شہید سی آر پی ایف نوجوان 8برس بعد بھی نظر انداز

سنتوش دیوگری
زمین ہتھیانے کی دوڑ میںعام آد می تو عام آدمی، سرحد کی حفاظت کرنے والے ان نوجوانوںکے متعلقین کو بھی نہیںبخشا جارہا ہے جو اپنے کلیجے کے ٹکڑے کو ملک کے لیے قربان کرکے صرف ان کی یادوں کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ایسا کرتے ہوئے ان سرکاری ملازمین کو ذرا سی بھی شرم نہیںآتی جو زمین کی ہیرا پھیری سے لے کر کاغذوں کی ہیرا پھیری میں ملوث ہیں، جن کی غلطی سے یہ سب ممکن ہوپارہا ہے۔ یہ معاملہ اتر پردیش کے مرزا پور ضلع کا ہے، جہاں ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کردینے والے جوان کے خاندان کو اس کی شہادت کے 8 سال بعد اس کے نام سے بننے والے اسمارک کی زمین کی حفاظت کے لیے افسروں کے در پر فریاد کرنی پڑ رہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ شہید کی یادگار بنانے کے لیے دی گئی زمین بھی دوسروںکو پٹے میں دے دی گئی ہے۔
مرزا پور ضلع کے مڑیہان تھانہ علاقہ کے تحت ککرد گاؤں کے باشندے سی آر پی ایف کے جوان رہے گرجا شنکر موریہ 25 مارچ 2009 کو آسام میں انتہا پسندوں کے ساتھ ایک مڈبھیڑ کے دوران شہید ہوگئے تھے۔ ملک کے لیے شہید ہونے والے گرجا شنکر کی لاش جب گاؤںککرد پہنچی تھی تو ہزاروںکی بھیڑ اپنے گاؤںکے سپوت کی لاش دیکھ کر بلک بلک کر رو رہی تھی۔ موقعہ پر موجود اس وقت کے ایس ڈی ایم مڑیہان ڈاکٹر وشرام نے شہید گرجا شنکر کی یادگار بنانے کے لیے 4 بسوا زمین دینے کا اعلان سی آر پی ایف کمانڈر کی موجودگی میںکیا تھا۔اس اعلان کے بعد 4 بسوا زمین بھی شہید جوان کے آبائی گاؤں ککرد میں اراضی نمبر 1872 دینے کی بات کہی گئی تھی۔

 

 

 

 

 

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ شہید گرجا شنکر کے متعلقین اعلان کی گئی زمین پر گزشتہ 8 سال سے یادگار بنانے کاانتظار کررہے ہیں اور اب ان کی امید بھی مایوسی میں بدلنے لگی ہے۔ گزشتہ 8 سال تک یہ زمین خالی پڑی رہی لیکن سرکاری لاپرواہی کے سبب ایس ڈی ایم کا یہ حکم جاری نہیں ہو پایا۔ اس وقت شہید کے متعلقین حیران رہ گئے جب گرام پردھان اور لیکھ پال کے ذریعہ شہید کے لیے چھوڑی گئی اراضی نمبر1872کا پٹہ دوسرے کو کردیا گیا،جس کی کانوںکان کسی کو بھنک تک نہیںہونے پائی۔
مزے کی بات یہ ہے کہ شہید اسمارک کے نام پر دی گئی زمین پرگپ چپ ڈھنگ سے کرائے گئے پٹہ ہولڈر نے مکان کی تعمیر کرنا شروع کردی جسے دیکھ کر لوگوں کے کان کھڑے ہوئے۔شہید اسمارک کے لیے چھوڑی گئی زمین پر تعمیر کا کام دیکھ کر شہید کے متعلقین بھی حیران رہ گئے۔ وہ آناً فاناً میں اپنی فریاد لے کر افسران کے یہاںپہنچے۔ شہید کی تصویر کے ساتھ ضلع مجسٹریٹ آفس پہنچی شہید گرجا شنکر کی بیوہ اور متعلقین ڈی ایم ومل کمار دوبے سے مل کر اسمارک کے لیے چھوڑی گئی زمین پر گرام پردھان اور لیکھ پال کے ذریعہ کیے گئے پٹے کی مخالفت کرتے ہوئے زمین کو ان کے چنگل سے آزاد کرانے کی فریاد کی۔ ضلع مجسٹریٹ ومل کمار دوبے نے شہید کے متعلقین کو ترجیح کی بنیاد پر اسمارک کے لیے زمین فراہم کرانے کی یقین دہانی کرائی۔افسران کے مطابق اس وقت کے ایس ڈی ایم نے موقع پر اسمارک بنانے کے لیے زمین دینے کا اعلان تو کردیا تھا لیکن قانون کے مطابق اس زمین کا پٹہ شہید کے متعلقین کو نہیںہو پایا تھا۔ ایسے میںحکم محض زبانی ہی رہ گیا تھا۔ زمین کے کاغذات بھی شہید کے متعلقین کو نہیںمل پائے تھے۔ فی الحال غلطی کس کی ہے، یہ تو جانچ کی بعد ہی پتہ چل پائے گا۔ انتظامی افسر کی یقین دہانی پر شہید کی یاد میںاسمارک بننے کا انتظار کر رہے گاؤں والے اور متعلقین مایوس ہوچکے ہیں۔ اب متعلقین کو لگنے لگا ہے کہ کہیںملک کی حفاظت میںاپنے جان گنوا چکے شہید کے اسمارک بنانے کا ان کا خواب ادھورا نہ رہ جائے۔ متعلقین اب زمین بچانے کے لیے افسروںکے یہاںچکر کاٹ رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف گرام پردھان اور علاقے کے لیکھ پال کے رول پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ جب شہید کے نام کی زمین کو بخشا نہیںجارہا ہے تو بھلا عام آدمی کی زمین کا کیا ہوتا ہوگا۔

 

 

 

 

 

غور طلب ہے کہ یہ وہی مڑیہان تحصیل ہے جہاںایک دو نہیں ز مین سے جڑے ہیرا پھیری کے کئی معاملے سامنے آچکے ہیں، جہاںزمین کسی اورکی اور نام ہوگئی کسی اور کے۔ ایسے ہی ایک معاملے میںایڈوکیٹ سمیت کچھ لوگوںکے خلاف مقدمہ بھی درج ہوچکا ہے۔ زمین کی ہیراپھیری کو لے کر مڑیہان تحصیل سرخیوںمیںرہی ہے۔ اب تازہ معاملہ شہید جوان کے نام پر اسمارک بننے کے لیے چھوڑی گئی زمین پر پردھان اور لیکھ پال کی مہما سے دوسرے کا پٹہ کردیے جانے پر یہ تحصیل سرخیوں میںآگئی ہے۔ لوگوںمیںاس بات کا تذکرہ ہے کہ کیا انتظامیہ شہید کے اسمارک کے لیے زمین اس کے متعلقین کو سونپ پاتی ہے یا متعلقین ایسے ہی انصاف کی امید میںدردر بھٹکتے رہیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *