گجرات انتخابات امیدوناامیدی  میں کس کی جیت؟

14 نومبر کو بی جے پی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا احمدآباد میں تھے۔ وہاں ان کی ایک  تقریر ہوئی جسے سننے کے لئے نوجوان سے لے کر بزرگ تک کافی تعداد میں پہنچے۔ انہوں نے بہت ساری باتیں کہی۔ان میں سے چند نکات پر دھیان دینا ضروری ہے، تاکہ گجرات انتخابات کو ایک الگ نظریئے سے بھی سمجھا جاسکے۔ سب سے پہلے انہوں نے کہا کہ ’مت بھید‘ ہو لیکن ’من بھید‘ نہ ہو۔اپنی  تقریر میں یشونت سنہا نے نریندر مودی سے سوال کیا کہ آپ جب یہ کہتے ہیں کہ پچھلے 70 سالوں میں کچھ نہیں ہوا، تب کیا آپ اس میں اٹل بہاری واجپئی کے 6 سال کو بھی جوڑتے ہیں اور اگر ہاں تو اس کا مطلب یہ ہے  کہ آپ اٹل جی کے سارے کاموں پر پانی پھیر رہے ہیں۔ یعنی آپ یہ کہتے ہیں کہ اٹل جی نے بھی وزیراعظم کے طور پر کچھ نہیں کیا۔یشونت سنہا کے سوالات انہوں نے ارون جیٹلی سے سوال کیا کہ اپریل 2014 میں جب کچے تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ تھی، تو کسے فائدہ ہوا ؟اور وہی قیمت جب دسمبر 2014 میں گھٹ کر 60ڈالر فی بیرل پر آگئی تو اس کا کسے فائدہ ہوا؟کیا اس سے مہنگائی کم ہوئی اور اس کا فائدہ عام آدمی کو ملا؟نہیں، اس کا فائدہ سرکار کو ہوا، کاروباریوں کو ہوا۔تیل کی قیمت گھٹنے کے بعد بھی عوام پریشان رہے اور ایسے میں اب اگر تیل کی قیمت پھر سے بڑھ جائے تب اس سرکار کا کیاہوگا؟انہوں نے ایک اور اہم ایشو یہ اٹھایا کہ یو پی اے کے وقت کے جو 15لاکھ کروڑ کے پروجیکٹ تھے، اسے بی جے پی نے چالو کیوں  نہیں کیا؟انہوں  نے یہ بھی پوچھا کہ یو پی اے کے و قت 205 لاکھ کروڑ رہنے والا این پی اے (نان پرفارمنگ اسیٹ)  آج بڑھ کر 8لاکھ کروڑ روپے کیوں ہو گیا ہے؟اپنی تقریر میں انہوں نے یہ بھی کہاکہ 8نومبر 2016 کو جب نریندر مودی نے نوٹ بندی کا اعلان کیا تب 76 بار انہوں نے کالا دھن کی بات کہی تھی، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟کیا کالا دھن،ٹیرر فنڈنگ اور نقلی نوٹوں پر کوئی نتیجہ نکلا؟سارا پیسہ تو بینکوں میں آگیا، پھر کالادھن گیا کہاں؟یشونت سنہا نے اپنی تقریر میںبتایا کہ کیسے نوٹ بندی اور جی ڈی پی میں 2 فیصد کی گراوٹ کی وجہ سے قریب پونے چار لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔اس  تقریر کے بعد جب 15نومبر کی صبح احمد آباد میں شنکر سنگھ باگھیلا سے ان کی ملاقات ہوئی تو باگھیلا نے ان سے کہا کہ آپ جس پر (جیٹلی ) حملہ کررہے ہیں، وہ تو کٹھ پتلی ہیں ،جولوگ ان سب کے لئے اصل قصوروار ہیں، ان  کے بارے میں کیوں نہیں بولتے ؟

 

 

 

 

 

 

اسی دن یشونت سنہا نے یہ بیان دیاکہ آج سے 700 سال پہلے بھی ایک شہنشاہ محمد بن تغلق نے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا۔ مودی نے کیوں سبنھالی کمان؟بہر حال اس تقریر  کا لوگوں پر کافی گہرا اثر ہوا۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان کے بھاشن سے متاثر ہوئی۔بی جے پی کو یہ لگا کہ اسے یشونت سنہا کے بھاشن سے نقصان ہو سکتا ہے۔ آناً فاناً میں بی جے پی نے پہلے مرحلے کے انتخابات کے لئے نریندر مودی کے 30 اجلاس کا اعلان کردیا۔ اب نریندر مودی پہلے مرحلہ کے انتخابات کے لئے 30اجلاس کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ ایک وزیراعظم کو اسمبلی انتخابات کے صرف ایک مرحلہ کے لئے 30اجلاس کیوں کرنے پڑ رہے ہیں۔ دراصل مئی 2014 میں جب نریندر مودی گجرات چھوڑ کر دہلی آگئے، تب سے گجرات میں دو وزیراعلیٰ ہوئے۔ آنندی بین پٹیل اور وجے روپانی ۔یہ دونوں وزراء اعلیٰ گجرات کی سرکار اور انتظامیہ کو ٹھیک سے سنبھال پانے میں ناکام رہے۔یہ دونوں لیڈر یہ نہیں سمجھ پائے کہ پاٹیدار سماج ایک مضبوط سماج ہے۔ انہیںپہچان چاہئے، عزت چاہئے۔یہی پہچان اور عزت انہیں یہ دونوں وزراء اعلیٰ نہیں دے پائے۔  نتیجہ  یہ ہوا کہ پاٹیدار سماج اور دلت سماج ناراض ہوگیا۔پا ٹیداروں  کا ریزرویشن آندولن ہو یا اونا کادلت آندولن ،ان دونوں آندولنوں کو ٹھیک سے ہینڈل کرنے میںبھی دونوں وزراء اعلیٰ ناکام رہے۔یہی وجہ ہے کہ آج جب گجرات میں انتخابات ہورہے ہیں ،تب نریندر مودی کو  اپنا ہوم اسٹیٹ بچانے  کے لئے خود میدان میں اترنا پڑ رہا ہے۔ کانگریس کی طاقت اور کمزوری دوسری طرف، کانگریس  کی صورت حال مسلسل پہلے سے مضبوط ہوتی چلی گئی۔ راہل گاندھی کے اجلاس  میں بڑھتی بھیڑ نے بھی بی جے پی کے ماتھے پر تشویش کی لکیریں کھینچ دی۔ کل ملا کر راہل گاندھی کی’’ نوسرجن یاترا ‘‘کامیاب رہی۔ ان کے اجلاس  میںبھیڑ آئی۔ انہوں  نے خود کو لوگوں سے رابطہ کیا۔ ان کی پیغام رسانی کا طریقہ بدلا، جس کا فائدہ انہیں ملتا دکھائی دے رہاہے۔ گجرات میں کانگریس ابھر کر سامنے آئی ہے۔لیکن ابھی بھی کانگریس اور بی جے پی میں فرق ہے۔ ابھی بھی بی جے پی کانگریس کے مقابلے آگے ہے۔ کانگریس کی دشواری یہ ہے کہ اس کے پاس ایک بھی ایسا معروف  اور مضبوط لیڈر نہیں ہے جسے پورے گجرات کے لوگوں کی حمایت حاصل ہو۔شنکر سنگھ باگھیلا جیسے سینئر لیڈر کانگریس چھوڑ چکے ہیں۔ لیڈر کی کمی ہی کانگریس کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جو 2-3لیڈر ہیں بھی، ان میں آپس میں ہی اتنا زیادہ اختلاف ہے، جس کا حل نکالنا راہل گاندھی کے لئے بھی مشکل ثابت ہو رہاہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے ابھی تک وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔ کانگریس کو پتہ ہے کہ اگر وہ یہ کام کرے گی تو اس کے لیڈروں کے بیچ  میں ہی اندرونی مار کاٹ  شروع ہو جائے گی۔ لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ گجرات میں راہل گاندھی اور ان کی ٹیم کے ممبران مثلاً جیوتیرا دتیہ سندھیا، سچن پائلٹ جیسے لیڈروں کو گجرات کے لوگ بے ایمان نہیں مان رہے ہیں۔ گجراتیوں کی نظر میں یہ لیڈر معذورہوسکتے ہیں لیکن بے ایمان نہیں ہیںجبکہ مودی کو چھوڑ کر بی جے پی کے جتنے بھی لیڈر ہیں، انہیں گجرات کے لوگ شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ حال ہی میں امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ کا نام جس طرح سے سامنے آیا، اس سے بھی لوگوں کی تشویش بڑھی ہے۔یہ حقیقت بھی راہل گاندھی کے حق میں گئی ۔ وکاس کو لے کر انہوں نے جس طرح سے سوال اٹھائے، وہ بھی گجرات کے لوگوں کو پسند آیا اور گجرات کے لوگوں نے ہی نعرہ لگایا کہ ’’ وکاس پاگل ہو گیاہے ‘‘۔

 

 

 

 

 

اس سے بھی بی جے پی تھوڑا بیک فٹ پر آنے کو مجبور ہوئی ۔راہل کی پالیسی بہر حال بی جے پی کے لئے اس بار کا گجرات  الیکشن  اس لئے بھی خاص ہے کیونکہ نریندر مودی کے پی ایم بننے کے بعد وہاں پہلی بار انتخابات ہورہے ہیں۔ نریندر مودی کا ہوم اسٹیٹ ہونے کی وجہ سے یہ انتخابات ان کے لئے وقار کا سوال بن گئے ہیں۔یہ انتخابات جیتنا ان کے لئے اس لئے بھی ضروری ہے، کیونکہ اس کا اثر 2019 پر بھی پڑ سکتا ہے۔ یہاں اگر ہار ملتی ہے، تو مودی کی مرکزی قیادت پر بھی سوال کھڑے کرنے والے بہت سارے لوگ آگے آ جائیںگے لیکن اس بار کانگریس نے گجرات اسمبلی انتخابات کے لئے پہلے کے مقابلے بہتر پالیسی بنائی ہے۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے گجرات میں کافی پہلے سے اپنی یاترائیں شروع کر دی تھی اور ماحول بنانے کی کوشش کی، جس کا مثبت اثر پڑتا دکھائی بھی دے رہا ہے  ۔وہ کافی سوچ سمجھ کر اپنے پتے کھول رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے گجرات کے انتخابی دوروں میں سافٹ ہندوتو کی لائن بھی اپنائی ۔وہ کئی مندروں میں گئے، پوجا کی ،تلک لگا کر اسٹیج پر پہنچے اور لوگوںسے مخاطب ہوئے۔ جس طرح 2007 کے انتخابات میں کانگریس نے سیدھے مودی پر حملہ کیا تھا اور سونیا گاندھی نے انہیں موت کا سوداگر کہا تھا، اس سے کانگریس کو کافی نقصان ہوا تھا۔ اس بار راہل گاندھی ایسی کوئی غلطی نہیں کررہے ہیں۔ پہلے انہوں  نے ’’وکاس پاگل ہو گیا ہے ‘‘ کی بات تو کی لیکن اب اس سے بھی پرہیز کررہے ہیں۔ کانگریس نہیں چاہتی کہ بی جے پی اس کے کسی نعرے کوانتخابی ایشو بنا لے۔ کانگریس اس الیکشن کو  ’’راہل بنام مودی ‘‘ بنانے کے بجائے ’’ بی جے پی بنام گجرات کے عوام ‘‘ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ راہل گاندھی اپنے بھاشن میں کاروبار اور روزگارکو ترجیح دے رہے ہیں۔وہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی زیادہ سے زیادہ تنقید کررہے ہیں۔کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ گجرات کا کاروباری طبقہ اس سے ناخوش ہے۔وہ ’’5-10 صنعتکاروں کو فائدہ اور سب پریشان ‘‘ کانعرہ دے رہے ہیں۔گجرات انتخابات میں اگر سوشل میڈیا کی بات کریں تو اس بار کانگریس کی موجودگی سوشل میڈیا پر بھی بہتر ہوئی ہے۔ ادھر ہاردک پٹیل، اوبی سی لیڈر الپیش ٹھاکور اور دلت لیڈر جگنیش میوانی کے ساتھ آنے سے بھی کانگریس کی حیثیت بلند ہوئی ہے ۔کانگریس کو یقین ہے کہ ’’پودا ‘‘ یعنی پاٹیدار ، او بی سی ، دلت اور آدیواسی ووٹ کے سہارے وہ گجرات کی بازی جیت لے گی۔ایشو لیس انتخاباتاب تک کی انتخابی تشہیر سے اتنا تو صاف ہو گیاہے کہ یہ انتخابات ایشو لیش ہیں۔اس میں عوام کے مسائل، مثلاً غربت، بے روزگاری، تعلیم ، پانی، بجلی وغیرہ پر کوئی بات نہیں کی جارہی ہے۔روزگار، گجرات انتخابات میں عام لوگوں کا سب سے بڑا ایشو ہے۔ شہری اور دیہی دونوں خطوں میں لوگوں کو روزگار چاہئے۔ اسی غصے کو بھانپتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی ریاست کے لئے کئی اعلانات کرتے نظر آئے۔انہوں  نے 20,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور اس سے ایک لاکھ نئی نوکریاں پیدا کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ نے بھی بے روزگار عورتوں اور مردوں کے لئے 4000 ااور 3500 روپے کی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ابھی بھی شہری اور دیہی دونوں خطوں کے لئے روزگار بہت بڑا ایشو بنا ہو اہے۔ غور طلب ہے کہ نریندر مودی نے 2012 کے اسمبلی انتخابات کے دوران اپنا منشور پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگلے پانچ سال میں 30لاکھ نوجوانوں کو نوکری دیںگے۔ اب پانچ سال بعد وہ 30  لاکھ  کی جگہ ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار دینے کی بات کررہے ہیں۔ طبی شعبے کی بات کریں تو گجرات سرکار نے پچھلے تین سال میں طبی بجٹ میں لگ بھگ 6 فیصد کی کمی کی ہے۔ کئی اسپتالوں میں ڈاکٹر تک نہیں ہیں۔ 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح  کے معاملے میں بھی گجرات کا ریکارڈ خراب ہے۔یہاں نوزائیدہ بچوں کی اموات کا اوسط  فی ہزار 33 ہے،جبکہ کیرل میں 12، تمل ناڈو میں 19، مہاراشٹر میں 21 اور پنجاب میں 23ہے۔اب سرکار حرکت میں آئی ہے اور آشا ملازمین کی تنخواہ میں50 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کی وجہ سے پیدا ہوئی بے اطمینانی نے بھی انتخابی تصویر کودلچسپ بنا دیاہے۔ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو جی ایس ٹی کو بزنس فرینڈلی  بنائیں گے۔ پٹیل ریزرویشن ، دلت متاثرین جیسے ایشو کو بھی کانگریس بھنانا چاہتی ہے لیکن عوام کے مسائل پر کوئی ٹھوس وعدہ کسی بھی پارٹی کی طر ف سے ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ امیت شاہ اگلے وزیرا علیٰ ادھر ہاردک پٹیل کو لے کر بھی بی جے پی فکر مند ہے۔ پٹیل ریزرویشن کو لے کر پاٹیدار طبقہ کافی مشتعل ہے اور کھل کر بی جے پی کے خلاف ہے۔ ہاردک پٹیل کانگریس کے قریب جاتے دکھائی دے رہے  ہیں ۔

 

 

 

 

 

 

ایسے میں  پاٹیدار  لیڈر ہاردک پٹیل کی کردار کشی کے لئے کئی سیکس سی ڈی بازار میں  لائی گئی۔ لیکن گجرات کا پاٹیدار سماج اس سے متاثر  نہیں دکھائی دے رہاہے۔ اس کے لئے اس سی ڈی کا کوئی مطلب نہیں ہے۔یعنی سی ڈی معاملہ کا الیکشن پر اور گجرات کے عوام پر کوئی اثر ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ گجرات انتخابات میں سرکار کا کنٹرول میڈیا وغیرہ پر اتنا زیادہ ہے کہ یشونت سنہا کی تقریر  کو نیشنل میڈیا نے جگہ تک نہیں دی۔  اکّا دکّا اخباروں نے کہیں کونے  میں ایک کالم کی خبر چھاپ دی۔ ظاہر ہے بی جے پی کے لئے یہ انتخاب وقار کا سوال بن گیاہے اور وہ اسے کسی بھی قیمت پر ہارنا نہیں چاہتی۔ بہر حال اگلے کچھ دنوں میں گجرات کے انتخابات کے نتائج آجائیں گے۔اب تک کی انتخابی صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتاہے کہ بی جے پی کی جیت کا تناسب کم ہو سکتاہے، اس کی سیٹیں کم ہو سکتی ہیں لیکن بالآخر بی جے پی کسی بھی طریقے سے سرکار بنانے میں کامیاب رہے گی۔۔اگر بی جے پی کو نارمل میجارٹی ملتی ہے ،یعنی میجارٹی سے کچھ سیٹیں ہی زیادہ ملتی ہیں تو ممکن ہے کہ امیت شاہ گجرات کے اگلے وزیر اعلیٰ بن کر گجرات چلے جائیں۔گجرات ماڈل  میںبھی ذات کی باتوکاس کے جس گجرات ماڈل کی بات کی جاتی ہے، وہاں بھی ذات ایک ایسا فیکٹر ہے جسے کوئی سیاسی پارٹی اندیکھی کرنے کی ہمت نہیں کرسکتی۔ جیسے شمالی ہندوستان، خاص طور پر بہار اور اترپردیش میں ’’مائی ‘‘ اور ’’ڈی ایم ‘‘ جیسے ذات و برادری پر مبنی اتحاد کی بات ہوتی ہے،ویسے ہی گجرات میں بھی کبھی  ’’ کھام ‘‘ تو کبھی ’’ پودا ‘‘ کی بات ہورہی ہے۔ 1985 میں مادھو سنگھ سولنکی نے ’’ کھام ‘‘ اتحاد  بنا کر بھاری جیت حاصل کی تھی۔ ’’ کھام ‘‘ یعنی چھتریہ، دلت، آدیواسی اور مسلم۔ وہیں اس بار کانگریس ’’ پودا ‘‘ یعنی پاٹیدار ، اوبی سی ، دلت اور آدیواسی کو ملا کر اتحاد   بنانے کی جگاڑ میں ہے۔ ویسے نریندر مودی کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے پچھلے انتخابات میں ذات و برادری بہت بڑا فیکٹر نہیں تھا، لیکن پٹیل اور دلت آندولن کے بعد ذات و برادری اتحاد  درست کرنا بی جے پی کی بھی مجبوری بن گئی ہے۔ گجرات میں او بی سی آبادی50فیصد سے زیادہ ہے۔ آدیواسی 15 فیصد ، دلت8  فیصد ، پٹیل 12 فیصد ، مسلم10 فیصد اور دیگر برادریوں  کی آبادی 4 فیصد ہے۔ ایک طرف جہاں نریندر مودی او بی سی طبقہ سے آتے ہیں، وہیں گجرات صدر بھرت سنگھ سولنکی بھی او بی سی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔اس تکری سے کس کا فائدہ ،کس کا نقصان ہاردک پٹیل :پٹیل ریزرویشن آندولن سے ابھرے لیڈر۔ بی جے پی کے خلاف جارحانہ تیور۔ کانگریس کی طرف جھکائو۔ پٹیلوں کا ووٹ 12 فیصد ۔ہاردک اگر اس میں سے آدھا ووٹ بھی کانگریس کو دلا پائے، تو کانگریس کو بڑا فائدہ ہو سکتاہے۔الپیش ٹھاکوراو بی سی لیڈر ۔شراب کے خلاف ریاستی سطح کا آندولن کرچکے ہیں۔گجرات میں تقریباً 50فیصد اوبی سی ووٹر ہیں۔ بی جے پی  اور کانگریس دونوںکے لئے یہ ووٹ اہم ہیں۔ الپیش ٹھاکور کانگریس میں شامل ہو چکے ہیں۔ وہ کانگریس کو 20سے 30 فیصد او بی سی ووٹ بھی دلا پائیں تو کانگریس مضبوط حالت میں رہے گی۔جگنیش میوانی ’’راشٹریہ دلت ادھیکار منچ ‘‘ کے کنوینر: اونا حادثہ کے بعد دلت لیڈر کے طور پر ابھرے۔ بی جے پی کے خلاف جارحانہ تیور اپنائے ہوئے ہیں۔ فی الحال بی جے پی کو ہرانا ان کا واحد مقصد ہے۔ ریاست میں 7سے 8 فیصددلت ووٹ ہے۔ عام طور پر دلت ووٹ کانگریس  کو ملتا رہاہے۔ دلت- مسلم اتحاد کے پیروکار ۔اگر دلتوں کا یکمشت ووٹ وہ کانگریس کی طرف کھینچ سکے تو بی جے پی کے لئے مشکل ہو سکتی ہے۔2012 اسمبلی انتخابات کے نتائجبی جے پی 115کانگریس 61گجرات پریورتن کانگریس 2راشٹریہ کانگریس 2جنتا دل یو 1گجرات کی حقیقی صورت حال ٭6.04 کروڑ آبادی میں سے 57.4 فیصد دیہی اور 42.6 فیصد شہری آبادی ٭ریاست کی ایک لاکھ 17ہزار گھروں میں بجلی نہیں ہے٭10لاکھ گھروں میں آج بھی کروسین تیل سے رات کا اندھیرا دور ہوتا ہے٭بچوں کی اموات کااوسط فی ہزار 33،ہماچل ، تمل ناڈو ،کیرل سے خراب حالت ٭5لاکھ سے کم عمر کے 40فیصد بچے اندر ویٹ (کم وزن)٭10فیصد گھروں میں ابھی بھی صاف  پینے  کا پانی دستیاب نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *