پروفیسر ابراہیم موسیٰ کی کتاب ’دینی مدارس عصری معنویت اور جدید تقاضے ‘کی رسم نمائی

book-release
2نومبرکوجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں پروفیسر ابراہیم موسیٰ کی کتاب ’دینی مدارس عصری معنویت اور جدید تقاضے ‘کی تقریب رسم اجراء شعبہ اسلامک اسٹڈیز اور ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز،نئی دہلی کے اشتراک سے عمل میں آئی۔ پروفیسر طلعت احمد،وائس چانسلر،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی صدارت میں اس پروگرام کا آغاز ہوا۔انہوں نے اس موقع پر فرمایا کہ موجودہ دور میں مدارس اور ان کے کردار پر نوع بنوع سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ایسے میں اس کتاب کی اہمیت اور افادیت بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب مدارس کے حوالے سے غلط فہمیوں کاازالہ کرنے میں معاون ہو گی۔ صاحب کتاب،پروفیسر ابراہیم موسیٰ،نوٹریڈم یونیورسٹی،امریکہ نے اپنے خطاب کے دوران فرمایا کہ بنیادی طور پر میری تعلیم مدارس کی رہین منت ہے۔اسی کے ذریعہ مجھے اسلام کو نئے سرے سے سمجھنے اور دریافت کرنے کا موقع ملاہے۔میری یہ کتاب میری زندگی کا ایک اہم باب بھی ہے اور مدارس کے تعلق سے عالمی سطح پر پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔
مہمان خصوصی ،ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے مختصرا گفتگو کرتے ہوئے کتاب کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا اورانہوں نے مترجم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ کتاب کے پڑھنے سے یہ محسوس نہیں ہوتا ہے کہ یہ اصل کتاب نہیں ،بلکہ ترجمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مزید کتابوں کی ضرورت ہے۔ پروفیسر محمد اسحق، صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے صاحب کتاب کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اپنے موضوع پر یہ بہت ہی اہم کتاب ہے اورمصنف نے اس کا بخوبی حق ادا کیا ہے ،کیوں کہ اس موضوع پر پر وہی بہتر روشنی ڈال سکتا ہے جوخود وہیں سے فارغ ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس موضوع پر تحریر وتصنیف کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔پروفیسر اقتدار محمد خان،ناظم دینیات اورسابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کتاب وقت کی اہم ضرورت ہے اوریہ تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔اس لیے کہ مصنف خود مدرسے کے فارغین میں سے ہیں اوراسی کے ساتھ انہیں جدید دنیا کو قریب سے دیکھنے اور برتنے کا موقع ملا ہے۔ڈاکٹر وارث مظہری،مترجم کتاب نے رسم اجرا کے موقع پرکہا کہ اس کتاب کا ترجمہ میرے لیے انتہائی خوش آئین تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کا مقصد یہ تھا کہ عالمی سطح پر مدارس کے بارے میں جو گفتگو چل رہی ہے وہ ہمارے اردو قارئین کے سامنے آجائے۔اس کتاب کے مشتملات مدارس کے علماء و فضلاء کے لیے حوصلہ افزائی بھی ہیں اور چشم کشا بھی۔اسی نے مجھے اس کتاب کے ترجمہ کی تحریک دی۔
پروگرام کی نظامت سعید انور نے کی۔اس موقع پر شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اساتذہ جناب جنید حارث، ڈاکٹر محمد مشتاق،ڈاکٹر محمد ارشد،ڈاکٹر محمد خالد خان،ڈاکٹر عمر فاروق ،ڈاکٹر خورشید آفاق،اسامہ شعیب علیگ،محمد مسیح اللہ ،نجم السحر،جاوید اختر،تحسین زمان کے علاوہ پروفیسر ایوب ندوی،پروفیسر حبیب اللہ خان، دیگر معزز مہمان ،عمر مبین اعظمی ،عامر جمال ،امرین ،ریسرچ اسکالرس اور طلبہ وطالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *