پاکستان میں ایک سے زائد شادی کرنا ہوا مشکل

پاکستان میں کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کے مسلم فیملی اآرڈیننس 1961 کے مطابق دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی تحریری اجازت ضرورت ہوتی ہے۔آرڈیننس تو موجود ہیں لیکن عملی طور پر پاکستان میں ایسا شا ذو نادر ہی دیکھا گیا ہے کہ کوئی مرد اپنی دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اجازت لیتا ہو۔اگر دوسری شادی کے بارے میں پہلی بیوی کو معلوم ہوجائے تو بھی ایسے مقدمات عدالتوں تک کم ہی پہنچتے ہیں کیونکہ خواتین کے لیے شوہر کی دوسری شادی ثابت کرنا ایک مشکل کام ہے ۔البتہ صحیح کاغذات اور گواہان پیش کئے جائیں تو عدالت موجودہ قوانین کے مطابق قید اور جرمانے کی سزا دیتی ہے لیکن آرڈیننس میں زیادہ تشریح نہ ہونے کے سبب دوسری شادی کے لیگل اسٹیٹس کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔مذکورہ آرڈیننس میں پیچیدگی کی وجہ سے مرد دوسری شادی کرنے کے باوجود سزا سے آسانی کے ساتھ بچ جاتے ہیں۔اس کی طرف دانشوروں کی نظر کافی دنوں سے تھی لہٰذا 2015 میں فیملی لاء کے تحت اس قانون کی مزید تشریح کی گئی اور بغیر پہلی بیوی کی اجازت کے دوسری شادی کرنا ایک قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا۔ اس قانون کے بعد پاکستانی عوام میں کچھ بیداری آئی اور وہاں کی خواتین اپنے حقوق اور اختیارات کے لئے آواز بلند کرنے لگی ہیں۔
بغیر اجازت دوسری شادی پر سزا ہوئی
گزشتہ دنوں لاہور کی ایک مقامی عدالت نے بیوی سے اجازت لیے بغیر دوسری شادی کرنے والے شخص کو 6 ماہ قید اور 2 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔یہ سزا جوڈیشل مجسٹریٹ سید علی جواد نے عائشہ خلیل کی درخواست پر سماعت کرنے کے بعد سنایا۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا ہے کہ شیخوپورہ کے رہائشی ثاقب سہیل سے ان کی شادی جولائی 2013 میں ہوئی تھی۔ان کے یہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کے بعد ان کے شوہر کا رویہ آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہوا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ثاقب سہیل روز ان کے ساتھ مار پیٹ کرنے لگے۔اسی دوران عائشہ خلیل کو معلوم ہوا کہ شادی کے وقت ثاقب نے نکاح نامے میں جھوٹ لکھوایا تھا کہ وہ کنوارے ہیں اور دراصل ان کی نومبر 2011 میں روبینہ نام کی خاتون سے شادی ہو چکی تھی۔اس کے بعد عائشہ خلیل کو معلومات حاصل ہوئیں کہ ان کے شوہر نے لاہور کے علاقے شاہدرہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے تیسری شادی کر لی ہے۔
عائشہ نے مسلم فیملی آرڈیننس 1961 کے سیکشن 6 کے تحت اپریل 2016 میں اپنے شوہر ثاقب سہیل کے خلاف کیس درج کروایا۔ عائشہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے شوہر نے ان کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی ہے لہٰذا اس شادی کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ تمام ثبوت اور گواہان کے بیانات کے بعد عدالت نے ثاقب سہیل کو 6 ماہ قید اور 2 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی۔ البتہ قانون میں شادی منسوخ کرنے کی تشریح موجود نہیں تھی لہٰذادوسری شادی کو باقی رکھا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

خواتین کے حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں نے اس عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ غیرسرکاری تنظیم پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی سربراہ رومانہ بشیر نے تھامس روئٹرز فاؤنڈیشن سے بات چیت میں کہاکہ ’’یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ متاثرہ خواتین قانون کا استعمال کر کے عدالت میں شکایات جمع کرا سکتی ہیں۔ اس سے خواتین کے حقوق کی صورت حال میں بہتری پیدا ہو گی۔‘‘خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک اور تنظیم پنجاب کمیشن آن دا اسٹیٹس آف ویمن کی سربراہ فوزیہ وقار نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ ’’یہ فیصلہ ایک اچھی روایت قائم کرے گا۔ اس سے ایک سے زائد شادیوں کی حوصلہ شکنی ہو گی اور خواتین کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ ایسی صورت میں عدالت سے رجوع کریں۔‘‘
یہ بات اہم ہے کہ ایک سے زائد شادیوں کے رواج کے تعلق سے اعداد و شمار تو موجود نہیںہیں، مگر ایک غیرنفع بخش تحقیقی تنظیم ادارہ برائے پالیسی اسٹڈیز کے مطابق ایک سے زائد شادیوں کے زیادہ تر واقعات دیہی علاقوں میں پیش آتے ہیں۔ اس ادارے کے مطابق دوسری شادی کے واقعات شہری علاقوں میں بہت کم دیکھے گئے ہیں۔
اب پاکستان میںیہ بحث عام محفلوں سے ہوتی ہوئی ایوانوں تک پہنچ گئی ہے۔پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں باقاعدہ اس پر بحث ہوچکی ہے جس مرد ارکان کا اصرار تھا کہ موجودہ قوانین میں ترمیم لانے کی ضرورت ہے اور مردوں کو پہلی بیوی سے اجازت حاصل کیے بغیر دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے جبکہ خواتین ممبران نے اس قانون کو برقرار رکھنے کے لیے یہ دلائل دیے کہ عام اور شرعی دونوں قوانین میں مرد کو پہلی بیوی سے اجازت حاصل کئے بغیر دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اسلام کی غلط تشریح کی گئی۔
شرعی پوزیشن
دراصل یہ مسئلہ ہی ایسا ہے کہ اس میں کچھ مرد شریعت کی اجازت کا غلط محمل تلاش کرکے دوسری شادی کو وقت گزاری کے لئے کرتے ہیں جبکہ اصل بات یہ ہے کہ اسلام اگرچہ ایک مرد کے لئے بیک وقت چار دائمی بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اگر کو ئی عورت دوران عقد یہ شرط رکھ دے کہ اس کا شوہر اس کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کرسکتا ہے توبعض فقہا کی نظر میں یہ شرط صحیح ہے اور شوہر کو اس کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔اس حوالے سے فقہا کا کہنا ہے کہ نکاح دو فریقین کے درمیان ایک معاہدے کی طرح ہے۔ لہٰذا ایک لڑکی یا اس کے گھر والوں کو یہ شرعی حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہیں تو نکاح نامے میں یہ ’’شرط‘‘ شامل کروا سکتے ہیں کہ لڑکا اس بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کرے گا۔ اگر لڑکا اس شرط کو مان لے تو پھر وہ پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کرسکتا۔ان فقہا کے مطابق شادی بیاہ میں فریقین اپنی پسند کی کوئی بھی شرط لکھوا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ شرط فرائض سے روکنے اور کار حرام کو کرنے سے متعلق نہ ہو۔ چونکہ دوسری شادی کرنا فرض نہیں ہے، لہٰذا پہلی بیوی نکاح نامے میں یہ شرط شامل کرواسکتی ہے جس کے بعد شوہر بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہ کرنے کا پابند ہوگا۔
قرآن مجید کی سورہ النِّسَا میں کہا گیا ہے کہ’’ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو ، تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)۔”تاہم اگر بیویوں کے درمیان انصاف نہ کرنے کا اندیشہ ہو تو ایک ہی کافی ہے۔ فقہا نے اس بارے میں کہا ہے کہ چونکہ دوسری بیوی پہلی کے ساتھ ہی رہے گی لہٰذا مناسب ہے کہ پہلی بیوی سے مشورہ ہو۔ تاکہ بعد میں آئے دن لڑائی جھگڑا نہ ہو۔ کیونکہ اگر اس سے مشورہ نہ لیا جائے تو دوسری کو برداشت کرنا پہلی کے لیے بہت ہی مشکل ہے، لہٰذااجازت اور رضامندی ضروری ہے۔ مزید یہ کہ اگروہ راضی نہ ہوتودلائل دے کراورآرام سے راضی کرے اور اگر مال اسباب بھی خرچ کرنا پڑے تو خرچ کرے مگر اجازت ضرور لے۔اگر مرد دونوں بیویوں کو علیحدہ علیحدہ رکھتا ہے تو اسے دونوں کے ساتھ ہر معاملے میں برابری کرنے کا حکم ہے۔فقہا نے لکھا ہے کہ مرد دوسری شادی ان شرائط پر کرسکتا ہے:(1)پہلی بیوی راضی ہو(2) پہلی بیوی ازدواجی زندگی کے فرائض پورے نہ کرسکے(3) بیوی کی طرف سے شوہر کی عدم اطاعت(4) بیوی کاپاگل پن یا کسی لا علاج بیماری میں مبتلا ہونا(5) بیوی کو قید کی سزا ملنا(6) بیوی کا نشہ آور مواد کا عادی ہونا(7) بیوی کا بانجھ ہونا(8) بیوی کا ازدواجی زندگی سے کنارہ کشی کرنا وغیرہ۔
لیکن اصل چیز ہے باہم اعتماد کا بحال رکھنا لہٰذا مرد اس وقت تک دوسری شادی بوقت ضرورت نہ سوچے جب تک کہ پہلی بیوی کا اعتماد حاصل نہ ہوجائے ورنہ زندگی گزارنا ایک مشکل ترین امر بن جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *