گجرات میں بی جے پی کے لئے غیر متوقع صورت حال

گجرات انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ ایک غیر متوقع صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ 22 سال سے بی جے پی راج کررہی ہے۔نریندر مودی، جو وہاں کے وزیر اعلیٰ تھے،اب وزیراعظم بن گئے ہیں اور کئی ریاستیں ان کے ہاتھ میں آگئی ہیں۔یہ تو کبھی سوچا ہی نہیں جاسکتا تھا کہ گجرات میں کبھی کوئی سخت مقابلہ ہوگا۔سب مان کر چل رہے تھے کہ صرف امیدوار کا انتخاب کرنا ہے ،اکثریت آرام سے مل جائے گی۔ امیت شاہ چھاتی ٹھونک کر کہہ رہے تھے کہ 150پلس لانا ہے لیکن تیزی سے صورت حال بدل گئی۔جیسے ہر الیکشن میں ہوتا ہے کہ لوگوں کی کیاسوچ ہے ،کیا ان کے دل میں جوش ہے یا مایوسی ہے،وہ سب انتخابی مہم کے دوران معلوم پڑتا ہے۔
راہل گاندھی جن کے بارے میں نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بہت متاثر کن مقرر ہیں یا جو اپنی تقریروں سے بہت تحریک دیتے ہیں۔گجرات میں ان کی میٹنگ میں اچانک اتنی بھیڑ آئی کہ لوگوںکو حیرانی ہوئی۔یہ ٹھیک ہے کہ ان کے اجلاس میں آئی بھیڑ بی جے پی کی مقبولیت کے کم ہونے کا اشارہ ہے۔جب اینٹی انکمبنسی ہوتی ہے،تو ناراض ہوکر آدمی وہاں جائے گا جہاں دوسرا متبادل ہو۔ گجرات میں تو آپشن نہیں ہے۔ بی جے پی اور کانگریس دو ہی متبادل ہیں۔ اتنی باتیں تو سب کو دکھائی دیںگی۔ اب تجزیہ کیا ہے؟تجزیہ یہ ہے کہ چار بڑے شہروں بڑودہ، احمد آباد، راجکوٹ اور سورت کی جو پوزیشن ہے، وہ دلچسپ ہے۔یہ بی جے پی کے گڑھ تھے۔اگر یہاں بی جے پی کمزور پڑتی ہے تو ان کو بھاری دھکا لگ سکتا ہے۔ امیت شاہ اور ان کی ٹیم کا پورا زور شہروں کی طرف ہے۔ انتخابات کے دوران سب پارٹیاں اپنے اچھے اچھے امیدواروں کو ٹکٹ دیتی ہیں۔ پہلے دور میں 89 سیٹ کا انتخاب ہے اور اب بی جے پی دیکھ رہی ہے کہ اسے کچھ سیٹنگ ایم ایل اے کا ٹکٹ بھی کاٹنا پڑے گا کیونکہ وہ جیتنے کی حالت میں نہیں ہیں۔اتنی باریکی سے وزیراعظم خود سب دیکھ رہے ہیں۔وہ اور امیت شاہ ایک ایک امیدوار کا تجزیہ کرنے بیٹھے ہیں۔اس سے صاف ہو جاتا ہے کہ ان کو خود بھی اندازہ ہے کہ مقابلہ سخت ہو گیا ہے،جو پہلے نہیں کے برابر تھا۔

 

 

 

 

 

 

دوسرا اشارہ یہ ہے کہ پٹیل طبقہ کے ، دلت طبقہ کے اور پسماندہ طبقہ کے تین نوجوانوں نے اپنا مورچہ کھول لیا ہے اور کہا ہے کہ ہم بی جے پی کے خلاف کسی اور پارٹی کو حمایت دیں گے۔ہاردک پٹیل ، پٹیل طبقے کی نمائندگی کررہے ہیں۔وہ خود انتخاب میں کھڑا نہیں ہو رہے ہیں اور نہ ہی کانگریس جوائن کررہے ہیں۔ لیکن پٹیل پاٹیداروں کے اجلاس میں کافی بھیڑ ہورہی ہے اور وہ کافی مقبول نظر آرہے ہیں۔
ہاردک پٹیل 24سال کے ہیں ۔ان کے خلاف بی جے پی نے ایک ویڈیو کلپ جاری کی، جس میں ان کے ساتھ ایک خاتون کو دکھایا گیا ہے۔ اس سے صاف ہو جاتا ہے کہ بی جے پی ڈری ہوئی ہے۔ جب سیاسی پارٹی اس طرح کا کام کرنے لگے تو سمجھنا چاہئے کہ وہ کہیں نہ کہیں ڈری ہوئی ہے۔ جب پارٹی مقبول ہوتی ہے تو اسے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس سے زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ سی ڈی کو پبلک رسپانس ملا ،یہ کوئی نہیں کہہ رہا ہے کہ سچی ہے یاجھوٹی ہے۔اصلی ہے یانقلی ہے۔اس پر رد عمل ویسے ہی ہے جیسے وی پی سنگھ کے وقت سینٹ کٹرس آئی لینڈ کو لے کر آیا تھا۔ ایک چرچا جاری کر کے بتایا گیا تھا کہ سینٹ کٹرس میں ان کابینک اکائونٹ ہے۔لوگوں کو پانچ منٹ بھی نہیں لگا سمجھنے میں کہ یہ سب وی پی سنگھ کے خلاف سازش کی گئی ہے۔یہ چرچے ،یہ الزامات غلط ہیں، جھوٹے ہیں۔وہ معاملہ وہیں ختم ہو گیا۔ ایسا ہی حال اس سی ڈی کاہونے جارہا ہے۔ ہاردک پٹیل کون ہے، میں نہیں جانتا۔ اس کی اصلیت کیا ہے ،میں نہیں جانتا لیکن گجرات کے لوگوں میں بی جے پی پر اعتماد کافی گر گیاہے ،یہ اس بات سے نظر آتا ہے ۔
الیکشن تو 9دسمبر اور14 دسمبر کو ہے۔ ایک اور اشارہ یہ ہے کہ اچانک وزیر اعظم کے 30اجلاس کا اعلان کردیا گیا ۔پہلی بات تو گجرات بہت چھوٹی سی ریاست ہے ۔ٹھیک ہے وہاں کے وہ وزیرا علیٰ رہے ہیں۔ مشہور ریاست ہے۔ لیکن سیاسی طور پر اتنا دائو لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ گجرات نہ یوپی ہے،نہ بہار ہے ،نہ مہاراشٹر ہے،نہ آندھرا پردیش ہے ۔ یہاں تو لوک سبھا کی سیٹیں بھی بہت کم ہیں۔لیکن یہ ڈر رہے ہیں کہ اگر گجرات ان کے خلاف چلا گیا تو یہ اشارہ ہو جائے گا کہ 2019 میں کیا ہوگا؟یہ بھی غلط تجزیہ ہے۔ گجرات ہارنے سے 2019 میں نہیں ہاریں گے۔یہ صحیح بات نہیں ہے۔
اگر ان کو پختگی دکھانی ہے کہ ہم ملک میں لمبے وقت تک راج کرنے کے قابل ہیں ،جیسے کانگریس پارٹی تھی تو ان کو یہ چھوٹی حرکتیں چھوڑنی پڑے گی۔ فکر چھوڑیئے ، ایک ریاست ہارا تو ہارا۔ اپنی مریادا رکھئے۔ مریادا چھوڑ کر ،سارے دستور توڑ کر الیکشن کمیشن سے تاریخ کا اعلان نہیں ہونے دیا،الیکشن کمیشن کا اعتماد گرا دیا ۔اب یہ ویڈیو کلپ نکال رہے ہیں۔ اب یہ کشمکش میں ہیں کہ پٹیل کہاں جائیں گے۔کیا کریں،نہ کریں۔یہ صورت حال خود پید اکی ہوئی ہے مودی جی کی اور امیت شاہ کی ۔
ہندوستان 125کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ اس کو امریکہ اور انگلینڈ کی نظر سے دیکھیں گے تو غلط ہی نتائج آئیں گے۔’از آف ڈواینگ بزنس ‘ کی رینکنگ میں تھوڑا سدھار ہوا تو بی جے پی ہلّہ کر رہی ہے کہ بہت فائدہ ہو گیا اس سے ۔ کیسے فائدہ ہوا یا ہوگا، اس کا تجزیہ نہیں کیا۔ رینکنگ میں اس لئے سدھار ہوا کہ بی جے پی سرکار نے دیوالیہ ہونے کے اعلان کرنے کا قانون لا دیا۔ دیوالیہ اعلان کرنا مغرب کا رواج ہے۔ یہاں دیوالیہ ہونا بہت خراب مانا جاتاہے۔لیکن آپ نے یہ قانون بہت غلط پاس کیا ہے۔ اس ملک کے مزاج کے حساب سے قانون ہم آہنگ نہیں ہے۔لیکن امریکی خوش ہو گئے کہ ہندوستان بہت اچھا ملک ہو گیا۔ جس دن آپ کے زیادہ صنعتکار دیوالیہ ہو جائیں گے، اس دن وہ ہندوستان کو بہت اونچا ملک سمجھیں گے۔

 

 

 

 

امریکہ اور انگلینڈ کی نظروں سے ہندوستان کو دیکھنا، یہ غلطی کانگریس نے کبھی نہیں کی۔ یہ لوگ چاہے جتنا کانگریس کو گالی دیں، اب چاہے جتنا کانگریس کو بولیں کہ یہ مسلمانوں کے حق میں تھے اور ہندوئوں کے خلاف تھے،لیکن ایسی غلطی کانگریس نے نہیں کی۔ مسلمانوں کے حق میں کون ہے ملک میں ؟اگر ہوتے تو کیا مسلمانوں کا بھلا نہیں ہو جاتا؟ لیکن ابھی تک کیا ہوا ان کا؟کانگریس نے مسلمانوںکا کیا کیا؟ہاں، ان کے حق، ان کے اختیارات کو تحفظ دیا۔ یہ نہیں ہے کہ کوئی بیف کھائے تو اس کو مار دو، کوئی گائے لے کر جائے تو اس کو مار دو۔ یہ سب کانگریس نے نہیں کیا۔ لیکن مسلمان اس سے خوشحال نہیں ہوئے۔،کوئی بھلا نہیں ہوا ان کا ۔
اس سرکار کو چاہئے کہ وہ تجزیہ کرے کانگریس کا، اگر لمبے دور تک راج کرنا چاہتی ہے تو۔لیکن ان کا شارٹ ویو ہے۔یہ سوچ ہے کہ پانچ سال راج کریں گے ،مسلمانوں کو دبا دیں گے،الیکشن کمیشن کا اعتماد ختم کردیں گے،آرمی چیف کو کھلا چھوڑ دیں گے کہ روز عوامی بیان دیں اور جج کا استعمال کریں گے۔چیف جسٹس بھی وقار گرا رہے ہیں سپریم کوٹ کا۔ وہ بھی بی جے پی کو سوٹ کرتا ہے۔تو مودی،دیپک مشرا، ویپن راوت اور الیکشن کمیشن مل کر ملک کی اگر یہ حالت کرنا چاہتے ہیں تو ذرا دیکھیں کہ پچھلے ہفتہ زمبابوے میں کیا ہوا۔ وہاں 25سال سے ایک ہی آدمی راج کررہا تھا۔ الیکشن ہار کر بھی بول دیتا تھا کہ میں جیت گیا ہوں۔ آرمی اس کو سپورٹ کررہی تھی۔ پبلک سے کوئی مطلب نہیں ۔پھر کیا ہوا؟وہاں آرمی تنگ آگئی، آرمی نے صدر کو گرفتا کرلیا۔ اپنے گھر میں قید ہیں وہ۔اب آرمی سوچ رہی ہے کہ نائب صدر کو صدر بنادیں۔اگر یہی کرنا ہے تو کیجئے۔
آپ سوچ رہے ہیں کہ نہرو کو، نہرو خاندان کو بدنام کرکے ملک کو بلند کریں گے تو یہ نہیں ہوگا۔ نہرو نے اپنے دور حکومت میں روایت قائم کردی ۔فوج کو بیچ میں نہیں آنے دیا۔ سول سروسیز اپنا کام کرتی رہی۔ الیکشن ہار گئے تو سرکار اپوزٹ پارٹی کو دے دی، پھر ہار گئے تو پھر دے دی۔ وہ جمہوریت صحت مند جمہوریت ہے، جہاں ہر پانچ ،دس سال میں سرکار بدلتی رہے،بغیر کسی بحران کے۔1975 میں اندرا گاندھی نے غلطی کی تو 1977 میں وہ ہار گئیں۔ 1980 میں پھر حکومت مل گئی ۔اٹل جی کی سرکار آئی۔10 سال کانگریس رہی ۔پھر بی جے پی کی سرکار آ گئی۔
رام منوہر لوہیا کہا کرتے تھے کہ پریس جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ آج پریس الگ بھگ ختم ہی ہو گیا ہے۔ چوتھا ستون سب سے پہلے بک گیا۔ کیونکہ پریس ایڈیٹر کے ہاتھ میں ہے نہیں ، مالکوں کے ہاتھ میں ہے۔ مالک سرمایہ دار ہیں۔سرمایہ دار تو سرکار سے ایسے ہی ڈرتا ہے۔تو دھیرے دھیرے ہم لوگ ایسے اندھیرے میں جارہے ہیں،ایسے تاریک گوفہ میں جارہے ہیں، جس کی آخری میں روشنی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔
مودی جی ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ اپنی پارٹی کے علاوہ ملک کے تئیں بھی ان کی جوابدہی ہے ۔یہی سمجھ کر اندراگاندھی نے مرارجی بھائی کو سرکار دے دی تھی کہ کانگریس نہیں ملک کا معاملہ ہے۔ ان کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جو رزلٹ آئے، اسے قبول کیجئے۔ کانگریس نے لمبے وقت تک حکومت کی ہے، بی جے پی بھی کرے۔ اس میں کیا دشواری ہے؟لیکن مفروضات کے دائرے میں،آئین کے دائرے میںمریادا کو رکھتے ہوئے۔رواداری ،انصاف کے ساتھ،اس ہندوستانی روایت کے ساتھ جس کی بات آر ایس ایس والے کرتے ہیں۔اسی کو رام راجیہ کہتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *