اسلام کسب حلال کی ترغیب دیتا ہے اور کسب حرام سے روکتا ہے:مولانا وسیم احمد مدنی

ہر انسان کے لئے اس کے دنیاوی مسائل میں سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ معاش کا ہے۔اسلام نے اس مسئلہ کے حل کے لئے جہاں محنت ومزدوری، دوڑدھوپ، تجارت وزراعت اور صنعت وحرفت اختیار کرنے پر زور دیا ہے وہیں اس معاشی جدوجہد میں حلال ذریعہ اور وسیلہ اختیار کرنے کی سخت تاکید بھی کی ہے، اور حرام کمانے اور کھانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اللہ رب العالمین نے ہر قسم کے باطل ذریعہ سے کمائے گئے مال کو کھانے سے روکا ہے۔باطل ذرائع میں دھوکہ وفریب ،ناپ تول میں کمی اور چوری وڈکیتی وغیرہ کے ذریعہ حاصل کیا ہوا مال شامل ہے۔چوری کے تعلق سے کتاب وسنت میں سخت وعید وارد ہے اور اس پر سخت ترین سزا مقرر کی گئی ہے۔اسلام کی نظر میں وہ ہاتھ جو دوسروں کے مال کی طرف بڑھے اسے اس دنیا میں باقی رہنے کا کوئی حق نہیں ۔حکم ہے کہ چور اور چورنی کے ہاتھ کو کاٹ دو۔کسی کے مال کو چپکے سے لے لینا، کسی مسافر اور راہگیر کے جیب کو کاٹنا یا ہاتھ کی صفائی سے جیب صاف کردینا، نشہ آور چیزیں کھلا پلا کر کسی کا مال اڑا لینا یہ سب چوری کی شکلیں ہیں۔ خیانت، جوا وغیرہ کے ذریعہ مال حاصل کرنا حرام قرار دیا گیا ہے اور اس پر سخت وعید سنائی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے اعلی تعلیمی وتربیتی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل کے سینئر استاذجناب مولانا وسیم احمد سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔
خطیب موصوف نے مزید فرمایا کہ قرض لیکر واپس نہ کرنا یا واپس نہ کرنے کے ارادہ سے قرض لینا ، سب حرام ذریعہ سے حاصل کیا ہوا مال ہے جس کا کھانا یا استعمال کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔قرض کا مسئلہ انتہائی اہم ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بار جنازہ لایا گیا، جب آپ صلاۃ جنازہ کے لئے آگے بڑھے تو پوچھا کہ میت پر قرض تو باقی نہیں؟ جواب دیا گیا کہ وہ مقروض ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹ گئے اور لوگوں سے کہا کہ تم لوگ خودصلاۃ جنازہ پڑھ لو، ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس کا قرض میرے ذمہ ہے میں اسے ادا کروں گا تب جاکرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی صلاۃ جنازہ پڑھائی۔اس لئے ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرض کی ادائیگی کی نیت سے قرض لے اور گشادگی ہوتے ہی اس کی ادائیگی کر دے۔
حرام کھانے یا حرام کمائی بلکہ مشتبہ امور سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام بہت محتاط رہتے تھے۔جیسا کہ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہماکے تعلق سے روایت میں آتا ہے کہ دونوں نے انجانے میں ایسی چیز کھالی جو مباح نہ تھی معلوم ہونے پر ان حضرات نے انگلی حلق میں ڈال کر قے کردی۔حرام کردہ اشیاء کا کاروبار بھی حرام ہے، حرام چیزوں کی تجارت سے جو منافع حاصل ہوتے ہیں وہ بھی حرام ہیں۔بیڑی، سگریٹ، شراب اور نشہ آور چیزوں کی تجارت، موسیقی وگانے اور ناچ وغیرہ کی سی ڈی وغیرہ کا کارو بار کرنا حرام ہے۔لہذا ہر مسلمان کو ان چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے اور حلال وپاکیزہ ذرائع سے روزی حاصل کرنا چاہئے۔اخیر میں دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *