شاعرہ رئیسہ خمار آرزوؔ اور ڈاکٹر شمشاد جلیل شادؔ کوکروڑی مل کالج دہلی میں استقبالیہ

kirorimal-colllege-delhi
اردو دنیا آج جن خطوط پر چل رہی ہے اور اس کے جس طرح کارنامے سامنے آرہے ہیں ،وہ کہیں تو اطمینان بخش ہیں اور کہیں تشویش ناک حدتک مخدوش ۔کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اردو کی باد بہاری چل پڑی ہے اور کبھی بالکل سناٹا محسوس ہوتا ہے۔اردو والے اکثر مختلف قسم کے دعوے کرتے ہیں اور پھر خود ہی ان کی ترد یدکرتے نظر آتے ہیں۔یہ مجموعی صورت حال ہماری اردو دنیا کو خود کے محاسبے اور غور وفکر کی دعوت دیتی ہے۔گزشتہ برسوں میں جس قدر ہندوپاک اور دنیا بھر میں ارد و کی کیفیت ہے اس نے کئی سوالات کھڑے کیے ہیں نیز اعلا تعلیم اور دانش گاہوں میں تو اس کا عالم اور ہی ہے۔مذکورہ خیالات کا اظہار آج 27نومبرکو شعبہ اردو کروڑی مل کالج کی جانب سے مہاراشٹر کے ناسک اور پونہ سے تشریف لانے والی معروف شاعرہ رئیسہ خمار آرزوؔ اور ڈاکٹر شمشاد جلیل شادؔ کو دیے جانی والی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔انھوں نے کہا کہ ہم اردو والوں کی ذمے داری اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ہماری زبان پر حملے ہوں اور اس کے وجود کو مٹانے کی کوششیں ہوں ۔اس وقت ایک طرف تو ہمیں خود کا محاسبہ کر نا ہوگا اور اپنی کارکردگیوں کا جائزہ لینا ہوگا نیز دوسری جانب ہمیں ان عناصر سے معرکہ آرائی کرنی ہے جو ہمارے زبان کے دشمن اور مخالف ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اس ملک کے لیے اردو کا وجود رحمت اور باعث خیرو برکت ہے ۔جس نے ملک کو یگانگت بھائی چارے کی تعلیم دی ہے۔اس نے بین المذاہب ہم آہنگی اور ملک و قوم کو جوڑنے والی باتیں کی ہیں ۔اسی لیے ہندوستان اور اردو دونوں ایک ہی چیز کے نام بن گئے ۔جس کا ادراک آنے والے وقت میں یہاں کی اقوام کو ہوگا۔
شعبہ اردو کے استاذ ڈاکٹر محمد محسن نے اس موقع پر خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اردو اور اردو شاعری ہمارے ادب اور ہماری شناخت کا اہم ذریعہ ہیں ۔اردو نہ صرف ہماری زبان ہے بلکہ ہماری شناخت ہے ۔جس کی بقا اور جس کا وجود خود ہماری بقا اور ہمارا وجود ہے ۔چنانچہ اس کی تحفظ اور اس کا فروغ ہمارے ذمے لازمی امر ہے۔پوری دنیا میں جہاں جہاں اردو موجود ہے یا پنپ رہی ہے وہ سب علاقے اردو کے ہیں اور اردو کے گھر ہیں ۔ انھوں نے کہا اردو دنیا ہم سے جس قسم کی امید لگائے ہوئے اسے پورا کرنا عبادت کے درجے میں ہے۔ہمیں اردو کی خاطر اسی طرح خدمات انجام دینی ہیں جس طرح ہم اپنی عقیدتوں کا اظہار کرتے ہیں۔انھوں نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی کالج آمد پر اپنی مسرت اور خوشی کا اظہار کیا ۔
اس موقع پر شعبہ علم کیمیا کے استاذڈاکٹر جے ایل شرما نے اپنی اردو سے وابستہ پرانی یادوں کو دہراتے ہوئے نہایت پرتشویش انداز میں کہا کہ مجھے آج بھی وہ اردو کا زمانہ یاد ہے جب یہ ہماری مشترک زبان تھی۔یہ ہماری محبت اور خلوص کے اظہار کی زبان اور آپسی رواداری کی زبان ہے۔ مگر آج اسے مخصوص طبقے سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ میں نے اردو کو پنپتے ہوئے دیکھا ہے اور اسے پرانی دہلی کی گلیوں میں بنتے دیکھا ہے۔ پرانی دہلی کا وہ علاقہ اور وہ ماحول میں آج بھی نہیں بھول سکتا۔بس اب میری یہی تمنا ہے کہ میں پھر سے وہی دور دیکھوں اور پھر سے اردو کی بادبہاری کا ماحول پیدا ہو۔
اس تقریب کے موقع پر محترمہ شمشاد جلیل شادؔ نے اپنا تفصیلی تعارف کراتے ہوئے،اپنی افسانہ نگاری اور شاعری کے آغاز نیز اسباب پر اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ ہمارے دیا ر میں اردو کی صورت حال مجموعی طور پر اطمینان بخش ہے۔پونہ شہر میں اردو کے متعدد ادارے اور تنظیمیں اردو کے لیے کوشاں ہیں نیز ان کے مثبت اور نتیجہ خیز اثرات سامنے آرہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ہم لوگ افسانوں اور کہانیوں کے لیے جن عناوین اور موضوعات کو شامل کرتے ہیں ان میں عموماً سوشل ایشوز ہوتے ہیں جنھوں نے ہمارے سماج اور معاشروں میں ناسور کی صورت اختیار کر لی ہے چنانچہ ان کے خلاف آواز اٹھانا اور ان پر قدغن لگانا وقت کی اہم ترین ضرورت اور آواز ہے جس پر ہم کاربند اور اس کے لیے مستعد ہیں ۔اس تقریب میں انھوں نے اپنے منتخب اشعار سے محاضرین اور سامعین کو محظوظ کیا۔
اس محفل تقریب کی دوسری مہمان محترمہ رئیسہ خمار آرزو نے اپنے فن اور شعری سفر کے متعلق تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے ماضی کے عظیم شعرا کو پڑھا ،میں ان سے حد درجہ متاثر ہوئی اور ابتدا میں ردیف وقوافی کے شعور بغیر میں نے لکھنا شروع کردیا۔چنانچہ 1980جاری میرا یہ سفر آج تک رواں دواں ہے اور اس درمیان میرے تین شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں جن میں خوشبو میرے زخموں کی اور سارے ورق تمھارے وغیرہ شامل ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ یہ سفرآج بھی جاری ہے ۔ایک سوال کے جواب میں محترمہ آرزوؔ نے بتایا کہ ہمارے علاقے یعنی ناسک میں اردوگوناگوں مسائل سے دوچار ہے اور اسے متعدد مرحلے درپیش ہیں ۔میں خود ایک نجی انجمن کے ذریعے اردو کے فروغ کی کوششوں میں مصروف ہوں اور اس کامیابی کی متلاشی بھی جو میرا ہدف ہے گو وہ ابھی دور ہے مگر میں ناامید یا مایوس نہیں ہوں ۔مجھے امید ہے کہ میری کوششیں اور میری محنت و لگن مجھے ضرور میری منزل مراد
تک پہنچائے گی ۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر عمران عاکف خان نے دونوں مہمانوں سے متعدد علمی و ادبی سوالات کیے نیز مہارشٹر اور اطراف میں اردو کی صورت حال جاننے کی کوشش کی۔انھوں نے وہاں لکھے جانے والے ادب و شاعری اور جہات کے متعلق آگاہی حاصل کرنے کی کوشش نیز شمالی ہندوستان میں لکھے جانے والے ادب کا تقابل کیا ۔منجملہ طور پر بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہر دوجگہ کا ادب ہمارے سماج کی حقیقی آوازاور وقت کا تقاضا ہے جسے لکھنا اور پرکھناضروری ہے اور اس سے کسی طرح کی کوتاہی برتنا خود اپنی بربادی اور اپنے اس تقاضے یا ذمے داری سے روگردانی اختیار کرنا ہے جو ہمارے اوپر ادب و علم کے راستے واقع ہوئی ہے۔
مہمانوں کا استقبال کروڑی مل کالج کے پرنسپل دنیش کھٹرنے کیا اور ان کی آمد پر بے پناہ خوشی کا اظہار کیا ۔انھوں نے اس موقع پر کہا کہ اردو ہمارے مشترکہ کلچر کی زبان ہے اور اسے دلوں کی زبان کہنا چاہیے۔انھوں نے مہمانان کی علمی ادبی کاوشوں پر اپنی بے پناہ مسرت کا اظہار کیا اور ان کی آمد کو کالج کے لیے یاد گار کا موقع قراردیا۔نیز مہمانان کو باربار کالج آمد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دہلی میں کے ایم سی کو اپنا گھر سمجھیں اور ہمیشہ یہاں تشریف لائیں ۔ہم اور ہمارا کالج آپ کے لیے ہمیشہ چشم براہ ہے۔
اس موقع پر شعبہ کے طلبا و طالبات کے بڑی تعداد میں موجود تھے جن میں دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر محمد صادق ،کالج کے طلبا میں محمدارشد راجہ، محمدآصف،محمدپرویز عالم، محمد عمران،النواز سیفی،محمد توفیق وغیرہ نمایاں طور پر شامل ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *