عوامی تحریک بن رہا ہے کسانوں کا احتجاج

اترپردیش میں مشتعل کسان آندولن کی چنگاری سلگ رہی ہے۔ گنا کی قیمت میں 10 روپے کا اضافہ کرکے اترپردیش سرکار نے یوپی کے کسانوں کو اور مشتعل کردیا ہے۔ آلو ، گیہوں اور دھان خرید کے نام پر یوگی سرکار کی دھوکہ بازی سے ریاست کے کسان پہلے سے بے حال اور ناراض تھے، اس پر گنا کی قیمت کے نام پر کسانوں کے ساتھ مذاق کرکے سرکار نے معاملے کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ جگہ جگہ گنے پھونکے جارہے ہیں اور آلو سڑکوں پر پھینکے جارہے ہیں۔یو پی کے کسان سنگٹھنوں کے ساتھ ملک بھر کے کسان تنظیمی میٹنگیں کررہے ہیں اور ان سب کی کوشش ہے کہ یوپی کا کسان آندولن اس بار ٹھوس نتیجے لے کر ہی مانے۔ اس بار کے کسان آندولن کا حشر مہاراشٹر،مدھیہ پردیش یا راجستھان کی طرح نہ ہو۔ بی جے پی سرکار نے جس طرح مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور راجستھان کے کسان آندولنوں کی جڑ میں مٹھا ڈالا، اس بار اس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کئی سیاسی پارٹیوں سے جڑے کسان سنگٹھنوں نے یوپی میں شروع کئے جانے والے کسان آندولن کو سیاست سے الگ رکھنے کا عہد کیا ہے۔ سب یہ مان رہے ہیں کہ سیاست بہت ہو گئی، اب ٹھوس نتیجے کی لڑائی ضروری ہو گئی ہے۔ یو پی کی راجدھانی لکھنو سے لے کر ملک کی راجدھانی دہلی تک میٹنگوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ دہلی میں کسانوں کا عوامی اجلاس منعقد کرنے کی زوردار تیاری چل رہی ہے۔

 

 

 

 

 

بی جے پی کی بے حسی
ابھی حال تک گنا کی قیمت ساڑھے تین سو روپے اور چار سو روپے کئے جانے کی مانگ کرتی رہی بی جے پی نے اقتدار میں آتے ہی ایسی اڑان بھرنی شروع کر دی کہ اسے زمین کا احساس ہی نہیں رہا۔ ریاست کے گنا کسان منتری سریش رانا نے پچھلے دنوں باقاعدہ پریس کانفرنس بلا کر گنا کی قیمت میں دس روپے کا اضافہ کرنے کا مضحکہ خیز اعلان کیا۔ یہ وہی سریش رانا ہیں جو اسمبلی میں یہ مانگ اٹھاتے رہے ہیں کہ گنا کی قیمت چار سو روپے فی کوئنٹل کیا جائے۔ سماج وادی پارٹی کی سرکار نے جب گنا کی قیمت کا اعلان کیا تھا تب تھانہ بھون کے بی جے پی ایم ایل اے سریش رانا نے اسے کسانوں کے ساتھ دھوکہ بتایا تھا اور سرکار سے چار سو روپے فی کوئنٹل گنا قیمت اعلان کرنے کی مانگ کی تھی۔ رانا کے سُر میں سُر ملاتے ہوئے شاملی کے بی جے پی ایم ایل اے پنکج ملک نے بھی اسمبلی میں گنا قیمت کا ایشو اٹھا کر سماج وادی پارٹی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور گنا قیمت کم سے کم ساڑھے تین سو سے چار سو روپے فی کوئنٹل کرنے کی مانگ کی تھی۔ سریش رانا نے سماج وادی پارٹی کو خوب کوسا تھا اور اسے کسان مخالف بتایا تھا۔ اقتدار ملتے ہی لیڈر کے سُر کیسے بدلتے ہیں،سریس رانا کا گنا وکاس منتری کی شکل میں کیا گیا اعلان، اس کی واضح مثال ہے ۔
جب اس وقت کی سماج وادی پارٹی کی سرکار نے 2016-17 کے پیرائی سیشن کے لئے گنا قیمت میں 25روپے فی کوئنٹل کا اضافہ کیا تھا تب بی جے پی نے اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ا س سے فصل کی لاگت بھی نہیں نکل پارہی ہے۔ بی جے پی نے چینی کی بڑھی ہوئی قیمت کے تعلق سے گنا قیمت طے کرنے کی مانگ کی تھی۔ تب انہی سریش رانا ( جو آج ریاست کے گنا کے وکاس ریاستی منسٹر ہیں) نے کہا تھا کہ گنا قیمت میں 25 روپے کا اضافہ کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ رانا نے اسمبلی میں 2011 میں بہو جن سماج پارٹی دور حکومت میں شیو پال یادو کے ذریعہ گنا قیمت 350 روپے کئے جانے کی مانگ کا حوالہ دیتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے دور حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور کہا تھا کہ سماج وادی پارٹی سرکار کسان مخالف ہے۔ سریش رانا کے مضحکہ خیز اور پھوہڑ رویے سے ریاست کے لوگوں کو یہ سمجھ میں آگیا کہ اصل میں کون کسان مخالف ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یو پی میں گنے کا اسٹیٹ ایڈوائزری پرائس ( ایس اے پی ) 2011 سے لے کر 2015 تک 280 روپے تھا۔ آخری دور میں سماج وادی پارٹی سرکار نے ایس اے پی میں 25 روپے کا اضافہ کر کے اسے 315 روپے فی کوئنٹل کیا تھا۔ اسے بی جے پی نے دھوکہ بتایا تھا۔ 2014 سے لے کر یو پی کے اسمبلی انتخابات تک وزیر اعظم مودی نے کسانوں سے کئی بار وعدہ کیا کہ سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ جلد نافذ کی جائے گی اور کسانوں کو ان کی فصل کی لاگت کا ڈیڑھ گنا ویلو مقرر کیا جائے گا۔ لیکن مودی نے اسے لاگو نہیں کیا۔ کسانوں کو متحد کرنے میں لگے راشٹریہ کسان منچ کے قومی صدر ونود سنگھ کہتے ہیں کہ کسانوں کو لاگت کی دوگنی قیمت ملنی چاہئے لیکن مودی نے جو اعلان کیا اور جو وعدہ کیا، اسے ہی وہ لاگو کریں۔ سنگھ کہتے ہیں کہ گنا کا باوقار اور مفید سپورٹ پرائس مقرر کرنے کے نام پر سرکار لیچڑبازی کرتی ہے۔ چینی بازار میں مہنگی بکتی ہے لیکن گنا کوڑیوں میں خریدا جاتاہے۔یہ تو سیدھا سیدھا حقوق کی خلاف ورزی ہے۔سرکار خود کسانوں کو خود کشی کرنے کے لئے مجبور کرتی ہے، اکساتی ہے۔جب تک کچا مال اور پیداوار کے فائدے کی تقسیم برابر نہیں کی جائے گی تب تک کسانوں کی حالت نہیں سدھرے گی ۔آخر ایسا کرنے میںسرکار کو پریشانی کیا ہے؟یہ سرکاروں کی سازش ہے کہ کچا مال مہیا کرنے والا کسان لاگت قیمت نہیں پاتا اور اسی کے مال سے کاروباری اور بچولیا مالا مال ہوتا رہتاہے۔ دوسری طرف سرکار کسانوں کے لئے سبسڈی بھی کم کرتی جارہی ہے۔ قرض معافی کے سرکاری اعلانات مسائل کا حل نہیں ہیں۔بلکہ وہ اور ناسور کی طرح کسانوں کو پریشان کررہے ہیں۔
کسان منچ کا وارانسی اجلاس
انہی ایشوز پر غور کرنے اور کسانوں کو بیدار اور محتاط کرنے کے لئے راشٹریہ کسان منچ نے گزشتہ 16سے 18 ستمبر تک وارانسی میںتین روزہ راشٹریہ وکاس اجلاس کا انعقاد کیا تھا۔ اس اجلاس میں شریک ہوئے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے بھی کہا تھا کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت کسانوں کو پیداوار کے صحیح دام ملنے کی ہے۔ بازار کی طاقتوں کی سازش ہے کہ پیداوار بازار میں آتے ہی دام اتنے کم کر دیئے جاتے ہیں کہ کسان انہیں سڑکوں پر پھینکنے کو مجبور ہو جاتے ہیں۔ کسان اگر اس شکنجے سے نکل جائیں تو انہیں ان کی پیداوار کی بہتر قیمت پر بیچنے کی سہولت یقینی کرنی ہوگی۔ پنچایت اور بلاک سطح پر خوردنی اشیاء اکائیوں اور دیگر زرعی صنعتوں کا قیام بے حد ضروری ہے جو سرکار کی مدد کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے منظم پہل کرنی ہوگی۔ سنتوش بھارتیہ نے کہا کہ دراصل صحیح جگہ پر کوشش ہی نہیں ہورہی ہے۔مختلف ریاستوں میں جو کسان آندولن چلے، وہ خود متاثر کن ہیں۔ ان کی قیادت کوئی مضبوط لیڈر یا سیاسی پارٹیوں سے متعلق کسان سنگٹھن نہیں کررہے ہیں۔ اب کسانوں سے جڑے مسئلوں پر مجموعی طور پر غور کرنے اور اسے منظم قومی نمونہ بنانے کی ضرورت ہے۔ا س کے لئے سبھی کسان تنظیموں کو متحد ہونا ہوگا۔سنتوش بھارتیہ نے قومی سطح پر وسیع کسان اتحاد کی بنیاد پختہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اترپردیش گنا کسان سنگھرش مورچہ کے صدر شیوا جی رائے کہتے ہیں کہ گنا قیمت میں دس روپے کا اضافہ کسانوں کے ساتھ بھدا مذاق ہے۔ ایسا کرکے ریاست کے کسانوں کو چِڑھایا گیا ہے۔ ریاست کی حالت یہ ہے کہ چینی مل مالک گنا کسانوں کو پیسہ نہیں دے رہا ہے اور سرکار انہیں راحت پر راحت دیئے جارہی ہے۔ چینی ملوں کو بغیر انٹریسٹ کے اربوں کا راحت پیکج ملتا ہے ،یعنی گنا کسانوں کے بقائے کی جو بھی ادائیگی ہو رہی ہے، وہ سرکار ہی بالواسطہ طور سے دے رہی ہے۔ دوسری طرف کسانوں کو جو قرض دیا جاتاہے، اسے بے حد سختی کے ساتھ وصول کیا جاتاہے۔ شیو اجی رائے نے کہاکہ سرکاروں نے پروانچل کی پوری معیشت کو تباہ کر ڈالا ۔ہم کہتے ہیں کہ ہمیں ٹرینیں نہیں، صنعت چاہئے۔ لیکن سرکار بندپڑی صنعت کھولنے کے بجائے اسے بند رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے تاکہ سرمایہ داروں کے مختلف ٹریڈ سینٹروں پر سستا مزدور مل سکے۔ کسانوںکو بندھوا مزدور بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ ٹرینیں انہی مزدوروں کو ڈھونے کا کام کر رہی ہے۔ سرکاروں نے سرمایہ داروں کے ٹریڈ سینٹروںکو مضبوطی دی اور اسے ہی وکاس کا نام دے دیا۔ کسانوںکو سستا مزدور بنا کر انہیں سرمایہ داروں کو دستیاب کرا دیا۔مشرقی علاقے کی معاشی خود انحصاری کو سازش کرکے توڑا گیا۔ مشرقی علاقے کا صنعتی دھندہ زرعی پیداوار پر مبنی تھا۔ چینی مل چلانے کے لئے کسانوں نے اپنی اپنی زمینیں لیز پر دی تھیں۔ لکھنو سے آپ مشرق کی طرف ریل سے چلیں تو سارے اسٹیشن چینی ملوں کی وجہ سے قائم ہوئے تھے۔ ٹرینیں پہلے گنا ڈھونے کا کام کرتی تھیں، جو آج مزدور ڈھونے کا کام کر رہی ہیں۔ لکھنو سے ریل سے چلیں تو مرزا پور (بارہ بنکی ) ، جرول روڈ (بہرائچ )، کندرکھی (گونڈہ)، ببھنان (بستی )، گوند نگر (بستی )، مونڈیروا (بستی )، بستی خلیل آباد ( سنت کبیر نگر )، سردار نگر (گورکھپور )، گوری بازار (دیوریا )، بیتال پور ( دیوریا )، دیورای بھٹنی (دیوریا )، پرتاپ پور (دیوریا )، سے ہوتے ہوئے بہار کے سیوان اسٹیشن اور اس سے آگے بالکل شمالی بہار تک چینی ملوں کی وجہ سے یہ اسٹیشن وجود میں آئے۔ پورا مشرقی علاقہ گنا پر مبنی صنعتی کاروبار کی وجہ سے پھل پھول رہا تھا۔ ریلوے ٹریک کے کنارے کنارے چینی ملوں کی قطاریں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر ملیں آج بندحالت میں ویران دکھائی دیتے ہیں۔گنا پر مبنی صنعت کے ڈیولپ ہونے کی وجہ سے مشرقی علاقہ میں ہینڈلوم صنعت بھی خوب ترقی کی۔

 

 

 

 

 

 

ریاست گیر آندولن
اتر پردیش کے کسانوں کے بیچ اب یہ ایشو گرم ہوتا جارہا ہے۔کسان خود کو ٹھگا محسوس کررہا ہے۔ کسانوں کے احتجاج اور میٹنگوں کا سلسلہ مشرق سے لے کر مغربی اترپردیش تک تیز رفتاری سے چل رہا ہے۔ پچھلے دنوں لکھنو میں مختلف کسان سن تنظیموں کی میٹنگیں ہوئی جن میں اکھل بھاریتہ کسان مزدور سبھا کے صدر دھرم پال سنگھ ، جنرل سکریٹری ہیرا لال ، کسان مزدور سنگھرش مورچہ اترپردیش کے صدر شیوا جی رائے، جن جاگروکتا ابھیان کے کنوینر سی وی سنگھ، بھومی ہین کسان سنگھرش سمیتی کے لیڈر اروند مورتی، اکھل بھارتیہ کرانتی کاری کسان سبھا کے صدر بچائو رام اور سوراج ابھیان کے اکھلیندر پرتاپ سمیت کسان سنگرام سمیتی ، کھیت مزدور کسان سنگرام سمیتی، اکھل بھارتیہ کسان سبھا ہردوئی ، مانو وادی جن منچ ، جن وادی کسان سبھا اور کئی دیگر کسان تنظیموں کے لیڈر شریک تھے ۔ اس اجلاس میں یہ مسئلہ پرزور طریقے سے اٹھا کہ سبھی سرکاریں بڑے صنعتکاروں کو ٹیکس میں چھوٹ دیتی ہیں، انہیں بغیر انٹریسٹ کا پیکج دیتی ہیں، ان کے قرض معاف کرتی ہیں اور بقایہ نہیں وصول کرتی ہے لیکن کسانوں کے تئیں سرکاروں کا رویہ بالکل منفی اور رسوا کن رہتاہے۔ پچھلے سال ہی مرکزی سرکا نے صنعتکاروں کو6 لاکھ کروڑ کے ٹیکس کی چھوٹ دی۔ پچھلے پانچ سال کا ریکارڈ دیکھا جائے تو چھوٹ کی رقم 25 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہوتی ہے جبکہ ملک کے کسانوں پر کل قرض 12 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے جسے انٹریسٹ سمیت سختی کے ساتھ وصول کیا جاتاہے۔ کسانوںکو دیا گیا قرض کھیتی کسانی کے کام میںاور بینکوںکے افسروں و ملازموں کو رشوت دینے میں خرچ ہوتا ہے۔ سوامی ناتھن کمیشن نے کسانوںکو انکی فصلوں کی لاگت کا ڈیرھ گنا دینے کی سفارش کی تھی لیکن اسے آج تک لاگو نہیں کیا گیا۔ کسانوں کے اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھا کہ جب سفارشیں لاگو نہیںہوتیں تو کمیشن بنائے ہی کیوں جاتے ہیں؟فصلوں کی لاگت ویلو کا ڈیڑھ گنا زیادہ سپورٹ پرائس طے کرنے کے علاوہ کسانوں سے جڑے کئی دیگر مسئلوں پر بھی بات ہوئی اور آندولن کی روپ ریکھا طے کی گئی۔ اس کے بعد باغپت کے بھڑل میں اور 14اکتوبر کو دہلی میںکسان سنگٹھنوں کی بیٹھک ہوئی جس میں ملک بھر کے 187 کسان تنظیموں نے حصہ لیا۔ بھڑل کے اجلاس میں فارمرس رائٹس کورڈینیشن فورم بنا جو ملک بھر کے کسان تنظیموں کے ساتھ کورڈینیشن کرے۔دہلی میٹنگ میں 167 مختلف کسان تنظیموں کی نمائندگی کو لے کر اکھل بھارتیہ کسان سنگھرش کورڈینیشن کمیٹی تشکیل کی گئی۔ دہلی میٹنگ میں یو پی ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان ، ہریانہ، پنجاب ، دہلی ، کرناٹک اور تمل ناڈو تک کے کسان تنظیمیں شامل ہوئیں۔ دہلی میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ اترپردیش میں کسان آندولن تیز کرنے کے پہلے دہلی میں20 نومبر سے دھرنا اور بھوک ہڑتال شروع کی جائے گی۔
سرکار کا غلط قدم
گنے کا سپورٹ پرائس دس روپے بڑھا کر سرکار نے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ہے۔ سرکار کے اس فیصلے کے خلاف راجدھانی لکھنو سے لے کر پورے ملک میں کسانوں نے احتجاج کیا اور گنے کی فصلیں پھونکیں۔ بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے سرکار کے اس مضحکہ خیز اعلان کو چینی ملوں اور سرکار کی ملی بھگت کا نتیجہ بتایا ۔ ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی نے اپنے ریزولیوشن لیٹر میں مناسب اور فائدہ مند قیمت دینے کی بات کہی تھی لیکن مل مالکوں کے دبائو میں اترپردیش کی بی جے پی سرکار گنا کسانوں کو لاگت اور محنت پر مبنی قیمت دلانے میں بھی ناکام رہی۔ راشٹریہ کسان منچ کے ریاستی صدر رینکو تیواری نے کہاکہ ڈیژل ، بجلی، کیڑے مار دوا، کھاد وغیرہ کے دام بڑھنے سے گنا کسانوں کی لاگت بھی کافی بڑھ گئی ہے۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ اترپردیش میںگنا قیمت طے کرنے کو لے کر منعقد اجلاس میں بھی کسانوں نے اپنی لاگت کا اعدادو شمار گنا محکمہ کو دیا تھا لیکن سرکار نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ صاف ہے کہ سرکار چینی مل مالکوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ راشٹریہ لوک دل کے قومی میڈیا انچارج انیل دوبے نے اعلان شدہ گنا پرچیزنگ ویلو کو کسانوں کے ساتھ اعتماد شکنی بتایا اور کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے خود بی جے پی نے ریاست کے کسانوں کو ان کی فصل کی لاگت کا ڈیڑھ گنا دام دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بی جے پی ہی 350 روپے فی کوئنٹل گنا قیمت دینے کی مانگ کرتی رہی ہے ،پھر اقتدار میں آتے ہی چہرہ کیسے بدل لیا؟یہ ثابت ہو گیا کہ بی جے پی کے ایجنڈے میں کسانوں اور مزدوروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی سرکار نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی تھوپ کر ملک کی معیشت چوپٹ کر دی اور کسانوں کو بد حال کر دیا۔ سرکار نے آلو کسانوں کو گمراہ کیا۔ گنا کسان کو بی جے پی نے پرانی قیمت سے دس روپے کا اضافہ دیا۔ جبکہ سماج وادی اپرٹی کی سرکار نے 40روپے کا یکمشت اضافہ کیا تھا۔ اکھلیش نے اسمبلی کے سامنے گنا کسانوں کے احتجاج اور گنا پھونک کر احتجاج درج کرائے جانے کو صحیح بتایا اور ان کے تئیں اپنا سپورٹ کا اظہار کیا۔ سماج وادی پارٹی کے چیف ترجمان راجیندر چودھری نے کہا کہ بی جے پی سرکار نے پیرائی سیشن 2017-18 کے لئے گنا خرید کا اسٹیٹ ایڈوائزری پرائس 10روپے فی کوئنٹل بڑھا کر کسانوں کے ساتھ بڑی ناانصافی کی ہے۔ بی جے پی سرکار کے کسانوں کے ساتھ دھوکہ بازی کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ قرض معافی کے معاملے میںبھی وہ کسانوں کے ساتھ اعتماد شکنی کر چکی ہے۔ بھارتیہ کسان یونین کے ضلع صدر ہری نام سنگھ ورما نے بی جے پی سرکار کے اعلان کو کسانوں کے ساتھ دھوکہ بتایا اور گنے کی قیمت 450روپے فی کوئنٹل ، دھان کی قیمت 2500 روپے فی کوئنٹل اور آلو کی قیمت ہزار روپے فی کوئنٹل کرنے کی مانگ کی ۔ ورما نے کہا کہ یوگی سرکار نے ایسا نہیں کیا تو ریاست کے کسان سرکار کو مناسب اور سخت جواب دیں گے۔
گنا قیمت کو لے کر یو پی سرکار کے اعلان کے بعد پوری ریاست میں دھرنا احتجاج تیز ہو گئے ہیں۔ مغربی یوپی کے غازی آباد، میرٹھ، بلند شہر، اٹاوہ، آگرہ، سہارن پور، مظفر نگر، بجنور، باغپت، ایٹا، کاس گنج، بریلی، کانپور سے لے کر پروانچل کے چندولی ، دیوریا، وارانسی، کوشی نگر، گورکھپور، غازی پور، مہاراج گنج، بلیا، بستی ،گونڈہ اور راجدھانی لکھنو کے ساتھ ساتھ ہردوئی، شاہ جہان پور، پیلی بھت، سیتا پور اورلکھیم پور کھیری میں کسانوں کے اجلاس اور احتجاج تیزی سے شروع ہوئے ہیں۔ پوری ریاست میں کسانوں کو متحد کرنے کا کام تیزی سے ہورہا ہے ۔مظفرنگر کے کسانوں نے تو فصیلہ کر لیا ہے کہ گنا قیمت ساڑھے چار سو روپے فی کوئنٹل مقرر نہیں کیا گیا تو 2019 کے لوک سبھا انتخابات میںوہ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ راشٹریہ کسان مزدور سنگٹھن کے ضلع صدر سمیت ملک نے کسانوں کے ساتھ زوردار احتجاج کیا اور یہ اعلان کیا۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کو اس رجحان کا میمورنڈم بھی دیا جسے سٹی مجسٹریٹ کو سونپا گیا۔ سنبھل علاقے کے کسانوں نے بھی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے گنا قیمت ساڑھے چار سو یا کم سے کم چار سو روپے کرنے کی مانگ کی۔ سماج ہِت سنرکشن سمیتی کے صدر مہنت بھگوان داس شرما نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ کو خط بھی لکھا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین نے سرکار کے فیصلے کے خلاف بجنور میں بھی گنے کی ہولی جلائی اور گنے کا ریٹ 450 روپے فی کوئنٹل کرنے کی مانگ کی۔ بھارتیہ کسان یونین لیڈر نریش پردھان نے کہا کہ بی جے پی سرکار نے صرف دس روپے کا ریٹ بڑھا کر گنا کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ یونین لیڈر دگمبر سنگھ اور دھرم ویر سنگھ دھڑکن نے کہا کہ کم سے کم 450 فی کوئنٹل ہونی چاہئے۔ رالود کے ضلع صدر اشوک چودھری نے کہا کہ بازار میں چینی کا ریٹ اچھا ہے لیکن گنے کا ریٹ انتہائی کم۔یہ کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ آزاد کسان یونین کے لیڈر راجندر سنگھ اور وریندر سنگھ نے سرکار کے ذریعہ اعلان شدہ گنے کی قیمت کو اونٹ کے منہ میں زیرہ بتایا۔ سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر انیل یادو نے کہا کہ بی جے پی سرکار کسان مخالف ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کے ضلع صدر سرجیت سنگھ نے کہا کہ کسانوں کے لئے بی جے پی سرکار کے قول و عمل میں فرق ہے۔
کیتھل میں بھی کسانوں نے سرکار کے فیصلے کے خلاف بڑی لڑائی چھیڑنے اور چینی مل گھیرنے کا اعلان کردیا ہے۔ کیتھل کے کسانوں کی میٹنگ میں گنا سنگھرش سمیتی اور بھارتیہ کسان سنگھ کے ممبروں نے باقاعدہ کیتھل شوگر مل کمپلکس میں میٹنگ کی۔میٹنگ کی صدارت پردھان ملتان سنگھ نینا نے کی۔ بھاتیہ کسان سنگھ کے ریاستی ترجمان رندیپ سنگھ آریہ، شری رام موہنا، دیپک والیا، نریندر رانا، امر دیپ سہارن ، کلدیپ نینا، میاں سنگھ، مہندر سنگھ، گورو نین، کرشن والیا، مگر سنگھ ، پالا رام، بکرم سنگھ، ارون والیا وغیرہ میٹنگ میں موجود تھے۔ اس مسئلے پر غازی آباد میں بھی بھارتیہ کسان یونین نے احتجاج کیا اور بڑے آندولن چھیڑنے کی منادی کی۔ سرکار کے ذریعہ کی گئی گنا قیمت اضافے کے خلاف میں کسانوں نے غازی آباد تحصیل پر زوردار دھرنا دیا جس کی صدارت وجندر سنگھ نے کی اور کنوینر ویدپال مکھیا تھے۔ریاستی نائب صدر راجویر سنگھ، جے کمار ملک، برج ویر سنگھ، سندر پال ، اشوک کمار ، چندر پال ،ستویر سنگھ، راجندر سمیت بڑی تعداد میں کسان موجود تھے۔ اسی طرح سرکار کے فیصلے کے خلاف باغپت کے چوگاماہ علاقے کے کسانوں نے پنچایت کی اور سرکار کو اتنباہ دیا کہ وہ آندولن کریںگے۔ پنچایت کی صدارت کرنے والے بلبیر سنگھ نمبردار نے کہا کہ ریاستی سرکار نے ثابت کیاہے کہ وہ کسان مزدور مخالف ہے۔ چوگامہ کسان کلب داہا اور رشٹریہ مزدور کسان پارٹی کے صدر ڈاکٹر رنبیر رانا نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ کیا گیا مذاق سرکار پر بھاری پڑے گا۔ ریاست کے کسان لوک سبھا انتخابات میں حساب کتاب چکتا کر دیں گے۔
دوسرے ضلعوں کا گنا خرید لیتی ہے چینی مل
فیض آباد کے سوہاوال میں مسودھا میں کے ایم شوگر مل کی دھاندلی بھی عجیب و غریب ہے ۔ کے ایم شوگر مل مینجمنٹ ضلع کا گنا نہ خرید کر دوسرے ضلعوں کے کسانوں سے گنا خرید لیتا ہے۔ ضلع کا کاکسان اپنی فصل لئے باہر لائن لگائے کئی کئی دن کھڑا رہتاہے۔ جبکہ دوسرے ضلع کا گنا سیدھے مل کے اندر پہنچ جاتا ہے۔ اسے لے کر فیض آباد ضلع کے کسانوں میں گہری ناراضگی ہے۔ پچھلے دنوں راشٹریہ کسان منچ نے اس مسئلے پر مقامی کسانوں کے ساتھ میٹنگ کی اور آندولن کا تانا بانا بنا۔ کسان منچ کے ریاستی صدر دویندر تیواری عرف رینوک نے بتایا کہ چھترواں گائوں کے کسانوں کی پنچایت میں کے ایم شوگر مل کی دھاندلیوں کا مسئلہ اٹھا۔ کسانوں نے کہا کہ سروے میں ضلع کے کسانوں کی جو لسٹ بنتی ہے، اسے طاق پر رکھ کر مل مینجمنٹ دوسرے ضلعوں کے کسانوں کاگناخرید لیتا ہے۔ قطار میں کھڑے مقامی کسانوں کی فصل کو پرانا یا خراب بتا کر لوٹا دیاجاتاہے ۔کسان منچ فیض آباد کے صدر ونیت سنگھ نے کہا کہ مل مینجمنٹ کے اس رویے کے سبب کسان کئی کئی دنوں اپنا گنا ویٹ سینٹر پر رکھنے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں۔ وقت سے ویٹ نہیں ہونے کی وجہ سے گنا خشک ہوجاتاہے۔ اس کی شکایت پر مل مینجمنٹ سے لے کر انتظامیہ تک کوئی دھیان نہیں دیتا۔ کسانوں کی اس دشواری کے خلاف مل گھیرنے اور گنا خرید کی سرگرمی کو ٹھپ کر دینے کی تیاری چل رہی ہے۔
یہ ہے سرکار کا فیصلہ ہو بہو
اترپردیش سرکار نے گنا پیرائی سیشن 2017-18 کے لئے سہکاری، میونسپل اور پرائیویٹ سیکٹر کی چینی ملوں میں گنا خرید کے لئے گزشتہ 26اکتوبر کو ایس اے پی مقرر کرنے کا فیصلہ لیا۔ اس کے تحت گنے کی اچھی نسل کے لئے پچھلے سال 315 روپے فی کوئنٹل کی قیمت کو بڑھاکر 325 روپے فی کوئنٹل کا دام مقرر کیا گیا۔ اسی طرح عام نسل کے لئے پچھلے سال 305 روپے فی کوئنٹل قیمت کو بڑھا کر 315 مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ نچلی نسل کے لئے گنا گنا دام جو پچھلے سال 300 روپے فی کوئنٹل تھا، اسے بڑھا کر 310 روپے فی کوئنٹل کیاگیا۔ پیرائی سیشن 2017-18 کے لئے مقرر اس ایس اے پی کے مطابق ہی چینی ملوں کے ذریعہ گنا قیمت کی ادائیگی ایک قسط میں کی جائے گی۔
ریاست کی چینی صنعت اور گنا ڈیولپ اسٹیٹ منسٹر (انڈیپنڈنٹ چارج ) سریش رانا نے یہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پیرائی سیشن 2017-18 کے لئے چینی ملوں کے باہری ایکشن سینٹر سے گنے کا ٹرانسپورٹیشن مل گیٹ تک کرائے جانے میں ہونے والی ڈھُلائی کٹوتی کا ریٹ مرکزی سرکار کی 27ستمبر 2017 کے آرڈیننس کے مطابق 42پیسے فی کوئنٹل فی کلو میٹر سے زیادہ سے زیادہ 8روپے 35پیسے فی کوئنٹل مقرر کی گئی ہے۔ مل گیٹ کے علاوہ ایکشن سینٹروں پر گنا فراہمی کرنے والے کسانوں کو اس سال مذکورہ ڈھُلائی کٹوتی میں تقریبا 50فیصد کی راحت دی گئی ہے۔
گیہوں ، آلو اور دھان میں بھی مارا گیا کسان
اتر پردیش کے کسانوں کے لئے گیہوں ، آلو ،دھان اور اب گنا، چاروں فصلیں بھاری نقصان کا ذریعہ ثابت ہوئیں۔ گیہوں اور آلو کی ریکارڈ پیداوار نے کسانوں کو اور برباد ہی کیا ہے۔ یوگی سرکار نے آلو کا سپورٹ پرائس 467 روپے فی کوئنٹل کر کے یوپی کے کسانوں سے ایک لاکھ میٹرک ٹن آلو خریدنے کا اعلان کیا تھا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ کسانوں کو اپنی فصل سڑک پر پھینکنی پڑی یا کولڈ اسٹوریج میں آلو چھوڑ دینا پڑا۔ اترپردیش میں آلو کی کھیتی کرنے والے کسان اس بار برباد ہو گئے۔ کولڈ اسٹوریج میں آلو رکھنے کی وجہ سے بھی کسانوں کو کروڑوں کا نقصان ہوا۔ یوگی سرکار کی آلو خرید پالیسی پوری طرح ڈھکوسلہ ثابت ہوئی۔ آلو اگانے سے لے کر اسے منڈی تک پہنچانے کا مہنگا کرایہ دینے اور کولڈ اسٹوریج کا کرایہ چکانے میں کسانوں کی حالت خراب ہو گئی ہے جبکہ ان کا آلو کوڑیوں کے بھائو بکنے پر آگیا۔ سرکار نے صرف اعلان کیا، کسانوں کا آلو نہیں خریدا۔ سرکار نے آلو خریدنے کا معیار ایسے طے کر دیئے کہ سارے آلو اس معیار پر رجیکٹ کر دیئے گئے۔ مجبور کسانوں کو اپنا آلو پھینک دینا پڑا۔ اس سے آلو کسانوں کی اقتصادی ریڑھ ٹوٹ گئی۔ کسان کہتے ہیں کہ آلو بونے سے اچھا ہے کھیت کو خالی چھوڑ دینا۔ آلو پیداوار کے گڑھ فرخ آباد میں تو آلو کسانوں کے برے دن ہیں۔ کسان سڑک کے کنارے آلو پھینک رہے ہیں۔ ضلع کے قریب 70کولڈ اسٹوریج آلو سے بھرے ہوئے ہیں۔ اب کوئی بھی کولڈ اسٹوریج آلو رکھنے کی حالت میں نہیں ہے۔ کسان بھی کولڈ اسٹوریج میں ہی آلو چھوڑ کر چلا گیا۔ فرخ آباد کے تقریبا 34ہزار ہیکٹیئر میں آلو کی فصل بوئی گئی تھی۔ آلو کے ریکارڈ پیدوار کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ یا تو کوڑیوں کے بھائو بکا یاکوڑے کی طرح راستوں پر پھیکا سڑتا ہوا نظر آیا۔یہی حال گیہوں اور دھان کا بھی ہوا۔ یوگی سرکار نے ریاست میں پانچ ہزار پرچیزنگ سینٹروں کے ذریعہ 80 لاکھ ٹن گیہوں خریدنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن یہ اعلان بھی ٹائیں ٹائیں پھس ثابت ہوا۔ سرکار نے گیہوں کی طرز پر 3500 ایکشن سینڑوں کے ذریعہ 50 لاکھ میٹرک ٹن دھان خریدنے کا اعلان کیا لیکن دھان خریدنے میں بھی سرکار فلاپ رہی اور بچولیوں کا بول بالا بنا رہا۔ سوراج ابھیان کی راشٹریہ نیشنل ایگزیکٹیو کے ممبر اجیت سنگھ یادو کہتے ہیں کہ یوپی کے پورے دھان بیلٹ میں دھان کی خرید کا سرکاری دعویٰ بے معنی ثابت ہو رہا ہے۔ بچولیوں کے ذریعہ من مانی قیمت پر دھان خریدا گیا اور سرکار کے نمائندے بچولیوں کو ہی اپنا تعاون دیتے رہے۔بدایوں ،پیلی بھت اور ترائی کے دھان پٹی علاقے کے کسانوں میں اس سے زبردست ناراضگی ہے۔
اس بار کسان مانگیں گے الگ پروانچل
کسان آندولن کی آہٹ میں اس بار الگ پروانچل کی مانگ بھی شامل ہے۔ الگ پروانچل کی کسانوں کی مانگ سیاسی پارٹیوں کی مانگ سے الگ ہے۔ کسان مزدور سنگھرش مورچہ اترپردیش کے صدر شیوا جی رائے کہتے ہیں کہ اقتصادی طور پر خود انحصار رہے پروانچل کو جس طرح سازش کرکے برباد کیا گیا،اس کا اب ایک ہی بندوبست ہے ،یا تو مرکزی سرکار پروانچل کے لئے ایک لاکھ کروڑ کا اقتصادی پیکج الگ سے اعلان کرے یا پروانچل کو الگ ریاست کی شکل میں اعلان کرے۔ پروانچل کے کسان سیاسی طور پر نہیں، اقتصادی طور پر تقسیم چاہتے ہیں کیونکہ سیاسی پارٹیوں نے پروانچل کو دوسرے اور تیسرے درجے کا علاقہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ مختلف سرکاروں نے مغربی علاقے میں سرمایہ کاری کی اور مغربی کی ترقی پر وہ سارا دھیان دیا۔مشرقی علاقے کی ترقی کی طرف کوئی دھیان نہیںدیا، جبکہ پروانچل نے زراعت کی ترقی اور چھوٹی صنعتوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کو بھی بڑھایا ہے ۔کاشی ہندو یونیورسٹی ، کاشی صنعت ، الٰہ آباد یونیورسٹی، پروانچل یونیورسٹی، اچاریہ نریندر دوے یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے مشرق میں ہی قائم ہوئے۔ شیواجی رائے نے کہا کہ پروانچل کے لوگوں اور خاص طور پر یہاں کسانوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اس رویے سے گہری مایوسی ہے کہ وہ ایم پی تو وارانسی کے ہیں،لیکن سارا دھیان گجرات پر دیتے ہیں۔ گجرات کی 6 کروڑ کی آبادی کے لئے مودی لاکھوں کروڑ روپے کا قرض لے کر بلیٹ ٹرین چلانے کا عہد کر سکتے ہیں لیکن پروانچل کی 9 کروڑ کی آبادی کی ترقی کے لئے ایک لاکھ کروڑ کا اقتصادی پیکج نہیںدے سکتے ۔ لہٰذا مشرقی اترپردیش کے کسان یہ مانگ کررہے ہیںکہ انہیں ان کی پرانی تمام وراثت لوٹائیں یا پروانچل ریاست الگ کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *