65 کسان تنظیموں کا اتحاد حقوق کے لئے آر پار کی لڑائی

ہندوستان میں کسانوں اورکاشتکاری کا حال جاننے کے لئے کسی سائنس کو جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔بس اعدادو شمار جاننے ضرورت ہے۔ 1951 سے لے کر آج تک کی تاریخ میںہندوستان کی جی ڈی پی میں زراعت کی حصہ داری لگاتار کم ہوتی گئی۔ 1951 میں زراعت کی حصہ داری جہاں50 فیصد سے زیادہ تھی، وہ اب گھٹتے گھٹتے 12-13 فیصد تک آ گئی ہے۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ سرکار کا دھیان اگریکلچر سے ہٹ کر مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر کی طرف زیادہ گیا ہے۔ 1991 میں جب ملک نے منیٹائزیشن اپنایا، تب سے آج تک سرکاری وغیر سرکاری اعدادو شمار کے حساب سے ملک کے تقریباً 3 لاکھ کسان خود کشی کر چکے ہیں۔ کچھ ریاستوں کو چھوڑ کرتقریباً ہر ریاست کی صورت حال خراب ہے۔ مہاراشٹر جیسی ریاست جہاں زیادہ تر باشندے شہروں میں رہتے ہیں تو کسانوں کا قبرگاہ بنادیا گیاہے ۔مدھیہ پردیش سے لے کر گجرات اور تمل ناڈو سے لے کر کرناٹک تک کے کسان خود کشی کررہے ہیں۔
خود کشیوں کی وجوہات
ان تمام خود کشیوں کی کچھ عمومی وجوہات ہیں۔مثلاً بینک اور مہاجنوں سے لئے گئے قرض کا بھنور ۔ فصل کی قیمت نہ ملنا، خشک سالی یا برباد ہوئی فصل کا مناسب معاوضہ نہ ملنا، ان ایشوز کو لے کر وقت بوقت کسان، کسان تنظیمیں اور سیاسی پارٹیوں کی کسان تنظیمیں آندولن بھی کرتی رہی ہیں۔ لیکن اس کے بعد بھی کسانوں کے مسائل کا اختتام ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی کچھ وجہ ہے اور وہ ہے آندولن اور کسان تنظیموں کی پالیسی اور نیت۔ایک طرف جہاں ایک کسان تنظیم دہلی تک اپنی بات ٹھیک سے نہیں پہنچا پاتی ہے، وہیں سیاسی پارٹیوں سے جڑی کسان تنظیم ان کے ایشو کو سیاست کے جال میں الجھا دیتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی کسان تنظیم ان کسانوں کا سیاسی فائدہ اٹھا لیتی ہے اور اصل مدعا جوں کا توں رہ جاتا ہے۔
حال کے دنوں میں تمل ناڈو کے کسان دہلی آئے لیکن میڈیا اور سیاسی پارٹیوں نے تب تک ان کے اوپر دھیان نہیں دیا جب تک کہ انہوں نے کچھ الگ قسم سے آندولن کو نیا رخ نہیں دیا۔ گزشتہ مہینوں میں راجستھان میں کسانوں نے زبردست آندولن کیا لیکن وہاں کمیونسٹ پارٹی اپنا جھنڈ الے کر پہنچ گئی اور کسانوں کے متاثر کن آندولن کو سیاسی رنگ دے دیا۔حال ہی میں یوگیندر یادو کئی کسان تنظیموں کے ساتھ دہلی پہنچے۔ لیکن ایک بار پھر وہی ہوا۔ چونکہ وہ ایک سیاسی پارٹی کے چیف ہیں، اس لئے سرکار نے ان کی مانگوں پر دھیان تک نہیں دیا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کے کسان ایسے ہی ٹھگے جاتے رہیں گے اور ان کی اجتماعی طاقت کا استعمال یونہی ہوتا رہے گا؟

 

 

 

 

 

 

 

کسان سنگٹھن نہیں، کسان مہا سنگھ
لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ کسی مسئلے کو زیادہ دنوں تک دبا کر یا یوں کہیں کہ بہلا پھسلا کر نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے جب ملک کی کسان تنظیموں، ان کے آندولن ،ان کی پالیسی کے بارے میں جانکاری جمع کی تو ایک اہم حقیقت یہ سامنے آئی کہ کافی پُرامن، بغیر شور مچائے، اس ملک کے قریب 50 سے زیادہ کسان تنظیمیں (غیر سیاسی ) ایک بڑے کسان آندولن کی تیاری میں لگی ہوئی ہیں۔ اس آندولن کاکردار، اس کی پالیسی ، اس کی تیاری ، اس کی قیادت اب تک کے کسی بھی کسان آندولن سے بالکل الگ ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے راجستھان، ہریانہ، پنجاب ،یوپی ، مدھیہ پردیش کے گائوں گائوں میں اس آندولن کی خاموش تیاری چل رہی ہے۔ اسی مہینے سے مدھیہ پردیش کے مندسور سے ’کسان جاگرتی یاترا‘ شروع ہو رہی ہے، جو ملک کی 19 ریاستوں تک جائے گی اور جس کا اختتام ہریانہ کے کوروچھیتر میں ہوگا۔ دراصل ہم بات کرتے ہیں ’راشٹریہ کسان مہا سنگھ‘ کی جس میں ملک کیتقریباًٍ 65 سے زیادہ کسان تنظیمیں شامل ہوںگی جو ایک پالیسی، ایک مانگ، ایک نعرہ کے تحت دسمبر سے ملک گیر آندولن شروع کر رہی ہیں اور اگلے سال 23 فروری کو دہلی گھیرائو کا پروگرام بنا چکی ہیں۔ اس مہا سنگھ میں ایک کور کمیٹی ہے، جس کے 7 ممبر ہیں۔ کسان مہا سنگھ سے جڑے لوگ بتاتے ہیں کہ اس بار کی لڑائی آر پار کی لڑائی ہوگی۔
20 دن میں گوالیار سے دہلی
’راشٹریہ کسان مہا سنگھ ‘کے نیشنل کنوینر شیو کمار شرما عرف ککّا جی’’ چوتھی دنیا‘‘کے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مدھیہ پردیس کے تقریباً50 ہزار لوگ دہلی گھیرائو کے لئے گوالیار سے پیدل مارچ کریں گے اور 19سے 20 دنوں میں دہلی پہنچ جائیں گے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جہاں ہمیں روک دیا جائے گا، ہم وہیں بیٹھ کر اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ یہ پوچھنے پر کہ 50 ہزا لوگوں کے دہلی لانے کے لئے جو پیسہ لگے گا، اس کا انتظام کیسے ہوگا؟ شیو کمار شرما بتاتے ہیں کہ یہ پیسہ ہم گرام سمیتیوں سے اکٹھا کر رہے ہیں۔ کسان خود گائوں گائوں جا کر لوگوں کو اس کے بارے میں سمجھا رہے ہیں۔ کسان خود ہی اپنے گھروں سے چاول، آٹا، ، دال ، تیل ،کپڑے، ٹریکٹر کا انتظام کر رہے ہیں۔ یعنی اس آندولن کے لئے جو بھی خرچ آئے گا،وہ کسان خود اپنی جیب سے برداشت کرے گا۔
پہلے جے پور پھر دہلی کا گھیرائو
’راشٹریہ کسان مہاسنگھ‘ کے کور کمیٹی کے ممبر اور راجستھان کے گنگا نگر کے رہنے والے ستیہ ویر سنگھ ’’چوتھی دنیا‘‘ سے بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 23 فروری کے دہلی گھیرائو کے لئے ہم ابھی سے ہی راجستھان کے گائوں گائوں جا کر لوگوں اور کسانوں کو متوجہ کررہے ہیں۔ امید ہے کہ راجستھان سے کم سے کم 20ہزار کسان دہلی کے لئے کوچ کریں گے۔ ستیہ ویر سنگھ بتاتے ہیں کہ اس سے پہلے ہمارا 23دسمبر کو جے پور کا بھی گھیرائو ہوگا۔ راجستھان کے گائوں گائوں سے کسان 23دسمبر کو جے پور آئیں گے۔ جے پور گھیرائو کے مقصد کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ چونکہ قرض معافی ریاستی سرکار کا موضوع ہے، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ راجستھان سرکار قرض معافی کا اعلان کرے اور ساتھ ہی اسمبلی سے ایم ایس پی پر 50 فیصد اضافی ویلیو کے لئے ایک بل پاس کرکے مرکزی سرکار کو بھیجے۔23 دسمبر کے بعد راجستھان کے گائوں سے کسان دہلی کوچ کی تیار ی کریں گے۔ دہلی کوچ کرنے کی تیاری کے بارے میں ستیہ ویر سنگھ بتاتے ہیں کہ 20 ہزار لوگوں کے لئے کسان اور’ راشٹریہ کسان مہا سنگھ ‘کے ممبر اپنی سطح پر ہی تیاری کر رہے ہیں۔ کسان آپس میں تعاون کر رے ہیں۔ یہ کسان خود اپنا کھانا، کپڑا، لنگر لے کر چلیں گے ۔کسان خود ہی اپنے ٹریکٹر سے آئیں گے۔ ٹریکٹر کے ڈیژل کے لئے کسان گائوں گائوں سے چندہ اکٹھا کررہے ہیں۔ ہر 500 کسانوں کا ایک لیڈر ہوگا، جس کی ذمہ داری ان لوگوں کے کھانے پینے کی ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے فیصلہ کن لڑائی ہوگی۔ یہ کہتے ہیں کہ ابھی تک ملک میں دو طرح کے کسان آندولن کا طریقہ رہا ہے۔ ایک سیاسی تنظیموں یا پارٹیوں سے جڑا ہوا اور دوسرا ہمارا یہ طریقہ جوکہ بالکل غیر سیاسی ہے ۔ یہ صاف طو سے کسانوں کا، کسانوں کے لئے اور کسانوں کے ذریعہ چلایا جا رہاآندولن ہے ۔
ہریانہ سے بھی نکلے گا کارواں
گرنام سنگھ ہریانہ سے ہیں۔وہ بھی ’راشٹریہ کسان مہا سنگھ‘ کے کور کمیٹی کے ممبر ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ ہریانہ میں 2 دسمبر سے ہی کسانوںکی میٹنگیں جاری ہیں۔ ا ن میٹنگوں میں ہم مہا سنگھ کے ممبروں کو الگ الگ ضلع الاٹ کررہے ہیں۔یہ ممبر اپنے اپنے ضلعوں میں جا کر کسانوں سے ملیں گے اور دہلی گھیرائو کے لئے میٹنگیں کریں گے۔یہ ممبر گائوں سے ٹریکٹر کھانا ،کپڑا،ترپال وغیرہ بھی جمع کریں گے۔ اس کے علاوہ مندسور سے نکلنے والی ’کسان جاگرت یاترا‘ کا اختتام بھی چونکہ ہریانہ کے کوروچھیتر میں ہونے والاہے ، اس کی بھی تیاری ہریانہ کے کسان کر رہے ہیں۔ گرنام سنگھ بتاتے ہیں کہ ’کسان جاگرت یاترا ‘کا مقصد ہے ملک بھر کے کسانوں کو دہلی گھیرائو کے لئے اکٹھا کرنا ۔ہریانہ کے علاوہ اتر پردیش، پنجاب اور ملک کے باقی ریاستوں کے کسان بھی دہلی گھیرائو کے لئے دھیرے دھیرے اپنی تیاری کو انجام دے رہے ہیںجس کی خبر ابھی تک نیشنل میڈیا میں کہیں نہیں آئی ہے۔’ کسان جاگرت یاترا‘ مندسور سے شروع ہو رہی ہے۔ مندسور میں ہی کسان آندولن کے وقت پولیس فائرنگ میں ایک درجن سے زیادہ کسانوں کی موت ہو گئی تھی۔ ظاہر ہے اس یاترا کی شروعات کے لئے مندسور کا انتخاب بھی فطری طور سے کافی اہم مانا جاتا ہے۔
جنوبی ہندوستان کے کسان کریں گے ہائی وے جام
’کسان مہا سنگھ‘ کے نیشنل کنوینر شیو کمار شرما بتاتے ہیں کہ ’کسان مہا سنگھ ‘میں جنوبی ہند کی کسان تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ چونکہ یہ پیدل چل کر دہلی نہیں آسکتے ،اس لئے ٹرین سے آئیں گے۔ اس وجہ سے جنوبی ہند کے کسان کم تعداد میں ہی دہلی آسکیں گے۔ لیکن مہا سنگھ نے جنوبی ہند کے کسانوں کے لئے آندولن کا ایک نیاطریقہ نکالا ہے۔ شرما بتاتے ہیں کہ جنوبی ہند کی کسان تنظیم بھی مضبوط ہیں۔ انہیں کہا گیاہے کہ وہ شمالی ہند کی طرف آنے والے ہائی وے کو جام کر دیں۔ یعنی ایک طرف جہاں شمال ہند کے لوگ دہلی گھیرائو کے لئے کوچ کریں گے،وہیں جنوبی ہند کے کسان شمالی ہند کی طرف آنے والے ہائی وے کو جام کریں گے ۔شرما بتاتے ہیں کہ اس سے ہم سرکا رپر دبائو بنا پانے میں کامیاب رہیں گے۔ اس کے لئے دسمبر کے پہلے ہفتہ میں شرما نے جنوبی ہند کی کسان تنظیموں کے ساتھ میٹنگیں بھی کی ہیں۔
صرف دو مطالبات
شیو کمار شرما آندولن کی مانگ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس بار ہم نے اپنی پالیسی بدل لی ہے۔ پہلے کسان سنگٹھن ایک ساتھ کئی ساری مانگ لے کر سرکار کے پاس جا تے تھے ۔سرکار چالاکی سے ان میں سے کچھ کم اہم مانگوں کو مان لیتی تھی اور اصل اہم مانگوں کو نظر انداز کردیتی تھی۔لیکن اس بار ہم نے ’راشٹریہ کسان مہا سنگھ ‘کی طرف سے صرف 2 ہی مانگیں رکھی ہیں۔ پہلی کسانوں کی مکمل قرض معافی اور دوسریفصل کا صحیح دام۔ وہ اس اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ سرکار چھٹ پٹ طور سے کسی ریاست کے کچھ کسانوں کا کچھ قرض معاف کر دیتی ہے۔ ہم نے یہ مانگ رکھی ہے کہ پورے ملک کے کسانوں کا ایک ساتھ مکمل قرض معاف کر دیا جائے، ایک ہی بار۔ تاکہ کسان قرض اور قرض کے سود کی لعنت سے بچ جائیں۔ فصل کی صحیح قیمت طے ہو۔ اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ خود نریندر مودی نے لوک سبھا انتخابات کے دوران اپنی تقریروں میں کہا تھا کہ ہم کسانوں کو ان کی لاگت پر 50 فیصد اضافی منافع دے کر ایم ایس پی طے کریں گے۔یہ سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش بھی ہے۔ ہم وہی وعدہ پورا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ سرکار نے ہمیں فصل کا صحیح دام کبھی نہیں دیا ۔اسی وجہ سے کسان قرضدار ہوئے۔
بہر حال’ کسان مہا سنگھ ‘کے ذریعہ دہلی گھیرائو کی تیاریوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ،یہ تو آنے والے وقت میں ہی پتہ چلے گا لیکن کسانوں سے کی گئی لگاتار وعدہ خلافی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج کسان متحد ہونے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ویسے بھی وکاس کے جس ماڈل کو ہم نے اپنایا ، اس میں کسانوں کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے ۔ایسے میں لگاتار کسانوں کی بگڑتی حالت نے انہیں اس حالت زار میں پہنچادیا ہے۔ جہاں ان کے پاس کرو یا مرو کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا ہے۔
کہاں گئیں سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات؟
٭سیلنگ سرپلس اور بنجر زمین کی تقسیم ۔
٭بنیادی زرعی زمین اور جنگل کارپوریٹ سیکٹر کو غیر زرعی اسکیموں کے لئے دینے پر روک۔
٭آدیواسیوں اور چرواہوں کو جنگل میں چرائی کا حق۔
٭ایک نیشنل یوز لینڈ ایڈوائزری سروس کا قیام۔
٭زرعی زمین کی فروخت مقرر کرنے کے لئے ایک سسٹم کا قیام۔
٭سستا ہیلتھ بیمہ دینا، فرسٹ ہیلتھ سینٹروں کی بازآبادکاری۔
٭مائیکروفائننس پالیسیوں کی تشکیل نو،جو لائف انشورنس کے طور پر کام کرے۔
٭سستی قیمت، صحیح وقت ،جگہ پر اعلیٰ بیجوں اور دیگر مواد کی دستیابی یقینی کریں۔
٭کم جوکھم اور کم لاگت والی ٹکنالوجی جو کہ کسانوں کو زیادہ آمدنی کرنے میں مدد کرسکے۔
٭لائف سیکورٹی فصلوں کے معاملے میں مارکیٹ انٹرفرینس اسکیم کی ضرورت۔
٭انٹرنیشنل ویلیو سے کسانوں کی سیکورٹی کے لئے امپورٹ فیس پر تیزی سے کارروائی کی ضرورت۔
٭ایم ایس پی کے طریقہ کار میں سدھار ، دھان اور گیہوں کے علاوہ دیگر فصلوں کے لئے بھی ایم ایس پی کا بندوبست ہونا چاہئے۔
٭ایم ایس پی پیداوار کی اوسط لاگت کے مقابلے میں کم سے کم پچاس فیصد زیادہ ہونا چاہئے۔
٭ایسے بدلائو کی ضرورت ہے جو کہ گھریلو اور انٹر نیشنل مارکیٹ کے لئے مقامی پیداوار کی گریڈنگ، برانڈنگ، پیکجنگ اور وکاس کو بڑھاوا دے۔

 

 

 

 

 

آخر سرکار کیوں نہیں سنتی ان کی ؟
نرنجن مشرا
سرکار جس وقت موڈیز کے اعددو شمار کو ایشو بنا کر اپوزیشن کے سوالوں پر حاوی ہو رہی تھی، اسی وقت ملک بھر کے ہزاروں کسان اپنے مسائل کو لے کر دہلی کے سنسد مارگ سے آواز اٹھا رہے تھے لیکن کسانوں کی آواز نہ تو سرکار کو سنائی دی اور نہ ہی اپوزیشن نے ان کے ساتھ کھڑے ہوکر اپنے جمہوری اقدار کی پاسداری کرنا مناسب سمجھا۔ میڈیا نے بھی اسے اہمیت کے ساتھ نہیں اٹھایا ۔ایسا بھی نہیں تھا کہ یہ کسی ایک تنظیم کے مٹھی بھر لوگوں کا احتجاج تھا۔ اس میں 20 سے زیادہ ریاستوں سے 184 کسان تنظیموں کے تقریباً پچاس ہزار لوگ جمع ہوئے تھے لیکن پھربھی ان کی آواز نقار خانے میں طوطی بن کر رہ گئی۔
اکھل بھارتیہ کسان سنگھرش کورآردینیشن کمیٹی کے بینر تلے ہوئے اس آندولن کے لئے 19 نومبر کو ہی ملک بھر کے کسان رام لیلا میدان میں اکٹھا ہو گئے تھے۔وہاں سے 20نومبر کو پد یاترا کرتے ہوئے سبھی کسان سنسد مارگ پہنچے۔ ان کسانوں کی اہم مانگوں میں سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشوں کو لاگو کرانا اور کسانوں کو ان کی لاگت کا پچاس فیصد منافع مہیا کرانا شامل ہے۔ جب یہ کسان سنسد مارگ پہنچے تو وہاں پہلے سے سماجی کارکن میگھا پاٹیکر کی قیادت میں مہیلا کسانوں کا اجلاس شروع تھا۔ اس کسان اجلاس میں صرف عورتیں تھیں جن میں زیادہ تر وہ تھیں جن کے خاندان کے کسی ممبر نے خود کشی کی ہے۔ اس اجلاس نے کسانوں کے حق والے دو بل پاس کئے۔
کسان اجلاس میں ’سوراج انڈیا‘ کے نیشنل کنوینر یوگیندر یادو نے کہا کہ ہم اس کسان مکتی سنسد سے سبق لے کر جارہے ہیں کہ ہم کسانوں کے حق اور اختیار حاصل کرنے کی لڑائی کو اور تیز کریں گے۔ہم سچائی اور ایمانداری اور ملک بچانے کے راستے پر ہیں۔ کسان بچے گا تبھی ملک بچے گا۔ آج کسان مخالف نہیں بلکہ متبادل دینے آئے ہیں۔ میرٹھ سے آئے کسان وریندر سنگھ نے کہا کہ ہم اب سرکار کی یقین دہانی سے عاجز آچکے ہیں۔ ہم کئی برسوں سے سرکاروں کی باتوں پر یقین کرکے جی رہے ہیں لیکن کوئی بھی سرکار ہماری بد ھالی دور نہیں کر سکی۔ انہوں نے بتایا کہ اتر پردیش انتخاب سے پہلے بی جے پی کے لوگ ہم سے ووٹ مانگنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہماری سرکار آئی تو ہم گنا کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کریں گے لیکن ہوا کیا؟10 روپے بڑھائے گئے۔ احتجاج کے دوران ہی سنسد مارگ پر اپنے گائوں کے10 لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ستو کھا رہی مظفر پور سے آئی تیتری دیوی نے بتایا کہ بہار میں آئے سیلاب میں فصل تو برباد ہوئی ہے،ساتھ ہی ان کا گھر بھی سیلاب میں بہہ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں راحت کے نام پر بس چورا و میٹھا ( چوڑا اور گڑ) ہی ملا ہے اب تک۔ لکھن سنگھ پانچ سال کے اپنے پوتے کے ساتھ اس کسان مکتی سنسد میں آئے تھے۔ ان کے بیٹے سرجیت نے پچھلے سال خود کشی کر لی تھی۔وہ اپنے بیٹے کے بارے میں بتاتے ہوئے غمزدہ ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس اپنے کچھ کھیت ہیں، لیکن پھر بھی ہم دانے دانے کے محتاج ہیں۔ پنجاب سرکار کے ذریعہ کی گئی قرض معافی کے فائدوں کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ قرض معافی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔
کسان کس طرح آج انتظامیہ اور حکومت کے ہر دروازے سے مایوس لوٹ کر ناامید ہوچکے ہیں،اسے جموئی سے آئے کسان رام سورت کی حالت سے سمجھا جاسکتا ہے۔ رام سورت کی زمین پر پانچ سال پہلے دبنگوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ تب سے اب تک وہ ضلع سے لے کر ریاست اور مرکز تک اپنی فریاد پہنچا چکے ہیں لیکن ہوا کچھ نہیں۔ سر پر ہاتھ رکھے مایوس رام سورت اپنی ہی زبان میں اپنی حالت بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وہ اپنی عرضی لے کر کہاں جائیں، یہاں تو چاروں طرف چور ہی بیٹھے ہیں‘‘۔ اپنی عمر کے آخری پڑائو میں اس کسان کو کسانوں کے اتحاد میں کچھ امید نظر آ رہی ہے، لیکن کسان آندولن کے نام پر ہوا یہ سیاسی اختلاف کچھ سوال بھی کھڑے کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس کسان کے پاس کھانے کے لئے اناج نہیں ہے، اس کے سوالوں کو جگہ دینے کے لئے بڑا منچ اور کارپوریٹ کا خرچ کہاں سے آیا؟ کون ہے اتنے بڑے خرچ کے پیچھے ،؟ کسان تو نہیں ہی ہو سکتے ،کیونکہ ہم نے جب وہاں آئے کسانوں سے بات کی تو پتہ چلا کہ ان کے رہنے کھانے کے لئے پورا انتظامات ان کے کسان لیڈروں کی طرف سے ہی کیا گیاہے۔ کسانوں کے مسائل کو منچ دینے کے نام پر ہوا شاہی خرچ سوال تو کھڑا کرتا ہی ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسانوں کی یہ آخری امید بھی ’’بٹ مار ‘‘ ہی نکلے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *