گجرات انتخابات ایشو لیس کیوں ؟

گجرات انتخابات کی سرگرمی شروع ہو گئی ہے اور اوپنین پول آنے لگے ہیں۔ اوپنین پول کے اوپر میڈیا میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے، خاص طور پر ٹیلی ویژن چینلوں پر۔ ہر ٹیلی ویژن چینل کا موضوع یہی ہے کہ کون جیتے گا ؟راہل گاندھی یا نریندر مودی۔ کسی بھی ٹیلی ویژن چینل نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ گجرات انتخابات کا ایشو کیا ہے؟گجرات کے لوگ اگر ووٹ دیں گے تو ووٹ کس بنیاد پر دیں گے؟ شاید اس لئے یہ ایشو نہیں اٹھ رہا ہے کیونکہ اگر یہ ایشو اٹھے گا تو ایک طرف بی جے پی کو اپنے وکاس کا رپورٹ کارڈ پیش کرنا پڑے گا اور دوسری طرف کانگریس کو اپنے مستقبل کے منصوبوں کا درست خاکہ لوگوں کے سامنے رکھنا ہوگا جو شاید دونوں کے پاس تیار نہیں ہے۔اس لئے یہ انتخابات بھی بندر کے تماشے میں تبدیل ہونے والے ہیں یا کہیں کہ ہوتا جارہا ہے۔ سوالوں کے اوپر دماغ نہ لگے اور ایک نقلی بحث و مباحثے میں دماغ لگے لوگوں کا اور ٹیلی ویژن چینلوں کی بھی یہ کوشش ہے اور شاید سیاسی پارٹیوں کو بھی یہ پالیسی پسند آ رہی ہے۔
ویسے گجرات انتخابات میں بی جے پی کے پاس بھی کمزوریاں ہیں اور کانگریس میں بھی کمزوریاں ہیں۔ بی جے پی کی کمزوری یہ ہے کہ اس کے پاس نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد کوئی بھی ایسا شخص بی جے پی میں نہیں ابھرا جو انتخاب کو اپنے کندھے پر اٹھا لے اور تشہیر کرے اور بھیڑ آئے۔ اس لئے وزیر اعظم نریندر مودی کو بار بار گجرات جانا پڑا اور فلائی اُوَر کے افتتاح کے فیتے کاٹنے پڑے۔ یہ الگ بات ہے کہ اسے اخباروں اور میڈیا نے نہیں دکھایا۔ کئی جگہوں پر وزیر اعظم مودی کے اجلاس میں متوقع بھیڑ نہیں جمع ہوئی۔ سوشل میڈیا میں اس کے فوٹو گراف، اس کے بارے میں ریمارکس کافی دیکھنے کو ملے۔ دوسری طرف کانگریس کے پاس ایک مضبوط لیڈر تھا شنکر سنگھ واگھیلا ، جسے کانگریس نے پارٹی سے ہٹنے کے لئے مجبور کیا۔ کانگریس کے باقی لیڈر جن میں شکتی سنگھ، ارجن موڈواڑیا، بھرت سولنکی اور سدھارتھ پٹیل ہیں،ان میں سے کسی کی بھی ایسی پوزیشن نہیں بن پائی کہ وہ اکیلے گھوم کر گجرات میں کانگریس کے انتخابات کی کشتی پار لگا سکے۔ اس لئے بار بار راہل گاندھی کو گجرات انتخابات میں لایا جارہا ہے اور سارے انتخابات کوراہل گاندھی کے چہرے کے آس پاس، ان کی زبان کے آس پاس کانگریس مرتکز کررہی ہے۔ کانگریس نے پچھلے تین سالوں میں گجرات میں آندولنوں کے تین لیڈر ہاردک پٹیل، الپیش ٹھاکر اور جگنیش ،ان تینوں کو اپنے خیمے میں کامیابی کے ساتھ ملا لیا جس نے بی جے پی کو تھوڑی پریشانی میں ڈالا۔ لیکن تینوں لیڈروں کے آنے سے کیا تینوں لیڈروں کے وہ طبقات جہاں سے یہ آتے ہیں ، کانگریس کے پاس آپائیں گے ؟یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اگر پاٹیداروں سے ریزرویشن کا وعدہ کانگریس نے کیا ہے تو الپیش ٹھاکر کے پچھڑے سماج کا کیا ہوگا؟پاٹیدار لیڈر یہ کہتے ہوئے پائے جارہے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کس کا ریزرویشن کاٹ کر ہمیں ملے گا لیکن ہمیں ریزرویشن چاہئے ۔ کیا ان تضادات کے آگے بڑھنے سے کانگریس کو نقصان ہوگا یا فائدہ ہوگا ،یہ تجزیہ کرنے کی بات ہے۔

 

 

 

 

 

 

بی جے پی کے پاس پاٹیداروں کے بیچ میں پھوٹ ڈالنے کی پہلی چال انہوں نے کامیاب طریقے سے چلی اور پاٹیدار آندولن کے دو لیڈروں کو اپنے خیمے میں ملا لیا۔ بی جے پی کے وکاس کے اوپر کانگریس سوال کھڑے کر رہی ہے لیکن پارٹیوں کے سوالوں سے زیادہ ضروری ہے کہ لوگوں کے سوالات سطح پر آئیں، لوگوں کی مانگ سطح پر آئے، لوگوں کی خواہشات سطح پر آئیں جنہیں پوری طرح اندیکھی کرنے کی کوشش گجرات کا میڈیا اور نیشنل میڈیا کر رہا ہے۔ اسی لئے مجھے لگتا ہے کہ گجرات کے انتخابات کچھ غیر متوقع نتیجے بھی لاسکتے ہیں۔
کانگریس نے کسی کو بھی وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا امیدوار بنانے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ شاید اس لئے کیونکہ ان کے ساتھ آئے تینوں لیڈر ہاردک پٹیل، الپیش ٹھاکر اور جگنیش، وقت آنے پر وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں اور دوسری طرف کانگریس کے چاروں مضبوط لیڈر سدھارتھ پٹیل جو چمن بھائی پٹیل کے بیٹے ہیں، بھرت سولنکی جو سابق وزیر اعلیٰ مادھو سنگھ سولنکی کے بیٹے ہیں، ارجن مودواڑیا کانگریس کے بڑے ٹھیکہ دار لیڈر ہیں اور شکتی سنگھ گوہل ، جن کی ساکھ لیڈروں کے بیچ پَیٹھ بنانے کو لے کرہے ، یہ چاروں بھی وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے لئے اپنے دل میں امید سجائے بیٹھے ہیں۔کسی کی امید پارٹی کو نقصان نہ پہنچائے، اس لئے شاید پارٹی نے وزیر اعلیٰ عہدہ کا اعلان نہیں کیا ہے۔
لیکن اس کے باوجود دو نکات ایسے ہیں جو دونوں کا کھیل بگاڑ سکتے ہیں۔ پہلا نام ہے شنکر سنگھ واگھیلا کا ۔ شنکر سنگھ واگھیلا نے کوشش کی ہے کہ وہ جتنی بھی پارٹیاں بی جے پی اور کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے میں ناکام رہی ہیں ،ان سب کو اکٹھا کرکے وہ گجرات میں انتخابات لڑیں اور وہ لگ بھگ پچاس سیٹوں پر بہت مضبوطی کے ساتھ انتخابات لڑ کر کم سے کم 30 سیٹیں جیتنا چاہیں گے۔ تاکہ وہ کنگ میکر کا رول پلے کر سکیں۔ اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی گجرات کی تقریباً 150 سیٹوں کے اوپر انتخابات لڑنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی جیتے گی یا نہیں جیتے گی ،یہ تو نہیں کہا جاسکتا لیکن چونکہ بہت گلا کاٹ انتخابات ہونے والے ہیں ، اس لئے 2000 ووٹ بھی کسی کو جتانے اور ہرانے میں اہم رول ادا کریں گے۔ اگر عام آدمی پارٹی نے دو دو ،تین تین ہزار ووٹ بھی گجرات انتخابات میں اپنے پاس کھینچنے میں کامیابی حاصلکرلی تو پھر یہ انتخابات کسی بھی فریق کے حق میں ہوسکتے ہیں۔
یہ سارے تضادات ہیں۔لیکن ان تضادات کے باوجود انتخابات میں ابھی تک عوام کا کوئی پہلو سامنے نہیں ہے۔یہی گجرات ہے جہاں 28دن تک سورت بند رہا لیکن ملک کے اخباروں میں کوئی خبر نہیں آئی۔ وہی گجرات ہے جہاں سے ملک کے ایک بڑے لیڈر کی ارتھی نکالنے کی شروعات ہوئی اور یہی گجرات ہے جہاں سے سوشل میڈیا کے اوپر بی جے پی اور اس کے بڑے لیڈروں کے خلاف غصے کی تشہیری مہم کی شروعات ہوئی۔

 

 

 

 

 

 

ایک راز سامنے یہ آرہا ہے کہ گجرات انتخابات کی کمان امیت شاہ کو نہیں تھمائی گئی ہے۔ یا تو اس کے پیچھے وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ گجرات میں امیت شاہ کی بہت ساکھ نہیں ہے عوام کے بیچ، جسے ووٹ دینا ہے یا پھر امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ کا 50 ہزار سے 80 کروڑ کمانے کا جو مسئلہ چاروں طرف چھایا ہوا ہے، اس مسئلے نے شاید امیت شاہ کو بیک فٹ پر لا دیا ہے اور وزیر اعظم نے گجرات انتخابات کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔ اچھا ہوتا وزیر اعظم گجرات انتخابات کی کمان اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے اور گجرات کے انتخابات وہاں کی پارٹی کو لڑنے دیتے۔ لیکن وزیر اعظم کی بھی ایک نفسیات ہے ۔وہ چاہتے ہیں کہ سارے ملک میں جہاں انتخابات ہوں،وہ اتنا گھومیں کہ لوگوں کو لگے کہ صرف اور صرف اگر جیت ہوتی ہے تو نریندر مودی کی وجہ سے ہوتی ہے اور ہار ہوتی ہے تو پارٹی کارکنوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہی نفسیات وزیراعظم کی گجرات میں بھی کام کر رہی ہے۔ وہ بہار کی طرح ہر گلی چوراہے میں جانے کی اسکیم بنا رہے ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گجرات انتخابات میں بی جے پی کو خاص پریشانی ہوگی۔ کیونکہ کانگریس کو جو پالیسی اپنانی چاہئے تھی کہ جتنے بھی لوگ بی جے پی سے نہیں جڑ پائے ہیں، ان سب کو اپنے ساتھ جوڑے اور سب کو تھوڑی تھوڑی سیٹیں دے کر مطمئن کرے،وہ کام کانگریس نے نہیں کیا۔اب یا تو ہو سکتا ہے کہ راہل گاندھی کی یہ پالیسی ہو کہ کانگریس کو اکیلے اقتدار پر قابض ہوکر تاریخ میں نام بنانا ہے اور اپنے کو عوامی لیڈر ثابت کرنا ہے یا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی کانگریس کے ساتھ نہ آیا ہو۔ سچائی کیا ہے اگلے کچھ دنوں میں پتہ چل جائے گی۔9دسمبر اور 14 دسمبر کو انتخابات ہیں۔آپ دیکھیں گے گجرات کے انتخابات ٹھیک ویسے ہی لڑ ے جائیں گے جیسے دہلی کے انتخابات وزیر اعظم رہتے ہوئے نریندر مودی نے لڑا تھا۔ اترپردیش کے انتخابات بھی اسی طرح لڑے گئے تھے ، بہار کے بھی انتخابات اسی طرح لڑے گئے اور اب گجرات کے انتخابات بھی اسی طرح لڑے جانے والے ہیں۔اسی لئے گجرات کے انتخابات منورنجن تو ہوں گے لیکن گجرات کے انتخابات میں بھرپور یہ کوشش ہوگی کہ عوام کے سوالات چاہے وہ بے روزگاری کا سوال ہو، چاہے وہ نئی صنعت کا سوال ہو، کسانوں کی خود کشی کا سوال ہو، فصل کو صحیح قیمت ملنے کا سوال ہو،یہ تمام سوالات جتنا ممکن ہوگا، دبائے جائیں گے اور سوالوں کا دبنا ہی گجرات انتخابات کو متعلقہ یا غیر متعلقہ بنانے والا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *