یوپی اور آسام میں غیر قانونی بنگلہ دیشی بی جے پی سرکار خاموش کیوں؟

روہنگیا پناہ گزینوںکو لے کر سیاست کا رائتا بکھیرنے والی بی جے پی سرکار غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کی بڑھتی جارہی بھیڑکو کنٹرول یا انہیں بنگلہ دیش واپس بھیجنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔ مرکز میں بی جے پی سرکار ہے، اتر پردیش میں بی جے پی سرکار ہے اور آسام میں بی جے پی سرکار ہے، لیکن تینوں سرکاریں غیر قانونی بنگلہ دیشیوںکے ایشو پر لچر رویہ اختیار کئے ہوئی ہیں۔ یو پی میں غیر قانونی طور سے رہ رہے بنگلہ دیشی مختلف جرائم میں ملوث ہیں۔ وہ پکڑے بھی جارہے ہیں اور ان کے آسام سے لے کر مشرقی شمال ریاستوں کے کنکشن باضابطہ طور پر اجاگر ہو رہے ہیں لیکن نہ آسام سرکار ان کا بیورا بھیجنے میں کوئی سرگرمی دکھا رہی ہے اور نہ مرکزی سرکار کی وزارت داخلہ پولیس اور انتظامیہ کو کوئی تعاون کررہا ہے۔یہاں تک کہ لکھنو پولیس نے جن غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کا 6 سال کا بیورا جمع کررکھا ہے ، ان بنگلہ دیشیوں کو بھی واپس کھدیڑنے کو لے کر یو پی کی بی جے پی سرکار خاموشی اختیار کئے ہوئی ہے۔

 

 

 

 

 

 

صورتحال تشویشناک
بنگلہ دیشی دخل انداز آسام سے جالی شناختی کارڈ بنوا کر آتے ہیں اور اترپردیش میں جرائم کرتے ہیں۔ لکھنو کے گومتی نگر میں ایک ساتھ ہوئی کئی بھیانک ڈکیتیوں کے ایک معاملے کی چھان بین میں لکھنو پولیس کو بنگلہ دیشیوں کے جالی شناختی کارڈ بنانے والے اڈے کی جانکاری ملی۔ پولیس کے مطابق آسام میں انہیں ہندوستانی شناختی کارڈ بنا کر دیاجارہاہے۔ اسی شناختی کارڈ کے سہارے بنگلہ دیشی مجرم ہندوستانی شہری کے غلاف میں پولیس کی نظر سے بچ نکلتے ہیں۔ جالی شناختی کارڈ بنانے کے گورکھ دھندے کی چھان بین کے لئے لکھنو پولیس کی ٹیم آسام بھی گئی اور اہم جانکاریاں لے کر آئی۔ گومتی نگر میں تابڑ توڑ ہوئی تین ڈکیتیوں میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے اسی گینگ کا کردار پایا گیا جس نے ڈیرھ سال پہلے ایلڈیکو گرین کالونی میں بھیانک ڈاکہ ڈالا تھا۔ اس واقعہ میں شامل چار بنگلہ دیشی بدمعاشوں کو پولیس نے گرفتار کیا تھا لیکن گروہ کے پانچ ممبر غائب ہو گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں غائب بنگلادیشیوں نے گومتی نگر میں ایک ساتھ کئی گھروں میں ڈاکے ڈالے۔ ان بنگلہ دیشیوں کا سیدھا رابطہ دہلی اور لکھنو میں رہنے والے بنگلہ دیشیوں سے ہے۔ پولیس کے سامنے دشواری یہ ہے کہ بنگلہ دیشیوں کو مقامی لوگوں نے اپنا رشتہ دار یا شناسا بتا کر پناہ دے رکھا ہے ۔ چھان بین میں ان کے پاس سے ہندوستانی شناختی کارڈ ملے ہیں، جبکہ ان کی بول چال اور ان کے رہن سہن سے ان کے بنگلہ دیشی ہونے کی توثیق ہوتی ہے۔ کئی بستیاں بسا کر ان میں مزدوروں کے بھیس میں رہ رہے ان بنگلہ دیشیوں کو سیاسی تحفظ بھی مل رہا ہے۔
ان غیر قانونی بستیوں کو ہٹانے کیلئے لکھنو پولیس کی طرف سے لکھنو ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( ایل ڈی اے ) اور نگر نگم کو 20سے زیادہ خط بھیجے جا چکے ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔ صاف بات یہ ہے کہ نگر نگم نے خود بڑی تعداد میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کو ہی نگر کی صفائی کے کام میں لگا رکھا ہے۔نگم کو مزدور سپلائی کرنے والے ٹھیکہ دار مزدوروں کی پہچان لئے بغیر انہیں صفائی کے کام میں لگا دیتے ہیں۔ معاملہ اجاگر ہونے کے بعد اب ان مزدوروں کی پہچان کرانے کے لئے ٹھیکہ داروں سے کہا جارہاہے ۔ اس کام میں بھی سستی کا عالم یہ ہے کہ نگم ابھی مزدور سپلائی کرنے والے ٹھیکہ داروں کی لسٹ تیار کررہا ہے۔ جب ٹھیکہ داروں کی لسٹ بن جائے گی تب ان سے مزدوروں کی آئی ڈی اور ان کی پہچان سے جڑے دوسرے دستاویز مانگے جائیں گے۔ اس کے بعد مزدوروں کے خاندان کے دیگر ممبروں کا بیورا لیاجائے گا۔ تب جاکر بنگلہ دیشیوں کی شہریت کا اصلی ہدف حاصل ہوگا اور اس کے بعد ہی آگے کی کارروائی ممکن ہو پائے گی۔ نگر نگم کا رونا یہ ہے کہ اس عمل سے نگر کی صفائی نظام متاثر ہوگا۔ اس طرح معاملے کو جان بوجھ کر لٹکا کر رکھا جارہاہے۔
مجرمانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں لگے بنگلہ دیشیوں کی دھڑ پکڑ میں یو پی پولیس کی اسپیشل ٹاشک فورس اور اینٹی ٹیریرسٹ اسکوائڈ فعالیت سے لگی ہوئی ہے۔ ابھی حال ہی میں لکھنو ایس ٹی ایف نے میرٹھ کے قصبہ فلائودا سے ایک بنگلہ دیشی گھس پیٹھ ابو حنان عرف ابو حنا کودبوچا ، جو نہ صرف غیر قانونی طریقے سے ہندوستان میں رہ رہا تھا بلکہ وہ مجرمانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث تھا۔ وہ بنگلہ دیشی مجرموں کو نقلی ہندوستانی پاسپورت اور نقلی شناختی کارڈ دلانے کا دھندہ بھی کرتاتھا۔ اس کے پاس سے کئی نقلی ہندوستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ برآمد ہوئے، ساتھ ہی دیگر غیر قانونی کاغذات بھی ملے ہیں۔ ابو حنا کولکاتہ ، مظفر نگر، دہلی ، لدھیانہ سمیت کئی جگہوں پر رہ کر اپنا دھندہ چلا رہا تھا۔ اس نے 2006 میں فلائودا کی رہنے والی شبانہ سے شادی کر لی تھی۔ شادی کے بعد لڑکی کے پتہ کا اپنے دھندے کے لئے استعمال کرتا تھا۔ اس پتے پر بنے کئی فرضی قانونی دستاویز بھی برآمد کئے گئے ہیں۔یہ بھی راز کھلا کہ فرضی پاسپورٹ پر اس نے اپنے بنگلہ دیش میں رہنے والے بھائی مسعود رانا کی آئی ڈی سے بنگلہ دیش کا ویزہ حاصل کیا اور ہندوستانی شہریت کے بطور بنگلہ دیش آتا جاتا رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابو حنا نے اپنی بیوی شبانہ کو سعودی عرب شفٹ کردیا ہے، جہاں وہ ایک بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہے۔ شبانہ کے میرٹھ کے پتے پر پاسپورٹ ، رہائشی پتہ اور ووٹر کارڈ بھی تھے۔ گرفتار ابو حنان کے خلاف تھانہ فلائودا میں معاملہ درج کرکے ایس ٹی ایف معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

اے ٹی ایس نے کیا پردہ فاش
ادھر اینٹی ٹیریرسٹ اسکوائڈ نیبھی مغربی اترپردیش میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں لگے بنگلہ دیشیوں کا پردہ فاش کیا۔ اے ٹی ایس نے سہارنپور اور مظفر نگر میں آپریشن چلا کر ایک بنگلہ دیشی دہشت گرد کو گرفتار کیا۔ سہارن پور میں دیوبند کے ایک مدرسے کے تین طلباء کو بھی ان کی مشتبہ حرکتوں کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔ پکڑا گیا دہشت گرد بھی دیوبند کے ایک مدرسے کا سابق طالب علم ہے اور کافی وقت سے دیوبند میں رہ رہا تھا۔ اے ٹی ایس نے ایس ٹی ایف کی ٹیم کے ساتھ مظفر نگر کے چرمتھاول کے کوٹیسر گائوں میں چھاپہ مار کر بنگلہ دیشی دہشت گرد عبد المامون ، پسر رئیس الدین احمد، باشندہ حسن پور، ضلع مومن شاہی بنگلہ دیش کو گرفتار کیا۔ وہ دیوبند میں رہ کر بنگلہ دیش کے دہشت گردوں کے لئے فرضی آئی ڈی سے پاسپورٹ بنواتاتھا ۔اس میں بنگلہ دیشی فیضان اس کا تعاون کرتا تھا۔ فیضان کے بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا خلاصہ ہوا ہے۔ اس کی تلاش ہو رہی ہے۔یہ بھی خلاصہ ہوا کہ عبداللہ بنگلہ دیش کی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم انصاراللہ سے جڑا ہوا ہے۔ عبد اللہ دیوبند میں دہشت گردوں کو تحفظ بھی دیتا تھا۔ اے ٹی ایس کی ٹیم نے دیوبند سے جن تین مشتبہ نوجوانوں کو پکڑا، ان میں دو نوجوان کشمیر کے ہیں اور ایک بہار کا ہے۔ پکڑے گئے بنگلہ دیشی دہشت گرد سے فرضی آدھار کارڈ، فرضی پاسپورٹ، مختلف گرام پردھانوں ، گرام وکاس افسروں، تحصیلداوں اور الیکشن آفس کی مہریں بھی برآمد کی گئیں۔ یہ بھی پتہ چلا کہ پکڑا گیا دہشتگرد 6 سال سے سہارن پور کے دیوبند علاقے کے گائوں امبیہٹا شیخ میں رہ رہا تھا۔ کچھ دنوں پہلے وہ چرتھاول کے کوٹیسر گائوں میںرہنے لگا تھا۔ اے ٹی ایس کے ایک اعلیٰ آفیسر نے کہا کہ مظفر نگر سے محمد عادل کی گرفتاری کے بعد سے ہی عبد اللہ کی تلاش کی جارہی تھی۔ عادل سندیپ شرما کے نام سے رہ رہا تھا۔ ابھی حال ہی میں اے ٹی ایس نے لکھنو کے چارباغ اسٹیشن سے تین بنگلہ دیشیوں محمد عمران پسر عبد الخالق ، رضی الدین پسر عبد الخالق ، محمد فردوس پسر عبد الخالق کو گرفتار کیاہے۔یہ تینوں سگے بھائی ہیں۔ ان کی گرفتاری عبد المامون سے ملی سراغ کی بنیاد پر کی گئی۔ تینوں بنگلہ دیش بھاگنے کی فراق میں تھے اور ہاوڑا امرتسر ایکسپریس پر سوار تھے۔ ان کے پاس سے نقلی آدھار کارڈ اور کئی فرضی قانونی دستاویز برآمد کئے گئے۔
عبد اللہ اے ٹی ایس کے سامنے یہ قبول کرچکا ہے کہ بنگلہ دیش کے کئی نوجوان تریپورا ، آسام، مغربی بنگال کے راستے غیر قانونی طریقے سے ہندوستان آرہے ہیں اور دلالوں کی مدد سے ہندوستان کا شناختی اکرڈ بنوا رہے ہیں۔ عبدا للہ خود 2011 میں تریپورا بارڈر سے ہندوستان میں داخل ہوا تھا اور سہارنپور میں پاسپورٹ بنوانے کے لئے 9ہزار روپے دیئے تھے۔ اس نے اپنا شناختی کارڈ آسام کے گائوں ناسترا، تھانہ ابھے پوری بونگائی گائوں ضلع سے بنوایا تھا۔ عبد اللہ کے پاس سے اردو اور بنگلہ میں استعمال جہاد سے جڑے دستاویز اور لٹریچر کے علاوہ آئی ایس آئی ایس سرغنہ بدنام دہشت گرد ابو بکر بغدادی کا منشور، بم بنانے کی کتاب اورپاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے جڑے کاغذات برآمد کئے گئے ہیں۔ بنگلہ دیشی مجرموں اور دہشت گردوں کی دھر پکڑ کے سلسلے میں ہی یو پی پولیس کو پرتاب گڑھ ضلع میں ڈیرا جمائے ہوئے تھے۔ بنگلہ دیشیوں نے نواب گنج کے لوانا علاقے میں ایک گیسٹ ہائوس کا کمرہ کرائے پر لے رکھا تھا۔ بنگلہ دیشیوں کا کہنا تھاکہ وہ سعودی عرب جانے کے معاملے میں پرتاب گڑھ کے کسی منوج پٹیل سے ملنے کے لئے گیسٹ ہائوس میں رکے تھے۔ وہ جون میں ہی ہندوستان آگئے تھے اور غیر قانونی طریقے سے ہی ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ پرتاپ گڑھ پولیس منوج پٹیل کی بھی تلاش کررہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

قومی مفاد کے لئے کوئی کام نہیں
اترپردیش کیا پورا ملک ہی عجیب و غریب سیاست میں پھنسا ہوا ہے۔ راشٹروادی جذبات بھڑکا کر ووٹ کی سیاست ہوتی ہے لیکن قومی مفاد کے لئے ضروری ترجیحات پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کا6 سال کا پورا بیورا حاصل کرنے کے باوجود انہیں نکالنے کی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ۔ سرکار کی طرف سے کوئی حکم جاری نہیں ہو رہا ۔ کبھی کہا جاتاہے کہ سرکار جانچ میں لگی ہے تو اب کہا جارہاہے کہ سرکار الیکشن یونٹ میں مصروف ہے۔ انہی ٹال مٹول میں اترپردیش بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کی جنت بنتا جارہاہے۔ ادھر آسام کی حالت یہ ہے کہ وہاں بنگلہ دیشیوں کی غیر قانونی گھس پیٹھ کو ایشو بنا کر بی جے پی انتخاب جیت لیتی ہے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اسے گھس پیٹھ کا مسئلہ یاد نہیں رہتا۔ یو پی پولیس کے ذریعہ کئے گئے بھانڈا پھوڑ کے بعد آسام پولیس سے اس سلسلہ میں ضروری تعاون مانا گیا تھا،لیکن آسام پولیس کو یو پی پولیس کے سرکاری لیٹر کا جواب دینے کی بھی فرصت نہیں ہے۔یہ ہے آسام کی بی جے پی سرکار کی راشٹروادی کی اصلیت۔ آسام سے یہ پینچ پھنسا دیا گیا ہے اور ادھر الیکشن یونٹ میں سرکار اور پولیس کی مصروفیت کی دلیل دی جارہی ہے۔
لکھنو پولیس کے سرکاری دستاویز بتاتے ہیں کہ صرف لکھنو میں تقریباًایک لاکھ بنگلہ دیشی غیر قانونی طریقے سے رہ رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں 1700 بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کی پہلی لسٹ آسام پولیس کو بھیجی گئی تھی،جنہوں نے اپنانام و پتہ آسام کا دے رکھا ہے اور ان کاشناختی کارڈ بھی آسام کے مختلف ضلعوں سے حاصل کئے ہوئے ہیں۔ یو پی پولیس کی لسٹ پر آسام پولیس سے جواب ملنے کے بعد بنگلہ دیشیوں کو شہر سے باہر کھدیڑنے کی قواعد شروع ہوئی ، لیکن بیچ میں ہی اس میں اڑنگا لگا دیا گیا۔ یو پی پولیس کی طرف سے لسٹ بھیجے ہوئے کئی مہینے ہو گئے، لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔ آسام پولیس کا جواب ملنے کے بعد یو پی پولیس کی طرف سے دوسری لسٹ بھیجی جاتی، لیکن ساری سرگرمی التوا میں چلی گئی ہے۔ لکھنو پولیس کے ایک اعلیٰ آفیسر نے کہا کہ بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کی دوسری لسٹ بن کر تیار تھی لیکن پہلی لسٹ کے ویریفکیشن کے انتظار میںدوسری لسٹ ابھی نہیں بھیجی جارہی ۔ دوسری لسٹ میں بھی 12سو بنگلہ دیشی گھس پیٹھیو کے نام ہیں جن کی باقاعدہ پہچان کر کے انہیں لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ دوسری لسٹ میں بھی ان بنگلہ دیشیوں کے نام ہیں جنہوں نے اپنا شناختی کارڈ آسام سے بنوا رکھا ہے۔
اس معاملے کا سب سے افسوسناک اور مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ یوپی میں غیر قانونی طریقے سے رہ رہے بنگلہ دیشیوں کی شناخت کر کے انہیں کھدیڑ کر باہر کرنے کا سیاسی ڈائیلاگ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہی نشر کیا تھا۔اس کے بعد ہی یوپی پولیس حرکت میں آئی تھی لیکن اقتدار کے علمبردار اپنا پیغام جاری کر کے سو گئے۔ نتیجتاً پوری سرگرمی ہی رک گئی ۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت کے بعد لکھنو کی چنہٹ اور غازی پور پولیس نے سرگرم ہوکر بنگلہ دیشی مجرموں کو گرفتار کرکے جیل بھی بھیجا۔ پکڑے گئے لوگوںنے یہ قبول کیا کہ بنگلہ دیشی آسام کے برپیٹا ضلع سے فرضی شناختی کارڈ بنوا کر یو پی کے مختلف ضلعوں میں گھس رہے ہیں۔ اس اہم اطلاع کے باوجود کہ بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں اور دہشت گردوں کو پکڑنے کا کام نہیںہو رہا ہے۔ الیکشن یونٹ سرکار کی ترجیحات میں ہے۔ پولیس افسروں سے پوچھئے تو جواب ملے گا ’’ ہم تو تیار ہی بیٹھے ہیں، ہمیں تو بس انتظامیہ کے آخری سرکاری حکم کا انتظار ہے‘‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *