جھارکھنڈ میںآدیواسی گاؤں کا نظا م متوازی سرکاروں کے کنٹرول میں

پرشانت شرن
جھارکھنڈ میںگڈ گورنینس کی باتیںتو بہت زور شور سے کی جاتی ہیں اور بی جے پی سرکار ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے۔ سرکار یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد اور پہلے آدیواسیوںکا صرف استحصال ہی ہورہا تھا اور آدیواسیوں کا ووٹ بینک کے طور پر ہی استعمال ہو رہا تھا۔ اس قسم کے دعوے کے بعد بھی ریاست کے آدیواسی آخر سرکار سے اتنے ناراض کیوں ہیں؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے اور رگھوور سرکار کے طریقہ کار پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے کہ آخر سرکار ہے کہاں؟ آدیواسی سماج میںکیوںاتنی مخالفت ہے؟ پتھل گڑی کے نام پر کیوںمتوازی سرکار چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
اسباب
آخر اس طرح کی کوشش برسراقتدار پارٹی کے سیاسی کردار کا انعام تو نہیں ہے۔ آدیواسیوں اور مقامی لوگوں کی زمین حاصل کرکے صنعتی گھرانوں کو دینے کی سازش کے سبب تو کہیںمتوازی سرکار کی تشکیل نہیںہورہی ہے۔ اس سے پہلے بھی نکسلی تنظیم ایک طرح سے پوری ریاست میںہی متوازی سرکار چلا رہی تھی لیکن سرکار کی سخت کارروائی کی وجہ سے نکسلیوں کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ کمزور ہوئے۔ لیکن اب ریاست کے پسماندہ ضلعوں میںنکسلی اور کچھ طاقتیں بھولے بھالے دیہاتیوں کو سسٹم کے خلاف بھڑکا کر متوازی سرکار قائم کرنے میںلگی ہوئی ہیں۔
عالم یہ ہے کہ دیہات کے لوگ آج پولیس انتظامیہ کو ہی اپنا مخالف سمجھنے لگے ہیں۔ پتھل گڑی کے کئی علاقوںمیںپولیس اور انتظامیہ کے گھسنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ ان علاقوں میںسرکاری اسکیمیںنہیں چلتیں، کوئی افسر نہیںجاتا ہے۔ راجدھانی سے ملحقہکھونٹی میںجو پسماندہ ضلعوں میں سے ایک ہے، وہ اسی وجہ سے اور پچھڑتا جارہا ہے۔ ایسے میں اقتصادی طور پر ٹوٹ چکے ان غریب کسانوں، مزدوروں کو آسانی سے ورغلاکر انھیںسسٹم کے خلاف کیا جارہا ہے۔
آس پاس کے اضلاع میںبھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ سسٹم کو پٹری پر لانے کے لیے پولیس و انتظامیہ کے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ مگر یہاںبھی سرکار کا قصور کم نہیںہے۔ طویل عرصہ سے چل رہی اس سازش کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی، سرکاری اسکیمیںآخر سڑک پر کیوںنہیں اتر پارہی ہیں، اس کے لیے قصوروار کون ہیں، یہ لاکھ ٹکے کا سوال ہے۔

 

 

 

 

 

عوام کی ناراضگی کی مثال
سرکار کی اس لاپرواہی کی وجہ سے ہی اس غصہ کو ہوا ملی اور چنگاری شعلہ بنتی جا رہی ہے۔ دیہی لوگوں کے غصے کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ کھونٹی ضلع کے کانکی گاؤں میںگاؤںوالوں نے پولیس سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی کمشنر سمیت سیکڑوں پولیس جوان اور افسروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ انھیں وہاںسے چھڑانے میںریاستی سرکار کے پسینے چھوٹ گئے۔ ان لوگوں نے تو اپنا آئین بنا لیا ہے اور گرام سبھا کو سبھی اختیارات دے دیے ہیں۔
گاؤں والوںنے گاؤں میںگھسنے پر باہری اور انتظامی افسروں پر پابندی لگادی تھی۔ اس کے لیے باضابطہ طور پر بیریکڈینگ اور مچان لگائے گئے ۔ جب پولیس اور انتظامی افسروں نے اسے توڑ دیا تو گاؤں والوں نے افسروںاور جوانوں کو بندھک بنالیا۔ گاؤںوالے کافی مشتعل تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ سپرنٹنڈنٹ پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس گاؤںمیںگرام سبھا کے قاعدے قانون کے تحت ہی کام ہوگا۔ کانکی گرام سبھا کے صدر متھنیل منڈا کا ماننا ہے کہ گرام سبھا اعلیٰ ادارہ ہے، گرام سبھا ہی سرکار ہے۔ اس کا فیصلہ اور حکم سبھی کو ماننا ہوگا۔ یہاںکے لوگ اپنے معاملے کو لے کر نہ تو تھانے جاتے ہیں اور نہ ہی کورٹ۔
ان لوگوں کا تنازعہ گرام سبھا میں ہی سلجھایا جاتا ہے اور یہیںپر فیصلہ بھی ہوتا ہے جسے گاؤںوالوںکو ماننا بھی پڑتا ہے۔ یہاںپتھل گڑی آئین بھی بنا دیاگیا ہے اور اب یہ پتھل گڑی دیگر گاؤں میں گرام سبھا کے افسروں کے بارے میںبتایا جارہا ہے اور پوری ریاست میںایک طرح سے متوازی سرکار چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گرام سبھا کے ممبروںکا ماننا ہے کہ وہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ نہیں لیںگے۔
گرام سبھا کا کہنا ہے کہ گاؤں میںاسکیم بنے اور سرکار گرام سبھا کو پیسے دے، گرام سبھا ہی سبھی کام پورا کرے گی۔ گرام سبھا دیہی علاقوں کی ترقی چاہتی ہے اور ترقیاتی کام دیہی لوگوں کی خواہش کے مطابق ہی ہونے چاہئیں۔ ادھر کھونٹی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ بھارت میںدوسرا بھارت کیسے ہوسکتا ہے اور دو آئین کیسے ہوں گے ۔ انھو ں نے کہا کہ یہ معاملہ سماجی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔

 

 

 

 

 

سرکار کی بے حسی
اس واقعہ کے بعد بھی سرکار نہیںجاگی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اب آس پاس کے ضلعوںمیںبھی پتھل گڑی کی گونج ہونے لگی ہے۔ کھونٹی ضلع کی گونج ابھی تھمی بھی نہیںتھی کہ راجدھانی رانچی سے چند کلومیٹر دور بنڈو بلاک کی دو پنچایتوں میںایسی ہی طاقتوں کے ذریعہ سرکار کو کھلا چیلنج دینے کی سازش کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاںکی صورت حال ابھی زیادہ بگڑی نہیںہے لیکن جس طرح سے افسران اور سرکار سوئے ہوئے بیٹھی ہے، اسے دیکھتے ہوئے اس کے جلد ہی سنگین رخ ہونے کے خدشے سے انکار نہیںکیا جاسکتا ہے۔
رانچی سے 28 کلو میٹر دور تیمارا اور 55 کلو میٹر دور چرگی پنچایت میںپتھل گڑی کرکے سرکاری اسکیموں کا راستہ بند کردیا ہے۔ دونوںہی گاؤںبڈو بلاک کی پنچایتیںہیں۔ اس علاقے میںمخالف طاقتیں سرگرم ہوگئی ہیں۔ دونوں ہی پنچایتوں میں پتھر گاڑ کر اس پر دیہاتیوںکی طرف سے اس کے اپنے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی آڑ میںسرکاری اسکیموں کے بائیکاٹ کی باتیں لکھی گئی ہیں۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ پنچایت میںکوئی ترقیاتی کام گرام پنچایت کے اجازت کے بغیر نہیںہوسکتاہے۔ دراصل گاؤں والے پورے شیڈول ایریا میں متوازی سرکا چلانا کا اختیار چاہتے ہیں۔
آدیواسی ہمیشہ باہری کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور کئی بار آدیواسی اور باہری کے بیچ جھڑپ بھی ہوچکی ہے۔ یہ کمیونٹی جھارکھنڈ پر پوری طرح سے اپنااختیار چاہتی ہے۔ دھیرے دھیرے ان لوگوںکے بیچ اس طرح کے امکانات ابھرکر سامنے آرہے ہیں اور اگر وقت رہتے اس پر قابو نہیںپایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب جھارکھنڈ بارود کے ڈھیر پر ہوگا۔
ذرائع کا ماننا ہے کہ غیر سماجی عناصر اور نکسلی تنظیمیں اس طرح کے حالات پیدا کرکے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔ فصل لگانے کا کام کیا جارہا ہے۔ اس معاملے میںاسمگلر یہاںپانی کی طرح پیسے بہا رہے ہیں۔ افیم ماؤوادیوںکی اہم اقتصادی بنیاد بنی ہے۔ گزشتہ دنوں جب پولیس و انتظامیہ نے سیکڑوں ایکڑ پر لگی افیم کی فصل کو ختم کردیا تو غیر سماجی عناصر نے دیہاتیوں کو مالی نقصان کا حوالہ دے کر انھیں اور بھڑکادیا۔
ادھر آدیواسی بدھی جیوی منچ کے صدر پی سی مورموکا ماننا ہے کہ ہندوستان زراعتی ملک ہے اور جھارکھنڈ میںبھی کسان کھیتی باڑی پر ہی منحصر ہیں۔ اس کے بعد بھی ریاستی سرکار نے ترقی کا اہم نقطہ صنعت کو رکھا ہے۔ اس میںکسانوں کی زمین جارہی ہے جس سے کسانوںمیں غم و غصہ ہے۔ 70 فیصد آدیواسی کی گزربسر زراعت پر منحصر ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ شیڈول ایریا میںقانون پر ایمانداری سے عمل ہو۔ زمین اگر چھینی گئی تو آدیواسی سماج ناپید ہوجائے گا۔ جھارکھنڈ میںگرام سبھا کو ہی سبھی اختیارات دیے جائیںگے، تبھی دیہات کے لوگ خوش حال ہوںگے اور ریاست کی ترقی ہوسکے گی۔ آئین میںبھی گرام سبھا کو خاص پاور دی گئی ہے۔
حکومت کا موقف
ریاست کی دیہی ترقی کے وزیر نیل کنٹھ سنگھ منڈا کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میںلینے کی اجازت نہیںدی جائے گی۔ کچھ لوگوں کی سوچ منفی ہوتی ہے۔ کھونٹی میںتو ترقی کا کام تیزی سے ہورہا ہے لیکن کچھ غیر سماجی عناصر اور نکسلی سنگٹھن سرکار مخالف کام کررہے ہیں۔ اسے کسی بھی حالت میںبرداشت نہیںکیا جاسکتا ہے۔ سرکار نے پتھل گڑی کے خلاف ہورڈنگس بھی لگانے شروع کردیے ہیں۔ سرکار کا کہنا ہے کہ پتھل گڑی آئین مخالف اور غریب مخالف ہے۔ برسا منڈا کے بتائے ہوئے راستے پر چلے اور ریاست کی ترقی کے حصہ دار بنے۔
جو بھی ہو سرکار نے اگر سخت قدم نہیںاٹھائے تو یہ چنگاری شعلہ بن جائے گی اور بعد میں ریاستی سرکار کے لیے یہ ایک بڑی مصیبت کھڑی ہوکر سامنے آئے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *