بغض ٹیپو حرمت صدر جمہوریہ ہند کو گھائل کرگیا

آزاد ہندوستان کی تاریخ کے لیے اس سے بڑی شرم کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ شیر میسور کہے جانے والے ٹیپو سلطان کے بغض میںصدر جمہوریہ کے پروقار عہدہ کی حرمت کا بھی خیال نہیںرکھا گیا۔پورا ملک حیران ہے کہ کرناٹک لیجسلیچر کے دونوںایوانوں کے خصوصی مشترکہ اجلاس میںصدر جمہوریہ رام کووند کے خطاب کو بھی نہیںبخشاگیا اور وہ بھی ریاستی اپوزیشن بی جے پی کی زبردست تنقید کا نشانہ بن گیا۔ کرناٹک لیجسلیٹو کونسل میںاپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپّا و دیگر بی جے پی لیڈروں نے الزام لگایاکہ ریاستی کانگریس حکومت نے صدر جمہوریہ ہند کو گمراہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صدرجمہوریہ کو’’ گمراہ‘‘ کیا جاسکتا ہے؟ اس تعلق سے وزیر اعلیٰ سدارمیا کا یہ سوال موزوں ہے کہ’’کیا آپ یہ سوچتے ہیںکہ ر یاستی حکومت صدر جمہوریہ کو یہ ڈکٹیٹ کرسکتی ہے کہ انہیںکیا کہنا ہے؟‘‘ ویسے انھوں نے صاف طور پر یہ کہا بھی کہ ریاستی حکومت نے نہ تو خطاب کو تیار کیا ہے، نہ ہی اس کے لیے کوئی نوٹس (مواد) دیے ہیں۔ انھوںنے یہ بھی کہا کہ صدر کی اسپیچ کی حیثیت گورنر کے اسپیچ جیسی نہیںہوتی ہے۔ انھوںنے وضاحت کی کہ یہ صدر جمہوریہ کی اپنی اسپیچ تھی اور وہ ’سچ‘ بولے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی اس معاملے میںغیر ضروری تنازعہ کھڑی کررہی ہے جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دنیش گنڈو راؤ کا یہ مطالبہ بھی معقول لگتا ہے کہ بی جے پی لیڈروں کو صدر جمہوریہ کے عہدے کی ہتک آمیزی کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔ ویسے یہ بات صحیح محسوس ہوتی ہے کہ یہ سیاسی لیڈروںکی اخلاقی گراوٹ کا مظہر ہے۔

 

 

 

 

 

دراصل معاملہ بغض ٹیپو کا ہے۔ صدر جمہوریہ نے ودھان سودھا کی 60 ویں جینتی کے موقع پر منعقد اجلا س میں اپنے خطاب میںجیسے ہی کرناٹک کے ’فار میڈیبل شولجرز‘(Formidable Soldiers)کے بارے میںبولتے ہوئے ٹیپو سلطان کے ’ہیسٹوریک / ہیروئیک ڈیتھ‘ کا حوالہ دیا، برسراقتدار پارٹی کانگریس کے ارکان نے لیجسلیچر کی میز کو تھپتھپایا جبکہ اپوزیشن نے چپی سادھ لی۔ آئیے دیکھتے ہیںکہ صدر جموریہ رام کووند نے آخر کہا کیا ؟ انھوں نے فرمایا کہ ’’ٹیپو سلطان انگریزوں سے لڑتے ہوئے ایک ہیرو کی موت مرے۔ وہ میسور راکٹ کے ڈیولپمنٹ اور اس کے جنگ میںاستعمال کرنے کے پائنیئر تھے۔ یہ تکنیک بعد ازاں یوروپیوں کے ذریعہ اپنائی گئی۔ ‘‘
صد جمہوریہ کے خطاب میںٹیپو سلطان کا حوالہ بی جے پی کو کھَل گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کا حکومت کرناٹک سے آئندہ 10 نومبر کو منائی جارہی ٹیپو جینتی تقریبات کو لے کر تنازع چل رہا ہے۔ عیاںرہے کہ جب مذکورہ جینتی تقریبات کی تیاری شروع ہوئی تو مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڑے نے ٹویٹ میں ریاستی حکومت کو لکھا کہ وہ ٹیپو جینتی کے لیے تیار کیے جارہے دعوت نامہ میں اپنا نام دینا نہیں چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ٹیپو کنّڑ مخالف اور ہندو مخالف تھے۔ ‘‘ بعدازان کرناٹک کے متعدد ارکان اسمبلی و کونسل نے بھی کہا کہ وہ ان تقریبات میںشرکت نہیں کریں گے۔ انھوں نے اسی کے ساتھ ٹیپو سلطان کو ’مذہبی متعصب‘ (Religious Bigot)بتایا ۔ اسی بیچ بی جے پی اور سنگھ پریوار نے ان تقریبات کے خلاف احتجاجی پروگراموں کا بھی پلان بنانے کا اعلان کیا۔

 

 

 

 

 

جہاں تک صدر جمہوریہ رام کووند کے ٹیپو سلطان کو خراج تحسین پیش کرنے کا سوال ہے، اس سلسلے میںبھی ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ راشٹرپتی بھون کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے ہوئے خطاب میںٹیپو سلطان کی موت کو ’ہیروئک ڈیتھ‘کہا گیا ہے جبکہ صدر جمہوریہ نے تقریر کرتے ہوئے ’ہسٹوریک ڈیتھ‘ لفظ کااستعمال کیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ’ہیروئک ڈیتھ‘ اور ’ہسٹوریک ڈیتھ‘ میں واضح فرق ہے۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ یہ الفاظ کی تبدیلی اچانک کیسے ہوگئی؟ تقریر کے ویڈیو میںیہ تبدیلی دکھائی پڑتی ہے۔
یہ افسوس کی بات ہے کہ ٹیپو سلطان کے قضیہ کو لے کر صدر جمہوریہ ہند کا خطاب متنازعہ بن گیا۔ اپوزیشن بی جے پی کو برسراقتدار کانگریس سے لڑائی اور بغض ٹیپو میںصدر کے خطاب کو موضوع بحث نہیںبنانا چاہیے تھا۔ یہ کہنا کہ حکومت کرناٹک نے صدر جمہوریہ کو گمراہ کیا ہے، کسی بھی طرح صدر جمہوریہ کے شایان شان نہیں ہے۔ علاوہ ازیںصدر جمہوریہ رام کووند اپنی دانشورانہ حیثیت کے لیے دنیا بھر میںجانے پہچانے جاتے ہیں۔ صدر جمہوریہ نے ٹیپو سلطان کے بارے میںجو کچھ الفاظ کہے ہیں، وہ تاریخی حقائق ہیں۔ یہ بات الگ موضوع بحث ہے کہ ان کی موت کا ذکر کرتے ہوئے ’ہیروئک‘ اور’ ہسٹوریک‘ میںسے کس کو مانا جائے؟
جہاںتک ٹیپو سلطان کی شخصیت کا سوال ہے ، وہ کھلی ہوئی کتاب ہے، اسی شمارے میں ٹیپو سلطان پر بی بی سی ہندی سے لیے گے ایک مضمون میںیہ بتایا گیا ہے کہ ٹیپو سلطان صرف مسلمانوں میں سمٹا ہوا حکمراں نہیں تھا، بلکہ اس کے وزیروں میںمتعدد ہندو وزیر بھی تھے۔ دیوان پورنیا تو ٹیپو کا وزیر اعظم تھا اور ٹیپو کا اس پر زبردست اعتماد تھا، تبھی تو ٹیپو نے اسے اپنی راکٹ فورس کا سربراہ بنارکھا تھا۔ جو لوگ ٹیپو سلطان کے ذریعہ ہزاروںمندروںکو منہدم کرنے کی بات کرتے ہیں، کیا ان کے پاس اس سوال کا جواب ہے کہ ٹیپو نے اپنے محل کے پاس کھڑے رنگا ناتھ سوامی مندر کو کیوں نہیں مسمار کیا؟ اسے کیا کہا جائے کہ ٹیپو کے دور میں 158 مندروں کو سالانہ گرانٹ دی جاتی تھی۔ ان حقائق کی روشنی میںایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹیپو سلطان کے بارے میں یہ سوچنا بالکل غلط اور بے بنیا د ہے کہ وہ ’ہندو متعصب‘ یا ’ہندو مخالف‘ یا ’کنّڑ مخالف‘ تھا۔
ٹیپو سلطان کو اسی پس منظر میںدیکھنا چاہیے ، جس پس منظر میں صدر جمہوریہ رام کووند نے دیکھا ہے یعنی انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے انھوںنے اپنی جان قربان کردی اور ایک مجاہد کی موت مرے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *