علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’’ایچ آر۔میٹ 2017‘‘ کا انعقاد

AMU-VC-Prof-Tariq-Mansoor
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ٹریننگ و پلیسمنٹ دفتر اور انٹرنل کوالٹی ایشورینس سیل کی جانب سے6نومبرکو ’’ایچ آر۔میٹ2017‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد تھا کارپوریٹ دنیا اور یونیورسٹی کے طلبہ کے درمیان خلیج کو کم کرنااور طلبہ کے لئے مواقع کی فراہمی۔ ایچ آر۔میٹ میں 30؍کمپنیاں شریک ہوئیں۔
وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے پروگرام کی صدارت کی ۔ انھوں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہاکہ پلیسمنٹ مواقع میں بہتری کے بہت امکانات ہیں اور اس طرح کے پروگراموں سے اس میں مدد ملے گی۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر تبسم شہاب پروگرام کے مہمان اعزازی تھے۔ انھوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے انسان کے اندر پختہ عزم ہونا چاہئے ، کامیابی کے لئے لگن اور جذبہ ناگزیر ہے۔ اس سے قبل پروگرام کا آغاز ایچ آر ۔میٹ کے کنوینر اور شعبۂ انگریزی کے پروفیسر ایم رضوان خاں کے خطبۂ استقبالیہ سے ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں پلیسمنٹ سیل کے اقدامات سے طلبہ کو کافی فائدہ ہوا ہے، یونیورسٹی کے ذریعہ ہر شعبہ میں کیریئر کاؤنسلر کی تعیناتی سے کارپوریٹ ورلڈ کے لئے طلبہ کو تیار کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
پروگرام کے کوآرڈنیٹر اور ٹریننگ و پلیسمنٹ افسر مسٹر سعد حمید نے کہاکہ ایچ آر میٹ کا مقصد کیمپس میں کارپوریٹ دنیا کو لانا اور دونوں کے رابطے مستحکم کرنا ہے۔ طوبیٰ ناز اور پراچی وارشنے (ایم بی اے، سالِ اول) نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام سے لے کر اب تک کے سفر پر روشنی ڈالی اور 97سال میں یونیورسٹی میں ہونے والی ترقیوں کا ذکر کیا۔ پروگرام میں الشاہین گروپ، دوبئی کے ایم ڈی مسٹر سید شاہین عالم بطور مہمان خصوصی موجود تھے۔ انھوں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ملک کی مایۂ ناز صلاحیتیں تیار ہورہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خلیجی ممالک سے ہندوستان ،اطلاعات کے تبادلہ کے لئے ٹریننگ و پلیسمنٹ دفتر اور یونیورسٹی کے فارغین کو باہم مل کر کام کرنا چاہئے ۔ انھوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامک سنٹر ، نئی دہلی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا پلیسمنٹ دفتر قائم ہونا چاہئے۔
مہمان اعزازی اور یو ۔فلیکس کیمیکلس کے ایچ آر ہیڈ مسٹر راہل جین نے کہاکہ کارپوریٹ سیکٹر کے لئے مثبت رویہ اور مشکلات میں ثابت قدمی کی عادت ضروری ہوتی ہے۔ آئی۔اِنرجائزر کی ایچ آر ہیڈ محترمہ سشما سنگھ نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی پسند کے لئے انسان کو پرجوش ہونا چاہئے اور ناکامیوں سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اینگو زارا کامرشیا کے مسٹر محمد ضیاء الدین نے کارپوریٹ ورلڈ میں برقرار رہنے کے تین اصول بتائے۔ تعلیم کی اہمیت کی سمجھ، عہدہ کے تئیں جذباتی لگاؤ اور انفرادی اہداف طے کرتے ہوئے مقاصد کا تعین اور ان کے حصول کے امکانات کا تجزیہ۔ پروگرام کے دوران ایک پینل مباحثہ ہوا جس کا موضوع تھا: ’’درست صلاحیت کے حامل افراد کی بھرتی کا طریقۂ کاراور اس کے چیلنجز‘‘۔ہیومن ریسورس کے مختلف موضوعات پر مباحثہ میں طلبہ نے شرکت کی جس سے انھیں کارپوریٹ کمیونکیشن کے مختلف پہلوؤں کو بھی سمجھنے میں مدد ملی۔
ڈاکٹر منصور ا ے صدیقی نے شکریہ کی قرارداد پیش کی۔ انھوں نے پروگرام کے انعقاد میں طلبہ کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ ایچ آر۔میٹ میں 30؍کمپنیوں نے شرکت کی جس میں آئی ٹی سی، این ڈی ٹی وی، ٹاٹا کیمیکلس لمیٹیڈ، وِژن انڈیا، دیوان ایڈوکیٹس، آئی سی آئی سی آئی بینک شامل ہیں۔ پروگرام کے اسٹوڈنٹ کوآرڈنیٹر ایم بی اے ، سالِ اول کے طالب علم سجّل خان تھے ۔انھوں نے بتایا کہ مختلف شعبوں کے 100سے زائد رضاکاروں نے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات محنت کی۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے ہر شعبہ کے کیریئر کاؤنسلراور طالب علم رضاکار موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *