الورسانحہ:عمرخاں کی لنچنگ بھی متنازعہ بنادی گئی

ایک ایسے وقت جب امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیوروآف ڈیموکریسی،ہیومن رائٹس اینڈلیبرنے گذشتہ 8نومبرکوہندوستان میں مذہب کی بنیادپرتشدداورامتیازات کوکم کرنے کیلئے این جی اوزکو4لاکھ 93ہزار827ڈالرکاگرانٹ منظورکرکے ایک نئی بحث چھیڑرکھاہے، ہندوستان میں گذشتہ 10نومبرکوگائے کے تحفظ کے نام پرلنچنگ کے ایک اورمبینہ واقعہ کاہونااچھی خبرنہیں ہے۔اس سے امریکی تشویش کوتقویت مل رہی ہے۔
یہ بھی عجیب بات ہے کہ 28ستمبر2015کوریاست اترپردیش میں دادری سے نزدیک بساراگاؤں میں 52سالہ محمداخلاق کی گائے کے تحفظ کے نام پربے دردی سے قتل کے بعدسے اب تک لنچنگ کاسلسلہ مختلف ریاستوں میں جاری ہے اوراب 10نومبرکوریاست راجستھان کے الورمیں 42سالہ عمرخاں کی لنچنگ کی خبرآئی ہے۔اس بیچ پی ایم مودی کئی بارگائے کے تحفظ کے نام پرتشددکی شدیدمذمت کرکے گئورکشکوں کی سخت تنبیہ کرچکے ہیں مگراس کا بھی کوئی اثرنہیں دکھتاہے۔
عیاں رہے کہ امریکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مذکورہ بیوروکافنڈدراصل ان غیرسرکاری تنظیموں کیلئے مختص ہوگاجوکہ مذہبی تشدداورامتیازات کوکم کرکے ملک میں مذہبی آزادی کے فروغ کیلئے آئیڈیازاورپروجیکٹس پیش کریں گی۔گرچہ حکومت ہندنے امریکی حکومت سے اس سلسلے میں تفصیلات مانگی ہے مگریہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایک ایساملک جوہمیشہ سے مذہبی رواداری اورتنوع کیلئے دنیابھرمیں مشہورہے، وہاں امریکہ تشدداورامتیازات کوکم کرنے کیلئے کوئی پروگرام بنائے اوراس کیلئے این جی اوزکی فنڈنگ کرے۔یہ ہمارے ملک کیلئے عزت ووقارکامعاملہ ہے۔

 

 

 

 

 

دراصل یہ کام نظم ونسق کے معاملے میں جہاں متعلقہ ریاستی حکومت کاہے،وہیں مرکزی حکومت کواس سے ہرگزبری الذمہ قرارنہیں دیاجاسکتاہے کیونکہ اس سے پورے ملک کی بدنامی ہورہی ہے اورگنگاجمنی تہذیب پردھبہ لگ رہاہے۔تقریباً سواسوسال سے یہاں مختلف بہانوں سے فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے ہیں مگرپھرجلدہی سب کچھ نارمل بھی ہوتارہاہے اورملک کا امن وامان برقراررہاہے۔نیزتنوع اوررواداری قائم رہی ہے مگرگذشتہ 26مہینوں سے ان سب کولگتاہے کہ کسی کی نظرلگ گئی ہے۔اب بھی وقت ہے کہ امریکی فنڈ سے فرقہ وارانہ ماحول کوختم کرکے ہم آہنگی اوررواداری کی فضاکوپھرسے بحال کرنے کی کوشش کے بجائے اپنے طورپرمنظم اورمربوط کوشش ہو۔اگرایساہوتاہے تویہ ملک کے حق اورمفادمیں ہوگااوریہ پیغام جائے گا کہ ماضی میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہندوستانیوں نے اس بحران پرقابوپالیا۔
جہاں تک 10نومبرکے الورکے سانحہ کاسوال ہے ،اس تعلق سے دوطرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔عمرخاں کے خاندان والوں کے بیانات کی روشنی میں مہلوک بے گناہ تھا اوروہ بلاوجہ گئورکشکوں کاشکارہوگیاجبکہ پولس اس ہلاکت میں گئورکشکوں کوذمہ دارنہیں مانتی ہے۔الورکے پولس سپرنٹنڈنٹ راہل پرکاش کاتویہاں تک کہناہے کہ اس سلسلے میں دوافرادگرفتارکئے گئے ہیں اوران سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے مگرقتل کا مقصدواضح نہیں ہورہاہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ مہلوک عمراورفرارطاہرپہلے سے مقدمات میں ملوث ہیں۔ان کے مطابق ،’’طاہرکے خلاف پانچ چھ مقدمات چل رہے ہیں اوروہ کچھ دنوں سے لاپتہ بھی ہے۔نیزعمربھی 2012سے کئی مقدمات میں مطلوب ہے‘‘۔
پولس کا مؤقف جوبھی ہو، اس کے باوجوداس بات سے توانکارہرگزنہیں کیاجاسکتاہے کہ عمرخاں کابے دردی سے قتل ہواہے۔اس سلسلے میں عمرخاں کے خاندان والوں کاکہناہے کہ الورکے بھرت پورکے علاقے میں گھاٹ میکاگاؤں دراصل ڈیئری کسانوں کاچھوٹاساگاؤں ہے۔عمر،طاہراورجاویدتینوں 9نومبرکواپنے گاؤں کچھ گایوں کوخریدنے نکلے۔انگریزی روزنامہ’انڈین ایکسپریس ‘میں طاہرکے حوالے سے جوتفصیلات منظرعام پرآئی ہیں ، وہ چونکانے والی ہیں اوران سے واقعہ پرپوری روشنی پڑتی ہے۔
واقعہ کے بعدغائب 45سالہ طاہرکی زبانی جومعلوم ہواہے وہ یہ ہے کہ ’’ہم لوگ جمعرات(9نومبر)کی دوپہرچندگایوں کوخریدنے نکلے اوردوسامیں عمراورمیں نے 5گایوں کوخریدااورپھراسی شب جاوید کے ساتھ گھرکی واپسی کیلئے نکل گئے۔جمعہ کی علی الصبح ہم لوگ جب گووندگڑھ میں ایک گاؤں سے گذررہے تھے تب اس گاؤں کے آخرمیں ایک مکان کے پیچھے چھپے ہوئے 6-7افرادنے ہم لوگوں پرفائرنگ کی‘‘۔اس سلسلے میں جاویدکاکہناہے کہ ’’اس پرگھبڑاکے طاہرچلایامگروہ افرادفائرنگ کرتے رہے اورسامنے نہیں آئے ۔اس وقت میں نے گاڑی کادروازہ کھولااورجھاڑی کی طرف بھاگا۔انہو ںنے تب میراپیچھاکیامگرمیں اندھیرے میں بھاگنے میں کامیاب ہوگیا جبکہ عمرجائے وقوع پرہی گھرے رہے۔‘‘

 

 

 

 

 

طاہرکایہ بھی کہناہے کہ وہ فائرنگ سے متاثرہوااوراسے گولی بھی لگی اوراس کے باوجودوہ دوڑتارہا۔طاہرایک ڈاکٹرکے ذریعہ بعدمیں اپنے بائیں ہاتھ سے نکالی گئی گولی کودکھاتے ہوئے مذکورہ روزنامے کوکہتاہے کہ’’ا سکے بعدانہوںنے اپنی بندوق کے کونے سے مرے سرپروارکیا،تب میں گرگیا۔اس وقت مرے کانوں میں آوازآئی کہ’’راکیش یہ (عمرخاں)تومرگیاہے، یہ (طاہر)بھی مرجائے گا‘۔میں اس کے بعدبے ہوش ہوگیا۔‘‘
طاہرکاکہناہے کہ ایک گھنٹے کے بعداسے ہوش آیااورپھرکسی کی مددسے اپنے گاؤں کے قریب پہنچاجہاں سے ہریانہ میں فیروزپورجھڑکاکے ایک ہاسپیٹل میں اسے لے جایاگیا۔اس وقت تک جاویدبھی جائے وقوع سے 40کلومیٹردوراپنے گاؤں پہنچ چکاتھا۔مذکورہ روزنامے کے مطابق، طاہراورجاویددونوں خوف کے مارے روپوش ہیں اورانہیں اپنے گھروں کو واپس لوٹناابھی باقی ہے۔
دوسری جانب گھاٹ میکاگاؤں میں مہلوک عمرخاں کی بیوہ خورشیدن جوکہ 8بچوں کی ماں ہے اورنویں بچے سے حاملہ ہے،کواس بات کاسخت ملال ہے کہ اسی کے کہنے پرعمرگائے خریدنے گیاتھا۔وہ کہتی ہے کہ ’’ہم لوگ دراصل چاہتے تھے کہ بچوں کودودھ اورگھی فراہم کرانے لئے گائے خریدی جائے ۔جمعرات کوعمرخاں کسی طرح سے نظم کرکے 15ہزارروپے لیکراس کام کیلئے نکلے اورجب وہ جمعہ کی صبح تک واپس نہیں آئے تومجھے سخت تشویش ہوئی اورپھریہ تشویش سانحہ میں بدل گئی‘‘۔
دریں اثناء مہلوک عمرخاں کے خاندان والوں نے یہ شرط لگائی تھی کہ جب تک تمام قصورواروں کوگرفتارنہیں کیاجاتاہے اور50لاکھ روپے کی موازنہ رقم نہیں دی جاتی ہے،وہ لوگ تدفین کیلئے لاش کونہیں لیں گے۔بحرحال سانحہ کے چھٹے دن خاندان اورگاؤں والوں کوسمجھابجھاکر15نومبرکوعمرخاں کاپوسٹ مارٹم کرلیاگیااورپھراسے اگلے یعنی ساتویں روز16نومبرکوگھاٹ میکاگاؤں میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میںسپردخاک کردیاگیا۔گھراورگاؤں والوں کوپولس نے یہ کہہ کررضامند کیاکہ جانچ اورتفتیش کے لئے پوسٹ مارٹم کیاجاناضروری ہے تاکہ اس کی رپورٹ سے معاملہ کی چھان بین میں آسانی ہو۔عیاں رہے کہ عمرخاں کی سرکٹی ہوئی لاش الورضلع کے گووندگڑھ کے نزدیک ریلوے ٹریکس پرپڑی ہوئی ملی تھی۔
اس پورے سانحہ کا سب سے تکلیف دہ پہلویہ ہے کہ ایک طرف تویہ دردناک واقعہ ہواجبکہ دوسری طرف راجستھان کے وزیرداخلہ گلاب چندکٹاریاکہتے ہیں کہ ریاست کے پاس اتنا’مین پاور‘نہیں ہے کہ وہ ہرصورتحال پرقابوپالیں۔ان کا یہ بیان یقینا افسوسناک ہے۔ایک ایسی حکومت جوکہ جان ومال کاتحفظ نہیں کرسکتی ہے، اس کیلئے اس سے زیادہ شرمناک بات اورکیاہوسکتی ہے؟یہ دراصل لمحہ فکریہ ہے ریاست میں برسراقتداربی جے پی کیلئے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *