بی جے پی ایم پی شیاما چرن گپتا کا سنسنی خیز انکشاف نوٹ بندی سے بے روزگاری اور خود کشی بڑھی

ایک ایسے وقت جب نوٹ بندی کا ایک برس مکمل ہونے پر مرکز میںبرسر اقتدار بی جے پی اور مرکزی وزراء کالے دھن سے نمٹنے کے لیے نوٹ بندی کی خوبیاں بیان کرتے تھک نہیںرہے ہیں، الہ آباد سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور بیڑی کے ممتاز تاجر شیاما چرن گپتا نے یہ انکشاف کرکے اصل حقیقت کو سامنے لادیا ہے کہ نوٹ بندی سے خود کشی اور بے روزگاری بڑھی ہے اور غیر منظم کاروبار (ان آرگنائزڈ سیکٹر) مفلوج ہوگیا ہے۔ بی جے پی ایم پی کا یہ تبصرہ دراصل 9 نومبر کو نئی دہلی میں کانگریس رکن پارلیمنٹ ایم ویرپّا موئلی کی سربراہی والی مالیات سے متعلق پارلیمنٹری پینل کے ذریعہ نوٹ بندی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بلائی گئی خصوصی میٹنگ کے دوران آیا۔ اس موقع پر مرکزی حکومت کے اقتصادی امور کے سکریٹری سبھاش چندر گرگ، مالیاتی سروس سکریٹری راجیو کمار اور سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسیز کے چیئرمین سشیل چندر و دیگر ارکان پینل موجود تھے۔
عیاں رہے کہ شیاما چرن گپتا خود بیڑی کے ایک بڑے تاجر ہیں اور 250 کروڑ روپے کی مالیت والے بزنس شیاما بیڑی کے مالک ہیں۔ انھوں نے اپنے بزنس ہاؤس سمیت تمام ان آرگنائزڈ بزنس ہاؤسوں پر نوٹ بندی کے گزشتہ ایک برس میںپڑے بھیانک اثرات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے کیش فلو کو روک دینے یا کم کردینے سے نوکریوں میںزبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ مزید برآں پھر بیڑیوں پر 28 فیصد جی ایس ٹی کے لاگو ہونے سے یہ سیکٹر ڈیمانڈ میںبڑی کمی کا شکار ہواہے۔
اس وقت عجب صورت حال پیدا ہوگئی جب شیاما چرن گپتا نے مذکورہ پارلیمنٹری پینل کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میںمتعلقہ آفیسروں سے نوٹ بندی کی وجہ سے ان آرگنائزڈ سیکٹر میںگزشتہ ایک برس میںخود کشی سے ہوئی اموات کے اعداد و شمار پوچھے۔ انھوں نے جاننا چاہا کہ ’’کیا وہ جانتے ہیںکہ ان آرگنائزڈ سیکٹر میںکتنی خراب صورت حال ہے جہاںلوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔‘‘ وزارت خزانہ کے آفیسروںسے ان کا سوال تھا کہ کیا انھوں نے ان آرگنائزڈ سیکٹر میںملازمین کے ذریعہ مجبور ہوکر کی جارہی خودکشیوںپر کوئی اعداد وشمار جمع کیے ہیں؟
دلچسپ بات تو یہ تھی کہ مذکورہ میٹنگ کے دوران پینل کے باقی بی جے پی کے ارکان بالکل خاموش رہے اور مرکزی حکومت کی حمایت میںمیدان میں نہیں کودے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس موقع پر کسی بی جے پی لیڈر نے نہیںبلکہ راجیہ سبھا سے آزاد ایم پی راجیو چندر شیکھر مرکزی حکومت کی نوٹ بندی کے فیصلے کے حق میںبولے۔ قابل ذکر ہے کہ چندر شیکھر بینگالورو سے راجیہ سبھا میںنمائندگی کرتے ہیں اور یہ ایشیا پینٹ کے مالک ہیں۔نیز نیوز بروڈ کاسٹر ریپبلک کے مالی طور پر معاون ہیں۔

 

 

 

 

 

پارلیمنٹری پینل کی اس میٹنگ میںاپوزیشن ارکان نے کہا کہ نوٹ بندی سے چین کو کافی فائدہ ہوا ہے۔ ترنمول کانگریس ایم پی سوگاتا رائے نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد گزشتہ ایک برس میںچین سے درآمد 23 فیصد بڑھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پے ٹی ایم جو کہ اصل ڈجیٹل پیمنٹ پلیٹ فارموں میںسے ایک ہے، کو چینی ای کامرس جیانٹ علی بابا کے ذریعہ مالی تعاون ملتا ہے۔
مذکورہ پارلیمانی پینل ماضی میںریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سے بات کرچکا ہے۔ پینل کے چیئرمین موئلی نے کہا کہ ’’آئندہ ہفتہ ہم لوگ ٹیلی کام انڈسٹری ، جس میںپرائیویٹ اور سرکاری دونوںشامل ہوںگی، سے مل کر یہ جاننا چاہیںگے کہ کیا ہم لوگ کیش لیس معیشت کے لیے واقعی تیار ہیں؟ اور آخر میںہماری میٹنگ متعلقین ،کارپوریٹس، چھوٹے اور درمیانے انٹر پرائزیز ، زراعتی سیکٹر اور ریئلٹی سیکٹر سے ان پر ہوئے نوٹ بندی کے اثرات کو جاننے کے لیے ہوگی۔‘‘
جہاںتک نوٹ بندی سے پیدا ہوئی بے روزگاری کا سوال ہے، یہ تو اب اظہر من شمس ہے۔ سینٹر فارمانیٹرنگ انڈین اکانومی کے مطابق،15 لاکھ سے زائد افراد نوٹ بندی سے متاثرہوکر 2017 کے ابتدائی چار مہینوں میںاپنی نوکریاںکھو چکے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی رسالہ ’فنانشیل ٹائمز‘ میں نائب صدر کانگریس راہل گاندھی کا مضمون چھپا ہے، جس میںانھوںنے نوٹ بندی کے ایک برس مکمل ہونے پر اظہار خیال کیا ہے کہ ’’نوٹ بندی سے ہندوستان کی 2 فیصد گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ (جی ڈی پی) کم ہوئی ہے، انفارمل لیبر سیکٹر برباد ہوا ہے او رمتعدد چھوٹے اور درمیانے بزنس ختم ہوگئے ہیں۔ نیز نوٹ بندی نے محنت کش لاکھوںہندوستانیوںکی زندگیاں تباہ کردیہے۔‘‘
ان آرگنائزڈ سیکٹر کی دیگر گوںہوتی حالت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود پی ایم مودی کے پارلیمانی حلقہ بنارس میںنوٹ بندی کا شکار ہوکر بنکر تنزلی کا بری طرح شکار ہوگئے ہیں۔ ’آج تک‘ چینل کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، بنارس کے سریا میںامر پور بٹلوئیا بنکروںکی ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ یہاں محمد جلیل کا خاندان گزشتہ کئی پشتوںسے بنارسی ساڑی کے کاروبار سے جڑا ہوا ہے۔ 63 سالہ عبد الجلیل اور ان کے بیٹے بنکر ہیں لیکن ایک برس قبل ملک میںلاگو ہوئی نوٹ بندی کی مار یہ خاندان اب تک جھیل رہا ہے۔ عبدالعزیز نے بتایا کہ 7 برس قبل انھوںنے اپنے گھر پر چار ہینڈلوم مشینوں کو ہٹاکر پاور لوم لگایا تھا، جس کے بعد 7 سے 8 ہزار کمائی ہوجاتی تھی لیکن نوٹ بندی کے بعد ان کی کمائی اب آدھی رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنارس اور اس کے اردگرد کے کئی ضلعوںمیںبنارسی ساڑی کے بنکروں کا کاروبار نوٹ بندی کے بعد تقریباً ٹھپ ساہوگیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیںکہ یہ دیگر گوںحالت چل ہی رہی تھی کہ اسی دوران جی ایس ٹی کی مار پڑی، جس کے نافذ ہونے کے بعد انھیں بنارسی ساڑی بنانے کے لیے تانا بانا یعنی وہ دھاگہ جس سے ساڑی بنتی ہے ، خریدنے کے لیے بھی لالے پڑگئے کیونکہ جی ایس ٹی کے بعد اس کی قیمت بڑھ گئی اور وہ اسے خریدنے کے لائق نہیں رہے ہیں۔ یہاں یہی حالت سریا کے ایک اور بنکر نثار احمد اور ان کے چار بھائیوں کی ہے۔ چند برس قبل ان لوگوں نے5 ہینڈ لوم مشینیںہٹاکر پاور لوم مشینیںلگائی تھیں۔ 5 کاریگر اس میںکام کرتے تھے لیکن نوٹ بندی کے نافذ ہونے کے بعد نثار احمد اور ان کے بھائی ان کاریگروں کو اجرت دینے کی پوزیشن میںنہیںرہے۔ لہٰذا ان کی چھٹی کردی گئی ۔ پی ایم مودی کے حلقے میں دیگر متعدد بنکروں کی بھی خراب صورت حال ہے۔

 

 

 

 

 

ان آرگنائزڈ سیکٹروں میںعمومی طور پر یہی بری حالت ہے۔ دوسری مثال مراد آباد کی لیں جہاںکی معیشت بھی نوٹ بندی سے بری طرح متاثر ہے۔ وہاںکی قابل رحم صورت حال کا نقشہ کھینچتے ہوئے سید خرم رضا نے ’ چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ ایک شخص عارف ہیں جن کی آج جو حالت ہے، اسے دیکھ کر کوئی یہ نہیںکہہ سکتا ہے کہ اس شخص کا کبھی ایسا کارخانہ رہا ہوگا، جس میں6 سے 7 افراد ہمیشہ کام کرتے ہوںگے او رخود 40 سے 50 ہزار روپے ماہانہ وہ کماتا ہوگاجبکہ نوٹ بندی کے ایک برس پورا ہونے کے بعد اس کی حالت یہ ہے کہ اس کے پاس اپنے ہاتھ پر پلاسٹر کرانے کے لیے 1500 روپے تک نہیںہیں او روہ ایک سستے سے جراح سے اپنے ہاتھ کی ہڈی پر لگی چوٹ کی پٹی کرارہا ہے۔ نوٹ بندی کا فیصلہ اس کے لیے ایسی پریشانیاںلے کر آیا کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوںکو تنخواہ دینے والے سے تنخواہ لینے والا بن گیا۔
آئیے، دیکھتے ہیں کہ عارف خود اپنی دردناک کہانی کیا بتاتا ہے۔ عارف نے کہا کہ ’’میں40 سے 50 ہزار روپے ماہانہ کمایا کرتا تھا اور میرے پاس 6 سے 7 لوگ کام کرتے تھے اور 15 ہزار روپے کمالیتے تھے مگر آج حالت یہ ہے کہ میںخود آج 10 ہزار روپے ماہانہ کی نوکری کہیںاور کررہا ہوں۔ میری بیٹی جو ایم بی اے کی تعلیم حاصل کررہی تھی، اسے درمیان میںنوٹ بندی کی مار کے سبب تعلیم روک دینی پڑی ۔ بیٹا جو انٹر میںپڑھ رہا تھا، وہ بھی گھر پر پڑھائی چھوڑ کر بیٹھا ہوا ہے ۔ جب نوٹ بندی لگی تھی تب ان دنوں میںدن میںبینکوںکی لائن میںلگ کر پیسہ نکالتا تھا اور اپنے ملازمین کے لیے تنخواہ کا انتظام کرتا تھا۔ ملازمین کے بینک میںاکاؤنٹ نہیںتھے،کوئی چیک لینے کے لیے تیار نہیںتھا، کچا مال بھی صرف اور صرف نقد میں مل رہا تھا۔ جن لوگوںسے پیسے لینے تھے، ان کی پوزیشن نقد دینے کی نہیںتھی۔ سب کے سب چیک دے رہے تھے۔ اس سب کا اثر یہ پڑا کہ دھیرے دھیرے کام بند ہوگیا۔ کچھ دنوںتک تو جمع رقم سے کھایاپھر جب وہ بھی ختم ہونے لگی تو مجبوری میںکارخانہ بند کرکے بچوںکو پالنے کے لیے ایک چھوٹی سی نوکری کرلی۔‘‘ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عارف کے کارخانہ میںپاور کا کمرشیل کنکشن لگا ہوا ہے اور اسے امید ہے کہ اچھے دن جلد آئیں گے اور وہ پھر کارخانہ شروع کر پائے گا۔ اس لیے اس نے بجلی کا کنکشن نہیںکٹوایا ہے۔
ان تمام مثالوںسے اندازہ ہوتا ہے کہ مختلف ان آرگنائز ڈ سیکٹروںمیںیہی صورت حال مجموعی طور پر پائی جاتی ہے۔ شیاما چرن گپتا کی باتیںکڑوی ضرور ہیں مگر سچ ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت پر ان سب کا اب بھی کوئی اثر پڑے گا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *