بیوٹیشین شہناز حسین پر فلم اپنی حیات ہی میں تاریخ ساز بن گئی

بالی ووڈ کی معروف اداکار ایشوریہ رائے سلور اسکرین پر عالمی شہرت یافتہ بیوٹیشن شہناز حسین کا کردار نبھاتی نظر آئیں گی۔ فلم ساز بابی بیدی کی بھتیجی پوجا بیدی شہناز حسین پربایوپک بنانے جارہی ہیں۔ پہلے اس کے لئے پرینکا چوپڑا کا نام سامنے آرہا تھا۔ لیکن اب ایشوریہ رائے کو فائنل کردیا گیا ہے۔
فلم کی اسکرپٹ لکھنے والے کملیش پانڈے نے کہا کہ ایشوریہ ہمیشہ سے ان کی پہلی پسند تھیں۔ فلم میں شہناز کے کردار کے لئے اردو سے اچھی واقفیت ہونا ضروری ہے۔ ایشوریہ نے فلم اے دل ہے مشکل میں کافی اچھی اردو بولی ہے۔ لیکن ابھی ایشوریہ رائے نے اپنا جواب نہیں دیا ہے کیونکہ وہ ابھی فلم پھننے خان کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ اس فلم میں وہ راج کمار راؤ کے ساتھ نظرآئیں گی۔ یہ بایو پک شہناز حسین کی بیٹی نیلوفر کی کتاب ’ فلیم دی انسپائرنگ لائف و مائی مدر‘ پر مبنی ہوگی۔ اس فلم میں دکھایا جائے گا کہ کس طرح مسلم گھرانے کی لڑکی بیوٹی انڈسٹری میں ایک کاکامیاب عورت بنتی ہے۔

 

 

 

 

 

محتاج تعارف نہیں
شہناز حسین شہناز ہربلز انکارپوریٹیڈ کی سی ای او ہیں۔ وہ ایک اہم ہندوستانی خاتون صنعت کار ہیں جنہیں ان کے اپنے ایجاد کردہ ہربل کاسمیٹکس کے لئے جانا جاتا ہے۔ ان میں جِلد کی دیکھ بھال کی مصنوعات سب سے اہم ہیں۔ 2006میں انہیں پدم شری اعزاز سے نوازا گیا تھا جوکہ حکومت ہند کی طرف سے دیا جانے والا ایک شہری ایوارڈ ہے۔ سال 1996ء میں انہیں سکسس میگزین کی جانب سے “دنیا کی سب سے عظیم خاتون صنعتکار” کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔
شہناز حسین مرحوم جسٹس نصيراللہ بیگ کی بیٹی ہیں جو الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس تھے۔ ان کے دادا، جج سمیع اللہ بیگ، متحدہ صوبے کے ایک اہم مسلم سیاست دان تھے، جنہوں نے بعد میں حیدرآباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کے طور پر اپنی خدمات پیش کی۔ ان کے چچا، مرزا حمید اللہ بیگ، ہندوستان کے سابق چیف جسٹس تھے، جنہیں متنازع طور پر جسٹس ایچ آر کھنہ کے عہدے سے اوپر ترقی دی گئی تھی۔ ان کی تعلیم لا مارٹيرنئير، لکھنؤ سے ہوئی تھی۔
ہارورڈ بزنس اسکول کے ابھرتے ہوئے بازاروں کے منصوبوں کے لیے دیے گئے اپنے انٹرویو میں حسین نے آپ کے کاروبار کی ابتداء، اضافہ اور ترقی کے بارے میں بتایا کہ کس طرح خوبصورتی کے فی ان کے جدید نقطہ نظر نے ان مصنوعات کو عالمی کامیابی دلوائی ہے۔
اکثر کامیابی کی داستانیں شوق، لگن اور جستجو سے شروع ہوتی ہیں یا کبھی حالات کا دھارا مجبوراً کسی سمت لے جاتا ہے اور وہ شخص پھر کامیابیاں حاصل کرتا ہی چلا جاتا ہے۔ لیکن فرصت میں محض مصروفیت کی تلاش میں کسی شعبے کا چنائو کرنا اور پھر اس میں کامیابی و کامرانی کی منازل طے کرتے چلا جانا، یقیناً ایک مختلف معاملہ ہوتا ہے، کیوں کہ یہاں شوق اور مجبوری سے قطع نظر صرف وقت گزاری ہی مقصد ہوتا ہے، اس لیے اس قسم کے لوگوں کو اتنی ترقی شاذ ہی مل پاتی ہے۔ شاید وہ اس کے لیے شوق اور مجبوری کے عالم میں آنے والوں کی طرح مستقل مزاجی اور محنت کا مظاہرہ نہ کر پاتے ہوں، لیکن ہندوستان میں ایک خاتون شہناز حسین نے صرف ایک ڈگر پر چلنے والی سست زندگی کو کار آمد بنانے کے لیے لوگوں کے لیے قابل تقلید مثال قائم کردی اور آج وہ بین الاقوامی سطح کی خاتون بن چکی ہیں۔ انہوں نے کاسمیٹکس کے شعبے میں قدم رکھا اور اپنی جدوجہد اور لگن سے اس کاروبار میں اتنی کامیابی حاصل کی کہ ان کی حیثیت ایک گلوبل کارپوریٹ کی ہے۔ شہناز حسین گزشتہ 40 سال سے ایک نجی کمپنی ’’شہناز ہربلز‘‘ کی سربراہی کر رہی ہیں۔ ان کا شمار ہندوستان کے چوٹی کے تجارتی گروؤں میں ہوتا ہے۔ ان کے کامیاب سفر کو تجارتی شعبے میں کسی خاتون کی کامیابی کی انتہا سمجھا جا رہا ہے۔

 

 

 

 

 

عالمی تجارت
شہناز حسین نے ہندوستان کے ایک صاحب ثروت اور روایتی مسلمان گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے آباو اجداد ثمرقند (ازبکستان) سے ہجرت کر کے ہندوستان آیا۔ ا ن کے والد جسٹس این یو بیگ ایک علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت تھے۔ شہناز نے ایک آئریش کانوینٹ اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ ان کی شادی محض پندرہ برس کی عمر میں ہوگئی۔ شادی کے بعد جب انہیں فرصت ملی تو انہوں نے بیوٹیشن کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔ شوہر کی تہران (ایران) تقرری پر اس کاروبار کا خیال سوجھا۔ 1977 میں ہندوستان لوٹیں، تو انہوں نے 35 ہزار روپے کے سرمائے سے دارالحکومت نئی دہلی میںاپنا پہلا بیوٹی سیلون کھولا، جسے غیر معمولی پذیرائی ملی اور یوں ان کے ایک تاب ناک مستقبل کا آغاز ہوا۔ انہوں نے قدرتی جڑی بوٹیوں پر مرکوز رہتے ہوئے اپنی مصنوعات بھی تیار کرنا شروع کیں جو دیگر کاسمیٹک مصنوعات کے برعکس کسی بھی کیمیائی اجزا سے پاک تھیں۔ ان کی تمام مصنوعات مختلف پھلوں، پھولوں، پودوں، سبزیوں، شہد اور قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کی جاتی ہیں اور خلاف روایت انہیں کسی جانور پر نہیں آزمایا جاتا۔ انہوں نے اپنی مصنوعات کے لیے قدرتی جڑی بوٹیوں کی کاشت کا انتظام بھی کر رکھا ہے۔
آج شہناز حسین کا ادارہ ہربل کاسمٹیکس بالخصوص جلد کے حوالے سے اپنی مصنوعات کی بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے اور اس میدان میں شہناز حسین ایک معروف شخصیت بن چکی ہیں۔ ’’شہناز حسین ہربلز‘‘ کا شمار دنیا میں ہربل کاسمیٹک بنانے والی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ شہناز حسین نے لندن میں بین الاقوامی بیوٹی تھراپی ایسوسی ایشن CIDESCO کی بیوٹی کانگریس میں ہندوستان کی نمایندگی کی۔ اس موقع پر انہیں اس ایسوسی ایشن کا صدر بھی مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے اس عہدے اور موقع کو ہندوستان اور ہربل مصنوعات کے فروغ کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کو مہمیز کیا، جب 1980میں انہیں لندن میں منعقدہ ایک میلے میں ہندوستان کی نمایندگی کا موقع ملا۔
اس کے ذریعے انہوں نے اپنی مصنوعات کو دنیا بھر کے صارفین کے سامنے پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپ، امریکا، آسٹریلیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر کے 138 ممالک میں ان کی 400 سے زاید فرنچائز موجود ہیں۔ ان ممالک کے ہر بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں ان کی مصنوعات نظر آتی ہیں۔ شہناز حسین نے لندن کی ’ہیرلے اسٹریٹ ‘ پر اپنا ایک کلینک بھی کھول رکھا ہے۔ صرف نئی دہلی میں ان کے ادارے کے 40 تقسیم کار اور 600 ان کے معاون تقسیم کنندگان ہیں، جب کہ 20 کلینکس اور شاخیں موجود ہیں۔ شہناز حسین مصنوعات کی تشہیر پر یقین نہیں رکھتیں، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کی چیزیں خود ہی اپنی تشہیر ہیں اور وہ سب سے زیادہ اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ ان کی مصنوعات کو لوگ اتنا زیادہ پسند کریں کہ خریدے بغیر نہ رہ سکیں۔ ان کی مصنوعات نے ایک سال میں سب سے زیادہ فروخت کے نئے ریکارڈ بھی قائم کیے۔ شہناز ہربلز میں 1970سے1980 تک ترقی کی اوسطاً شرح 15% رہی، جب کہ 1990 کی دہائی میں یہ 19.4% تک پہنچ گئی۔
شہناز حسین پہلی ایشیائی ہیں، جن کی مصنوعات پیرس کے Galeries Lafayette اسٹور میں رکھی گئیں۔ یہ ان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے کہ ان کی مصنوعات نے انتہائی سخت مسابقت کے باوجود مغربی منڈی تک رسائی حاصل کی۔ دنیا بھر میں جن اعلا شہرت کے حامل اسٹوروں میں ان کی مصنوعات موجود ہیں، ان میں لندن کے Harrods and Selfriges، نیویارک کے Bloomingadales، جاپان میں The Seiyan Chain، مشرق وسطیٰ میں سلطان اسٹور سمیت دنیا بھر کے بہت سے نام ور اسٹور شامل ہیں۔
شہناز حسین اس وقت نہ صرف دنیا بھر میں قدرتی بیوٹی ٹریٹمنٹ کے سیلون چلا رہی ہیں، بلکہ ان کے ہاں بنائو سنگھار کے حوالے سے لڑکیوں کو تربیت بھی دینے کا انتظام ہے۔ ان کے ہاں بیوٹیشن اور کاسمیٹکس تھراپی کے ڈپلومے کے علاوہ پوسٹ گریجویٹ سطح کے کورس بھی کرائے جا رہے ہیں۔ شہناز حسین کی صاحب زادی نیلوفر کریم نے اپنی والدہ کی جدوجہد پر ایک کتاب تحریر کی ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی ماں کی زندگی کے نہایت غیر معمولی واقعات شامل کیے ہیں۔ اس کا عنوان انہوں نے Flame رکھا ہے۔ کچھ عرصے قبل شہناز حسین کی مصنوعات کی شنگھائی، چین میں نمایش بھی کی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے اعلان کیا کہ چین و ہند کے روایتی طب کے حوالے سے ہر سال ایک کانفرنس کرائی جائے گی، تاکہ دونوں قدیم ترین طریقہ ہائے طب کے حوالے سے آگہی ہو سکے، کیوں کہ طب کے حوالے سے ہندوستان اور چین دنیا کی دو قدیم ترین تہذیبیں ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *