بی جے پی ریاستوں میںگجرات ماڈل کیوںموضوع بحث نہیں بنا؟

آپ کو 1975 کی ایک اہم بات یاد دلانا چاہتا ہوں۔ ملک میںایمرجنسی لگ چکی تھی۔ کانگریس کے صدر دیوکانت بروآ تھے۔ دیوکانت بروآ نے ایک دن کہا ’اندرا اِز انڈیا‘۔ اندرا ہی ہندوستان ہے اور پوری کانگریس کی ٹیم اندرا از انڈیا ، اندرا مہان ہیں،اندرا کے علاوہ ہندوستان کا تصور نہیںکیا جاسکتا وغیرہ وغیرہ جملے بولنے لگی۔ سارے اخبار اندرا از انڈیا سے بھر گئے۔ اندرا از انڈیا کے نعرے پر ناچنے لگے۔ عوام نے اندرا جی کو زمین پر لادیا۔ اس نعرے کی ہوا نکل گئی۔ یہ میں آپ کو کیوں یاد دلا رہا ہوں؟ کیونکہ ٹیلی ویژن پر اچانک ہندوتو کی لہر آگئی ہے۔ وہ سارے لوگ جنھیںہندو دھرم کا اے بی سی بھی نہیںمعلوم، وہ سب ہندو ہوکر نعرے لگانے لگے۔ ایک بار ٹیلی ویژن کے کچھ اینکروں نے یا کچھ پارٹیسپینٹس نے اس نعرے کی ہوا نکال دی۔ انھوںنے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سارے ترجمانوں سے، جو ہندو، ہندو چلاتے تھے، ان سے پوچھ لیا کہ بھائی راشٹریہ گان یا راشٹریہ گیت جو بھی آپ کہو، کیونکہ آپ کچھ اور کہتے ہو اور ملک کچھ اور سمجھتا ہے ،لیکن وندے ماترم گاکر سنادو۔ صرف ٹیلی ویژن پر ہی نہیں،ملک کے اہم لیڈروں سے ، چھوٹے اور تیسرے درجے کے لیڈروں سے بھی راشٹر گان سننے کی صحافیوںکے بیچ ہوڑ لگ گئی۔ اچانک پتہ چلا کہ ایک شخص بھی’ملیج شیتلام شسیہ شیاملام نہیں گا پایا ۔ وندے ماترم نہیںگاپایا۔ یہاںتک کہ سنگھ کے معروف مہان وچارک جو ہر ٹیلی ویژن پر سنگھ کی نمائندگی کرتے ہیں،سنگھ کے نظریہ کی نمائندگی کرتے ہیں،وہ بھی وندے ماترم نہیںگاپائے۔ میرا خیال ہے کہ اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سبھی لوگ اس گیت کو-200 100 بار حفظ کرنے میںلگے ہیں۔
اب ایک نئی چیز سوشل میڈیا پر شروع ہوئی ہے،جسے دیکھ کر میںچونک گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ ہندو، ہندو نہیںہے جو مودی کاساتھ نہ دے یعنی اگر آپ جے مودی جے مودی نہیں کرتے ہیںتو آپ ہندو نہیںہیں۔ اب انھیںکون سمجھائے کہ ہندو آپ ہیںیا نہیںہیں ، یہ تو آپ ثابت کیجئے کیونکہ آپ کو یہ پتہ ہی نہیںہے کہ ہندو نام کا کوئی دھرم نہیںہے۔ دھرم سناتن ہے اور آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ سناتن دھرم کیا ہوتا ہے؟ آپ کو اگر ہندو لفظ کہاںسے آیا؟ یہ جاننا ہے تو شری موہن بھاگوت کے خیالا ت سنئے۔ آپ وہ بھی نہیںکریںگے کیونکہ آپ اس ملک میں دیش بھکتی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ آپ دیش بھکت ہیں،آپ غدار ہیں۔آپ اگر ملک کے سوالوںکو اٹھاتے ہیں تو آپ غدار ہیں۔ لیکن آپ اگر کسانوںکی خودکشی کو گالی دیتے ہیں، غریبوںکی بھوک کو گالی دیتے ہیں، صرف آپ مودی مودی کہتے ہیں تو آپ دیش بھکت ہیں۔ یہ نئی چیز سوشل میڈیا پر شروع ہوئی ہے۔ یہ میںآپ سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ دھیرے دھیر ے جب استدلال ختم ہوجاتا ہے، جب بتانے کے لیے کام کا بیورا آپ کے پاس نہیںہوتا ہے، جب آپ اس کا جواب نہیںدے پاتے کہ ہم نے جو وعدے کئے تھے ، وہ وعدے کون کون سے تھے اور ان میںسے کتنے پورے ہوئے، تب اس طرح کی دلیلیںابھرتی ہیں کہ اگر آپ مودی مودی نہیںکہتے ہیں ، مود ی کا ساتھ نہیںدیتے ہیں، توآپ ہندو ہیںہی نہیں،غدار ہیں۔

 

 

 

 

 

کل میں ایک شاعر کا کلام سن رہا تھا۔ اس نے کہا کہ میںاپنے ان دوستوں سے ، جنھوںنے کسی وقت بہت زور شور سے نعرے لگائے تھے،ان سے پوچھتے ہیں ، بھائی کچھ وعدوں کو بھی یاد کرو جو آپ نے ملک کے لوگوں سے کئے تھے تو وہ لوگ جھینپ کر ہنس دیتے ہیں۔ لیکن ٹیلی ویژن پر اور عوام کے بیچ میںجھوٹ کا سلسلہ جھوٹ کا پلندہ جاری ہے۔یہ جھوٹ ہمیںکیوں پریشان کررہا ہے کیونکہ ہم نے مودی جی کی طرف بڑی امید سے دیکھا تھا۔ مودی جی پر خود کرپشن کا کوئی چارج نہیںہے ۔ مودی جی نے گجرات کو جس طرح سے بھی چلایا، سیاست میںجن کو بھی ٹھکانے لگایا،الگ چیز ہے لیکن انھوںنے گجرات کو بدلنے کی کوشش کی۔ خاص طور سے گجرات میںپانی کی آب پاشی کے بارے میںجو انھوں نے کمال کیا، وہ ملک میںبھی کرتے،ا ن سے یہ امید تھی۔ جب وہ ملک کے وزیر اعظم بنے تو وہ امید تھوڑی دھندلی ہوئی۔شاید ان کے ساتھیوں، افسروں، سکریٹریوں یا اس بیوروکریسی کے سبب دھندلی ہوئی، جنھیںمودی کا دماغ ہی سمجھ میںنہیںآیا یا شاید ان بہت پرجوش سکریٹریوں کے سبب ہوئی، جنھوں نے مودی جی کو یہ سمجھادیا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کیوںانقلابی قدم ہے؟ چونکہ مودی جی نے بھی ان کے کہنے پر نافذ کردی، اس لیے انھیںاس کی حمایت میںدلیل دینی ہی تھی۔ لیکن وہ ساری دلیلیںزمین پر الٹی پڑ رہی ہیں۔ ان کی اپنی ریاست گجرات میںسورت 28 دنوںتک بند رہا۔ گجرات سے یہ خبریںآنے لگی ہیںکہ اس الیکشن میںتقریباً برابر برابر کی لڑائی ہے ایسا تو نہیںہونا چاہیے تھا۔
مودی جی کا گجرات ماڈل سارے ملک میںبکا،لوگوںنے گجرات ماڈل کے لیے ووٹ دیے لیکن گجرات کا ماڈل کسی بھی ریاست میںنہ شیوراج سنگھ،نہ وسندھرا راجے، نہ یوگی اور نہ ہی راوت کی ریاست میںکہیںدکھائی دیا۔ ان میںسے کسی نے پلٹ کر بھی اس لفظ کا استعمال نہیںکیا کہ ہم گجرات ماڈل سے اپنی ریاست کی ترقی کریںگے۔مجھے تشویش ہے کہ مودی جی کی ساری اچھائیوں اور ان کی ساری کوششوں کو ان کے ساتھیوں نے تباہ کردیا ہے۔ میںنے جتنے نام لیے او رجتنے بچے ہوئے نام ہیں، کوئی گجرات ماڈل کا نام کیوں نہیںلیتا؟ جس نے بی جے پی کو مرکز میںبرسراقتدار کرایا، اس گجرات ماڈل کا نام یوگی جی، نتیش کمار،راوت جی،شیوراج سنگھ چوہان یا وسندھرا راجے کیوںنہیںلیتی ہیں؟ آسام کو چھوڑ دیجئے۔ جتنے بھی نام ہیں،آپ ا س کو اس میں جوڑ سکتے ہیں،لیکن یہ اہم نام ہیں۔ یہ لوگ گجرات ماڈل کا ذکر کیوں نہیںکرتے ہیں؟ یہ سوال میرے دماغ میںہے اور تب مجھے لگتا ہے کہ یہ سارے لوگ نریندر مودی کو بہکاکر یا پھسلاکر ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ایگری کلچر اور کمیونکیشن کے شعبے میںجمود ہے۔
آپ جتنے لوگ ہیں ، جو یہ کہتے ہیںکہ مودی – مودی کہو، نہیں تو تم غدار ہو،وہ خود اپنے موبائل پر تین سے چار بار کال ڈراپ کے شکار ہوںگے۔ آپ کال ڈراپ کررہے ہیں، فون نہیںمل رہے ہیں، بات نہیںہو پارہی ہے اور آپ موبائل کے ذریعہ پورا بینکنگ سسٹم چلانے کی بات کرتے ہیں۔ کم سے کم ان لوگوںسے تو سوال کرو جو اس کال ڈراپ کے لیے ذمہ دار ہیں۔ جو ان موبائل کمپنیوںکو اتنا زیادہ پیسہ دلانے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ آپ ایک کال کرتے ہیں تو تین بار کال ڈراپ ہوتی ہے، جس کے سبب آپ سے تین کال کے پیسے لیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ، وہ تین کال کے پیسے موبائل کمپنیوں کو جارہے ہیں۔ ایک کال کے وقت میںآپ تین کال کے پیسے دے رہے ہیں لیکن سرکار کو اس کی فکر نہیںہے۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ اس میںسرکار کے کچھ بڑے لوگوں کے پاس بھی اس کی دکشنا جارہی ہوگی، اگروہ یہ خدشہ کرتا ہے تو اس میںبرا کیا ہے؟ سرکار اس پر دھیان کیوںنہیںدے رہی ہے؟اتنی ساری بات چیت ہوئی لیکن ہمارے پاس اس کے کوئی اعداد و شمار نہیںہیں کہ ہمارے ملک میںکتنی سرمایہ کاری آئی اور وہ سرمایہ کاری کہاںلگی؟ کیا وہ پرائیویٹ سیکٹر میںلگی یا وہ کنزیومر سیکٹر میںلگی، جس کو ہم کاسمیٹک سیکٹر کہتے ہیں۔ اچھے اچھے فریج، ٹیلی ویژن اور کاریںسب آرہی ہیں لیکن غریب کے کھانے کے لیے ، ریلوے میںغریب کے بیٹھنے کے لیے، ریلوے میںصاف صفائی کے لیے،ملک میںصاف صفائی کے لیے انفراسٹرکچر بننا چاہیے تھا،اس کی کیا حالت ہے؟ یہ سب لوگ جو اس کے لیے ذمہ دار ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کو یہ سمجھا رہے ہیںکہ آپ کی مخالفت کرنا کچھ لوگوںکی عادت ہے،اس لیے آپ اس کے بارے میںمت سوچئے۔ ابھی انتظار کیجئے کہ آپ کے اوپر اور کیا کیا پریشانیاں آنے والی ہیں؟

 

 

 

 

 

اس بات کو میں واضح کردوں کہ ہمارا ملک بلیک منی نہیںرکھتا ہے۔ ہمارے ملک کی ساری بلیک منی ، جو غیر ممالک میںتھی،ایک جملہ تھا،ایک جھوٹ تھا،ایک لفاظی تھی، جسے اڈوانی جی،بابا رام دیو اور خود وزیر اعظم نریندر مودی اور ارون جیٹلی نے مل کر 2014 میںملک کو بیچا تھا۔ ہم نے اس کالے دھن پر، اس چھپے ہوئے دھن پر کوئی وار نہیںکیا، جو بیرونی ممالک میںتھا۔ ہم نے یہ مان لیا کہ یہ سارا کالا دھن اس ملک کے لوگوںکے پاس ہے ، اس لیے آپ نے نوٹ بندی کردی۔اب ریزرو بینک یا بینکوںکے لوگ یہ سمجھ نہیںپائے کہ ہم کو کتنا روپیہ لینا ہے، کتنا نہیںلینا ہے؟ جتنا روپیہ دیا تھا، اس سے زیادہ روپیہ آگیا۔ پھر آپ کہنے لگے کہ نہیں، نہیں، اتنا نہیں، جتنا ہم نے دیا تھا ، اس سے زیادہ نہیںآیا، اتنا ہی آیا ہے۔ تو پھر کہاںگئی فیک کرنسی،کہاںگئے نقلی نوٹ، کہاں گیا کالا دھن، اس سوال کو مت پوچھئے۔ اب کہہ رہے ہیںکہ جو پیسہ بینکوں میںآیا، ہم اس کی پہچان کررہے ہیں۔
ایک وزیر ٹیلی ویژن پر کہہ رہے تھے ، آپ کو کیوںبرا لگتا ہے کہ جو پیسہ بلیک منی تھایا جوکالا دھن تھا یا جو فیک کرنسی تھی،وہ پوری کی پوری آگئی۔ اب اسے یہ کہتے ہوئے شرم نہیںآئی کہ فیک کرنسی ہمارے خزانے میںآگئی اور ہم نے اسے چلن میں لادیا۔ تب یہ تو نوٹ بندی منی لانڈرنگ کا سب سے بڑا اسکیم ہوا لیکن اس پر سوال مت اٹھائیے۔اگر آپ سوال اٹھائیںگے تو غدار ہو جائیںگے، پھر فیس بک پر کیمپین چلے گی کہ جو مودی کا ساتھ نہ دے، وہ غدار ہے۔ اندرااز انڈیا۔اس لیے میںنے شروع میںکہا تھا اندرا از انڈیا، جو نعرہ اس وقت کانگریس نے لگایا تھا، کانگریس صدر نے لگایا تھا اور جس کا نتیجہ 1977 میں دیکھنے کو ملا۔ میں نہیں چاہتا ہوںکہ وہ نتیجہ بی جے پی کو نہیںبلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو دیکھنے کو ملے۔ نریندر مودی سے اب بھی بہت امید ہے۔ نریندر مودی میںاہلیت ہے، وہ کرسکتے ہیں لیکن یہ جو آس پاس عظیم دانشوروں کی چوکڑی جمع ہے،چاہے وہ کابینہ یا افسران یا ان کی پارٹی میںہوں،ان سے نجات پانے کی ضرورت ہے۔ تبھی وہ اس ملک کی ترقی کے لیے کچھ سوچ پائیںگے، ورنہ جو صورت حال آج گجرات میںہوگئی ہے،وہ ہونی ہی نہیںچاہیے تھی۔
گجرات سے یہ ہوا آنے لگی ہے کہ بالکل برابر کی لڑائی ہے۔ گجرات میںایک طرفہ لڑائی ہونی چاہیے تھی لیکن سروے آنے لگے کہ پانچ یا دس سیٹیں ادھر یا اُدھر کی ہوںگی۔ ایک بڑا چینل جو اب تک مودی جی کے گن گان کرتا تھا اور جس نے شروعاتی سروے میںگجرات میں بی جے پی کو ایک طرفہ جیتتا ہوا دکھایا تھا، اب کہہ رہا ہے کہ کانگریس کو 138 سیٹیںمل سکتی ہیں۔ یہ صورت حال کیوںآئی؟ان کو اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیںہے جو سوشل میڈیا پر یہ کہہ رہے ہیںکہ جو نریندر مودی کا ساتھ نہ دے وہ ہندو، ہندو نہیںغدار ہے ۔ ان کو سیار کی طرح ہواں- ہواں چلانے دیجئے۔ جو ذمہ دار لوگ ہیں جو وزیر اعظم نریندر مودی میںآستھا رکھتے ہیں، جو وزیر اعظم نریندر مودی کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں،انھیںاس صورت حال کا تجزیہ کرکے اس کے اسباب تلاش کرنے چاہئیں۔ یہ بہت ضروری ہے ، ورنہ اس ملک کے بہت سارے لوگوں کا سیاسی نظام سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ اپوزیشن کی تو میںبات ہی نہیںکرتا۔ اپوزیشن تو اس وقت کہیںہے ہی نہیں۔ اگر کہیںکوئی ہے تو اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ وہ خود اپنے لیے اپوزیشن تیار نہ کریں، اس لیے انھیں شبھ کامنائیں بھی دینی چاہئیں او رایشور سے کہنا چاہیے کہ ان میںاتنی عقل آئے کہ وہ ان تضادات کو پہچان سکیں اور اپنے لیے اور ملک کے لیے کریکٹو میزرس اٹھا سکیں۔ ابھی ڈیڑھ سال ہے۔ کم نہیںہے۔ بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ اندرا اِز انڈیا کے طریقوںسے بچئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *