ٹی ٹوئنٹی سیریزپرہندوستان کاقبضہ

تھیرووننت پورم میں 7نومبر2017کوہندوستان کے بیچ تین میچوں کی سیریزمیں آخری فیصلہ کن مقابلہ کھیلاگیا۔ہندوستانی ٹیم نے اپنی زبردست پرفارمنس سے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو8اوورکے میچ میں 6رن سے ہرادیا۔اس جیت کے ساتھ ہی ہندوستان نے ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز2-1سے اپنے نام کرلی ہے۔لگاتاربارش سے متاثرہونے والایہ مقابلہ مقررہ وقت سے ڈھائی گھنٹے کی دیری سے شروع کیاگیا اوراسے 8-8اوورزکاکردیاگیاتھا۔اس میچ میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کرپہلے گیندبازی کافیصلہ لیا۔پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ہندوستان نے 8اوورمیں 5وکٹ کے نقصان پر67رن بنائے۔نیوزی لینڈکوجیت کیلئے 68رن کاٹارگیٹ ملالیکن یہ ٹیم 8اوورمیں 6وکٹ پر61رن ہی بناپائی۔اس سیریزسے پہلے دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 2سیریزہوئی تھیں،اوردونوں ہی نیوزی لینڈ ٹیم نے جیتی ہیں۔سال 2009میں نیوزی لینڈ ٹیم نے 2-0سے ہندوستان کوہرایاتھا،وہیں 2012میں ٹیم ہندوستان نے 0-1سے سیریزگنوادی تھی۔اس میچ میں ہارکے بعدنیوزی لینڈ کی ٹیم کے ہاتھ سے ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں نمبرون کی پوزیشن نکل گئی اوروہ 2نمبرپرپہنچ گئی ہے۔ادھرہندوستان کی جیت کافائدہ پاکستان کوملا اورٹی ٹونٹی رینکنگ میں نمبرون بن گئی۔جیت کے بعدبھی ہندوستان کی رینکنگ پرکوئی فرق نہیں پڑا اوروہ 119پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبرپرہی ہے۔
بمراہ بنے مین آف دی میچ اورمین آف دی سیریز
میچ میں شاندارگیندبازی کرتے ہوئے 10رن دیکر2وکٹ لینے والے جسپریت بمراہ ’پلیئرآف دی میچ ‘ چنے گئے۔اس کے علاوہ سیریزمیں سب سے شانداراکنامی کے ساتھ بالنگ کرنے کی وجہ سے انہیں ’پلیئرآف دی سیریز‘ منتخب کیاگیا۔بمراہ نے اس سیریزکے تین میچوں میں 10اوورگیندبازی کی،جس میں 6.90کی اوسط سے 69رن دیکرکل 3وکٹ لئے۔

 

 

 

 

 

 

تھیرووننت پورم میں بین الاقوامی میچ
تھیرووننت پورم میں تقریباًتین دہائیوں یعنی 29سال کے بعدپہلابین الاقوامی میچ کھیلاگیا۔ہندوستان کونیوزی لینڈ کے بیچ ٹی ٹوئنٹی کھیلے گئے میچ کے ساتھ ہندوستان کے بین الاقوامی کرکٹ میچ جگہوں کی تعداد50ہوگئی۔گرین فیلڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں یہ پہلابین الاقوامی میچ ہے اوراس طرح سے وہ دیش کا50واں بین الاقوامی کرکٹ میچ جگہ بھی بن گیا۔ہندوستان کاپہلامیچ اسٹیڈیم ممبئی کاجمخانہ گراؤنڈ میں تھا، جہاں ہندوستانی ٹیم نے 15سے 18دسمبر1933کے بیچ ٹسٹ میچ کھیلاتھا۔ہندوستان ان میں سے اب تک 48اسٹیڈمیوں میں کھیل چکاہے۔پٹنہ کے معین الحق اسٹیڈیم اورگریٹرنوئیڈاکا گریٹرنوئیڈااسپورٹس کمپلیکس دوایسے اسٹیڈیم ہیں جہاں بین الاقوامی میچ توکھیلے گئے ہیں،لیکن ان میں ہندوستانی ٹیم نے حصہ نہیں لیاتھا۔ترواننت پورم کایہ دوسرااسٹیڈیم ہے ،جہاں بین الاقوامی میچ کھیلاگیا۔اس سے پہلے یونیورسٹی اسٹیڈیم میں دوونڈے میچ کھیلے گئے ۔ان میں سے آخری ونڈے 25جنوری 1988کوکھیلاگیاتھا۔
یک روزہ سیریزبھی ہندوستان کے نام
یک روزہ سیریزمیں کانپورکے گرین پارک میدان پر 29اکتوبرکوہندوستان اورنیوز ی لینڈ کے بیچ کھیلے گئے تیسرے ونڈے میچ میں ہندوستان نے نیوزی لینڈ کو6رنوں سے ہراکر ہندوستان نے تین میچوں کی یہ ونڈے سیریزپر2-1سے قبضہ کرلیا۔ ٹیم انڈیانے ٹاس ہار کر پہلے بازی کرنے اتری ٹیم انڈیا نے مقررہ 50 اوورس میں 6 وکٹ پر 337 رن بنائے، جس کے جواب میں نیوزی لینڈ 50 اوورز میں 7 وکٹ پر 331 رن ہی بناسکا۔ہندوستان کی یہ مسلسل ساتویں سیریزکامیابی تھی۔سیریزجیتنے کے بعدکپتان وراٹ کوہلی نے اس کا سہرہ اپنے ٹیم کے گیندبازوں کے سرباندھا۔ٹیم انڈیاکے کپتان کوہلی نے میچ کے بعدمہمان ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ نیوزی لینڈ کواس کاکریڈٹ دیناچاہوں گا جنہوں نے تینوں میچوں میں ہمیں سخت چیلنج دیا۔

ایشیاہاکی کپ پرہندوستانی خواتین ٹیم کاقبضہ
ہندوستانی خاتون ہاکی ٹیم نے جاپان کے کاکامگاہارامیں کھیلئے گئے فائنل میں پینلٹی شوٹ آؤٹ میں چین کو5-4سے شکست دیکرایشیاکپ خطاب پر13سال بعدپھرقبضہ کیا۔دونوں ٹیمیں طے وقت میں 1-1سے برابری پرتھیں۔اس کے بعدشوٹ آؤٹ کاسہارالیاگیا۔ہندوستانی خاتون ہاکی ٹیم ایشیاکپ میں اپنی خطابی جیت کی بدولت تازہ ایف آئی ایچ عالمی رینکنگ میں دومقام کی بہتری کے ساتھ 10ویں مقام پرپہنچ گئی۔اس سے پہلے ،ہندوستانی خاتون ٹیم کی بہترین درجہ بندی 11تھی،جسے 2010میں حاصل کیاگیاتھا۔ہندوستان نے اسپین کو11ویں درجہ بندی پردھکیل کر10ویں پوزیشن پرقبضہ کرلیا ہے۔فائنل میں ہندوستان سے ہارنے والی چین کی ٹیم آٹھویں درجہ بندی میں برقراررہے۔درجہ بندی میں سب سے اوپرتین ٹیموں میں کوئی بتدیلی نہیں ہوئی ہے۔ورلڈاوریورپی چمپئنزہالینڈسرفہرست، انگلینڈ دوسری اورارجنٹائن تیسری پوزیشن پرہے۔
عیاں رہے کہ ہندوستانی ٹیم چوتھی باراس ٹورنامنٹ میں فائنل میں پہنچی تھی۔1999میں اسے اپنی میزبانی میں فائنل میں ساؤتھ کوریاکے ہاتھوں 2-3کی ہارملی تھی۔حالانکہ ،وہ 2004میں اس خطاب کوجیتنے میں کامیاب رہی تھی۔سال 2009میں بنکاک میں منعقدہوئے ٹورنامنٹ میں ہندوستانی ٹیم نے فائنل تک کا سفرطے کیاتھا،لیکن چین نے 5-3سے شکست دے کراس کے ہاتھوں سے خطاب چھین لیاتھا۔عیاں رہے اسی سال مردہاکی ٹیم نے بھی ایشیاکپ جیتاہے۔

 

 

 

 

 

 

خاتون ہاکی ٹیم کاشانداراستقبال
ایشین کپ خطاب جیتنے والی خاتون ہاکی ٹیم کاایشیاکپ میں 13سالوں کے طویل وقفے کے بعدخطاب جیتنے پر6نومبرکووطن واپسی پرشانداراستقبال دیاگیاتھا۔ ایشیاکپ فاتح کیلئے اندراگاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرسینکڑوں شائقین موجودتھے۔ کھلاڑیوں کوپھولوں سے لاددیاگیاتھا اورپرستاروں نے کھلاڑیوں میں مٹھائیاں تقسیم کیں تھیں،ایئرپورٹ کے باہرکثیرتعدادمیں میڈیااورپرستارموجودتھے۔
ہاکی انڈیا کاہرکھلاڑی کوایک ایک لاکھ روپے کاانعام
ہندوستانی ٹیم اپنی اس کامیابی کے سبب عالمی درجہ بندی میں سرفہرست 10ٹیموں میں شامل ہوگئی ہے۔ہاکی انڈیا نے ایشیاکپ جیتنے والی18رکنی ہندوستانی ٹیم کی ہرکھلاڑی اورٹیم کے کوچ کوایک ایک لاکھ روپے انعام دینے،ان کے علاوہ کھیل کے عملے ارکان کو50,505روپے دینے کااعلان کیاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *