ملی تنظیمیں و سیاسی پارٹیاں امپاورمنٹ اصل ایجنڈا کیوں نہیں؟

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایک ایسے وقت جب ملک میںروایتی فرقہ وارانہ ہم آہنگی، رواداری اور تنوع کو خطرہ در پیش ہو، اس سلسلے میںاٹھی ہوئی کوئی بھی مضبوط آواز بہت غنیمت محسوس ہوتی ہے اور اس کی ضرورت بھی ہے مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ا سی زور و شور سے مسلم کمیونٹی کے مکمل امپاورمنٹ کے لیے اجتماعی طور پر کوئی مضبوط و متحدہ آواز نہیںاٹھتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دیگرمواقع پر مسلمانوں کا جو بڑا مجمع دکھائی پڑتا ہے، وہ تعلیمی ، معیشتی، معاشرتی، سیاسی و دیگر شعبہ حیات میںپسماندہ بنا رہتا ہے۔ سچر رپورٹ کو آئے ہوئے 11 برس ہوگئے۔ مگر مسلم تنظیموں، اداروں اور قیادتوں میںجو ہلچل ہونی چاہیے تھی، وہ زور وشور سے اور مشترکہ طور پر کبھی دکھائی نہیںپڑی۔ بعض مسلم تنظیموں نے اگر آواز اٹھائی بھی تو وہ اسی حد تک ہوکر رہ گئی کہ سچر کمیٹی کی سفارشات پر حکومت نے سنجیدگی سے عمل نہیںکیا اور زمینی سطح پر اس کے کوئی مثبت اثرات دکھائی نہیںپڑ رہے ہیں۔ اس لحاظ سے ملک کی دوسری سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی اور سب سے بڑی اقلیت حاشیہ پر رہ رہی ہے یا ترقی کی دوڑ سے باہر ہے۔
جہاںتک حکومت کا رول ہے،اس نے سچر کمیٹی کے ذریعہ یہ نشان دہی کرلی کہ مسلم کمیونٹی کے پچھڑے پن میںمجموعی صورت حال نیو بدھسٹوں سے بھی بعض علاقوں میںبدتر ہے۔ بعد ازاں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سربراہی والی یو پی اے حکومت نے وزارت اقلیتی امور کے ذریعہ مانیٹر کرتے ہوئے سچر رپورٹ پر نفاذ کا کام شروع کیا۔ کریڈٹ لینے کے لیے غلط دعوے بھی کیے گئے مگر 2014 میںکانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت کے ختم ہوتے وقت بدتر صورت حال میںمجموعی طور پر کوئی واضح فرق رونما نہیں ہوا۔ پھر بی جے پی قیادت والی این ڈی اے کے برسر اقتدار ہونے کے بعد سچر رپورٹ پر عمل درآمد سرکاری طور پر جاری رہا لیکن ساڑھے تین برس میںسب کچھ جیسا کا تیسا رہا۔ دوسری جانب مسلم ملت بشمول اس کی تنظیمیں، ادارے اور قیادتیںبھی اپنے طور پر متحرک نہیں ہوئیں۔

 

 

 

 

 

ابھی حال میں29 اکتوبر کو نئی دہلی کے اندرا گاندھی انڈور اسٹیڈیم میںجمعیتہ علماء ہند (محمود) کی ’امن و اتحاد‘ کانفرنس کے موقع پر مولانا سید ارشد مدنی و دیگر تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داران اور اہم شخصیات کی موجودگی میںجو اعلامیہ جاری ہوااور کانفرنس کے انعقاد میںمجموعی طور پر جن تین نکات کو محرک بتایا گیا ، اس سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے۔ ایک نکتہ میںحکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملک میںفرقہ پرستی پھیلانے اور مختلف نفرت انگیز عنوانات کی آڑ میں اقلیتوں ، دلتوں یا کمزور طبقات کی زندگی اجیرن بنانے والے تمام افراد اور تنظیموںپر پہلی فرصت میںمکمل پابندی لگائے اور ان کی سرگرمیوںپرگہری نظر رکھے جبکہ دوسرے نکتہ میںتمام سیاسی و فکری قائدین، سماجی تنظیموں اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے کہا گیا کہ وہ اپنے سیاسی، ذاتی یا کاروباری مفادات سے اوپر اٹھ کر محبت کے پیغام کو عام کریں۔ اسی طرح تیسرے میںملت اسلامیہ کے تمام افراد، اداروںاور تنظیموں سے بھی کہا گیا کہ وہ موجودہ حالات میںہر قسم کی مایوسی اور جذباتیت سے اپنے آپ کو بچاکر اسلامی تعلیمات پر پوری طرح کاربند ہوں اور اسلامی روایات کے مطابق تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ حسن اخلاق اور رواداری کو کام میںلاکر ، ان سے اچھے روابط رکھیں۔ علاوہ ازیں ایک بات یہ بھی تھی کہ اس اہم و غیر معمولی کانفرنس میںمختلف مذاہب کے نمائندے موجود تھے۔ کانفرنس کے روح رواں اور میر کارواں مولانا محمود اسعد مدنی کے الفاظ میں’’آج یہاںدیوبند بھی موجود ہے اور رشی کیش بھی۔‘‘
اس لحاظ سے امن و اتحاد کے نام پر یہ کانفرنس ملک کے موجودہ ماحول میںبہت ضروری تھی۔ توقع ہے کہ اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، رواداری اور تنوع کے تعلق سے اچھا اور مثبت پیغام جائے گا۔ اس کانفرنس کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس میںجہاںمختلف مذاہب کی نمائندگی تھی وہیں مسلمانوں کے بھی مختلف مکاتیب فکر کے اکابرین موجود تھے۔ عام مسلمانوں کی بھی بہت بڑی تعداد تھی مگر ایک بات جو کھَلتی ہے وہ یہ ہے کہ کبھی جمعیتہ علماء ہند یا دیگر مسلم تنظیمیںاس طرح کی بڑی کانفرنسوں میںبحیثیت مجموعی مسلم امپاورمنٹ کو موضوع بحث کیوں نہیں بناتی ہیں؟
جہاںتک ہندوستانی مسلمانوں کے زندگی کے مختلف شعبہ حیات کی دوڑ میں پیچھے پڑے رہنے کا سوال ہے، سچر رپورٹ کے مطابق پوری کمیونٹی ہی اس پچھڑے پن کا شکارہے اور ڈس امپاورڈ ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں میںجو طبقات دبے ہوئے اور کچلے ہوئے ہیں،وہ زیادہ متاثر ہیں ۔ یہ وہ طبقات ہیں جن کے درمیان زبردست ناخواندگی اور جہالت بھی پائی جاتی ہے اور ان کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں ہے۔ یہ وہ طبقات ہیںجو کہ ملک کی کل 14.2 فیصد مسلم آبادی میںتقریباً 70 فیصد ہے۔
کسی بھی کمیونٹی میںکوئی مثبت تبدیلی تب تک نہیںآتی جب تک کہ اسے خود اپنے آپ کو بدلنے کااحساس نہ ہو او راحساس ہوجانے کے بعد عملی جدوجہد اس جانب نہ ہو۔ اس تعلق سے ایک صدی سے چند سال قبل شاعر مشرق علامہ اقبال نے جو کچھ کہا تھا ، وہ آج بھی بروقت اور موزو ں محسوس ہوتا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیںبدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
کسی بھی شعبہ حیات پر نظر ڈالیے، مایوسی ہی مایوسی دکھائی پڑتی ہے۔ سیاست کو دیکھیے تو مسلم نمائندگی اس کمیونٹی کی جو 14.2 فیصد ہے ، محض 6 فیصد ہے۔ یہ تو سیاسی نمائندوںکی تعداد کی بات ہے۔ جب اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور ریاستوں کے بھی دونوںایوانوں میںکیا کار کردگی رہتی ہے تو اور بھی مایوسی ہوتی ہے۔ ان میںسے ان کی تعداد نہ کے برابر ہے جو کہ ان قانون ساز اداروںمیںاپنے حلقہ انتخاب یا مسلمانوںکو درپیش اصل ایشوز اور ان کے امپاورمنٹ پر کوئی سوال اٹھاتے ہوں۔ مثال کے طور پر اس وقت پوری لوک سبھا میں تنہا آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اسدالدین اویسی ہیںجو کہ یہ کردار نبھاتے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں۔ بڑی یا معروف سیاسی پارٹیوں کے مسلم ارکان کی حالت تو بہت ہی بری ہے۔ وہ شاذ و نادر ہی سوال کرتے ہیں مگر ان پارٹیوںکے وہ مسلم چہرے یا مسلم نمائندے کہلاتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ انھیںپارٹی لائن کا خیال رکھنا پڑتا ہے مگر ایسا بھی نہیںہے کہ وہ اپنے اپنے حلقے میںمسلم آبادی والے علاقوںکو اسکولوں، اسپتالوں، سڑک، پانی، بجلی و دیگر سہولیات فراہم کرانے کی بات کریںگے تو انھیںان کی پارٹی روک دے گی۔ دراصل یہ ایجنڈا ان مسلم سیاسی لیڈروں کا خواہ وہ جس پارٹی میں موجود ہوں، ترجیحی طور پر نہیںرہا ہے۔
جہاںتک اویسی کا معاملہ ہے۔ ان کی پارٹی حیدرآباد / تلنگانہ تک محدود ہے، مہاراشٹر میںپیش رفت لی ہے۔ اور بہار اور یوپی میںتو کھاتہ بھی نہیںکھولا ہے۔ لہٰذا بحیثیت مجموعی وہ پورے ملک کے مسلمانوںکے مسائل کو اٹھانے کی پوزیشن میںنہیںہیں۔ کانگریس کی بات کریںتو ایک معروف مسلم رہنما مولانا اسرار الحق قاسمی ہیں۔ دوبار سے بہار کے کشن گنج پارلیمانی حلقے سے منتخب ہوکر آرہے ہیں، تیسری بار کا بھی خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر ان کی کارکردگی کی جانچ کیجئے تو مایوسی ہوتی ہے۔ لوک سبھا میںمسلمانوں کے کسی بھی شعبہ میںان کے امپاورمنٹ پر یہ بولتے ہی نہیںہیں۔ یہ جمعیتہ علماء ہند کے اندرا گاندھی اسٹیڈیم میںمذکورہ امن و ایکتا کانفرنس میںبنفس ونفیس شریک تھے مگر کمیونٹی کو کیسے اوپر اٹھایا جائے، اس پر کچھ نہیںبولے۔ویسے اردو اخبارات میںان کا کالم پابندی سے آتا ہے۔ یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسا شخص جو کہ اپنے کالم میںاظہار خیال کرتا ہے، آخرپارلیمنٹ میںاپنے ایشوز کو کیوںنہیں اٹھاتا ہے؟ جہاںتک مسلمانوںکے مسائل کا معاملہ ہے، ان سے زیادہ واقفیت کسی اور کو ہو ہی نہیںسکتی ہے کیونکہ یہ ایک لمبے عرصہ تک جمعیتہ علماء کے جنرل سکریٹری رہے اور اس کے بعد قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے زمانے میںآل انڈیا ملی کونسل سے وابستہ ہوگئے او رفی الوقت اس کے نائب صدر ہیں۔
اقتصادی فرنٹ کی بات کریںتو کہنے کو ویپرو کے میر کارواں عظیم پریم جی، سپلا کے یوسف حمید، ڈی بی ریئلٹی کے شاہد بلواو دیگر چند افراد کا نام کارپوریٹ کے ہیروز کے طور پر دیکھنے کو ملتا ہے مگر ان کا بھی نہ مسلم کمیونٹی سے کوئی ربط ہے اور نہ ہی مذکورہ کمیونٹی کا ان سے کوئی مطلب ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اقتصادی فرنٹ پر کمیونٹی بدحالی کا بری طرح شکار ہے۔ اس سے زیادہ بری حالت اس شعبہ میںاور کیا ہوسکتی ہے کہ بمبئی اسٹاک ایکسچینج ( بی ایس ای) یا نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کے تحت اندراج 500 کمپنیوں میںایک فیصد مسلمان بھی شامل نہیںہیں جبکہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ان کی آبادی 13کروڑ 32 لاکھ 95ہزار 77 ہے۔ اسی طرح کی دیگر گوں حالت مسلمانوںکی بیورو کریسی میں بھی ہے۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروسز (آئی اے ایس)، انڈین پولیس سروسز (آئی پی ایس) اور انڈین فارین سروسز (آئی ایف ایس)میںان کی نمائندگی محض دو سے تین فیصد ہے۔

 

 

 

 

 

 

جہاں تک میڈیا کا سوال ہے، ا س میںقدرے بہتری تو آئی ہے۔ آج سے 40 برس قبل میڈیا میںمشکل سے مسلمانوںکی تعداد دکھائی پڑتی تھی۔ یہ بات صحیح ہے کہ اخبارات و رسائل ، چینلوں اور ویب میںبہت ٹاپ پوزیشنوں میںبرائے نام ہیں مگر ان کی بحیثیت مجموعی تعداد تینوںطرح کی میڈیا میںبڑھی ہے۔ شاید ہی کوئی اخبار و رسالہ ہو یا چینل یا ویب میڈیا، ہر جگہ انھوںنے اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ میڈیا میںمسلم نوجوانوںکی بڑھتی ہوئی شمولیت سے مسلم کمیونٹی کے امپاورمنٹ کے کاز میںمستقبل میںشاید مدد ملے۔ ویسے یہ بات صحیح ہے کہ میڈیا میںمجموعی طور پر مسلم نوجوانوں کی جو بڑی تعداد ہے، وہ کمیونٹی کے ایشوز سے بالکل واقف نہیںہے۔یہی وجہ ہے کہ انھیںاپنے اپنے اخبار میںکسی بھی مسلم ایشو کو یا کسی عام ایشو کو مسلم زاویہ سے کور کرنے میںدقت محسوس ہوتی ہے اور وہ اسے گہرائی سے کور نہیںکرپاتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ میڈیا میںمسلم بیٹ کا الگ سے ڈیسک ہو جس میںمامور افراد کو ان امور میںتربیت دی جائے۔ اس سلسلے میں کمیونٹی کو بھی چاہیے کہ وہ ان کے ایشوزسے واقفیت کے لیے ورک شاپ کا اہتمام کرائے۔ اسی طرح مسلم کمیونٹی میںمختلف تنظیموں ، اداروں اور افراد کے ذریعہ اخبارات و رسائل ، نیوز پورٹلز اور چینلز چلائے جارہے ہیں۔ کیرل جماعت اسلامی کے ملیالم میںروزنامہ ’مادھیہ مم‘ اور’ میڈیا ون‘چینل جیسے کثیرالاشاعت اخبار و مقبول عام چینل کو چھوڑ کر کئی ہزار اخبارات و رسائل، نیوز پورٹلز اور چینلوںکی حیثیت تعداد کے لحاظ سے بہت ہے مگر معیار اور مواد کے لحاظ سے برائے نام ہی ہے۔ نیز ان میںپروفیشنلزم کی واضح طور پر کمی ہے۔ لہٰذا وہاںموجود صحافیوں کو پروفیشنل اپروچ سے لیس کرنے کی شدید ضرورت ہے۔
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ عمومی طور پر آزادی کے بعد اورخصوصی طور پر 2006 میں سچر رپورٹ کے آنے کے بعد مسلمانوںکی تعلیمی، معیشتی، معاشرتی اور سیاسی صورت حال پر کبھی کسی مسلم تنظیم و ادارہ نے خصوصی طور پر عوامی کانفرنس نہیںبلائی۔ ان کے علاوہ اس سلسلے میںکوئی کام کیا بھی گیا تو صرف ان کی بدحالی کا رونا رویا گیا اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کی ناکردگی کا جائزہ لیا گیا اور تنقید کی گئی۔ویسے اس سلسلے میں صرف ڈاکٹر محمد منظور عالم کی سربراہی والا انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (آئی اوایس) اور جے پور میںواقع جامعتہ الہدایہ زیر سرپرستی مولانا عبدالرحیم مجددی مستثنیٰ ہیں۔ ان دونوں اداروں نے اس سمت میںقابل ذکر کام کیے ہیں۔
حکومتوںکی اپنی ذمہ داریاں ہیں، لہٰذا انھیںاس سلسلے میںسنجیدہ ہونا ہی چاہیے مگر اسی کے ساتھ ساتھ مسلم تنظیموںکی مسلم امپاورمنٹ میںاپنی ذمہ داری بھی ہے،انھیںاس تعلق سے بے تعلق نہیںرہنا چاہیے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *