سرکاری وکیلوں کی تقرری میں انصاف کا خون ہوا

سرکاری وکیلوں کی تقرری میں ایمانداری ، شفافیت ، اخلاقیات اور انصاف کے اسٹیج پر خوب ڈرامہ ہوا اور پردے کے پیچھے ان اخلاقی لفظوں سے خوب کھیلا گیا۔بی جے پی سنگٹھن منتری سنیل بنسل نے اپنے گرگوں کے ساتھ مل کر سماج وادی پارٹی کے دور کار کے زیادہ تر سرکار وکیلوں کو یوگی سرکار کے متھے پر جڑ دیا۔ اترپردیش سرکار کے قانونی مسئلوں کا بنسل نے بندر بانٹ کرکے رکھ دیا۔
سنیل بنسل کا کمال
بنسل کی تنظیمی صلاحیت کی یہ مثال لاجواب ہے۔ اس کے بعد جب تنازع نے طول پکرا تب ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جوابدہی سے پلہ جھاڑلیا۔ ریاست کے وزیر قانون برجیش پاٹھک نے لاعلمی کا اظہار کرکے خود کو بے گناہ ثابت کرنے کا کھیل کھیلا۔ ایڈووکیٹ جنرل راگھویندر سنگھ اس منصوبہ بند ڈرامے کے سب سے چالاک کھلاڑی نکلے۔ انہوں نے اپنے لوگوں کی تقرری بھی کرا لی اور یہ بھی کہہ دیا کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری میں انہیں پوچھا ہی نہیں گیا۔ پھر بڑے ہی منصوبہ بند طریقے سے اس معاملے کو ہائی کورٹ پہنچایا گیا اور ہائی کورٹ اسی منشا کے مطابق تلخ ریمارکس کیا، سرکاری وکیلوں کی تقرری کو ریوڑی کی تقسیم بننے پر سرکار کی کھینچائی کی اور لسٹ پر پھر سے غور کرکے از سر نو تقرری کرنے کا فرمان جاری کیا۔ ہائی کورٹ نے از سر نو تقرری کے لئے ایک طرف سرکار (ایڈووکیٹ جنرل) کو سخت وقت کی حد میں باندھنے کی ہدایت دی لیکن دوسری طرف سرکار کو وقت بھی خوب دیا۔ مہندر سنگھ پوار کی جس عوامی مفاد کی عرضی پر ہائی کورٹ فوری سنوائی کر رہی تھی، اس عدالت نے عرضی گزار سے یہ نہیں پوچھا کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری کے لئے وہ خود درخواست دہندہ تھے یا نہیں؟اگر یہ سوال اسی وقت پوچھ لیا جاتا تو عوامی مفاد کی عرضی منظور ہونے کے پہلے ہی قانون کی کسوٹی پر ڈھیر ہو جاتی۔ خیر یہ نوبت ہی نہیں آنے دی گئی۔ سارا اسٹیج جیسے پہلے سے سیٹ تھا۔ بڑے اطمینان سے سارے گوٹ بساط پر سوچ سمجھ کر بچھائے گئے اور سرکاری وکیلوں کی ریوائزڈ لسٹ پھر سے جاری کی گئی۔ اس ریوائزڈ لسٹ نے بدعنوانی، گٹ بازی ، بھائی بھتیجا واد کو پھر سے قائم کردیا۔ اب ہائی کورٹ بھی خاموش ہے۔ جبکہ ساری قواعدہی بے معنی ثابت ہوئی ہے۔نااہلوں کو اونچے عہدے دیئے گئے اور اہل لوگوں سے اونچے عہدے چھین لئے گئے۔ یہ بنسل اور راگھویندر کی تنطیمی صلاحیت کا ہی کمال ہے کہ کانگریس پارٹی کے ریاستی وزیر سنیل باجپئی اور کانگریس کے کٹر کارکن جگدیش پرساد موریہ کو ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ اٹارنی بنا دیاجاتاہے اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
سرکاری وکیلوں کی تقرری کے معاملے میںراشٹریہ سوئم سیوک سنگھ تو ڈھکن ہو گیا۔ سنگھ کا یہ مغالطہ دور ہوا کہ سرکار سنگھ کے بل بوتے چلتی ہے ۔سنگھ سے جڑے ایڈووکیٹ کونسل نے سرکاری وکیلوں کی تقرری اور از سر نو تقرری میں بدعنوانی اور گٹ بازی کی باضابطہ شکایت وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ سے کی ہے۔ ایڈووکیٹ کونسل نے کہا ہے کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری کے بے جا استعمال کا معاملہ اہم قانونی معاملوں میں سرکار ہار رہی ہے اور اسے شرمندگی جھیلنی پر رہی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعہ کی گئی ڈش آنر کے معاملے سے ابھرنے کے لئے سرکار کو لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑے۔ عدالت میں سرکار کا پہلو لینے کے بجائے وہ سرکار کے خلاف کھڑے ہوکر اپنی اہلیت کا تعارف دیتے ہیں اور سرکار کی ناک کٹواتے ہیں۔ ایڈووکیٹ کونسل نے وزیر اعلیٰ سے کہا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے ہی جو نیئر سے عرضی داخل کرواکر سرکاری وکیلوں کی تقرری کی اجارہ داری حاصل کرنے کا راستہ نکالا اور محنتی کارکنوں اور اہل وکیلوں کو من مانے ڈھنگ سے ہٹا کر توہین کی۔ ایڈووکیٹ کونسل کا الزام ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل نے ’’بار ‘‘ کے انتخاب میں ان کا سپورٹ نہ کرنے یا ان کی خوشامد نہیں کرنے والے وکیلوں کو سرکاری وکیل کے پردوں سے ہٹایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو اندھیرے میں رکھ کر سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کے دور حکومت میں سرکاری وکیل رہ چکے ایڈوکیٹ جنرلوں کی ٹیم بناکر اپنا گروپ کھڑا کر لیا۔ ان کے اس رویے کے خلاف پوری ریاست میں سنگھ اور تنظیم کے کارکنوں میں کافی ناراضگی ہے اور وہ پوری ریاست میں بڑے پیمانے پر آندولن شروع کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس سے سرکار کی شبیہ بھی خراب ہورہی ہے اور عدلیہ میں کام کرنے کا ماحولبھی خراب ہو رہا ہے۔ ایڈووکیٹ کونسل کا کہنا ہے کہ راگھویندر سنگھ ایسے نایاب ایڈووکیٹ جنرل ہیں جنہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ڈش آنر کا نوٹس دے کر ذاتی طور سے حاضر کرایا گیا اور انہیں معافی مانگنے کے بعد ہی چھوڑا گیا۔

 

 

 

 

 

 

مزید برتری
بہر حال ، تمام تنازع اور بدنامیوں کے باوجود سرکاری وکیلوں کی جو ریوائزڈ لسٹ جاری کی گئی۔ وہ پرانی لسٹ سے اور بھی گئی گزری ہے۔ ریاستی سرکار نے پچھلے دنوں 234سرکاری وکیلوں کی ریوائزڈ لسٹ جاری کی، اس میں بھی سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی سرکاروں میں سرکاری وکیل رہے سالسٹروں کی بھرمار ہے۔ نئی لسٹ میں تو انہیں اور بھی اجاگر کیا گیا اور انہیں ترقی دی گئی۔ ایڈووکیٹ کونسل کے ریاستی خزانچی اور قابل وکیل شری پرکاش سنگھ کو چیف پرماننٹ وکیل (فرسٹ) کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا اور انہیں لسٹ میں کہیں بھی جگہ نہیں دی گئی۔ اسی طرح سنگھ اور ایڈووکیٹ کونسل سے جڑے نیتین ماتھر، ونود کمار، شکلا ، امریندر پرتاپ سنگھ، انیل چوبے اور امر بہادر سنگھ کو ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل کے عہدہ سے ڈیموٹ کرکے اسٹینڈنگ کونسل بنا دیا گیا۔ دنیش چندر ترپاٹھی، سرویش مشرا اور منوج کمار تریودی کو اسٹینڈنگ کونسل کے عہدہ سے ڈیموٹ کرکے بریف ہولڈر بنا دیا گیا۔ کئی ایسے ناموں کو پھر سے لسٹ میں جگہ دے دی گئی ۔ جنہیں (7 جولائی کو بنی ) پچھلی لسٹ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ بی جے پی اور سنگھ کے نظریہ سے متعلق درجنوں سرکاری وکیلوں کو ریوائزڈ کے نام پر ہٹا دیا گیا اور کچھ لوگوں کو ذلیل کرکے نیچے کے عہدوںپر کھسکا دیا گیا۔ نئی لسٹ میں تین چیف پرمانینٹ ایڈوکیٹ ، 32 ایڈیشنل چیف پرمانینٹ ایڈوکیٹ، 58 اسٹینڈنگ کونسل ، 99 بریف ہولڈر سول معاملوں اور 42 بریلف ہولڈر کرمنل معاملوں کے لئے تقرری کئے گئے ہیں۔ چیف پرمانینٹ ایڈووکیٹ کے تین عہدوں میں ونے بھوشن کو شامل کیا گیا ہے۔ وہ سماج وادی سرکار میں چیف پرمانینٹ ایڈووکیٹ تھے۔ اس کے علاوہ ایڈیشنل چیف پرماننیٹ ایڈووکیٹ کے 32 عہدوں پر آدھے سے زیادہ سماج وادی پارٹی یا بہو جن سماج پارٹی کے دور میں رہے سرکاری وکیلوں کو جگہ دی گئی ہے۔ ان میں ابھینو این ترپاٹھی، رن وجے سنگھ، پنکج ناتھ، دیویش چندر پاٹھک، ویویک شکلا۔ دیپ شیکھا، اجے اگروال، امیتابھ کمار رائے، آلوک شرما، منجیو شکلا۔ ایچ پی شری واستو، جگدیش پرساد موریہ، ہیمندر کمار بھٹ، شتروگھن چودھری، پنکج کھرے اور راہل شکلا وغیرہ شامل ہیں۔ ان ناموں پر بی جے پی اور سنگھ میں سخت اختلاف تھا۔ لیکن اٹارنی جنرل نے اسے درکنار کرکے انہیں تقرری دے دی۔
اسٹینڈنگ کونسل کے عہدہ پر پہلے کی سرکاروں میں تعینات رہے انیل کمار چوبے، پتریوش ترپاٹھی، اکھلیش کمار شریواستو، آنند کمار سنگھ، پارول باجپئی، شوبھت موہن شکلا ، منو دیکشت ،د نیش مشرا، انوپما سنگھ، آشوتوش سنگھ، قمر حسن رضوی، سنجے سرین ، ونائک سکسینہ، ونے کمار سنگھ، پرفل کمار یادو۔ شرد دریویدی ۔ پشکر بگھیل، گیانیندر کمار ، شری واستو اور انیل کمار سنگھ ویشین کو پھر سے جگہ دی گئی ہے۔ بریف ہولڈ کے عہدہ پر بھی کافی تعداد میں انہی وکیلوں کو جگہ ملی جو پچھلی سرکار میں سرکاری وکیل تھے۔ قابل ذکر ہے کہ یوگی سرکار کے برسراقتدار ہونے کے بعد جولائی مہینے میں جب سرکاری وکیلوں کی تقری ہوئی تھی تب ’’چوتھی دنیا‘‘ نے ان وکیلوں کے نام شائع کئے تھے جو سماج وادی پارٹی سرکار میں سرکاری وکیل تھے یا سماج وادی پارٹی کے سرگرم حامی تھے۔ دوسری بار ’’چوتھی دنیا ‘‘نے پھر ان ناموں کو شائع کیا جو یو پی کے ایڈووکیٹ جنرل راگھویندر سنگھ کی چوکڑی کے ممبر تھے۔ ان کے لوگوں کے نام کا شائع کرنا اس لئے بھی ضروری تھا کیونکہ وہ یہ سرکاری طور پر کہہ چکے تھے کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری کے بارے میں انہیں کچھ نہیں پتہ تھا۔ تقرری معاملے کے طول پکڑنے کے بعد راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے دور کار میں جب ایڈووکیٹ جنرل طلب کئے گئے تھے تب انہوں نے علاقائی پرموٹر شیو نارائن کے سامنے یہی کہا تھا کہ انہیں تقرریوں کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔
وہی ڈھاک کے پات
از سر نو جانچ کے بعد جو نئی لسٹ بنی اس میں بھی راگھویندر کے لوگ بھرے ہوئے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کے تین خاص لوگ تو ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل کے عہدہ پر قائم کئے گئے ہیں۔ ان میں رن وجے سنگھ، پردیپ کمار سنگھ اور ڈاکٹر اودے ویر سنگھ شامل ہیں۔ جانبداریت کی قانونیت اس قدر ہوئی کہ رن وجے سنگھ جو کہ پہلی لسٹ میں اسٹینڈنگ کونسل مقرر ہوئے تھے، انہیں انہی تین مہینے کے اندر ترقی دے کر ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل بنا دیا گیا۔ چالاک کھلاڑی راگھویندر سنگھ نے اس کا خاص طور پر دھیان رکھا کہ رن وجے سنگھ ریاستی سرکار کے ایڈیشنل ایڈوائزر رگھویر سنگھ کے سگے بھائی ہیں۔ لہٰذا یہ ’’گوٹ ‘‘ راگھویندر کے لئے ضروری تھا۔ اس عمل میں قانونی سرگرمی اور پروویژنوں کی اس قدر دھجیاں اڑائی گئیں کہ ری ویو کمیٹی کا ممبر نہیں ہونے کے باوجود رن وجے سنگھ کو ساری میٹنگوں میں شامل کیا جاتا رہا۔ جبکہ اٹارنی جنرل صدارت والی ری ویو کمیٹی میں قانون محکمہ کے چیف سکریٹری اومیش کمار، داخلہ محکمہ کے چیف سکریٹری اروند کمار اور وزیراعلیٰ کے چیف سکریٹری ایس پی گوئل ممبر تھے۔
ایڈوکیٹ جنرل نے اپنے خاص آدمی اودے ویر سنگھ کو پارمانینٹ ایڈووکیٹ کے عہدہ سے پرموٹ کرتے ہوئے انہیں ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ وکیل بنا دیا جبکہ اودے ویر سنگھ کی اہلیت پر عدالت کے احاطے میں چٹکولے چلا کرتے ہیں۔ بی جے پی لیگل سیل کے کلدیپ پتی ترپاٹھی سرکاری وکیلوں کی تقرری کے لئے تنظیم کی طرف سے لسٹ بنانے کے کام میں لگے تھے۔یہ خود ایڈیشنل ایڈووکیٹ بن بیٹھے ۔کلدیپ پتی ترپاٹھی پر وکیلوں نے رشوت لینے اور رشوت کی رقم سندیپ بنسل تک پہنچانے کے الزام لگائے ہیں۔ 2001 بیچ کے وکیل کلدیپ پتی ترپاٹھی کو اتنے اہم عہدے پر بٹھائے نے کا کوئی نہ کوئی ٹھوس سبب تو رہا ہی ہوگا۔ سرکاری وکیلوں کی پہلی لسٹ میں شامل رہی شیکھا سنہا کو محض اس لئے ہٹادیا گیا کہ وہ ایڈووکیٹ جنرل کی خوشامد پسند چوکڑی میں شامل نہیں تھیں۔ سماج وادی پارٹی سرکار کے دور سے تعینات ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ وکیل راہل شکلا ابھینو این ترپاٹھی، دیویش پاٹھک، پنکج ناتھ اور ویویک شکلا کو تازہ لسٹ میں بھی جاری رکھا گیا ہے۔ اسٹینڈنگ کونسل کے عہدوں پر بھی سماج وادی پارٹی سرکار کے وقت سے تعینات سرکاری وکیلوں کو پھر سے جاری رکھا گیا ہے۔ ان میں میشوبھت موہن شکلا، نیرج چورسیا ، منو دیکشت وغیرہ کے نام اہم ہیں۔ بریف ہولڈر کے عہدہ پر بھی سماج وادی پارٹی کے وکیلوں کو جاری رکھا گیا ہے۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ رام جنم بھومی مقدمے سے جڑی وکیل رنجنا اگنی ہوتری نے بنسل -راگھویندر گٹھ جوڑ کے خلاف سرکاری وکیل کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بی جے پی کی ریاستی میڈیا انچارج رہ چکی انیتا اگروال نے بھی سرکاری وکیل کے عہدہ پر اپنی جوائننگ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ بی جے پی سے پچھلے 30 سال سے جڑی رہی ہیں۔ ان کو نظر انداز کرکے ان سے کافی جونیئر وکیلوں کو اَپر ایڈووکیٹ جنرل بنا دیا گیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

تقرری میں جانبداری
سرکاری وکیلوں کی تقرری میں جج کی حالی بحالی کو کس طرح پناہ دی گئی ، اس کا بیورا بھی دیکھتے چلیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس اشوک بھوشن کے بھائی ونے بھوشن کو چیف پرمانینٹ وکیل (سیکنڈ) بنایا گیا۔ ونے بھوشن سماج وادی پارٹی کے دور حکومت میں اپر چیف پرماننیٹ ایڈووکیٹ تھے۔ اب انہیں ترقی دے کر پرماننیٹ ایڈووکیٹ مقرر کردیاگیا ہے۔ اسی طرح جسٹس بی جے نارائن کے بیٹے این کے سنہا نارائن اور بہو آنندی کے نارائن دونوں کو سرکاری وکیل مقرر کر دیا گیا۔ ان کے علاوہ جسٹس کے ڈی شاہی کے بیٹے ونود کمار شاہی کو اَپر ایڈووکیٹ جنرل بنایا گیا ہے۔
آپ کو پھر سے یاد دلاتے چلیں کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری کے لئے اہل وکیلوں کی لسٹ بنانے کا ذمہ ریاستی بی جے پی کے سنگٹھن منتری سنیل بنسل نے سنبھالی تھی۔ ان کا ساتھ دے رہے تھے انہی کی ٹیم کے خاص ممبر اشوک کٹریا، راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی طرف سے الگ سے لسٹ بنائی جارہی تھی۔ ایڈووکیٹ کونسل کی طرف سے بھی اہل وکیلوں کی لسٹ بنائی جارہی تھی۔ دوسری طرف قانون محکمہ کے چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے بھی رنگین کھچڑی پکا رہے تھے۔ کسی کو اس کی بھنک تک نہیں لگی لیکن تقرری کے بعد جو لسٹ باہر آئی، اس نے بنسل اور چیف سکریٹری کی پول کھول کر رکھ دی۔ یہ اجاگر ہوا کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری میں پیروی اور رشوت خوری جم کر چلی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سنگٹھن اور سرکار کے وقار کو طاق پر رکھ کر تمام پیروی ، بیٹوں، جج ،ڈیپنڈینٹوں، منتری اور اٹارنی کے گروپ کے لوگوں اور سماج وادی پارٹی سرکار کے وقت کے زیادہ تر سرکاری وکیلوں کی پھر سے تقرری کر دی گئی۔ اہلیت کا معیار بہت پیچھے چھوٹ گیا۔ سرکاری وکیلوں میں ججوں کے بیٹے اور رشتہ داروں کو شامل کر کے قانون محکمہ کے چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے خود جج بن گئے اور بڑی چالاکی سے پردے کے پیچھے چلے گئے۔ ایڈووکیٹ ستیندر ناتھ شری واستو نے رنگناتھ پانڈے کی کرتوتوں کا پورا کچا چٹھا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجا تھا۔ اس کی کاپی الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے علاوہ وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کو بھی بھیجی گئی تھی۔ پی ایم او الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس معاملے کی گہرائی سے جانچ کرانے کو بھی کہا تھا لیکن یہ سب ڈھاک کے تین پات ہی ثابت ہوئے۔ شری واستو کی شکایت میں یہ صاف لکھا ہوا ہے کہ لاء ڈپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے عہدہ کا بے جا استعمال کر کے اور قانونی اداروں کو غیر مناسب فائدہ دے کر ہائی کورٹ کے جج بنے ہیں۔ پانڈے نے الٰہ آباد ہائی کورٹ اور لکھنو بینچ میں سرکاری وکیلوں کی تقرری کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنایا ۔ تقرری کے عمل میں سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر نامزدگی کی پوری طرح اندیکھی کی۔ خود جج بننے کے لئے ساری حدیں پار کرلی۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کے رشتہ داروں کو سرکاری وکیلوں کی لسٹ میں شامل کیا اور عوض میں جج کا عہدہ پا لیا۔ رشوت خوری کا یہ نایاب واقعہ ہے۔
جس طرح سرکاری وکیلوں کی تقرری چرچا اور تنازع میں ہے ،اسی طرح ریاست کا ایڈووکیٹ جنرل چننے میں بھی تمام قسم کی سیاسی ڈرامے بازی ہوئی تھی ۔ ریاستی سرکار کی یہ شبیہ ایڈووکیٹ جنرل کے انتخاب میں اجاگر ہو گئی۔کبھی ششی پرکاش سنگھ یو پی کے ایڈووکیٹ جنرل بنائے جار ہے تھے تو کبھی مہیش چترویدی ۔ اندر اندر راگھویندر سنگھ بھی لگے تھے اور انہوں نے سنیل بنسل کو پکڑ رکھا تھا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے وزیر اعلیٰ کو بھی نظر انداز کیا
ایڈووکیٹ جنرل رگھویندر نے سرکاری وکیلوں کی تقرری میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حکم کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی۔ وزیر اعلی کا واضح حکم تھا کہ ایچ پی شری واستو کو ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل کے عہدہ سے ہٹایا جائے۔ لیکن اس حکم کو ا یڈووکیٹ جنرل نے طاق پر رکھ دیا اور نئی لسٹ میں بھی ایچ پی شریواستو کو ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل کے بطور شامل کر لیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کٹائی یوگی سرکار کی ناک
اترپردیش کے ایڈووکیٹ جنرل راگھویندر سنگھ نے بھری عدالت میں یوگی سرکار کی کرکری کرائی تو ان کی اہلیت کو لے کر تمام سوال اٹھنے لگے۔ معاملہ 2007 میں گورکھپور میں ہوئے ایک فساد کو لے کر تھا اور خود یوگی اس کے گھیرے میں تھے۔ اس معاملے میں سنوائی کے دوران الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ جنرل کی حرکتوں کے سبب ریاستی سرکار کی خوب فضیحت ہوئی۔
ہائی کورٹ نے ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ ’ آپ دونوں پہلے فیصلہ کرلیں کہ آپ لوگ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ آپ لوگ خود ہی ایک رائے نہیں ہیں۔ عدالت نے اترپردیش سرکار کے ایڈووکیٹ جنرل کو اہم اور سنجیدہ معاملے میں عدالت میں حاضر نہیں رہنے کے لئے پھٹکار بھی لگائی۔ ہائی کورٹ نے سرکار کے وکیلوں کے برتائو سے ناراض ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ’ ہم ایڈووکیٹ جنرل کے خلاف ریسٹینٹ آرڈر پاس کر رہے ہیں۔ آپ کی رائے اپنے معاون وکیلوں سے الگ ہے، جبکہ یہ بے حد سنجیدہ معاملہ ہے۔ آپ زیادہ تر وقت لکھنو میں رہتے ہیں۔ جبکہ ایڈووکیٹ جنرل کا ہیڈ آفس الٰہ آباد میں ہے۔ عدالت نے اس بات کو نوٹس میں لیا تھا کہ یوپی سرکار کے وکیلوں کے پاس بنیادی عرضی میں بدلائو کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *