اس ملک میں ایکسٹرا پارلیمنٹری اپوزیشن کی ضرورت ہے

ملک میں سوچی سمجھی کچھ تکنیک اپنائی جا رہی ہے۔ یہ ہے لوگوںکے دماغ کو ایک دھارا میں سوچنے کی تکنیک، ایک سمت میںسوچنے کی تکنیک۔ لوگوںکو یہ بھروسہ دلانے کی بھی کوشش ہو رہی ہے کہ ایسا ہی ہے ، اس کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں۔ اخبار پڑھنے کی عادت لوگوںکی ہوگئی۔ ٹیلی ویژن میںپہلے خبریں آنے پر لوگ دھیان سے دیکھتے تھے کیونکہ اس میںکچھ خلاصے ہوتے تھے، کچھ حقیقی اطلاعات ہوتی تھیں، کچھ تجزیے ہوتے تھے، لیکن اب یہ سب انٹرٹینمنٹ کے اڈے بن گئے ہیں۔ لوگوں کا دھیان اس نئی بازیگری کی طرف کم جارہا ہے، اس لیے لوگ انٹر ٹینمنٹ چینل دیکھ رہے ہیں یا جب نیوز چینل دیکھتے ہیںتو انٹر ٹینمنٹ چینل کی طرح دیکھتے ہیں۔ اب کوشش یہ ہو رہی ہے لوگوںکو یہ بتانے کی کہ موجودہ سرکار کا دور دور تک کوئی متبادل نہیں ہے۔ سرکار سے میرا مطلب پردھان سیوک یعنی مودی جی سے ہے۔ جن 125 کروڑ لوگوںکی بات وزیر اعظم صاحب کرتے ہیں،ان میںکوئی ایسا نہیںہے جو وزیر اعظم نریندر مودی کا متبادل بن سکے۔ یہ سوچ ہمارا میڈیا ، ہمارے اخبار اور سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں کے دماغ میںبھرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور لوگ اس سمت میںسوچ بھی رہے ہیں۔ انھوںنے کہہ رکھا ہے کہ اپوزیشن ایک طریقے سے ملک کی ترقی میںرکاوٹ ہے۔ اپوزیشن رکاوٹ نہیںہے یا غدار نہیںہے تو محب وطن بھی نہیںہے۔ یہ بھی لوگوںکے دماغ میںبھرا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بھرا جارہا ہے کہ ملک کے بارے میں خود عوام یعنی آپ بالکل نہ سوچیں۔ ملک کے بارے میں آپ اتنا ہی سوچیں، جتنا ہم سوچنے کی اجازت دیں۔
2014 میں زور شور سے گرجتے برستے پرچار رتھ پر سوار ہوکر اور وعدوں کا خزانہ کھول کر موجودہ سرکار اقتدار میںآئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے وزیر اعظم نہیں، پردھان سیوک سمجھئے۔ پردھان سیوک جی، جن وعدوں کے رتھ پر سوار ہوکر آئے،اب پورا سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن چینل، اخبار، لوگوںسے یہ کہہ رہے ہیں کہ ان وعدوںکو یاد مت کرو۔ وہ وعدے تو ہم نے کردیے تھے اور کم سے کم دو وزیر تو ہیں ایک وزیر اور ایک پارٹی کے صدر امت شاہ، نتن گڈکری نے تو صاف کہہ دیا کہ اچھے دن ایک فالتو کا جملہ ہے۔ اس جملے کا کوئی مطلب نہیںہے اور 15-20 لاکھ روپے کھاتے میںآنے والے وعدہ پر امت شاہ نے کہہ دیا کہ جملہ ہے۔ جملے کا مطلب جھوٹ۔ ہم نے جھوٹ کہا تھا، آپ لوگ جھوٹ کے اوپر یقین مت کرو۔ آپ ان وعدوں پر یقین مت کرو جو ہم نے آپ سے کیے تھے۔ لوگوں نے سوچا کہ اچھے دن کا مطلب ہمارے لیے نوکریاں ہیں، اچھے دن کا مطلب اچھی سڑکیں، پانی، تعلیم اور صحت ہے، تو کم از کم یہ چیزیں تو کچھ دنوںمیںہوںگی نہ۔ جب مودی جی کہتے ہیںکہ پچھلے 70 سال میںکچھ نہیںہوا، تو یہ اپنے تین سال بھی اس میںشامل کر لیتے ہیں اور اٹل جی کے چھ سال بھی شامل کرلیتے ہیں۔ ان دنوںکو بھی یاد نہیں کرنا چاہتے، جب مرارجی سرکار میںاٹل جی اور اڈوانی جی وزیر تھے،وہ ان کو بھی صاف کردیتے ہیں۔ لوگوں نے تو آپ کو اس لیے ووٹ دیا تھا کہ ان 70 سالوں میںجو نہیںہوا، کم سے کم سڑک، بجلی ، پانی، صحت اور کمیونکیشن، اس میںآپ کچھ کریںگے۔ ہم کیش لیس اور ڈجیٹل انڈیا کی طرف بڑھ گئے، جس کا وعدہ الیکشن میںشاید نہیں ہوا تھا لیکن ہمارا موبائل فون بھی ٹھیک سے نہیںچل رہا ہے۔ آج سویرے میری کسی وزیر صاحب سے فون پر بات چیت ہو رہی تھی تو تین بار فون ڈراپ ہوگیا۔ تو یہ ہے ہمارا کمیونکیشن سسٹم۔ جن چیزوں کے لیے آپ کو ووٹ دیا تھا، وہ چیزیںنہیںہوئیں۔ کون سی چیزیں ہورہی ہیں، آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔ اس وقت یہی ایک طریقہ ملک میںچل رہا ہے۔ آپ کا دماغ کچھ ایسا بن جائے کہ جو ہم کہیں، وہی آپ سوچو۔ اس وقت ہم کہہ رہے ہیںکہ ملک میں 2019 میںکوئی متبادل نہیں ہے، اس لیے ہم 2019 کی بات ہی نہیںکر رہے ہیں، ہم 2022 کی بات کررہے ہیں۔ آپ کو پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم نے جو وعدہ کیا تھا کہ 2022 تک سب کو چھت مل جائے گی، مکان مل جائے گا، وہ کنہیںمل جائے گا؟

 

 

 

 

 

 

بلڈرس سماچار کے ذریعہ یہ بتارہے ہیںکہ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت آپ یہاںاتنے میںگھر لے لو لیکن یہ خبریں کن کے پاس آرہی ہیں؟ ان ہی کے پاس جن کے پاس گھر ہیں، جن کے پاس پیسہ دینے کی طاقت ہے لیکن ووٹ تو آپ نے ان سے لیے تھے جن کے پاس پیسہ دینے کی طاقت نہیںہے، جن کے پاس صرف ووٹ دینے کی طاقت ہے۔ اس ملک کے 60 فیصد لوگوں کو لگا تھا کہ جن کے پا س گھر، کھانے پینے ، پڑھائی کا ذریعہ ، مال نیوٹریشن کی وجہ سے جو مر رہے ہیں،انھوں نے آپ کو اس امید پر ووٹ دیا تھا کہ ان کو یہ ساری چیزیں ملیںگی لیکن ان کا ذکر کہیںنہیںہے۔تو پھر 2022 تک کن کو مکان ملیںگے، وہ جن کے پاس مکان ہے یا وہ جو مکان لے کر دوسری جگہ کرائے پر دے دیںگے، لیکن اس ملک کے غریب کے پاس مکان ملنے کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ اب تک نہ سرکار اور نہ ہی بینکوںنے بتایا ہے۔ بینک کی جتنی اسکیم نکلی ہیں، اس میںلوئر کلاس کے جتنے لوگوں نے اپلائی کیا ہے، کم سے کم 15-20 لوگوں کو میںجانتا ہوں، ان کا تو نمبر ہی نہیںآیا۔ اس کا مطلب کہ ڈجیٹل انڈیا میںبھی کمپوٹر کو مینج کرنے کے طریقے نکل آئے ہیں اور طریقے کیوںنہیںنکلیں گے جب آدھار کارڈ کی بنیاد پر 40 لاکھ روپے لوگوں کے اکاؤنٹ سے نکل گئے اور سرکار نے اس کی کوئی ذمہ داری نہیںلی۔ وہ لوگ رو رہے ہیں۔ تھوڑے دن میںبہت سارے لوگ اس آدھار کے چکر میںروئیںگے، جن کے اکاؤنٹ خالی ہوںگے، وہ خودکشی بھی کریںگے۔ اب تک تو کسان کرتا ہے اور اب تو کاروباری بھی کرنے لگے ہیں۔ ایک بلڈرس نے خود کشی کی ہے۔ یہ صورت حال کیوںآئی، کیا اسی کے لیے یہ سرکار چنی گئی تھی؟ لیکن سرکار کہتی ہے یا ہمارا پرچار تنتر کہتا ہے کہ اس کے بارے میںسوچو ہی مت، صرف یہ سوچو کہ ملک میںکوئی متبادل نہیں ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن ناکارہ دکھائی دیتا ہے، وہ لوگ غائب ہوگئے، جن میںاٹل بہاری واجپئی، اڈوانی اور چندر شیکھر،وی پی سنگھ ، ڈاکٹر لوہیا اور جے پرکاش نارائن کی سوچ والے غائب ہو گئے۔
اٹل جی تو بیمار ہیں، بیچارے بول نہیںسکتے ہیں،اڈوانی جی کو تو کوڑے دان میںڈال دیا، وہ بھی خاموش ہی ہیں، باقی لوگ ہمارے بیچ میںہیں نہیں۔ اگر آج یہ زندہ ہوتے تو شاید انھیںبھی کوئی نہ کوئی وزیر یا کوئی نہ کوئی پارٹی کا لیڈر، جو اقتدار میںہے یا جو اقتدار میںاور زیادہ اپنی ترقی چاہتا ہے،وہ انھیںغدار کے آس پاس کھڑا کردیتا۔ اس کامطلب ہم کیا یہ نکالیںکہ یہ ملک پارٹی سسٹم کو توڑنا چاہتا ہے یا پارٹی سسٹم کو ٹوٹنا چاہیے۔ سیاسی پارٹیاں عوام کے مسائل کو سامنے لے کر نہیں آرہی ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے سنگٹھن ان طبقوںکی تکلیف کو بھی سامنے نہیںلے کر آرہے ہیں، جو طبقے ان ماتحت تنظیموںکے ممبر ہیں، جیسے کسان، مزدور اور ٹیچر۔ ان کی بات سامنے نہیںآرہی ہے، لیکن سنگٹھن ہر پارٹی کے ہیں۔ یہ ہمارا پالیٹکل سسٹم ۔۔۔۔ ہوچکا ہے؟ کیا اس کے کنٹراڈکشن اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اب ملک کے لوگوںکو سوچنا چاہیے کہ اگر اقتدار میںایسے لوگ نہیںآئے، جن کے سامنے ملک کا پورا خاکہ ہو تو یہ ملک اور زیادہ مشکلات میں ہوتا چلا جائے گا۔ ورلڈ بینک کی نئی رپورٹ ، جس کا شور اخباروں اور ٹیلی ویژن میںہے، ہاکس ہے، جھوٹ کا پلندہ ہے۔ ورلڈ بینک کی ہے بھی کہ نہیںیا ورلڈ بینک میں جو ہمارے ہندوستان کے کئی لوگ گئے ہیں یا ورلڈ بینک میںان کو جان بوجھ کر جگہ دی گئی ہے، یہ ان کی کارستانی ہے۔ اس کارستانی سے کیا ملک آگے بڑھے گا، آپ کی تھالی میںروٹی آئے گی، کوئی بچے کو نوکری ملے گی، آپ کے گھر کے بیمار کو علاج ملے گا؟ علاج کے لیے جھولی بھر کر پیسے چاہئیں، کسی بڑے یا چھوٹے اسپتال میںجائیںگے تو پھر لاشیںہی باہرآتی ہیں، آدمی تو باہر نہیںآتا۔ کیا اسی صورت حال سے ابھرنے کے لیے ووٹ دیا تھا لیکن صورت حال اور بدتر ہوگئی ہے۔ تو کیا وقت آگیا ہے کہ کوئی اچھا ادیب،کوئی اچھا مصنف، کوئی اچھا مزدور لیڈر، کوئی اچھا صحافی، کوئی اچھا صنعت کار،جس کے دماغ میںملک کا پورا نقشہ ہو،جس کے دماغ میںملک کے ہر طبقے کے لیے کوئی نہ کوئی نقشہ ہو، کوئی ا یساشخص جو اس ملک کو سچ مچ آگے بڑھانے کی سوچے نہ کہ ایک گٹ کو آگے بڑھانے کی، جو ملک کو صحیح جمہوری حالت میںلے جائے، کیا ایسے لوگوں کو لے کر ملک کو نہیںسوچنا چاہیے کہ ہمیںاپنے پاور سسٹم میںان لوگوں کو۔۔۔۔۔کرنا چاہیے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم ملک کے مکمل سیاسی کالم کے بارے میں نئے سرے سے سوچیں۔ اگر نہیںسوچیںگے تو ہم بیڈ منٹن کی طرح دو لوگوںکے بیچ میںگیند کو آتا ہوا دیکھیںگے، جاتا ہوا دیکھیںگے۔ ہم بیٹھ کر صرف تماش بین کے طور پر تالی بجائیںگے۔ ہمارا کوئی بھلا نہیںہونے والا ہے۔ جیتے گا جو اس کو پیسہ، جو ہارے گاجو اس کو پیسہ، لیکن دیکھنے والے سوکھے سو کھے۔ اب ملک کے لوگوںکو جو لولی پاپ دکھائے گئے، اس پر بات چیت کرنے والے لوگوںپر خطرہ آگیا ہے۔ اب کانگریس اور موجودہ وقت کا ایک فرق ہے۔ اس وقت آپ سرکار کی یا سرکار سے جڑے لوگوں کی تنقید کرسکتے تھے، لوگوںکو کمیونکیٹ کر سکتے تھے۔ آج اگر آپ تنقید کریں گے تو گرفتار کر لیے جائیںگے۔ اگر آپ تنقید کریںگے تو راجستھان سرکار کی طرح جو بی جے پی کی سرکار ہے، ایک ایسا آرڈیننس لائے گی، جس پر بی جے پی نے سانس تک نہیںلی، اف تک نہیںکی۔ اس آرڈیننس کے تحت آپ کسی بھی ایم ایل اے، رکن پارلیمنٹ، وزیر یا افسر کے خلاف ایف آئی آر نہیںکراسکتے۔ یہ جو ساری نئی چیزیں ہماری سوسائٹی میںانٹروڈیوس ہوئی ہیں، یعنی ہندوستان کے جمہوری نظام میں انٹرو ڈیوس کی جارہی ہیں۔ یہ جمہوری نہیںہیں۔ لیکن جمہوریت کے نام پر انٹروڈیوس کی جارہی ہیں۔ اس کا مطلب کھوٹے سکے کو اصلی سکے کے نام پر چلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس حالت کی مخالفت کرنے کے لیے یہ پارٹی سسٹم اہل نہیںہے، اس لیے ایکسٹرا پارلیمنٹری اپوزیشن کی ضرورت ہے۔

 

 

 

 

 

 

جے پرکاش جی بھی کہا کرتے تھے کہ اس ملک میں ایکسٹرا پارلیمنٹری اپوزیشن کی ضرورت ہے یعنی جنتا اپنی بات کہے او رسچوئیشن میںمداخلت کرے۔ اس کو کون کرے گا؟ اس کو آپ کریںگے، آپ کو کرنا چاہیے، یہ میں سوچنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ کسی نئی سیاسی پارٹی کے بارے میںمت سوچئے۔ ایسے لوگوںکے بارے میں سوچئے جو آپ کے سامنے ہوں، ملک کے بہت سارے لوگ آپ کے سامنے ہیں یہ طلبہ ، نوجوان، مزدور لیڈر، ٹیچر، پروفیسر،صنعت کار، صحافی یا بیوروکریٹ کوئی بھی ہوسکتا ہے، جو ایماندار ہو، اور جس کے سامنے ملک کا نقشہ ہو۔ ان میںسے تلاش کیجئے کہ کون لوگ ہیںجو ملک میںایک اچھی یوجنا لے کر ملک کو آگے بڑھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ میرے پاس کوئی بنا بنایا فارمولہ نہیںہے۔ لیکن میںآپ سے یہ درخواست کرتا ہوںکہ اگر آپ اس طرح سے نہیں سوچیںگے تو آپ اسی سوچ میںچلے جائیںگے کہ ایک شخص کا کہیںکوئی متبادل نہیں ہے اور یہ ملک اپوزیشن کے نام پر ایک مردوں کی بارات کو ڈھو رہا ہے۔ اپوزیشن کے بارے میںکیا کہیں؟ لوگ آپ کو حمایت دینا چاہتے ہیں۔ آپ لوگوں کی حمایت لینے کے نام پر مذاق کر رہے ہیں۔گجرات ا لیکشن اس کی مثال ہے۔ گجرات میں جس طرح سے کانگریس نے پورے الیکشن کو لیا ہے،عوام اس کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن کانگریس ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ تو اپنے لوگوںکو کبھی دائیں ، کبھی بائیں ، کبھی ادھرکبھی اُدھر گھمارہی ہے اور باقی لوگ اترپردیش میں اکھلیش یادو، بنگال کی ممتا بنرجی، دونوںہی گجرات الیکشن میںکوئی بات چیت کرتے نظر ہی نہیںآئے۔ ملائم سنگھ کہاںغائب ہوگئے، پتہ نہیں۔ نتیش جی تو اب بی جے پی کے ساتھ ہیں لیکن انھیںایک بھی سیٹ بی جے پی نے نہیںدی۔ شرد پوار کہاں غائب ہوگئے، کچھ پتنہ ہی نہیں۔ سونیا جی خاموش ہیں۔ اس اندھیری حالت سے نکلنے کے لیے کچھ دیے جلانے پڑیںگے، کچھ چراغ جلانے پڑیںگے اور وہ چراغ آپ جلا سکتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوںکے دائرے سے باہر جو 125 کروڑ لوگ ہیں، ان میں سے لوگوں کو پرجوش کرنا پڑے گا کہ وہ کھڑے ہوں او رملک کے بارے میں بات کریں۔ ملک کو سنبھالنے کی کوشش کریں، آگے آئیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *