فلم پدماوتی تنازعات کے گھیرے میں

فلم پدماوتی راجپوت راجا رتن سین اور رانی پدمنی کی محبت کا قصہ اور علاؤ الدین خلجی کے رانی کے عشق میں مبتلا ہونے اور چتوڑ قلعے پر چڑھائی کرنے کی داستان ہے۔ کہانی کی تاریخی حیثیت متنازع ہے لیکن اسے راجپوتوں کے یہاں خاص تاریخی و نسلی تقدس حاصل ہے۔
سنہل دیپ کے راجا کی حسین بیٹی پدماوتی جوان ہونے کے بعد دل گرفتہ رہنے لگی۔ یہ ایک طوطے کو بہت عزیز رکھتی تھی جو اس کو عشق و محبت کے حسین خواب دکھاتا تھا۔ راجا نے طوطے کو ہلاک کرنا چاہا مگر وہ بچ نکلا اور ایک برہمن کے ذریعے چتوڑ کے راجا رتن سین کے پاس پہنچ گیا۔ راجا نے طوطے سے پدماوتی کے حسن و جمال کا حال سنا تو اس پر عاشق ہو گیا اور راج پاٹ چھوڑ کر شہزادی کے حصول کے لیے جوگی کے لباس میں سنہل دیپ پہنچ گیا۔ کافی جدو جہد کے بعد دونوں کی شادی ہو گئی۔ راجا پدماوتی کو چتوڑ لے آیا اور دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے۔
تنازعات میں گھری فلم ’پدماوتی‘
فلمساز و ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ’باجی راؤ مستانی‘ کے بعد ان کی ایک اور تاریخی فلم ’پدماوتی‘ یکم دسمبر کو ریلیز ہونے کو تیار ہے۔
مگر یہ ریلیز سے قبل ہی تنازعات کا موضوع بن گئی ہے اور خاص طور پر راجپوت تنظیموں کی طرف سے اس پر خاصی تنقید کی گئی ہے۔ اس سال اپریل میں جب سنجے لیلا بھنسالی جے پور میں اس فلم کے کچھ سین شوٹ کر رہے تھے تو ’کارنی سینا‘ نامی انتہا پسند راجپوت تنظیم نے جے پور میں واقع جے گڑھ قلعے میں فلم کے سیٹ پر دھاوا بول دیا تھا اور اُس کے کارکنوں نے نہ صرف سیٹ کو تباہ کر دیا تھا بلکہ سنجے لیلا بھنسالی پر حملہ کر کے اُنہیں زخمی بھی کیا تھا۔

 

 

 

 

 

انہوں نے کہا کہ سنجے لیلا بھنسالی اپنی فلم میں رانی پدماوتی اور علاالدین خلجی کے درمیان نامناسب مناظر کو پیش کریں گے، یہ کردار دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ ادا کرتے نظر آئیں گے۔
مظاہرین کے مطابق علاالدین خلجی رانی پدماوتی کو فتح کرنا چاہتا تھا تاہم انہوں نے اس سے پہلے آگ میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اشتعال پسند افراد نے سنجے لیلا بھنسالی کو تھپڑ مارنے کے ساتھ ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے، جس کے بعد ان کے سیکیورٹی گارڈ نے ہوائی فائرنگ کی۔سنجے لیلا بھنسالی نے اپنے سیٹ کی حفاظت کے لیے پولیس بھی بلائی۔اس فلم کے ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم میں ایک راجپوت عورت کو خلجی سلسلے کے دوسرے اور سب سے طاقتور بادشاہ علاؤ الدین خلجی کے دام الفت میں گرفتار ظاہر کیا گیا ہے اور بقول اُن کے یہ راجپوتوں کے وقار کے منافی ہے۔ اس سلسلے میں راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور اترپردیش کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے۔
بی جے پی کی ایم ایل اے اور جے پور کی سابق خود مختار ریاست کے شاہی خاندان کی اہم رکن راجکماری دیا کماری نے بھی اس فلم کی نمائش کو رکوانے کیلئے عوامی دستخط مہم بھی چلا رکھی ہے۔ بھنسالی نے تاریخ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کیا ہے یا نہیں؟اس پر فلم دیکھنے کے بعد بات کی جائے گی ،لیکن یہ ہنگامے دراصل ملک محمد جائسی جیسے صوفی شاعر کی توہین سمجھتا ہوں، اور اس کی سخت لفظوں میں مذمت کرتا ہوں۔
’پدماوت‘ کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ جائسی کی شاہکار تخلیق ہے، جس کو ہم میں سے بہتوں نے اردو، ہندی، بنگلہ انگریزی اور دوسری زبانوں میں ترجمہ اور معنی و مطلب کے ساتھ پڑھ رکھا ہے۔ بھنسالی نے اس کہانی کو فیکٹ اور فکشن کی آنکھوں سے کس طرح دیکھا ہے اور اپنی اسکرپٹ کو کس طرح اپنی فلم میں پیش کر رہے ہیں۔ یہ ان کا نظریہ ہے لیکن پدماوتی کی شوٹنگ کی مخالفت کرنے والوں کا ماننا ہے کہ فلم میں رانی پدماوتی کو علاءالدین خلجی کی معشوقہ کے طورپردکھایا جا رہا ہے۔ مخالفت کرنے والوں نے بھنسالی پر حقائق کو توڑمروڑ‌کر پیش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار اس طرح کیا تھاکہ ان کے بال کھینچے اور تھپڑ مارے۔رپورٹ کے مطابق شوٹنگ کے دوران یہ ہنگامہ کرنی سینا اور اس کے کارکنوں نے کیا۔اس واقعہ کے بعد سنجے لیلا بھنسالی اور ان کی یونٹ نے پیک اپ کر لیاتھا۔
ایک مہذب سماج میں مخالفت کے اس انداز پر ہمیں سوچنا چاہئے؟ کلچر اور ثقافت کی دہائی دینے والوں کا یہ طور طریقہ کتنا مہذب ہے؟ ایسے وقت میں یہ سوال اور اہم ہو جاتا ہے جب مخالفت کرنے والوں کا خود یہ کہنا ہو کہ مووی کے ایک ڈریم سین میں رانی پدماوتی اور علاءالدین خلجی کے درمیان’ لو سین‘فلمایا جائے‌گا۔’جائے‌گا‘ہمارے گمان میں کہاں سے آیا؟ یہاں یہ سوال بھی قائم ہوتا ہے کہ کیا بھنسالی کی اسکرپٹ عام ہو چکی ہے؟ اگر نہیں تو مخالفت کرنے والوں کو کوئی الہام ہوا جو یہ راجپوتوں کی بے عزتی کا بدلہ لینے پہنچے تھے۔ یہ بات مجھے حیران کرتی ہے کہ اس طرح کی مخالفت کبھی عام لوگوں کی طرف سے کیوں نہیں ہوتی ہر بار کوئی سینا ہی یہ کام کیوں کرتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے کرنی سینا نے ایکتا کپور کے سیریل جودھااکبر کی بھی مخالفت کی تھی۔
سنجے لیلا بھنسالی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے اور اُنہوں نے اس کی کہانی کو فلم کی ریلیز سے قبل منظر عام پر لانے سے انکار کیا ہے۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں سنجے لیلا بھنسالی نے کہا ہے کہ اُنہوں نے یہ فلم بہت محنت اور ایمانداری سے بنائی ہے۔

 

 

 

 

 

اُنہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے یہ افواہ پھیلا دی کہ اس فلم میں پدماوتی اور علاؤالدین خلجی کے بارے میں کوئی تخیلاتی منظر فلمایا گیا ہے۔ اُنہوں نے وضاحت کی ہے کہ فلم میں کوئی ایسا منظر نہیں فلمایا گیا ہے جس سے راجپوتوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور اس بارے میں جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ محض افواہوں پر مبنی ہے۔
’پدماوتی‘ منظرعام پر آنے ہی والی ہے تاہم اس فلم کے حوالے سے کھڑے ہونے والے تنازعات سے یہ شبہ پیدا ہو گیا تھا کہ اس کی ریلیز شاید وقت پر نہ ہو پائے۔ تاہم ہندوستان میں پانچ بڑی فلساز انجمنوں نے سنجے لیلا بھنسالی کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں اطلاعات و نشریات اور داخلہ اُمور کے مرکزی وزرا سے مل کر زور دیں گے کہ فلم سازوں کیلئے آزادی اظہار کے حق کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔
’باجی راؤ مستانی‘ کی طرح اس فلم کے مرکزی کردار بھی رنویر سنگھ اور دیپکا ادا کر رہے ہیں۔ رنویر سنگھ علاؤالدین خلجی اور دیپکا پاڈکون پدماوتی کے روپ میں جلوہ گر ہوں گے جبکہ شاہد کپور راجہ رتن سنگھ کا کردار نبھا رہے ہیں۔
فلم کا ٹریلر حال ہی میں ریلیز کیا گیا ہے جس نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی ہے۔ امیتاب بچن، شاہ رخ خان، اور کرن جوہر سمیت بالی ووڈ کی متعدد کلیدی شخصیات نے اس فلم کے ٹریلر کے اعلیٰ معیار پر بہت تعریف کی ہے۔ بالی ووڈ کے معروف اداکار امیتابھ بچن نے فلم کا ٹریلر دیکھ کر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ’’سنجے لیلا بھنسالی کی فلم پدماوتی کا ٹریلر بصارت کیلئے ایک غیر معمولی تحفہ ہے۔‘‘
ہندوستان میں کچھ برسوں سے تاریخی موضوعات پر فلمیں بنائی گئی ہیں جنہیں مختلف وجوہات کی بنا پر غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اگرچہ تاریخی فلموں کا بجٹ بھی عام فلموں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے فلمساز ایک بڑا رسک بھی لیتے ہیں، لیکن ’ باجی راؤ مستانی‘،’ جودھا اکبر‘ اور کچھ عرصہ قبل ریلیز ہونے والی فلم ’باہوبلی‘ نے توقع سے کہیں زیادہ بزنس کیا جس سے تاریخی موضوعات پر فلمسازی کی بے پناہ حوصلہ افزائی ہوئی۔ بالی ووڈ کی تاریخ کی سب سے بڑی اور مہنگی فلم ’مغل اعظم‘ بھی تاریخی موضوع پر بنائی گئی تھی اور آج بھی شائقین اس فلم کو نہایت شوق سے دیکھتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *