اترپردیش عصمت دری کی شکار لڑکی انصاف کے لئے بھٹک رہی ہے

بی جے پی کی سرکار میں آج بھی سماج وادی پارٹی کے لیڈروں کا حکومت اور انتظامیہ پر دبدبہ قائم ہے۔ پولیس کی بھی پرانی عادت گئی نہیں ہے۔ یوگی سرکار کی پولیس، سماج وادی پارٹی کی سرکا رمیں وزیر ارہے منوج پانڈے کے اشارے پر مجرموں کو بچانے اور متاثرین کو پھنسانے کے کام میں لگی ہوئی ہے اور یوگی سرکار کی ساکھ پر بٹہ لگا رہی ہے۔ کسی نہ کسی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہنے والے رائے بریلی کے اونچاہار میں ابھی کچھ ہی دنوں پہلے بھنگی برادری کی نابالغ لڑکی کے ساتھ سماج وادی پارٹی کے لیڈر کے گرگوں نے اجتماعی عصمت دری کی۔ پولیس نے اغوا اور عصمت دری کی شکایت کرنے تھانے پہنچی لڑکی کو بندھک بنا لیااور اس کے بھائی سمیت دو لوگوں کو الٹا گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ پولیس نے اجتماعی عصمت دری کی متاثرہ لڑکی کی میڈیکل جانچ بھی نہیں ہونے دی۔ کافی حجت کے بعد ایف آئی آر لکھی لیکن اس کی کاپی متاثرہ خاندان کو نہیں دی۔ پولیس میں شکایت کرنے کے جرم میں لڑکی کو اغوا کرکے اسے دوبارہ اجتماعی عصمت دری کا شکار بنایا گیا لیکن آج تک کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔ عصمت دری کرنے والوں کی طرح پولیس نے بھی ویسا ہی طریقہ دکھایا اور کیس میں فائنل رپورٹ لگا دی۔ متاثرہ لڑکی کو ساتھ لے کر اس کی ماں شوبھا اور والد میوہ لال دروازے دروازے بھٹک رہے ہیں لیکن انصاف کہیں ہو تب تو ملے۔کہاجاتا ہے کہ اونچاہار تھانے کے انچارج پرشورام ترپاٹھی اونچی پہنچ رکھتے ہیں۔اس لئے وہ قانون کو ٹھینگے پر رکھتے ہیں۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اونچا ہار میں تو قانون لیڈروں اور مجرموںکے ٹھینگے پرہی رہتا ہے۔

 

 

 

 

 

21 فروری کا واقعہ
الزام ہے کہ رائے بریلی کے اکوڑھیا تھانہ کے تحت ( اونچاہار کوتوالی) سلیم پور بھیروں گائوں کے دلت میوہ لال کی نابالغ بیٹی کے ساتھ 24فروری کو ہی دھیرو مشرا (پسر راجیندر مشرا ) اور اس کے ساتھیوں نے اجتماعی عصمت دری کی تھی۔ اس سنسی خیز واردات کا کوئی اثر مقامی پولیس پر نہیں پڑا ور کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اُس وقت ریاست میں سماج وادی پارٹی کا آخری دور تھا۔ سماج وادی پارٹی سرکار میں وزیر منوج پانڈے عصمت دری کرنے والوں کی مدد میں کھلے عام میدان میں تھے۔ متاثرہ لڑکی اور اس کا خاندان تھانے میں بندھک بنا رہا اور تھانے سے لے کر کوتوالی اور رائے بریلی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے دفتر تک عصمت دری کرنے والوں کے پیروکار جمے بیٹھے رہے۔ صحافی اور سماجی کارکن علامہ ضمیر نقوی کے ذریعہ اطلاع دیئے جانے کے بعد جب درج فہرست ذات ؍ درج فہرست قبائل کمیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ترون کھنہ نے ریاستی پولیس دفتر سے رابطہ کیا اور لاء وآرڈر کے تحت پولیس ڈائریکٹر(لاء اینڈ آرڈر) دلجیت چودھری نے رائے بریلی کے ایس پی کو فون پر ہڑکایا تب جاکر حادثے کے تین دن بعد 27فروری 2017 کو عصمت دری کا مقدمہ (نمبر 112/2017، دفعہ 376/323/506اور (2) 5 ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ درج ہوا پایا ۔ تین دن تک عصمت دری کی متاثرہ لڑکی کو پولیس تھانے پر بندھک بنائے رکھا اور اس کی میڈیکل جانچ نہیں ہونے دی۔ تاکہ نتیجہ نہیں مل سکے۔ اتنا سب ہونے کے بعد بھی تھانہ انچارج پرشو رام ترپاٹھی نے کیس ہلکا کرنے کے لئے نابالغ لڑکی کو بالغ لکھ دیا جبکہ لڑکی کے خاندان والوں نے لڑکی کو نابالغ ثابت کرنے والے دستاویز اور آدھار کارڈ وغیرہ پیش کئے لیکن تھانہ انچارج نے اسے نہیں مانا ۔دستاویز کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں اور ایف آئی آر میں متاثرہ کو بالغ لکھ دیا۔
عصمت دری کرنے والوں کی مدد میں لگی پولیس نے متاثرہ خاندان کو ایف آئی آر کی کاپی بھی نہیںدی۔ پولیس میں شکایت درج کرانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عصمت دری کے ملزموں نے چار مہینے بعد متاثرہ لڑکی کا اغوا کرکے الٰہ آباد لے جاکر تین دنوں تک اس کے ساتھ عصمت دی کی۔ اجتماعی عصمت دری کا پہلا حادثہ سماج وادی پارٹی سرکار کے دور کار میں ہوا۔ اسی لڑکی کے ساتھ اغوا اور اجتماعی عصمت دری کا دوسرا واقعہ بی جے پی سرکا ر کے دور کار میں ہوا۔ دونوں سرکاروں کی اصلیت یہی ہے ۔سماج وادی پارٹی کی سرکار میں بھی غنڈوں کا راج تھا ، بی جے پی کی سرکا ر بننے کے بعد بھی غنڈوں کا ہی دبدبہ قائم ہے۔ انہی غنڈوں نے نابالغ دلت لڑکی کو یوگی سرکار بننے کے چار مہینے بعد اغوا کیا اور تین دنوں تک اس کے ساتھ عصمت دی کی۔ اس حادثے کی ایف آئی آر نہیں لکھی جارہی تھی۔ جبکہ سرکار بدل چکی تھی لیکن تھانہ دار کی سماج وادی پارٹی سے وفاداری برقرار تھی۔ آخر کار ایس سی ؍ایس ٹی کمیشن کو پھر براہ راست مداخلت کرنی پڑی تب جاکر 21جولائی 2017 کو اونچاہار کوتوالی میں ایف آئی آر ( مقدمہ نمبر 300/2017 دفعہ 364/376 ڈی 342/452/507/506/323/504نیز 3/4پاکسو ایکٹ اور 3(2)5 دلت ہراسمنٹ پروہبٹیشن ایکٹ درج ہو سکی۔

 

 

 

 

 

پولیس کا کردار
ستم ظریفی یہ ہے کہ پہلے حادثے کی پولیس نے فائنل رپورٹ بھی لگا دی اور کیس بند کر دیا۔ اس حساس مقدمے میں مجرموں کو تحفظ دینے والے تھانہ انچارج پرشو رام ترپاٹھی اور ریجنل آفیسر پر کارروائی کرنے کے بجائے انہیں بچانے کی ہی کوششیںہو رہی ہیں۔ متاثرہ لڑکی کی ماں شوبھا کا کہنا ہے کہ ا جتماعی عصمت دری کے واقعہ کے قصوروار مجرموں کو اسی وقت گرفتار کر لیا ہوتا تو دوسرا شرمناک واقعہ نہیں ہوتا۔ لڑکی کی ماں کہتی ہے کہ تھانے میں بندھک بنائے رکھنے کے درمیان پرشو رام ترپاٹھی نے کچھ سادے کاغذات پر لڑکی سے دستخط کرائے تھے۔ سماج وادی پارٹی میںٰ وزیر رہے منوج پانڈے نے ہی پرشو رام ترپاٹھی کی تعیناتی اونچاہار کوتوالی میں کرائی تھی۔ شوچھا کہتی ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کو لے کر اونچا ہار کوتوالی پہنچی تب ترپاٹھی نے انہیں گالیاں دیں اور عصمت دری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کے بیٹے رنجیت کمار اور رنجیت کمار کے ایک دوست سونو یادو کو گرفتار کر کے انہیں ہی جیل بھیج دیا۔ تین دنوں تک انہیں اور ان کی بیٹی کو تھانے میں بندھک بنائے رکھا۔ کمیشن اور ہیڈ آفس کے دبائو پر مقدمہ (112/2017)درج بھی ہوا تو پولیس نے پاکسو ایکٹ اور دیگر ضروری دفعات نہیں لگائیں۔ لڑکی کو نابالغ ثابت کرنے والے برتھ سرٹیفکیٹ ، اور آدھار کارڈ وغیرہ کی کاپی پھاڑ ڈالی۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بھی پولیس نے عصمت دری کے معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ سابق وزیر اور موجودہ ایم ایل اے منوج پانڈے کا انتظامیہ پر اتنا دبائو ہے کہ انہوں نے عصمت دری کرنے والوں کو بچانے والے چہیتے داروغہ کو کام ہو جانے کے بعد فوری طور پر تبادلہ کرا دیااور جب الیکشن آیا تب اسے واپس اسی تھانے میں تعینات کرا دی۔ اس کے بعد پھر اسے لکھنو ٹرانسفر کرا دیا۔ نابالغ دلت لڑکی سے دو دو بار ہوئے اجتماعی عصمت دری کے واقعہ کا معاملہ التوا میں لٹکا ہوا ہے۔ سیاسی انتقام لینے کے لئے کرائی گئی سنگین مجرمانہ واردات انتظامی پس و پیش کے سبب قانونی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہی ہے۔
اونچاہار میں مجرمانہ دبائو ہی سیاسی شناخت
اونچاہار کے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے اور سابق وزیر منوج پانڈے کبھی سماج وادی پارٹی کے لئے برہمنوں کو جٹانے تو کبھی سماج وادی پارٹی کے لئے جرائم پیشہ افراد کو اکٹھا کرنے کے لئے ہمیشہ چرچا میں رہے ہیں۔ اسمبلی میں دھماکہ خیز مادہ رکھوانے کے معاملے میںبھی پچھلے دنوں منوج پانڈے کافی سرخیوں میں رہے۔ یہاں تک کہ نیشنل انوسٹمنٹ ایجنسی ( این آئی اے ) تک نے پانڈے سے پوچھ تاچھ کی۔ پانڈے سماج وادی پارٹی کا کم اوراپنا فائدہ زیادہ سامنے رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کا سیدھا کنکشن بی جے پی سے بھی ہے، اسی لئے انتظامیہ پر ان کا دبدبہ بنا رہتاہے۔ دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا شرمناک معاملہ ہو یا سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لئے علاقے میں ہونے والے قتل کا معاملہ ، قانون کا ہاتھ منوج پانڈے اور ان کے گرگوں تک نہیں پہنچ پاتا۔ یوگی سرکار بے بس ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اونچا ہار علاقے میں پانچ برہمن نوجوانوں کی عوامی پٹائی کے دوران مارے جانے کے معاملے میں خوب واہ ویلا مچا یہاں تک کہ یوگی سرکار میں کابینی وزیر سوامی پرساد موریہ اور سابق وزیر منوج پانڈے آمنے سامنے آگئے اور تیکھے ریمارکس جاری ہوئے۔ پچھڑے طبقہ کے لوگوںنے منوج پانڈے کے خلاف لکھنو میں احتجاج بھی کیا۔ سوامی پرساد موریہ نے عوامی طور پر کہا کہ مارے گئے پانچ نوجوان شوٹر تھے اور وہ منوج پانڈے کے اشارے پر اٹورا بزرگ گائوں کے پردھان رام شری یادو کو قتل کرنے آئے تھے۔ موریہ نے کہا کہ سابق وزیر منوج پانڈے نے پورا کھیل رچا تھا۔ گائوں والوں نے پردھان کو مارنے آئے قاتلوں کو سزا دی۔ اس واقعہ سے علاقے میں کافی تنائو بڑھ گیا۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی مرنے والے لوگوں کے خاندان کو پانچ پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ دے کر پچھڑوں کو ناراض کرنے کا ہی کام کیا۔ حالانکہ منوج پانڈے نے 20لاکھ کا معاوضہ اور خاندان کے ایک ممبر کو سرکاری نوکری دینے کی مانگ کی تھی۔ اونچا ہار اسمبلی حلقہ کے لوگ ہی کہتے ہیں کہ مجرمانہ شبیہ سے سیاسی شبیہ قائم کرنے کا عملی نمونہ اونچا ہار ہے۔ یہاں کے لوگ مجرمانہ دبدبے اور دہشت کو ہی سیاسی اثرو رسوخ سمجھنے لگے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *