وطن کے خاطر جاسوسی کرنے والے نظر انداز کیوں؟

چھوٹے سے نمی سے بھرے کمرے کے اندر سے آنے والی چیخ اور سسکیوں کی آوازیں کس کی ہیں؟درد سے نجات پانے کی چھٹ پٹاہٹ اور بے چین سُر کس کے ہیں؟دیر رات لوگوں کو پریشان کرنے والے بے معنی لفظ شور سے بھری پاگل آوازیں کس کی ہیں؟کس کی ہے بچے کو پھسلانے جیسی کپکپی آواز؟آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ کسی جیل کے بند سیل سے آنے والی درد میں ڈوبے خونخوار قیدیوں کی آواز ہے ۔یہ ان محبین وطن مظلومین کی آوازیں ہیں جنہوں نے اپنے ملک کے لئے پاکستان میں جاسوسی کرتے ہوئے زندگی گزار دی،لیکن آج اپنے ملک میں دہاڑی مزدور یا اس سے بھی بدتر حالت میں ہیں۔ انہیں کوئی ’راشٹریہ بھکت‘ پوچھتا تک نہیں۔ ’راشٹریہ بھکت ‘سرکار کو ’دیش بھکت ‘جاسوس کی کوئی فکر نہیں۔ اب اشاروں میں نہیں ،سیدھی بات پر آتے ہیں۔
دیکشت کی دردناک کہانی
لکھنو میں ایک شخص ملے جو ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’’ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ‘‘ (را ) کے جاسوس تھے۔ انہوں نے اپنے بیش قیمتی 21سال پاکستان کے الگ الگ علاقوں میں سڑکوں پر کھومچا گھسیٹتے ہوئے ،ملا بن کر مسجد میں نماز پڑھاتے ہوئے، حساس سرکاری محکموں پر مہینوں نظریں رکھتے ہوئے، پاکستانی فوج کے پروردہ دہشت گردوں سے دوستی کرتے ہوئے، جان کی پرواہ نہ کرکے وہاں کی اطلاعات ہندوستان بھیجتے ہوئے اور آخر میں بربریت برداشت کرتے ہوئے جیل کاٹتے ہوئے گزارے۔ بڑی مشکل سے پاکستان کی جیل سے چھوٹ کر ہندوستان پہنچے’’ را‘‘ کے ایجنٹ منوج رنجن دیکشت کی زندگی اپنے ملک آکر اور دشوار ہو گئی۔ ان کی بیوی شوبھا دیکشت کو کینسر ہو گیا۔ کیموتھیروپی اور غیر معمولی علاج کی وجہ سے شوبھا ماں نہیں بن سکیں۔وہ نفسیاتی طور پر بیمار ہو گئیں۔ رات کو اس چھوٹے سے کمرے سے آنے والی چیخیں اور سسکیاں انہی کی ہیں۔ درد سے چھٹ پٹانے کی آوازیں انہی کی ہیں۔ نفسیاتی بیماری (پاگلپن ) میں ہونے والی حرکتیں اور شوہر کو نوچ کھسوٹ اور مارنے کی آوازیں شوبھا کی ہی ہیں۔ بیو ی کو بچے کی طرح منانے کی کوشش کرنے والے شخص ہیں’’ را ‘‘کے ایجنٹ منوج رنجن دیکشت عرف محمد عمران ۔
دیکشت کی طرح ایسے بے شمار محبان وطن ہیں ،جن کی زندگی ملک کے لئے جاسوسی کرتے ہوئے اور جان کو جوکھم میں ڈالتے ہوئے گزر گئی۔ جب وہ اپنے وطن واپس لوٹے تو اپنا ہی ملک انہیں بھول چکا تھا۔ سرکار کو بھی یہ یاد نہیں رہا کہ ہندوستانی سرکار کا نمائندہ ہونے کے ناطے ہی وہ پاکستان میں مصیبتیں جھیل رہا تھا۔ کلبھوشن جادھو تو سرخیوں میں اس لئے ہیں کہ ان سے سرکار کا سیاسی فائدہ جڑا ہوا ہے۔ یہ سیاست کیا کلبھوشن کے زندہ رہنے کی ضمانت ہے؟اگرضمانت ہوتی تو رویندر کوشک، سربجیت سنگھ جیسے تمام محبان وطن پاکستان کی جیلوں میں کیا سڑ کر مرتے ؟پھر سرکار کا ان سے کیا لینا دینا جو حب الوطنی میں کھپ چکے لیکن آج بھی زندہ ہیں۔ ایسے کھپے ہوئے محبان وطن کی لمبی فہرست ہے جو کہ اپنی بچی ہوئی زندگی گھسیٹ رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کی خدمت میںخود کو مٹا دیا لیکن سرکار نے انہیں نہ نام دیا نہ انعام ۔ سابق راء کے ایجنٹ منوج رنجن دیکشت کا معاملہ سن کر مرکزی خفیہ ایجنسی کے ایک اعلیٰ آفیسر نے کہا کہ مودی سرکار بدلائو کی باتیں تو کرتی ہے لیکن بیرون میں کام کر رہے’’ را‘‘ ایجنٹس کو مسلسل گمنامی کے اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔ بیرون ملک میں ہر پل جان جوکھم میں ڈالے کام کررہے اپنے ہی جاسوسوں کی حفاظت اور ملک میں رہ رہے ان کے خاندان کے لئے مالی تحفظات کا سرکار کوئی انتظام نہیں کرتی جبکہ ملک کے اندر کام کرنے والے خفیہ افسروں کی باقاعدہ سرکاری نوکری ہوتی ہے۔ تنخواہ اور پنشن انہیں اور ان کے خاندان والوں کو ٹھوس مالی تحفظ فراہم کرتی ہے ۔ اس کے ٹھیک برعکس ’’را ‘‘ کے لئے جو ایجنٹس چنے جاتے ہیں، سرکار ان کی بنیادی پہچان ہی مٹا دیتی ہے۔ ان کا اصلی تعلیمی سرٹیفکیٹ رکھ لیتی ہے اور کسی بھی سرکاری یا قانونی دستاویز سے اس کا نام ہٹا دیتی ہے۔ منوج رنجن دیکشت اس کی توثیق کرتے ہیں۔ دیکشت کہتے ہیں کہ نجیب آباد میں ایم ڈی ایس انٹر کالج سے انہوں نے اسکولی تعلیم حاصل کی تھی اور روہیل کھنڈ یونیورسٹی کے ساہو جین کالج سے انہوں نے گریجویشن کیا تھا ۔’’را ‘‘ کے لئے چنے جانے کے بعد ان سے اسکول اور کالج کے سرٹیفکیٹ لے لئے گئے۔ جب وہ 21سال کے بعد اپنے گھر لوٹے تو ان کی پوری دنیا بدل چکی تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ سرکاری ملازموں کا ایک دستہ برسوں پہلے ان کے گھر سے ان کی ساری تصویریں لے جا چکا تھا۔ راشن کارڈ سے منوج کا نام ہٹ چکا تھا۔ سرکاری دستاویزوں سے منوج کا نام ڈیلیٹ کیا جا چکا تھا۔ ہندوستانی سرکار ایسی گھسی پٹی لیک پر کیوں چلتی ہے؟ہندوستانی خفیہ ایجنسی کے آفیسر ہی یہ سوال اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکہ، چین، اسرائیل، روس، برطانیہ، جرمنی جیسے کئی ملک اپنے جاسوسوں کی حد سے آگے بڑھ کر حفاظت کرتے ہیں اور ان کے خاندانوں کا خیال رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی تک اپنے ایجنٹوں کو سیکورٹی کُوَر اور مالی تحفظ دیتی ہے لیکن ہندوستانی سرکار اس پر دھیان نہیں دیتی، کیونکہ سیاست دانوں کو اس میں ووٹ کا فائدہ نہیں دکھائی دیتا۔
نئی نسل کے لئے برا پیغام
1984 میں ’’ را ‘‘ کے ٹیلنٹ ہنٹ کے ذریعہ چنے گئے منوج رنجن دیکشت کی اکیلی آپ بیتی ملک کے نوجوانوں کو یہ پیغام دینے کے لئے کافی ہے کہ وہ ’’را ‘‘ جیسی خفیہ ایجنسی کے لئے کبھی کام نہیں کریں۔ میجر رویندر کوشک سے لے کر ایسے تمام ’’ را ‘‘ ایجنٹوں کی بے معنی گمنام شہادتوں کی مثالیں بھری پڑی ہیں۔ خفیہ ایجنسی کے آفیسر ہی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان یا دیگر ملکوں میں تعینات ’’را‘‘ایجنٹ کے تئیں آنکھیں بند کرنے والی سرکار ہندوستان میں رہ رہے ان کے خاندان والوں کو لاوارث کیوں چھوڑ دیتی ہے، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ ایسے میں ملک کا کوئی نوجوان ’’را ‘‘جیسی خفیہ ایجنسی کے لئے کام کرنے کے بارے میں کیوں سوچے؟منوج رنجن دیکشت کو’’ را‘‘ کے ٹیلنٹ فائنڈر جیتندر ناتھ سنگھ پریہار نے چنا تھا۔ ایک سال کی ٹریننگ کے بعد دیکشت کو جنوری 1985 میں ہندوستان -پاکستان سرحد پر موہن پور پوسٹ سے لانچ کیا گیا۔ دیکشت کے ساتھ ایک گائڈ بھی تھا جو انہیں پاکستان کے پلو گائوں ہوتے ہوئے بمبائولی – راوی – بیدیان نہر پار کرا کر لاہور لے گیا اور انہیں وہاں چھوڑ کر چلا گیا۔ اس کے بعد سے دیکشت کی جاسوسی کرنے کی المناک کہانی تبدیل ہوتی چلی گئی۔
23جنوری 1992 کو سندھ صوبہ کے حیدر آباد شہر سے گرفتار کئے جانے تک دیکشت نے جاسوسی کے تمام پاپڑ بیلے، کھومچے گھیسٹے، لاہور ، کراچی ، ملتان ، حیدر آباد،پشاور جیسے تمام شہروں میں اعلیٰ فوجی افسروں سے لے کر بڑے لیڈروں کی جاسوسی کی اور دبئی، کویت ، قطر، ہانگ کانگ ، سنگاپور جیسی جگہوں پر بیٹھے ’’راء ‘‘ افسروں کے ذریعہ ہندوستان تک اطلاع پہنچائی۔ ’’راء ‘‘ نے حیدر آباد کے عامر عالم کے ذریعہ دیکشت کو افغانستان بھی بھیجا جہاں جلا ل آباد اور کُنر میں انہیں اہل حدیث کے چیف شیخ جمیل الرحمن کے ساتھ اٹیچ کیا گیا۔ وہاں کے رابطے کے ذریعہ دیکشت پشاور میں ڈیرہ جمائے عرب مجاہدین کے سینٹر بیت الانصار پہنچ گئے اور جہادی کی شکل میں گروپ میں شامل ہو گئے۔ دیکشت بتاتے ہیں کہ بیت الانصار پر اسامہ بن لادن اور شیخ عبد الرحمن جیسے دہشت گرد سرغنہ پہنچتے تھے اور سینٹر کو کافی پیسے دیتے تھے۔23جنوری 1992 کو دیکشت کوسندھ صوبہ کے حیدرآباد سے گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری کے بعد دیکشت کی اذیتوں کا سفر شروع ہوا۔ پہلے انہیں حیدر آباد میں آئی ایس آئی کے لاک اپ میںرکھا گیا، پھر انہیں ملٹری انٹلی جنس کی 302ویں بٹالین میں شفٹ کر دیا گیا۔ حیدر آباد سے انہیں ملٹری انٹلی جنس کی دوسری کور کے کراچی کے دفتر بھیجا گیا۔ پوچھ تاچھ کے دوران دیکشت کو اذیتیں دی جاتی رہیں۔ پٹائی کے علاوہ انہیں سیدھا باندھ کر 9-9 گھنٹے کھڑا رکھا جاتا تھا اور کئی کئی رات سونے نہیں دیا جاتا تھا۔ تقریباً ایک سال تک انہیں اسی طرح الگ الگ فوجی ٹھکانوں پر ٹارچر کیا جاتا رہا اور پوچھ تاچھ ہوتی رہی۔ اس درمیان دیکشت کے حبیب بینک کے حیدرآباد اور ملتان برانچ کے اکائونٹ بھی ضبط کر لئے گئے اور اس میں جمع ہونے والے پیسے کے ذرائع کی گہرائی سے چھان بین کی گئی۔ 21دسمبر کو انہیں کراچی جیل شفٹ کر دیا گیا۔ 5 مہینے بعد جون 1993 سے دیکشت پر پاکستانی فوج کی عدالت میں مقدمہ شروع ہوا اور انہیں کراچی جیل سے 85ویں ایس اینڈ ٹی کور (سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ کور ) کو ہینڈ اُوَر کر دیا گیا۔ اس درمیان دیکشت کو پاکستانی فوج کی 44ویں فرنٹیئر فورس ( ایف ایف ) کے کوارٹر گارڈ میں بند رکھا گیا۔ 1994 میں دیکشت 21ویں آرمڈ بریگیڈ کے حوالے ہوئے اور انہیں 51 لانسرس کے کوارٹر گارڈ میں شفٹ کیا گیا۔ اس درمیان میجر نسیم خاں، میجر سلیم خاں، لیفٹیننٹ کرنل حمید اللہ خاں اور بریگیڈیئر رستم دارا کی فوجی عدالتوں میں مقدمہ (کورٹ مارشل ) چلتا رہا۔ دیکشت کہتے ہیں کہ کوئی اعتراف اور ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی فوج نے انہیں سندھ سرکار کے سول ایڈمنسٹریشن کے حوالے کر دیا۔سندھ سرکار نے 2001 میں ہی دیکشت کو ہندوستان واپس بھیجنے کا حکم دے دیا تھا۔ لیکن وہ 4 سال تک قانونی چکروں میں پھنستا نکلتا رہا اور آخر کار مارچ 2005 میں اس کی تعمیل ہو پائی۔
منوج رنجن دیکشت کو 22مارچ 2005 کو باگھہ بارڈ پر ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں کے سپرد کر دیا گیا۔ ’’را ‘‘ کے مشن پر پاکستان میں 21برس گزارنے والے منوج رنجن دیکشت 13 سال سے زیادہ وقت تک جیل میں بند رہے۔ ہندوستان لوٹنے پر ہندوستانی سرکار کے ایک نمائندہ نے انہیں دو قسطوں میں ایک لاکھ 36 ہزار روپے دیئے اور اس کے بعد فائل کلوز کر دی۔ پاکستان کی جیل سے نکل کر دیکشت ہندوستان میں پھنس گئے ۔جینے کے لئے انہیں اینٹ بھٹے پر مزدوری کرنی پڑی۔ فی الحال وہ لنو کی ایک کنسٹرکشن کمپنی میں معمولی ملازم ہیں۔ بیوی کینسر کی مریضہ ہیں۔ رام منوہر لوہیا اسپتال میں کیموتھیراپی اور آپریشن کے بعد بھی علاج کا سلسلہ جاری ہے۔ لکھنو کے ہی نور منزل میں منٹل ڈیسیز کلنک میں ان کی بیمار بیوی کا علاج چل رہاہے۔ معمولی تنخواہ میں بیمار بیوی کے ساتھ زندگی کی گاڑی کھینچنا دیکشت کو مشکلوں بھرا تو لگتاہے ،لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کی اذیتیں جھیل لیں تو اپنے ملک کی پریشانی بھی جھیل ہی لیںگے ‘‘۔ دیکشت کبھی وزیر اعظم کو خط لکھتے ہیں تو کبھی وزیر اعلیٰ کو۔وہ سارے خطوط اپنے ساتھسجا کر رکھتے ہیں اور انہیں دکھا کر کہتے ہیں کہ ’’جس صبح کی خاطر جُگ جُگ سے ہم سب مر مر کے جیتے ہیں، وہ صبح کبھی تو آئے گی ‘‘۔

 

 

 

 

 

 

 

’’را ‘‘ ایجنٹ کی لمبی جماعت
’’را ‘‘ کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں پکڑے گئے بحریہ کمانڈر کلبھوشن جادھو کا پہلا معاملہ ہے جب مرکزی سرکار نے ا ن کی رہائی کے لئے پرزور طریقے سے آواز اٹھائی اور عالمی عدالت تک اپیل کی۔ لیکن اس کے پہلے میجر رویندر کوشک سے لے کر سربجیت سنگھ اور سربجیت سے لے کر تمام بے نام، گمنام جاسوسوں کی حفاظت کے لئے ہندوستانی سرکار نے آج تک کوئی قدم نہیں اٹھایا۔کلبھوشن جادھو کا مسئلہ ہی الگ ہے۔ انہیں تو طالبانیوں نے ایرانی سرحد سے اغوا کرکے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ہاتھوں بیچ دیا تھا۔ جرمن سفارتکار گُنٹر مولیک عالمی سطح پر اسے اجاگر کر چکے ہیں۔ پاکستان کی کوٹ لکھ پت جیل میں بند سربجیت کی رہائی کے مسئلے میں بھی سماجی و سیاسی شور تو خوب مچا لیکن ہندوستانی سرکار نے کوئی کارگر دبائو نہیں بنایا ۔ آخر کار دوسرے پاکستانی قیدیوں کو اکسا کر کوٹ لکھ پت جیل میں ہی سربجیت سنگھ کا قتل کرا دیا گیا۔
پاکستان میں مشن پورا کر کے یا جیل کی سزا کاٹ کر واپس لوٹے کئی ’’را ‘‘ ایجنٹوں نے مرکزی سرکار سے باضابطہ طور پر مالی تحفظ دینے کی اپیل کی لیکن اس پر کوئی سنوائی نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ ہندوستانی سرکار نے انہیں سرکاری ملازم ماننے سے ہی انکار کردیا۔ سرکار نے اپنے سابق’’را‘‘ ایجنٹوں کو پہچاناہی نہیں۔ایسے ہی ’’را‘‘ ایجنٹوں میں گرداس پور کے کھیرا کلاں گائوں کے رہنے والے کرامت راہی شامل ہیں، جنہیں 1980 میں پاکستان لانچ کیا گیا تھا۔ پہلی بار وہ اپنا مشن پورا کر کے واپس لوٹ آئے لیکن ’’را‘‘ نے انہیں 1983 میں پھر پاکستان بھیج دیا۔ اس بار 1988 میں وہ مینار پاکستان کے نزدیک گرفتار کر لئے گئے۔ کرامت 18سال جیل کاٹنے کے بعد 2005 میں لوٹ پائے۔ کرامت کی رہائی بھی پنجاب میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ رہے کیپٹن امریندر سنگھ کی مداخلت اور انتھک کوشش سے ممکن ہو پائی۔ ملک واپس لوٹنے کے بعد کرامت نے ’’را ‘‘ دفتر سے رابطہ کیا لیکن ’’را ‘‘دفتر کے اعلیٰ افسروں نے دھمکی دے کر کرامت کو خاموش کر دیا۔ ہندوستانی سرکار کی اس مجرمانہ نظر اندازی کے خلاف کرامت نے سپریم کورٹ کی پناہ لی، لیکن عدالت بھی کہاں’ نیچا ‘سنتی ہے۔
ریاستی سرکاروں کا بھی وہی رویہ
ان معاملوں میں متعلقہ ریاستی سرکاریں بھی ’’را ‘‘ ایجنٹوں کے تئیں مجرمانہ نظر اندازی کا ہی احساس رکھتی ہیں۔ ’’را‘‘ ایجنٹ کشمیر سنگھ کا معاملہ استثناء کے طور پر سامنے آیا جب 35 سال پاکستانی جیل کی سزا کاٹ کر لوٹنے کے بعد پنجاب سرکار نے انہیں زمین دی اور معاوضہ دیا۔ 1962 سے لے کر 1966 تک کشمیر سنگھ فوج کی نوکری میں تھے۔ اس کے بعد ’’را ‘‘نے انہیں اپنے کام کے لئے چنا اور پاکستان لانچ کردیا۔ 1973 میں وہ پاکستان میں گرفتار کر لئے گئے۔ انہیں پاکستان کی مختلف جیلوں میں گھمایا جاتا رہا اور جانچ کی جاتی رہی۔ 17 سال تک انہیں ایک الگ سیل میں بند رکھا گیا۔ 4مارچ 2008 کو وہ رہا ہوکر ہندوستان آئے لیکن اس لمبے عرصے میں کشمیر سنگھ زندگی سے نہیں لیکن عمر کی وجہ سے شہید ہو چکے تھے۔
گرداس کے ڈوائی گائوں کے رہنے والے سنیل مسیح 2 فروری 1999 کو پاکستان کے شکر گڑھ میں گرفتار کئے گئے تھے۔ 8سال کی شدید اذیت کے بعد 2006 میں وہ انتہائی سنگین حالت میں ہندوستان واپس لوٹے لیکن مرکزی سرکار نے ان کے بارے میں کوئی خیال نہیں کیا۔ انہی کے گائوں ڈوائی کے ڈینیل عرف بہادر بھی پاکستانی رینجروں کے ذریعہ 1993 میں گرفتار کئے گئے تھے۔ 4سال کی سزا کاٹ کر واپس لوٹے۔ اب سابق ’’را ‘‘ایجنٹ ڈینیل رکشہ چلا کر اپنا گزربسر کرتے ہیں۔ پاکستان کی جیل میں تقریباً تین دہائی کاٹنے کے بعد چھوٹ کر ہندوستان آنے والے سابق ’’را ‘‘ایجنٹوں میں سرجیت سنگھ کا نام بھی شامل ہے۔’’ را‘‘ نے سرجیت سنگھ کو 1981 میں پاکستان لانچ کیا تھا۔ وہ 1985 میں گرفتار کئے گئے اور پاکستان کے خلاف جاسوسی کرنے کے الزام میں انہیں پھانسی کی سزا دی گئی۔ 1989 میں ان کی سزا عمر قید میں بدل دی گئی۔ 2012 میں پاکستان کی کوٹ لکھپت جیل سے سزا کاٹنے کے بعد سرجیت رہا ہوئے۔ سرجیت نے بھی ’’را‘‘ کے افسروں سے رابطہ کیا لیکن ناکام رہے۔ سرجیت اپنی بیوی کو یہ بول کر پاکستان گئے تھے کہ وہ جلد لوٹیں گے لیکن 1981 کے گئے ہوئے 2012 میں واپس لوٹے۔ جب لوٹے تب وہ 70سال کے ہو چکے تھے۔ ہندوستانی سرکار نے ان کے وجود کا انکار کر دیا جبکہ واپس لوٹنے پر سرجیت نے پوچھا کہ ہندوستانی سرکار نے انہیں پاکستان نہیں بھیجا تو وہ اپنی مرضی سے پاکستان کیسے اور کیوں چلے گئے؟سرجیت مشن کے درمیان 85 بار پاکستان گئے اور آئے۔ پاکستان میں گرفتار ہوجانے کے بعد ہندستانی فوج کی طرف سے ان کے خاندان کو ہر مہینے ڈیڑھ سو روپے دیئے جاتے تھے۔ سرجیت پوچھتے ہیں کہ اگر وہ لاوارث ہی تھے تو فوج ان کے گھر پیسے کیوں بھیج رہی تھی؟سرجیت نے بھی انصاف کے لئے سپریم کورٹ میں چارہ جوئی کر رکھی ہے۔
گرداس پور ضلع کے ڈوائی گائوں کے ہی رہنے والے ستپال کو 1999 میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تب ہندوستانی فوج کے درمیان کارگل جنگ چل رہی تھی۔ پاکستان میں ستپال کو شدید اذیتیں دی گئیں۔ پاکستان کی جیل میں ہی 2000 میں ان کی موت ہو گئی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کی سرکار نے ستپال کا مردہ جسم ہندوستان کو سونپنے کی پیشکش کی تو ہندوستانی سرکار نے لاش لینے تک سے منع کر دیا۔ ستپال کی لاش لاہور اسپتال کے مردہ گھر میں پڑی رہی۔ پنجاب میں مقامی سطح پر کافی واویلا مچنے کے بعد ستپال کی لاش منگوائی جاسکی۔ لاش پر اذیت کے گہرے زخم اور چوٹ کے نشانات موجود تھے۔ تب بھی ہندوستانی سرکار کو ان کی شہادت کی قیمت سمجھ میں نہیں آئی۔ ستپال کے بیٹے سریندر پال آج بھی اپنے والد کے لئے انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ پنجاب سرکار نے ستپال کے بیٹے سریندر پال کو سرکاری نوکری کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن یہ یقین دہانی بھی ڈھاک کے تین پات ہی ثابت ہوئی۔
ونود ساہنی کو 1977 میں پاکستان بھیجا گیا تھا۔لیکن وہ جلد ہی پاکستانی سسٹم کے ہاتھوں دبوچ لئے گئے۔ انہیں 11 سال کی سزا ملی۔ سزا کاٹنے کے بعد ونود 1988 میں واپس لوٹے۔ ’’را‘‘ نے ونود کو سرکاری نوکری دینے اور ان کے خاندان کو تحفظ دینے کا یقین دلایا تھا۔ لیکن لوٹنے کے بعد’’ را‘‘ نے انہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیا۔ ونود اب جموں میں ’’سابق جاسوس ‘‘ نام کا ایک ادارہ چلاتے ہیں اور تمام سابق جاسوسوں کوجوڑنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
رام راج نے 18 سال تک ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی خدمت کی۔18ستمبر 2004 کو انہیںپاکستان میں گرفتار کیا گیا۔ تقریباً 8سال جیل کاٹنے کے بعد رہا ہوئے رام راج کو ہندوستان آنے پر اسی خفیہ ایجنسی نے پہچاننے سے انکار کردیا۔ ایسا ہی حال گربخش رام کا بھی ہوا۔ ایک سال کی ٹریننگ دے کر انہیں 1988 میںپاکستان بھیجا گیا تھا۔ ان کا مشن پاکستان کی فوجی یونٹ کے اسلحہ اسٹور کی جانکاریاں حاصل کرنا تھا۔ مشن پورا کرکے واپس لوٹ رہے گر بخش کو پاکستانی فوج کے خفیہ دستاویزوں کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا۔ انہیں سیالکوٹ کی گورا جیل میں رکھا گیا۔ 14سال کی سزا کاٹ کر 2006 میں واپس اپنے ملک لوٹے گربخش کو اب سرکارنہیں پہچانتی ۔ رام پرکاش کو پروفیشنل فوٹوگرافر کی شکل میں ’’را‘‘ نے 1994 میں پاکستان میں پلانٹ کیا تھا۔ 13جون 1997 میں ہندوستان واپس آتے وقت رام پرکاش کو گرفتار کر لیا گیا۔سیالکوٹ کی جیل میں نظر بند رکھ کران سے ایک سال تک پوچھ تاچھ کی جاتی رہی۔ 1998 میں انہیں 10 سال کی سزا سنائی گئی۔ سزا کاٹنے کے بعد 7جولائی 2008 کو انہیں ہندوستان بھیج دیا گیا۔ سورم سنگھ تو 1974 میں سرحد پار کرتے ہوئے ہی پکڑ لئے گئے تھے۔ان سے بھی سیالکوٹ کی گورا جیل میں 4 مہینے تک پوچھ تاچھ ہوتی رہی اور 13سال 7 مہینے پاکستان کی مختلف جیلوں میں اذیت پرداشت کرنے کے بعد آخر کا ر وہ 1988 میں رہا ہوکر ہندوستان آئے۔ کلبیر سنگھ کو 1971 میں پاکستان بھیجا گیا تھا۔ 1974 میںبلبیر گرفتار کر لئے گئے اور 12سال کی جیل کی سزا کاٹنے کے بعد 1986 میں ہندوستان واپس لوٹے۔ ہندوستان آنے کے بعد انہیں جب ’’را ‘‘سے کوئی مدد نہیں ملی تو انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔دہلی ہائی کورٹ نے معاوضہ دینے کا حکم دیا لیکن’’ را‘‘ نے ہائی کورٹ کے حکم پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔
’’را ‘‘ایجنٹ دیووت کو پاکستان کی جیل میں اتنی اذیت دی گئی کہ وہ وہ فالج زدہ ہو گئے۔ دیووت کو 1990 میںپاکستان بھیجا گیا تھا۔ جیل کی سزا کاٹنے کے بعد وہ 23 دسمبر 2006 کو فالج زدہ حالت میں رہا ہوئے۔ مرکزی سرکار نے بھی ان کی طرف دھیان نہیں دیا اور ان کی بیوی وینا انصاف کے لئے دروازے دروازے سر ٹکرا رہی ہیں اور پیشانی جھکا رہی ہیں۔ ’’را‘‘ نے تلک راج کو بھی پاکستان لانچ کیا تھا لیکن اس کا کوئی پتہ ہی نہیں چلا۔ ’’را ‘‘نے بھی پاکستان میں گم ہوئے تلک راج کوکھوجنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ۔تلک راج کے بزرگ والد رام چندر آج بھی اپنے بیٹے کے واپس لوٹنے کا انتظار کررہے ہیں۔ ’’را‘‘ نے اسی طرح اوم پرکاش کو بھی 1988 میں پاکستان بھیجا لیکن اوم پرکاش کا پھر کچھ پتہ نہیں چلا۔ کچھ دستاویزوں اور کچھ قیدیوں کی خط و کتابت سے اوم پرکاش کے گھر والوں کو ان کے پاکستان کی جیل میں ہونے کا سراغ ملا۔ اسے ’’را‘‘ کو دیا بھی گیا لیکن ’’را‘‘ نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔بعد میں اوم پرکاش نے اپنے خاندان والوں کو خط بھی لکھا۔ 14جولائی 2012 کو لکھے گئے اوم پرکاش کے خط کے بارے میں ’’را‘‘ کو بھی جانکاری دی گئی لیکن سرکار نے اس معاملے میں کچھ نہیں کیا۔ ’’را‘‘ ایجنٹ سنیل بھی پاکستان سے اپنے گھر والوں کو خطوط لکھ رہے ہیں۔ لیکن ان کی کوئی نہیں سن رہا ہے ۔
مرکز کی بے جا پالیسیوں اور’ را‘ کی سازش سے مارے گئے کوشک
پاکستان کی فوج میں میجر کے عہدے تک پہنچ گئے میجر نبی احمد شاکر عرف رویندر کوشک ہندوستانی سرکار کی بے جا پالیسیسوں اورخفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی سازش کی وجہ سے مارے گئے۔’’ را‘‘ کے افسروں نے سوچے سمجھے ارادے سے عنایت مسیح نام کے ایسے بیوقوف ایجنٹ کو پاکستان بھیجا جس نے وہاں جاتے ہی رویندر کوشک کا بھنڈا پھوڑ دیا۔ کرنل رینک پر ترقی پانے جارہے رویندر کوشک عرف میجر نبی احمد شاکر گرفتار کر لئے گئے۔ ’’را‘‘ کے ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج میں رویندر کوشک کو مل رہی ترقی اور ہندوستان میں مل رہی تحسین (انہیں بلیک ٹائیگر کے خطاب سے نوازا گیا تھا ) سے جلے بھنے ’’را‘‘ افسروں نے سازش کرکے کوشک کا قتل کرا دیا۔ کوشک کو پاکستان میں بھیانک اذیتیں دی گئیں۔پاکستان کی جیل میں ہی ان کی بے حد دردناک موت ہوئی۔
ہندوستانی سرکار نے کوشک کے خاندان کو یہ ایوارڈ دیا کہ رویندر سے جڑے سبھی ریکارڈ ختم کر دیئے اور انتباہ دیا کہ رویندر کے معاملے میں خاموشی رکھی جائے۔ رویندر نے جیل سے اپنے خاندان کو کئی خطوط لکھے تھے۔ ان خطوط میں ان پر ڈھائے جارہے مظالم کا افسوسناک ذکر ہوتا تھا۔ رویندر نے اپنے بے بس والد سے پوچھا تھا کہ کیا ہندوستان جیسے ملک میں قربانی دینے والوں کو یہی صلہ ملتا ہے؟راجستھان کے رہنے والے رویندر کوشک لکھنو یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ ’’را‘‘ کے اس وقت کے دائریکٹر نے خود انہیں چنا تھا۔ 1965 اور 1971 کی جنگ میں مار کھائے پاکستان کی اگلی سازش کا پتہ لگانے کے لئے ’’را ‘‘نے کوشک کو پاکستان بھیجا۔ کوشک نے پاکستان میں پڑھائی کی، فوج کے آفیسر بنے اور ترقی کے پائیدان پر چڑھتے گئے۔ کوشک کی اطلاعات ہندوستانی سیکورٹی دستوں کے لئے بے حد کارآمدثابت ہوتی رہیں اور پاکستان کی تمام سازشیں ناکام ہوتی رہیں۔ پہلگام میں ہندوستانی جوانوں کے ذریعہ 50 سے زیادہ پاک فوجیوں کا مارا جانا رویندر کی اطلاع کی وجہ سے ممکن ہوپایا۔کوشک کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے انہیں ’’ بلیک ٹائیگر ‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ لیکن ایسے سپوت کو ’’را‘‘ نے ہی سازش کرکے پکڑوا دیا اور بالآخر ان کی افسوسناک موت ہو گئی۔

 

 

 

 

 

 

بھیاک افراتفری اور بد انتظامی کا شکار ہے’ را‘
مرکزی خفیہ ایجنسی ’’ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ ‘‘(را) میں بھیانک افراتفری ہے۔ ’’را‘‘ کی ذمہ داریاں قانونی عمل کے تحت طے نہیں ہے۔ صرف وزیر اعظم کے تئیں جوابدہی ہونے کی وجہ سے ’’را‘‘ کے آفیسر اس خصوصی اختیار کا بے جا استعمال کرتے ہیں اور غیر ملکی ایجنسیوں سے من مانے طریقے سے رابطہ کرکے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ ’’را‘‘ کے افسروں ،ملازموں کے کام کاج کے طور طریقے اور پیسے خرچ کرنے پر الگ سے کوئی نگرانی نہیں رہتی ، نہ اس کی کوئی آڈٹ ہی ہوتی ہے۔’’ را‘‘ کے افسروں کے بار بار ہونے والے غیر ملکی دوروں کا بھی کوئی حساب نہیں لیا جاتا ۔کون لے اس کا حساب؟وزیراعظم یا نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرکو چھوڑ کر کوئی دیگر آفیسر’’ را‘‘ سے کچھ پوچھنے یا جواب طلب کرنے کی حماقت نہیں کر سکتا۔’’ را‘‘ کے آفیسر امریکہ ، کناڈا ، انگلینڈ اور یوروپین ملکوں میں بے تحاشہ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن جنوبی ایشیا ، وسط مشرقی اور افریقی ملکوں میں ان کی آمدو رفت کافی کم ہوتی ہے جبکہ ان ملکوں میں’’ را‘‘ کے افسروں کا کام زیادہ ہے۔’’ را‘‘ کے آفیسر نوجوانوںکو پھنسا کر پاکستان جیسے ملکوں میں بھیجتے ہیں اور انہیں مرنے کے لئے لاوارث چھوڑ دیتے ہیں۔ وزیر اعظم بھی ’’را ‘‘سے یہ نہیںپوچھتے کہ امریکہ، مغربی یوروپ ، اسٹریلیا اور جاپان جیسے عالی شان ملکوں میں ’’را‘‘ افسروں کی پوسٹنگ زیادہ کیوں کی جاتی ہے اور پاکستان، بنگلہ دیش ، سری لنکا یا دیگر جنوبی ایشیائی ملکوں یا وسط مشرق کے ملکوں میں ضرورت سے بھی کم تعیناتی کیوں ہے؟ان ملکوں میں’’ را‘‘ کا کوئی آفیسر جانا نہیں چاہتا لیکن اس افراتفری کے بارے میں کوئی پوچھ تاچھ نہیں ہوتی۔ ’’را‘‘ میں عمومی سطح پر ہونے والی تقرری کی کوئی شفاف سرگرمی نہیں ہے، کوئی نگرانی نہیں ہے۔ ’’را‘‘ کے ملازموں کی جانچ کریں تو افسروں کے رشتہ داروں کی وہاں بھیڑ جمع ہے۔ سب آفیسر اپنے اپنے رشتہ داروں کے تحفظ میں لگے رہتے ہیں۔ تبادلوں اور تعیناتیوں پر افسروں کے مفاد حاوی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس خفیہ ایجنسی کو سب سے زیادہ پیشہ ور ہونا چاہئے تھا، وہ سب سے زیادلچر ثابت ہو رہی ہے۔
’’را ‘‘میں سی آئی اے اور کچھ دیگر غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی گھس پیٹھ بھی سنگین تشویش کا موضوع ہے۔ ’’را‘‘ کے ڈائریکٹر تک سی آئی اے کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔ اسی طرح ایک سینئر آئی پی ایس آفیسر جسے آئی بی کا ڈائریکٹر بنایا جارہا تھا، اس کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ دہلی میں تعینات خاتون سی آئی اے آفیسر ہیدی اگسٹ کے لئے کام کر رہاتھا۔ تب اسے نوکری سے جبراً ریٹائر کیا گیا۔ راز کھلا کہ سی آئی اے ہی اس آئی پی ایس آفیسر کو آئی بی کا ڈائریکٹر بنانے کے لئے بالواسطہ طور پر لابنگ کررہی تھی۔ ’’را‘‘ کے جنوب مشرقی ایشیائی مسئلوں کے انچارج اور جوائنٹ سکریٹری سطح کے اعلیٰ آفیسر میجر رویندر سنگھ کا سی آئی اے کے لئے کام کرنا اور سی آئی اے کی سازش سے فرار ہو جانا، ہندوستانی سرکار کو پہلے ہی کافی شرمندہ کر چکا ہے۔ رویندر سنگھ جس وقت ’’را‘‘ کے کُور میں سی آئی اے کے لئے کراس ایجنٹ کے بطور کام کر رہا تھا، اس وقت بھی مرکز میں بی جے پی کی سرکار تھی اور اٹل بہاری باجپئی وزیراعظم تھے۔
2004 میں مرکز میں کانگریس کی سرکار آنے کے بعد رویندر سنگھ ہندوستان چھوڑ کر بھاگ گیا۔ افراتفری کی انتہا یہ ہے کہ اس کی فراری کے 2 سال بعد نومبر 2006 میں ’’را‘‘ نے ایف آئی آر درج کرنے کی زحمت کی۔ میجر رویندر سنگھ کی فراری کا راز تلاش کرنے میں’’ را‘‘ کو باضابطہ طور پر آج تک کوئی سراغ نہیں مل پایا جبکہ ’’را‘‘ کے ہی آفیسر امر بھوشن نے بعد میں یہ راز کھولا کہ میجر رویندر سنگھ اور اس کی بیوی پرمیندر کور 7مئی 2004 کو راجپال پرسادورمااور دیپا کماری شرما کے جعلی ناموں سے فرار ہو گئے تھے۔ ان کی فراری کے لئے سی آئی اے نے 7اپریل 2004 کو ان فرضی ناموں کے امریکی پاسپورٹ جاری کرایا تھا۔ اس میں رویندر سنگھ کو راجپال کے نام سے دیئے گئے امریکی پاسپورٹ کا نمبر 017384251 تھا۔ سی آئی اے کی مدد سے دونوں پہلے نیپال گنج گئے اور وہاں سے کاٹھمنڈو پہنچے ۔ کاٹھمنڈو میں امریکی سفارت خانے میں تعینات فرسٹ سکریٹری ڈیوڈ واسلا نے انہیں باقاعدہ ریسیو کیا۔ کاٹھمنڈو کے تری بھوون ہوائی اڈہ سے دونوں نے اسٹریلین ایئر لائن کی فلائٹ (5032)پکڑی اور واشنگٹن پہنچے۔ جہاں ڈلس انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر سی آئی اے ایجنٹ پیٹرک برنس نے دونوں کا استقبال کیااور انہیں میری لینڈ پہنچایا۔ میری لینڈکے محفوظ رہائش گاہ میں رہتے ہوئے ہی فرضی ناموں سے انہیں امریکہ کے شہری ہونے کے دستاویز دیئے گئے۔ اس کے بعد سے وہ غائب ہیں۔پی ایم او نے رویندر سنگھ کے بارے میں پتہ لگانے کے لئے’’ را‘‘ سے بار بار کہا لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا جبکہ ’’را‘‘ وزیر اعظم کے تحت ہی آتا ہے۔ اس مسئلے میں ’’را‘‘ نے کئی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزروں کی ہدایات کو بھی ٹھینگے پر رکھا۔ رویندر سنگھ معاملہ کھلنے پر ’’را‘‘ کے کئی دیگر افسروں کی بھی پول کھل جائے گی۔ اس وجہ سے’’ را‘‘ نے اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔
غیر ملکی ایجنسیوں کے لئے کراس ایجنسی کرنے اور اپنے ملک سے غداری کرنے والے ایسے کئی ’’را‘‘ آفیسر ہیں جو پکڑے جانے کے ڈر سے یا جانچ کی وجہ سے ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ میجر رویندر سنگھ جیسے غدار اکیلے نہیں ہیں۔ ’’را‘‘ کے بانی رہے رام ناتھ کائو کا خاص سکندر لال ملک جب امریکہ میں تعینات تھا تو وہیں سے لا پتہ ہو گیا۔ سکندر لال ملک کا آج تک پتہ نہیں چلا۔ ملک کو ’’را‘‘ کے کئی خفیہ پلان کی جانکاری تھی۔ بنگلہ دیش کو آزاد کرانے کی پالیسی کی فائل سکندر لال ملک کے پاس ہی تھی جسے اس نے امریکہ کو لیک کر دیا تھا۔ ملک کی اس کارروائی کو غیر ملکی معاملوں کے ماہرین ایک طرح کا تختہ پلٹ کی کوشش بتاتے ہیں جسے اندرا گاندھی نے اپنی عقلمندی اور سفارتی سوجھ بوجھ سے قابو کر لیا۔
منگولیا کے اولان بٹور اور پھر ایران کے خرم شہر میں تعینات رہے ’’را‘‘ آفیسر اشوک ساٹھے نے تو اپنے ملک کے ساتھ گھٹیا پن کی انتہا ہی کر دی۔ ساٹھے نے خرم شہر میں ’’را‘‘ کے دفتر کو ہی پھونک ڈالا اور تمام اہم اور حساس دستاویز آگ کے حوالے کر کے امریکہ بھاگ گیا۔ وزارت خارجہ کو جانکاری ہے کہ ساٹھے کیلیفورنیا میں رہتا ہے لیکن ’’را‘‘ اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ پایا۔ ’’را ‘‘کے سینئر فیلڈ آفیسر ایم ایس سہگل کا نام بھی ’’را‘‘ کے مفرور افراد میں اول ہے۔ لندن میں تعیناتی کے وقت ہی سہگل وہاں سے فرار ہو گیا۔ ٹوکیو میں ہندوستانی سفارت خانے میں تعینات ’’را ‘‘آفیسر این وائی بھاسکر سی آئی اے کے لئے کراس ایجنٹ کا کام کر رہا تھا، وہیں سے وہ فرار ہو گیا۔ کاٹھمنڈو میں سینئر فیلڈ آفیسر کی شکل میں تعینات ’’را‘‘ آفیسر بی آر بچر کو ایک خاص آپریشن کے سلسلہ میں لندن بھیجا گیا لیکن وہ وہیں سے لا پتہ ہو گیا۔ بچر بھی کراس ایجنٹ کا کام کر رہا تھا۔’’ را‘‘ دفتر میں پاکستان ڈیسک پر انڈر سکریٹری کی شکل میں تعینات میجر آر ایس سونی بھی میجر رویندر سنگھ کی طرح پہلے فوج میں تھا، بعد میں ’’را‘‘ میں آگیا۔ میجر سونی کناڈا بھاگ گیا۔ ’’را ‘‘میں افراتفری کا حال یہ ہے کہ میجر سونی کی فراری کے بعد بھی کئی مہینوں تک لگاتار اس کے اکائونٹ میں اس کی تنخواہ جاتی رہی۔ اسلام آباد ، بینکاک ، کناڈا میں ’’را‘‘ کے لئے تعینات آئی پی ایس آفیسر شمشیر سنگھ بھی بھاگ کر کناڈا چلا گیا۔ اسی طرح ’’را‘‘ آفیسر آر وادھوا بھی لندن سے فرار ہو گیا۔ کے وی اُنی کرشن اور مادھوی گپتا جیسے انگلیوں پر گنے جانے والے ’’ را‘‘ آفیسر ہیں جنہیں کراس ایجنسی یا یوں کہیں کہ دوسرے ملک کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جاسکا۔ پاکستان کے ہندوستانی ہائی کمیشن میں آئی ایف ایس گروپ بی آفیسر کے عہدہ پر تعینات مادھوری گپتا پاکستانی فوج کے ایک آفیسر کے ساتھ مل کر ہندوستان کے ہی خلاف جاسوسی کرتی ہوئی پکڑی گئی تھی۔ مادھوی گپتاکو 23اپریل 2010 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی طرح عرصہ پہلے ’’را‘‘ کے آفیسر کے وی اُنی کرشنن کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ پکڑے جانے والے’’ را‘‘ آفیسروں کی تعداد کم ہے جبکہ دوسرے ملکوں کی خفیہ ایجنسی کی ملی بھگت سے ملک چھوڑ کر بھاگ جانے والے ’’را‘‘ افسروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *