وزیراعلیٰ یوگی کی ریلی میں پولس نے سرعام مسلم خاتون کا برقعہ اتروایا

burqa-muslim-women

ریاست اترپردیش کے بلیاضلع میں 21نومبرکووزیراعلیٰ یوگی کی ریلی میں پولس نے سرعام ایک خاتون کابرقعہ اترواکرضبط کرلیا۔خاتون بی جے پی کی کارکن بنائی جارہی ہے،جس کاکہناہے کہ و ہ ہمیشہ ریلیوں میں برقعہ پہن کرجاتی ہے ،لیکن آج تک کسی نے اس کابرقعہ نہیں اتروایا۔علماء اس نازیباحرکت کوناجائزاورخاتون کی توہین قراردیاہے۔بلیاپولس کپتان کاکہناہے کہ وہ معاملہ کی جانچ کرائیں گے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق،بلیاکے ریلی گراؤنڈمیں سائرہ نامی خاتون ،سی ایم یوگی کوسننے آئی تھیں۔لیکن انہیں برقعہ میں دیکھ کرتین خاتون پولس فوراً ان کے پاس گئیں اوران سے برقعہ اتارنے کوکہا۔سائرہ نے برقعے کااوپری حصہ جس سے سرڈھانکتے ہیں اتاردیااوراپناسرساڑھی کی پلوسے ڈھک لیا۔لیکن پولس نے ان سے برقعہ اتارنے کوکہا۔عیاں رہے کہ کچھ برقعے ایسے ہوتے ہیں جوسامنے سے بٹن سے کھلتے ہیں لیکن سائرہ کابرقعہ سامنے سے بندتھا۔اسے سرسے اوڑھ کے پہنناپڑتاہے۔سائرہ کوسرعام ریلی کی ہجوم میں برقعہ اتارناپڑا،لیکن وہ ان کی ڈاڑھ میں پھنس گیا،اس پرریلی میں بیٹھی ان کے پاس دوسری خواتین نے ان کابرقعہ کھینچ کراتارا۔اتناہی نہیں ،اس کے بعدپولس اہلکارنے ان کابرقعہ ضبط بھی کرلیا۔

 

 

 

 

 

اس معاملے میں آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولاناخالدرشیدفرنگی محلی نے ایک نیوزچینل سے بات کرتے ہوئے کہاکہ’پوری دنیامیں چاہے کتنابھی آزادخیال ملک کیوں نہ ہو،ہرایئرپورٹ پرخواتین کی تلاشی ایک کرٹنے والے انکلوزرکے اندرہی ہوتی ہے۔ریلی کی بھیڑمیں کسی خاتون کا برقعہ اترواکرچھین لیناغیرقانونی ہے۔اس کیلئے پولس والوں کوسزاملنی چاہئے۔وہیں بی جے پی اقلیتی سیل کی صدررومانہ صدیقی کہتی ہیں کہ پارٹی کی سوچ ایسی نہیں ہے۔اس کے لئے پولس والے ذمہ دارہیں۔
بہرحال بلیاپولس کپتان انل کمارکاکہناہے کہ انہیں اس کی جانکاری نہیں تھی،اگرانہیں اس واقعہ کا ویڈیوفراہم کرایادیاجائے تووہ اس کی جانچ کرائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *