجنم دن کی مبارکباددینے کیلئے پی ایم مودی، امیت شاہ ، راجناتھ سنگھ اوروجے گوئل ان کی رہائش گاہ کرشن مینن مارگ پہنچے ہیں۔اٹل بہاری کا جنم مدھیہ پردیش کے گوالیارمیں 25دسمبر1924کوہواتھا۔ان کے والدکرشن بہاری واجپئی ٹیچر تھے۔ان کی والدکانام کرشنا تھا۔اٹل بہاری کے جنم دن کے موقع پربڑے لیڈروں نے انہیں یاداوران لمبی عمروصحت یابی کیلئے دعاکی۔
اٹل جی کے دادا شری شیام لال واجپائی آگرہ کے مشہور گاؤں بٹیشور کے رہنے والے تھے اور وہ سنسکرت کے عالم فاضل تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلائی اور بٹیشور سے باہر گوالیار کی ریاست میں ملازمت کرنے کی صلاح دی۔ شری کرشن بہاری واجپائی نے گوالیار جاکر بطور استاد ملازمت شروع کردی اور وہاں شندے کی چھاؤنی میں رہنے لگے۔ وہاں ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں تولد ہوئیں۔ اٹل جی کا جنم کرسمس کے مبارک دن 25 دسمبر 1926ء کو ہوا۔
مقامی اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گوالیار ہی میں وکٹوریہ کالج سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد کانپور کے ڈی اے وی کالج سے پولیٹیکل سائنس میں فرسٹ کلاس میں پوسٹ گریجویشن کی تکمیل کی۔ اس کے بعد انہوں نے قانون پڑھنے کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔
اٹل جی آغازِ جوان ہی سے سماجی سرگرمیوں میں مشغول رہنے لگے تھے۔ وہ شارٹایہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرگرم کارکن تبھی رہے اور اسٹوڈنٹ یونین کے سکریٹری اور نا صدر بھی۔ انہوں نے 1942ء کی ’’بھارت چھوڑو‘‘ تحریک میں پرجوش حصہ لیا تھا۔ تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کو پکڑا جانے لگا اور اٹل جی بھی گرفتار ہوگئے اور انھیں 24 دنوں کی قید بھگتنی پڑی۔
اٹل بہاری واجپائی دو مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہے۔ پہلی مرتبہ 16 مئی 1996ء سے یکم جون 1996ء یعنی 15 دن کے وزیر اعظم رہے۔ دوسری مرتبہ 19 مارچ 1998ء4 سے 22 مئی 2004ء تک وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔
واجپائی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما کے ساتھ وہ ہندی کے عمدہ شاعر بھی ہیں۔ سیاسی مصروفیات میں بھی انہوں نے شاعری کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ واجپائی جنہیں اعتدال پسند قائد کہا جاتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی اپنے ان جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں واجپائی نے وقت کے ہر سلگتے مسئلے پر نظمیں کہی ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *