فلسطینیوں کو قدرتی وسائل سے محروم رکھا گیا

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے۔ عام طور پر اس تنازع کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ لڑائی زمین کو لے کر ہے۔ بظاہر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے مگر اس کے پیچھے ایک اور کہانی ہے جس کی وجہ سے فلسطین پر نہ صرف اسرائیل بلکہ یوروپی ملکوں میں سے کئی ایک کی نظر گری ہوئی ہے۔
فلسطین نہ صرف ایک تاریخی اور کئی تہذیبوں کا گہوارہ سمجھا جانے والا ملک ہے بلکہ اس کی مٹی اور پانی میں قدرت نے ایسے ایسے انمول قدرتی خزانے چھپا رکھے ہیں جو مفاد پرست اور غاصب صہیونی دشمن کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ان قدرتی وسائل میں تیل اور گیس کے بے پناہ ذخائر اور معدنیات شامل ہیں۔ مگر ان وسائل پر صہیونی ریاست قبضہ جمانے اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔تیل اور گیس کے اب تک سامنے آنے والے خام ذخائر کے اعتبار سے فلسطین کا شمار دنیا کے انتہائی قیمتی ممالک میں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں جیسے جیسے تیل اور گیس کی طلب اور اس کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے فلسطین کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار اور فلسطینی قوم کو اس سے قدرتی خزانے سے محروم کرنے کی سازشیں اتنی ہی تیز تر ہو رہی ہیں۔
اپنے ملک کے ان بیش قیمت قدرتی خزانوں سے مظلوم فلسطینی قوم فائدہ اٹھانے سے اس لیے قاصر ہے کہ یہ تمام وسائل نہ صرف فلسطینیوں کی پہنچ سے دور ہیں بلکہ صہیونی ریاست ان پر قبضہ کرنے کی سازشیں جاری رکھے ہوئی ہے۔ماہرین اقتصادیات بتاتے ہیں کہ ارض فلسطین میں موجود تیل اور گیس کے قدرتی ذخائر کا اگر استعمال کیا جائے تو نہ صرف یہ ذخائر دہائیوں تک فلسطینیوں کے لیے کفایت کرتے رہیں گے بلکہ اڑوس پڑوس کے ممالک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔
مرکز اطلاعات فلسطین میں شائع آرٹیکل کے مطابق اقتصادی اور ارضیاتی ماہرین کے لگائے گئے تخمینوں اور تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ فلسطین کے 1000 سے 6000 ہزار مربع میٹر کے علاقے پر تیل اور گیس کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ وسائل زمینی درجہ حرارت میں 60 درجے سینٹی گریڈ سے لے کر 150 درجے سینٹی گریڈ تک ہیں۔ فلسطینی سمندر کی گہرائی اور سطح کے نیچے گیس کے غیرمعمولی درجہ حرارت کے وسیع تر ذخائر کا پتہ چلا ہے۔اگر اس کا منصفانہ استعمال ہو تو فلسطینیوں کی محرومی کو دور کیا جاسکتا ہے۔
فلسطین کا ساحلی علاقہ تیل اور گیس کے وسائل کے اعتبار سے زخیر قراردیا گیا ہے۔ 1930 کے بعد اس علاقے میں کئی عالمی فرموں نے سروے کیے اور یہ ثابت کیا ہے کہ فلسطینی ساحل اور سمندر کی سطح کے نیچے تیل اور قدرتی گیس کے نہ ختم ہونے والے ذخائر موجود ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں قدرت کے اس بے بہا خزانے اور پردشمن کے غاصبانہ تسلط سے اسے لاحق خطرات پر روشنی ڈالی ہے۔
گیس کا پیش بہا خزانہ
امریکی ارضیاتی سروے کرنے والی ایجنسی’یو ایس جیولاجیکل سروے‘ کے مطابق فلسطین میں’فاسل انرجی‘ کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ایجنسی کی جانب سے 2010 میں ایک تفصیلی رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا گیس کا ذخیرہ قراردیا گیا تھا۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ بحر متوسط پر خشکی کے علاقے میں 83 ہزار مربع کلو میٹر کے علاقے پر گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ یہ ذخیرہ فلسطین کے شمال میں طرطوس ، شمال مغرب میں آبی پہاڑی سلسلے تک پھیلا ہوا ہے جبکہ مشرق میں اس کی سرحد ایشیائی اور افریقی ساحل سے ملتی ہیں۔ اس ذخیرے کے جنوب میں جزیرہ سینا کا علاقہ آ تا ہے۔امریکی تونائی ایجنسی کے اندازوں کے مطابق مذکورہ گیس کے ذخیرے میں اندازاً 7 ارب ایک کروڑ بیرل تیل اور ایک کھرب 22 ارب اسکوائر فٹ گیس کے محفوظ ذخائر ہیں۔ یوں یہ تیل اور گیس کا سب سے بڑا قدرتی ذخیرہ ہے۔
امریکی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں 40 ارب 83 کروڑ سے 8.3 کھرب بیرل تیل جب کہ 1.55 کھرب اسکوائر فٹ سے 3.227 اسکوائر فٹ گیس کے ذخائر کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
اس وقت فلسطین کے جنوبی ساحل، عسقلان، اسدود بالخصوص البریر قصبے کے کھنڈرات سے تیل اورگیس نکالا جا رہا ہے۔ 1940 کے عشرے میں البریر کے شمال میں ایک کلومیٹر کی دوری پر تیل کے ذخائر کا پتہ چلا تھا۔ یہ انکشاف اس وقت عراق کی ایک آئل کمپنی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ یہاں سے تیل کا اخراج جاری ہے۔ اس کے علاوہ بحر مردار کے جنوب مشرق میں عراد کے مقام سے بھی تیل اور گیس نکالا جا رہا ہے۔ چونکہ ان علاقوں پر صہیونی ریاست کا غاصبانہ تسلط قائم ہے۔ اس لیے یہاں سے تیل اور گیس کا اخراج اور اس کا استعمال بھی صہیونی ریاست ہی کررہی ہے۔

 

 

 

 

 

فلسطین میں اہم ترین گیس فیلڈ
ارض فلسطین میں قدرتی گیس کے کئی فیلڈ موجود ہیں۔ ان میں زیادہ مشہور درج ذیل ہیں:
نوح فیلڈ:نوح گیس فیلڈ غزہ کے ساحل پر واقع ہے۔ 2012 میں یہاں سے گیس کا اخراج شروع کیا گیا تھا۔ یہ فیلڈ سطح سمندر سے 779 میٹر گہرا ہے۔
ماری فیلڈ:ماری گیس فیلڈ بھی غزہ کے ساحل بالخصوص نوح فیلڈ کے مشرق کی سمت میں واقع ہے۔ یہاں سے گیس کی پیداوار کا تخمینہ 1.1 ٹرین مکعب فٹ لگایا گیا ہے۔
تمر فیلڈ:تمر گیس فیلڈ حیفا شہر سے 80 کلو میٹر کی مسافت پر سطح سمندر سے 1700 میٹر گہرائی میں واقع ہے۔ اس کا انکشاف 2009 میں ہوا تھا مگر اس سے گیس کی اخراج کا آغاز 2013 میں کیا گیا۔ اس کے مجموعی ذخیرے کا اندازہ 8 کھرب 4 ارب مکعب فٹ لگایا گیا ہے۔ اسرائیل نے یہاں پر گیس کے منصوبوں کے لیے قبرص اور جنوبی کوریا کو بھی شامل کررکھا ہے۔
لیوی تھن فیلڈ:یہ گیس فیلڈ بحر متوسط کے مشرق میں حیفا شہر سے 130 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ صہیونی ریاست نے اس گیس فیلڈ کے لیے کئی کمپنیوں کو ٹھیکہ دے دیئے ہیں۔ قانونی طور پر یہ علاقہ مصر کے اکنامک ریجن کا حصہ ہے۔ اس گیس فیلڈ میں گیس کے کل ذخائر کا تخمینہ 18کھرب معکب فٹ لگایا گیا ہے۔
ڈالیٹ فیلڈ:ڈالیٹ فیلڈ اسرائیل کے زیرتسلط سرسبز فلسطینی علاقے سے 60 کلو میٹر کی مسافت پر ہے جس میں گیس کے ذخائر کی مقدار 0.53ارب مکعب فٹ بتائی گئی ہے۔
سارہ اور میرا فیلڈ:یہ گیس فیلڈ سرائیل کے مغربی علاقے ناتانیا کے قریب ہے جس میں گیس کے ذخائر کا اندازہ 6.5 ارب مکعب فٹ لگایا گیا ہے۔
تانین فیلڈ:اسرائیل کے ساحل سے 120کلو میٹر دور واقع تانین فیلڈ کا انکشاف 2012 میں لگایا گیا تھا۔ اس میں گیس کے ذخائر کا تخمینہ 1.1 کھرب مکعب فٹ بتایا گیا ہے۔
ڈولفن فیلڈ:یہ فیلڈ حیفا کے ساحل سے 110 کلو میٹر کی مسافت پر ہے جس میں گیس کے ذخائر 550 ارب مکعب فٹ بتائے گئے ہیں۔
میرین فیلڈ:میرین گیس فیلڈ غزہ کے ساحل سے 36 کلو میٹر دور ہے۔ اس کا انکشاف 2000 میں کیا گیا۔ اس میں گیس کے ذخائر کا تخمینہ 1.4 ٹرین مکعب فٹ لگایا گیا ہے۔ اس گیس فیلڈ میں موجود گیس نہ صرف پورے فلسطین کے لیے کفایت کرسکتی ہے بلکہ فلسطینی اسے فروخت بھی کرسکتے ہیں۔فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے باعث اس گیس فیلڈ پر کام شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔

 

 

 

 

 

 

گیس کی لوٹ مار
صہیونی ریاست نے 1970 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں گیس اور تیل کے حصول کے لیے خفیہ کھدائیوں پر کام شروع کیا۔ 1993 میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے اوسلو معاہدے کے بعد ان کھدائیوں کا کام اعلانیہ اور تیز کردیا گیا۔ اسرائیل کی دو آئل پروڈکشن کمپنیوں نے وسطی غرب اردن کے بالمقابل راس العین، طولکرم، مرج بن عامر اور وادی اردن کے شمال میں تیل کی کھدائیاں شروع کیں۔
جنگی بنیادوں پر کی گئی کھدائیوں کے دوران قدرتی تیل اور گیس کے وسیع تر ذخائر کا انکشاف ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق صہیونی ریاست نے فلسطینی علاقوں میں کھدائیوں کے دوران 83 ہزار کلو میٹر کے علاقے پر گیس اور تیل کا پتا چلا۔ تیل اور گیس کا یہ ذخیرہ فلطسطین کے موجودہ رقبے سے تین گنا زیادہ ہے۔ ان کھدائیوں سے پتا چلا کہ فلسطین میں ایک کھرب 22 ارب فٹ قدرتی گیس موجود ہے۔ یہ پوری دنیا میں گیس کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے جب کہ تیل کے کل ذخائر 7.1 ارب بیرل بتائے گئے۔
مصر کے علاقائی اقتصادی آبی علاقے کے مغرب میں ڈیلٹا تیل اور گیس فیلڈ میں اندازاً 2 لاکھ 50 ہزار مربع کلو میٹر کے علاقے پر تیل اور گیس ہے۔ اندازہ ہے کہ گیس کی محفوظ مقدار 2 کھرب 23 ارب فٹ اور تیل کے ذخائر کی 8.1 کھرب بیرل ہے۔ علاقائی اقتصادی معاہدوں کے تحت گیس اور تیل کے ذخائر پر فلسطین، مصر، اردن اور اسرائیل کا مشترکہ حق تسلیم کیا گیا۔ خیال رہے کہ اسرائیل نے مشرق وسطی کے اس وسیع گیس فیلڈ میں 1990 سے گیس اور تیل کی پیداوار بڑھا دی تھی۔ 1990 میں 12 ارب فٹ گیس جب کہ 2014 میں اس میں 2 ارب 65 کروڑ فٹ گیس میں اضافہ کردیا گیا تھا۔
قدرتی وسائل کی بہتات
مجد فیلڈ فلسطین کے‘رنتیس‘ کے علاقے میں واقع ہے۔ 2014 میں اس فیلڈ سے تیل کی پیداوار 14 ملین بیرل سالانہ تھی۔ 2011 سے مسلسل اس فیلڈ سے تیل کا اخراج جاری ہے۔ یہ آئل فیڈ 1949 میں قائم کردہ فائر بندی لائن کے مغرب میں واقع ہے۔ جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے مشرق میں واقع ہے۔
اس میں ریزرو تیل کی مقدار پٹرول کی شکل میں ڈیڑھ ارب بیرل لگائی گئی ہے جب کہ یہاں پر گیس کی مقدار ایک ارب 82 معکب فٹ بتائی گئی ہے۔ زیرزمین پٹرول کا فلسطین میں یہ سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ اس علاقے پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے قبضہ کیا تھا۔ اسرائیل نے اس علاقے میں تیل کی تلاش کا کام بھی عرب۔ اسرائیل جنگ کے بعد شروع کردیا تھا۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ فیلڈ گرین لائن کے ساتھ رام اللہ اور قلقیلیہ تک پھیلا ہوا ہے۔
رنیتس کا علاقہ قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات اور تیل و گیس کے وسائل سے مالا مال ہے۔ اس علاقے میں 600 سے 700 مربع کلو میٹر کے علاقے پر گیس اور تیل کے وسائل کا پتہ چلا ہے۔ یہاں پر خام تیل کی محفوظ مقدار 1.5 ارب بیرل جب کہ گیس کی 1 ارب 82 کروڑ مکعب فٹ ہے۔ اس کی مجموعی قیمت ایک کھرب 55 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔اسرائیلی حکومت نے اس علاقے میں 40 کنوئیں کھود رکھے ہیں۔ ان میں 26 سے تیل اور گیس کا ایک ساتھ اخراج جاری ہے جب کہ بقیہ کنوؤں سے صرف تیل نکالا جا رہا ہے۔
غزہ کی پٹی کے علاقے میں دو گیس فیلڈ واقع ہیں۔ ایک بحری گیس فیلڈ کا ذخیرہ ہے جو سطح سمندر سے 603 میٹر گہرائی میں ہے۔ یہ ذخیرہ شہر کے مغرب میں 36 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔دوسرا ذخیرہ اپنی وسعت کے اعتبار سے چھوٹا ہے۔ یہ علاقائی اور عالمی پانی کی سرحد کے قریب غزہ اور اسرائیل کے درمیان واقع ہے۔برطانیہ کی گیس پروڈکشن کمپنی کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں دونوں ذخیروں میں ایک کھرب مکعب فٹ گیس موجود ہے۔عالمی کنٹریکٹر یونین کے اندازوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں موجود تیل و گیس فیلڈ میں 1.4 ارب مکعب فٹ گیس ہے۔ یہ گیس فلسطینیوں کے لیے آئندہ 15سال سے زائد ضرورت کے لیے کافی ہے۔
فلسطینی سرمایہ کاری اور وسائل
’مڈل ایسٹ آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی صورت میں فلسطینی سمندر میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر کے لیے 6600 کلو میٹرکے علاقے کا مطالبہ کریں گے۔ گویا اس وقت فلسطینیوں کے پاس موجود قدرتی وسائل کے علاقے کا پانچ گنا زیادہ علاقے کا مطالبہ کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق اس وقت فلسطینیوں کے پاس بحر متوسط سے لیوی نیتھن گیس فیلڈ تک 200 میل کا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں گیس کی مقدار پڑوسی ملکوں کی گیس کی مقدار سے چھ گنا زیادہ ہے۔
’ماری بی‘ نامی فیلڈ میں اسرائیل نے 2012 میں گیس اور تیل کے اخراج کے لیے پرمٹ جاری کیے گئے تھے۔ فلسطین۔ اسرائیل معاہدے کی صورت میں یہ فیلڈ فلسطینیوں کو واپس کی جاسکتی ہے۔
ماری بی گیس فیلڈ میں گیس کی مقدار فلسطینیوں کے لیے پندرہ سال کے لیے کافی ہوگی۔ یہاں پر گیس کی مقدار ڈیڑھ کھب مکعب فٹ لگائی گئی ہے۔
گزشتہ 14 سال سے ساحل غزہ پر مذکورہ گیس فیلڈ میں سرمایہ کاری فلسطینیوں کا اہم خواب ہے۔ اگر اس گیس فیلڈ سے گیس کا اخراج شروع ہوتا ہے تو غزہ کی پٹی کے عوام کی زندگی بدل جائے گی۔ابھی تک فلسطینیوں نے عالمی عدالت انصاف میں سرکاری سطح پر اپنے آبی حقوق اور قدرتی وسائل کے حوالے سے کوئی درخواست نہیں دی۔ حالانکہ فلسطین 2012 سے عالمی عدالت انصاف کارکن اور اقوام متحدہ کا غیر مبصر رکن ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار اور عالمی بنک کے مشیر ممدوح سلامہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اقوام متحدہ میں 150 ممالک کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے بعد آبی اور قدرتی وسائل کے حقوق کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر اسرائیل پر اپنے یہ مطالبات منوا سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *