گجرات میں لوگ بی جے پی سے تنگ آگئے ہیں

پچھلے دنوں دو اہم باتیں خبروں کی سرخیوں میں تھیں۔ پہلی ،31 اکتوبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جینتی منائی گئی ۔سردار پٹیل ایسے انسان ہیں، جن کی زندگی ،تاریخ، ان کے کام ،سب کچھ معروف ہیں۔اس سرکار کو ان کے تعلق سے کوئی نئی بات بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ کوئی دین دیال اپادھیائے نہیں ہیں،جن کا نام کسی نے سنا نہیں ہے۔ سردار پٹیل کی سب سے بڑی کامیابی 500 راج گھرانوں کے ہندوستان میں الحاق کرنے کی تھی۔ جب برٹش ہندوستان چھوڑ کر گئے،تب انہوں نے برٹش انڈیا کو ہندوستان اور پاکستان کے بیچ بانٹ دیا۔ جو راج گھرانے تھے، انہیں کھلی چھوٹ دے دی کہ انہیں جو کرنا ہے، وہ کریں۔جیسا کہ ایسی صورت حال میں ہوتا ہے، برٹشوں نے سوچا کہ یہاں افراتفری پھیل جائے گی اور ہندوستان تکلیف میں آ جائے گا۔ سردار پٹیل سوجھ بوجھ والے آدمی تھے، ہوم منسٹری اور منسٹری آف اسٹیٹ ان کے تحت تھی۔ لارڈ مائونٹ بیٹن گورنر جنرل تھے۔ وہ وائسرائے سے گورنر جنرل بن گئے تھے۔یہ صحیح بات ہے کہ سردار پٹیل نے ایک ایک راجا ،مہاراجا کو الگ الگ بلا کر سمجھوتے پر دستخط کرا لئے کہ انہوں نے ہندوستان کے ساتھ اپنی ریاست کے الحاق کا معاہدہ کرلیا ہے ۔اس میں لارڈ مائونٹ بیٹن کی بہت بڑی شراکت داری تھی، کیونکہ لارڈ مائونٹ بیٹن کو ہندوستان سے محبت تھی۔وہ دل سے چاہتے تھے کہ ہندوستان ترقی کرے۔ انہوں نے سردار پٹیل سے کہا کہ آپ آگے بڑھئے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مہاراجا بھی سمجھتے تھے کہ پولیس اور افواج ان کے ساتھ تھیں، تو اس کا دبائو بنا تھا۔لیکن سردار پٹیل کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہر مہاراجا کی نفسیات سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کون سا راجا کس بات سے متاثر ہوگا۔ تین چار ریاستوں کو چھوڑ کر انہوں نے ہوشیاری کے ساتھ اس مسئلے کو حل کر لیا۔ ان ریاستوں میں کشمیر آج تک مصیبت بنا ہوا ہے، نظام بہت بعد میں ساتھ آئے تھے۔
اب بی جے پی اچانک سردار پٹیل کو اپنا رہی ہے۔ ایسی بات کر رہی ہے جیسے وہ بی جے پی یا آر ایس ایس کے ممبر تھے۔ ایسا بالکل نہیں تھا۔ گاندھی جی کے قتل کے بعد سردار پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی لگائی تھی۔وہ اس بات سے پریشان تھے کہ ہندو ،ہندو بول کر گاندھی کا قتل کر دیا گیا۔ یہ دراصل ان کا انتخابی معاملہ ہے۔یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ نہرو ویلن تھے۔جب وہ وزیر اعظم بنے توملک کا بہت نقصان ہوا۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور راہل گاندھی کی شکل میں نہرو خاندان چل رہا ہے ،یہ بالکل غلط ہے۔خاندان کیسے چلے گا؟یہاں انتخابات ہوتے ہیں۔ اگر خاندان چلتا تو نریندر مودی کیسے ملک کے وزیر اعظم بن گئے؟ کسی دیگر پارٹی کے اندر کیا ہو رہا ہے، کیا اب وہ اس میں بھی دخل دیں گے؟کسی پارٹی کا لیڈر وہی بنتا ہے، جو ووٹ لا سکے۔ نریندر مودی کو بی جے پی نے اس لئے منتخب کیا، کیونکہ 2014 میں انہیں لگا کہ بھلے ہی اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی سینئر ہیں،لیکن نریندر مودی لوگوں میں زیادہ مقبول ہیں۔ اس وقت یہ کہا گیا کہ وہ جس طرح کے اسپیکر ہیں ،جس طرح سے وہ اپنی باتیں کہتے ہیں، اسے آج کی نوجوان نسل پسند کرتی ہے۔ اس میں کیا غلط ہے؟آج اگر کانگریس میںسب سے زیادہ بھیڑ راہل گاندھی کے لئے آتی ہے تو کیا احمد پٹیل کو صدر بنا دینا چاہئے؟آپ چاہتے ہیں کہ نہرو ،نہرو بول کر ،جیسے کہ نہرو بدسلوکی کا لفظ ہو، خاندان واد بول کر کانگریس کا نقصان کریں، اس دھوکے میں اب کوئی نہیں آتا ۔عوام بہت ہوشیار ہیں۔

 

 

 

 

 

 

گجرات جو بی جے پی کا گڑھ ہے،وہاں سب سے زیادہ راہل گاندھی کا خیر مقدم کیا جارہا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟وہاں راہل گاندھی اچانک مقبول نہیں ہو گئے ہیں۔ وہاں لوگ آپ سے تنگ آگئے ہیں۔ آپ نے جتنے وعدے کئے، اس پر کھرے نہیں اترے۔ آپ کی پالیسیاں خراب، آپ کا طریقہ خراب ، آپ کا طریقہ تو کانگریس سے بھی دو قدم آگے ہے۔ کانگریس نے تو کچھ گھوٹالے کئے،لیکن آپ تو ان سے بھی آگے نکل گئے۔ آپ جو جو باتیں ان کے خلاف بولتے تھے، جیسے خاندان واد ،تو کیا امیت شاہ کے لڑکے جے شاہ کا معاملہ خاندان واد کے زمرے میں نہیں آتا؟کیا وہ امبانی یا اڈوانی کی طرح پرفیکٹ کاروباری ہو گئے؟اٹل جی کے لفظوں میں ’ ’ہر پارٹی حمام میں ننگی ہے‘ ‘۔عوام کو یہ بتانے سے کہ میری قمیض اس کی قمیض سے زیادہ سفید ہے، کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ سب سیاسی باتیں ہیں اور ان کو سیاست کے لئے یہ سب کرنا پڑتاہے۔ انتخابات میں بی جے پی جس طرح سے پیسہ خرچ کرتی ہے، کانگریس نے کبھی نہیں کیا۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پیسے کہاں سے آئے؟کیا یہ پیسے غریب لوگ دے رہے ہیں؟سب کو پتہ ہے کہ پیسے کہاں سے آرہے ہیں۔سوال وہ نہیں ہے۔ گڈ گورننس کے لئے سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انتخابات اور گورننس دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ لہٰذا جملہ بازی تو الیکشن میں چل سکتی ہے،لیکن اب تو گورننس میں بھی جملہ بازی چل رہی ہے۔
سرکار اچانک سردار پٹیل کی مورتی بنا رہی ہے۔وہ مورتی چین میں بن رہی ہے جسے گجرات میں لگایا جائیگا۔ایسا کیوں؟ابھی انہیں سردار پٹیل کی یاد کیوں آرہی ہے؟ان کی موت 1950 میں ہوئی تھی۔ چلئے مان لیا کہ جب تک نہرو تھے، کانگریس نے ان کی پرواہ نہیں کی،لیکن آپ لوگ کہاں تھے؟آپ لوگوں نے کیوں نہیں کہا کہ ان کے ساتھ غلط ہو رہا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ سردار پٹیل کو بھارت رتن کس نے دیا؟انہیں بھارت رتن ہم لوگوں کی سرکار نے دیا۔ چندر شیکھر جی وزیر اعظم تھے۔ میں منسٹر آف اسٹیٹ تھا۔ سبرامنیم سوامی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم لوگوں نے سردار پٹیل کوبھارت رتن سے نوازا۔ ان کی عزت افزائی کرنے کے لئے نہیں، بلکہ ایک غلطی سدھارنے کے لئے نوازا۔ یہ 1991 کی بات ہے۔ اس بات کو گزرے ہوئے بھی 26 سال ہو گئے۔ یہ کیا بات کررہے ہیں؟ یہ اچانک ایسی بات کررہے ہیں ،جیسے انہوں نے کوئی نئی چیز ایجاد کی ہو۔
دوسری خبر ورلڈ بینک کی’’ ازاف ڈوئنگ بزنس‘‘ سے متعلق ہے۔ اس انڈیکس کے مطابق ہندوستان 130 ویں نمبر سے اب 100 نمبر پر آگیا ہے۔ مذاق یہ ہو رہا ہے کہ وہ غلطی سے ’ از ‘ بول رہے ہیں، جبکہ یہاں ’سیز آف بزنس ‘ہو رہا ہے،یعنی ہندوستان میں کاروبار بند ہورہے ہیں۔ جہاں تک رینکنگ کا سوال ہے تو ہو سکتا ہے کہ ایسا ہو، کیونکہ جو بھی اسٹڈی ہوتی ہے وہ ٹیکنیکل اور تھیوریٹیکل ہوتی ہے۔ اگر ہندوستان 130 ویں نمبر سے 100 ویں نمبر پر بھی آجائے تو اس کا کیا فائدہ ہوا؟’’از آف بزنس ‘‘ تو نہیں ہورہاہے، نئے کارخانے تو نہیں لگ رہے ہیں۔ غیر ملکیوں کو تو چھوڑیئے ،ہندوستانی بھی کارخانے نہیں لگا رہے ہیں اور جہاں تک انڈیکس کی بات ہے ،اسے ایک دوسری مثال سے سمجھتے ہیں۔ سوشل سیکوریٹی پر جتنے بھی مغرب کے تجزیات ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بزرگوں کی سوشل سیکورٹی کے معاملے میں ہندوستان بہت پچھڑا ہواہے۔سرکار بزرگوں کے لئے کچھ نہیں کرتی ہے۔ چونکہ امریکہ میں ان کے لئے پنشن ہے، ان کے سازو سامان کے لئے پیسے ہیں۔ بدھا آشرم ہیں، لیکن یہاں ویسے بردھا آشرم نہیں ہیں۔ وہ بیوقوف ہیں جو ہندوستان کے لئے ان رپورٹوں کو متعلقہ بتاتے ہیں اور اس میں یقین رکھتے ہیں۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں ہر اولاد کا گھر اس کے ماں باپ کے لئے بردھا آشرم ہے۔ ماں باپ کو مرتے دم تک کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے، لڑکا انہیں سنبھالے گا اور بہو پائوں دبائے گی، ایسا ملک ہے ہمارا۔ تو کیا ہم مغربی چشمے سے اپنے ملک کو دیکھیں گے؟یہ ایسی سرکار آئی ہے جو ہندو ثقافت کی بات کرتی تھی۔2014 میں جب ان کی سرکار ٓائی،تو یہ ڈر تھا کہ کہیں یہ ملک پر ہندوتو نہ تھوپ دیں۔ ہندوتو تو چھوڑ دیجئے، اب یہ ہندوستان کو امریکہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اب سرکار یہاں بردھا آشرم کھولنا چاہتی ہے، تاکہ لڑکا اپنے باپ کو بردھا آشرم چھوڑ آئے۔ ایسا اس لئے کیونکہ ہمیں اس انڈیکس میں 100 سے اوپر جانا ہے،50 تک پہنچنا ہے ،20 تک پہنچنا ہے ۔ایسے میں اس انڈیکس کا کیا فائدہ ؟ان پر دھیان دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سرکار کو روزی روٹی کی فکر کرنی چاہئے۔

 

 

 

 

 

 

میں این جی او بھی چلاتا ہوں اور لوگوں کے رابطے میں بھی رہتا ہوں۔پچھلے 6 مہینوں کے دوران مجھے تین ماں باپ ایسے ملے جو اپنی لڑکیوں کی شادی کے لئے لڑکے ڈھونڈ رہے تھے۔وہ گائوں کے عام لوگ ہیں۔ جہیز روایت سماج کی برائی ہے لیکن آج بھی لوگ یہ مان کر چلتے ہیں کہ انہیں اپنی لڑکیوں کی شادی میں جہیز دینا پڑے گا۔ اس کے لئے چاہے زمین بیچنی پڑے یا قرض لینا پڑے۔ بہر حال ان تینوں لوگوں نے مجھ سے کہا کہ سرکاری نوکری والالڑکا مل جائے، تو ہمارا کام ہو جائیگا۔ ہندوستان میں آج بھی لوگوں کی نفسیات یہ ہے کہ سرکاری نوکری پکی نوکری ہے۔ زندگی بھر وہ لڑکا کمائے گا اور اس کی لڑکی کا گھر بس جائیگا۔ اس نفسیات کو سرکار بدلنا چاہتی ہے۔ وہ اسٹینڈ اپ انڈیا اور اسٹارٹ اپ انڈیا کی بات کرتی ہے۔ سرکار لوگوں کے ساتھ یہ بھدا مذاق کرتی ہے کہ آپ نوکریاں کیوں ڈھونڈ رہے ہیں۔ِ آپ دوسروں کو نوکریاں دیجئے۔ یعنی ہر آدمی انڈسٹری کھولے اور دوسروں کو نوکری دے۔ یہ لوگ کون سی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ ندا فاضلی کا ایک شعر ہے کہ ’پنڈت ملے مجھے اچھے نہیں لگتے / جتنے ہم ہیں اتنے سچے بھی نہیںلگتے۔‘ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو عام آدمی سمجھتا ہے، وہ بات بھی سرکار کو سمجھ میں نہیںآتی ہے۔
سرکار کے پاس پورا میکینزم ہے، ساری انفارمیشن ہے، سارے وسائل ہیں، اس کے باوجود سرکار لوگوںسے کہہ رہی ہے کہ نوکریاںمانگنے کے بجائے آپ نوکریاں دیجئے۔ ایک مرکزی وزیر کا کہنا ہے کہ نوکریاںکم ہوگئیں تو یہ اچھی خبر ہے،کیونکہ جن کے پاس نوکری نہیںہے، وہ انڈسٹری کھولیںگے۔ یہ کیسا بھدا مذاق ہے؟ سرکار کی مجبوری سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ الیکشن ہونے والے ہیں۔ گجرات کے الیکشن ہونے والے ہیں ، اس لیے پھر سے جملے بازی کرنی پڑے گی۔ جملے بازی الیکشن کے بھاشنوںمیںکیجئے، سرکاری کاموںمیںمت کیجئے۔ فارن انڈیکس کو اتنی اہمیت مت دیجئے۔ نہرو کو بونا دکھانے کے لیے سردار پٹیل کی اتنی تعریف مت کیجئے۔ اگر یہ لوگ نہرو اور سردار پٹیل کی خط وکتابت کو ہی پڑھ لیں، جو اتنے اونچے درجے کی ہے کہ انھیںسمجھ میںآجائے گا کہ یہ اس میںکہیں ہیںہی نہیں۔ یہ سردار پٹیل کی تعریف کرنے کی حیثیت بھی نہیںرکھتے۔ گاندھی جی کے انتقال کے بعد نہرو نے سردار پٹیل کو ایک خط لکھا، جس میںانھوںنے لکھا کہ باپو کو گزرے چار دن بھی نہیںہوئے ہیں،ہم سب اندھیرے میں ہیںاور ہمارے آپ کے بیچ کے اختلاف کو لے کر لوگ افواہیں اڑانے لگے ہیں، بڑھا چڑھا کر بات کر رہے ہیں۔ سردار پٹیل نے فوراً جواب دیا کہ ہم نے ساتھ مل کر کام کیا ہے،ہم لوگوںمیںآپسی پیار اتنا ہے کہ لوگ کچھ بھی بولیں، اس کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔ ان کے کام کرنے کا یہ طریقہ تھا۔ آج اسے لے کر آپ اس طرح کی تشہیر کررہے ہیں ۔ آپ یہ کیجئے کیونکہ آپ اس میںماہر ہیں۔ ایک بات ہماری سمجھ میںآگئی کہ یہی کرکے آپ 2014 میں جیتے ہیں۔ ہم نے سوچا تھا کہ پانچ سال میں کوئی نیا درشن ملے گا لیکن تین سال گزر جانے کے بعد بھی کچھ نہیںہوا۔
اب وزیر اعظم کا سارا زور گجرات الیکشن پر ہے۔ آپ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ گجرات ہاریں یا جیتیں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ اپنا دھیان 2019 پر لگائیے۔ لیکن یہاںتو ہر الیکشن ضروری ہے۔ ہماچل پردیش ، جہاںسے صرف چار لوک سبھا کے ممبر آتے ہیں، اس میںبھی وزیر اعظم جان لگا دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان انتخابی ملک بن کر رہ گیا ہے۔ مجھے اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔ ہر پانچ سال میںالیکشن ہوںگے اور ملک ایسے ہی چلے گا، غریبوں کی کسی کو پرواہ نہیں،انڈسٹری لگے یا نہ لگے، اس کی کسی کو فکر نہیںہے۔ افریقہ میںایک ملک ہے، جہاں پچھلے 25 سال سے ایک ہی شخص اقتدار پر قابض ہے۔ ہر پانچ سال میںوہاںالیکشن ہوتے ہیں اور وہ خود کو فاتح ہونے کا اعلان کردیتا ہے۔ وہاںکی فوج اس کے ساتھ ہے۔ اسے کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہے۔ اگر یہی ہندوستان کا مستقبل ہے تو بہت افسوس کی بات ہے۔ اس کے لیے مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو جیسے لوگوںنے کتنی قربانیاں دی ہیں۔
بی جے پی کے لوگ جواہر لعل نہرو کو جتنی بھی گالیاں دیں لیکن وہ اس حقیقت کو نہیںجھٹلا سکتے کہ نہرو نے اپنی زندگی کے لگ بھگ دس سال جیل میںگزارے ہیں۔ اتنے وقت تک نہ تو گاندھی جیل میںرہے اور نہ ہی پٹیل او ر مولانا آزاد۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کے ایک بھاشن میںکہا کہ نہرو بھی آر ایس ایس سے کانپتے تھے۔ آج پوری جنتا کانپ رہی ہے، تو کیا اسے آپ حصولیابی کہیںگے۔ سرکار سے چور اچکے کانپیں، تب وہ تو ٹھیک ہے لیکن انھیں کوئی ڈر نہیں۔ چوراچکے و بے ایمان خوش ہیں اور عام جنتا پریشان ہے۔ الیکشن کے نتیجے کیاہوںگے،اس سے مجھے کوئی فرق نہیںپڑتا کیونکہ میںکانگریس میں نہیں ہوں لیکن یہ ملک ہم سب کا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ جو ملک ہمیں ملا ہے ، اسے بہتر حالت میںچھوڑ کر جائیں۔ اگر اچھا نہ چھوڑیں ، تب کم سے کم اسے خراب تو نہ کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *