غالب انسٹی ٹیوٹ میں دو روزہ بیدل عظیم آبادی سمیناراختتام پذیر

seminar
غالب انسٹی ٹیوٹ، بنیاد فارسی ہند اور بنیاد بیدل تہران کے زیراہتمام ’’مغلیہ عہد کے آخری دورکا فارسی ادب‘‘ (مرزاعبدالقادر بیدل کے خصوصی حوالے سے)کے موضوع پر منعقد ہونے والے بین الاقوامی سمینار کے دوسرے دن پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر عبدالقادر جعفری نے کی اور نظامت کے فرایض ڈاکٹر علی اکبرشاہ نے انجام دیے۔ اس جلسے میں ۶مقالے پڑھے گئے جن میں ڈاکٹر فوزیہ وحید(علی گڑھ)، ڈاکٹر شہناز آرا، ڈاکٹر سلیم ملک جاوید(دلّی) کے مقالات قابل ذکر تھے۔ واضح رہے کہ اس جلسے میں اردواورفارسی دونوں زبانوں میں مقالے پڑھے گئے۔ مجموعی طورپر اس جلسے میں بیدل، غالب اور مغلوں کے آخری دورکے کشمیری شعرا پر مقالے پیش کئے گئے۔
دوسرے جلسے کی صدارت پروفیسر بلقیس فاطمہ حسینی نے کی اور نظامت کے فریضہ ڈاکٹر سیدنقی عباس کیفی نے انجام دیا۔ اس جلسے میں چار مقالے پڑھے گے جن میں سے دواردو اور دوفارسی میں تھے۔ مقالہ خوانوں ڈاکٹر عزیز بانو(حیدرآباد)، ڈاکٹر بلجیت کور (شعبہ تاریخ، ماتا سندری کالج)، ڈاکٹر غلام نبی احمد(لکھنؤ یونیورسٹی) اور خود صدر جلسہ کا مقالہ قابل ذکرتھے۔ بصورت مجموعی اس دوسرے جلسے میں تاریخ،سبک ہندی و نقد ادبی کے موضوعات پر پرمغز مقالے پڑھے گئے۔
تیسرے جلسے کی صدارت پروفیسر علیم اشرف خان نے کی اور نظامت ڈاکٹر سید نقی عباس (کیفی) کی تھی۔ جناب منتظرعلی (ASI)نے راج محل کے کچھ کتبوں کا تعارف پیش کیا۔ اور ان کے علاوہ شہناز پروین، ڈاکٹر جنید احمد( حیدرآباد)، ڈاکٹر فرح ادیبہ، ڈاکٹر مہتاب جہان اور محترمہ مسرت فاطمہ(دلّی) نے مغلوں کے آخری دورکی تہذیب و تمدن، بیدل سے متعلق مخطوطات اور غالب پر مضامین پڑھے۔
چوتھے و آخری جلسے کی صدارت پروفیسر ریحانہ خاتون نے کی ۔ اس جلسے میں ڈاکٹر اخترحسین شاہ (حیدرآباد)، ڈاکٹر کوثر جعفری(کشمیر یونیورسٹی)، جناب ممتاز حسین (علی گڑھ)، ڈاکٹر سرورالہدی(جامعہ ملیہ اسلامیہ)، ڈاکٹر پریسا ایزدی(ایران) نے بیدل سے متعلق مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے بیدل اور اردو تنقیدکے موضوع پر ساختیاتی اور پس ساختیاتی نقطہ نظر سے سیرحاصل گفتگو کی۔
اختتامی اجلاس کی صدارت معروف ایرانی اسکالر حجت اللہ عابدی نے کی اور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے افغانستان کے اہم دانشور اور افغانستان ایمبیسی کے سیاسی کاؤنسلر ڈاکٹر خیراللہ آزاد موجود تھے۔ پروفیسر چندر شیکھر،ڈاکٹر نقی عباس کیفی اورڈاکٹر سید رضاحیدر نے اپنے خیالات کااظہار کیا۔ اظہار تشکر کا فریضہ بنیاد فارسی ہند کے سکریٹری ڈاکٹر علی اکبرشاہ نے انجام دیا۔ اس دو دن کے سمینار کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ایران، افغانستان،تاجیکستان کے علاوہ ملک کے اہم ترین فارسی اسکالرز نے موضوع کے تعلق سے اپنے گراں قدر مقالات سے سامعین کو محظوظ کیا۔ چونکہ اس سمینار میں ممتاز فارسی شاعر بیدل کی زندگی اور اُن کے علمی وادبی خدمات پر بھی گراں قدر گفتگو ہوئی۔ لہٰذاامید کی جارہی ہے کہ عظیم آبادکی سرزمین میں پیدا ہونے والے اس عظیم شاعرکے شعری کارنامے کو بھی مجموعی طورپر سمجھا گیا۔ اس سمینار میں جواہر لعل نہرویونیورسٹی، دلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ،اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *