کیسے لایا جائے ملک کو واپس ترقی کی راہ پر؟

ہماچل پردیش میں9 نومبر کو انتخابات ہوگئے۔ انتخابی نتائج کا اعلان 18 دسمبر کو گجرات کے نتیجوںکے ساتھ کیا جائے گا۔ ایسا کیوں، کیونکہ گجرات میںبھی انتخابات ہونے ہیں۔ دراصل پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے معیار پر کھرا نہیںاترا ہے۔ جب الیکشن کمیشن ہماچل انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر رہا تھا تو ہماچل کے ساتھ گجرات انتخابات کی تاریخوں کا اعلان بھی ہوناتھا لیکن انھوںنے صرف ہماچل اسمبلی انتخابات کااعلان کیا؟ ایسا انھوںنے اس کے لیے کیاکیونکہ ضابطہ اخلاق نافذ ہونے سے پہلے گجرات میںسرکار کو نئے پروجیکٹس کا اعلان کرناتھا، یعنی الیکشن کمیشن کی آزادی پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ ٹی این شیشن ایک ایسے کمشنر رہے ہیں جنھوںنے الیکشن کمیشن کا ایک نیا معیار قائم کیا تھا۔ اس سے قبل بھی الیکشن کمیشن غیر جانب دار تھا لیکن شیشن نے دکھایا تھا کہ حقیقت میںالیکشن کمیشن کے کیا کیا اختیارات ہیں؟ یہ زمانہ 1990-91 کا تھا۔ اب 27 سال بعدایک نئے چیف الیکشن کمشنر آئے ہیں، جنھوںنے اس معیار کو نیچے گرایا ہے۔ ملک کے مستقبل کے لیے یہ اچھا اشارہ نہیں ہے۔
بہرحال یہ بات اب گزر گئی ہے۔ اب جو انتخابات ہورہے ہیں،وہ وی وی پیٹ سسٹم سے ہو رہے ہیں۔ اس میںووٹنگ مشین سے ووٹر ویری فکیشن کا کاغذ نکلتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کی معتبریت کتنی رہتی ہے؟ نوٹ بندی کے بعد بی جے پی اتر پردیش میںالیکشن جیتی تھی۔ اس الیکشن پر آج بھی سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ اس پر آج بھی سوال ہے کہ وہ آزادانہ اور غیر جانب دارانہ الیکشن تھے کہ نہیں؟کئی ریاستوں میںیہ خدشہ ہے کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کرکے الیکشن میںدھاندلی ہوئی تھی۔ ہندوستان میںاس سے پہلے اس طرح کا تذکرہ کبھی نہیںہوا تھا۔ایک افریقی ملک ہے جہاںایک شخص 25 سال سے اقتدار میں ہے۔ ہر پانچ سال کے بعد وہاںالیکشن ہوتے ہیں۔ وہ ہر الیکشن ہارتا ہے اور یہ اعلان کردیتا ہے کہ وہ الیکشن جیت گیا۔ فوج اس کی حمایت کردیتی ہے۔ اگر ہندوستان کے الیکشن کے طریقے بھی شک کے دائرے میںآگئے ہیں تو یہ کھوکھلا پن ہے، جمہوریت نہیں۔ بدقسمتی سے اگر ہندوستان اس کالی گپھا میںگھس گیا تو جمہوریت تو ختم ہوہی جائے گی ، اس کے ساتھ ہی پاکستان کی طرح یہاں بھی فوج کا غلبہ ہوجائے گا۔ اس نقطہ نظر سے ہماچل کا الیکشن اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاںاسمبلی کی 68 سیٹیں ہیں اور یہاں سے صرف چار ممبر چن کرلوک سبھا میںپہنچتے ہیں۔ ملک کی سیاست میںاس کی کوئی بڑی اہمیت نہیں ہے لیکن اس الیکشن سے انتخابی نظام کی غیر جانب داری اور شفافیت کا ایک اشارہ ملے گا۔ گجرات میں9 اور 14 دسمبر کو الیکشن ہونے ہیں، اس میںتو معلوم پڑہی جائے گا کہ اب وہ الیکشن وی وی پیٹ سے ہورہا ہے یا ای وی ایم سے۔یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔

 

 

 

 

 

الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ کمیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کی معتبریت کو برقرار رکھے۔ الیکشن کمیشن کو ہر الیکشن سے پہلے یہ اعلان کرنا چاہیے کہ وہ کس سسٹم سے الیکشن کرا رہا ہے۔ اس میںشفافیت ہونی چاہیے او رعام شہری کو یہ خدشہ نہیںہونا چاہیے کہ الیکشن میںکوئی گڑبڑی ہوئی ہے۔ہر پانچ سال میں الیکشن ہوتے ہیں۔ اس میںکوئی جیتتا ہے، کوئی ہارتا ہے۔ اس سے میرا کوئی مطلب نہیںہے۔ میںپہلے بھی کہہ چکا ہوں، میںکانگریس میںنہیں ہوں۔ میںنہیںچاہتا کہ مودی جائیںاور راہل گاندھی آجائیں۔ یہ عوام طے کرتے ہیں لیکن سسٹم کی معتبریت بنی رہنی چاہیے، جیسے آج امریکہ میںہے۔ امریکہ کا دانشور طبقہ حیران ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کیسے صدر منتخب ہو گئے؟ لیکن کسی نے وہاں کے سسٹم پر سوالیہ نشان نہیںلگایا ۔ جو ہوا، وہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر ہوا۔ عوام جس کو چنتے ہیں، وہ چن لیا گیا۔ انگریز ی میںکہاوت ہے کہ یو گیٹ دی گورنمنٹ، یو ڈیزرو (آپ کو ویسی ہی سرکار ملتی ہے، جس کے آپ حقدار ہوتے ہیں)۔ جمہوریت میںایسی کوئی بندش نہیں ہے کہ آپ کسی بے وقوف کو صدر یا وزیر اعظم نہیں بنا سکتے، اس لیے وہ آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن وہ الیکشن آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ 2019کے عام انتخابات سے قبل اس دھبے کو صاف کردیں۔ یہ ملک کے مفاد میںہوگا، الیکشن کمیشن کے مفاد میںہوگا اور جو آنے والی سرکار ہے،اس کے بھی مفاد میںہوگا۔
8 نومبر کو نوٹ بندی کا ایک سال مکمل ہوگیا۔ سرکار اسے ایک انقلابی قدم کے طور پر مان رہی ہے۔ وہیں، اپوزیشن کے لوگوں نے 8 نومبر کو نوٹ بندی کی برسی منائی۔ دراصل ملک کی آزادی کے بعد کے 70 سالوںمیںاس سے زیادہ مہلک، اس سے زیادہ بے وقوفی بھرا اور بغیر سوچے سمجھے اس ملک نے کوئی اقتصادی قدم نہیں اٹھایا تھا۔ اب اس کے خطرے سے لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ایک کہانی ہے مینڈک اور پانی کی، جو یہاںصحیح بیٹھتی ہے۔ ابلتے ہوئے پانی میںمینڈک کو ڈال دیجئے، وہ کود کر باہرآجائے گا اور اپنی جان بچا لے گا۔ ٹھنڈے پانی میںایک مینڈک کو ڈال دیجئے اور اس پانی کو دھیرے دھیرے گرم کیجئے تو وہ پانی میںہی مر جائے گاکیونکہ وہ گرمی کا عادی ہوتا رہتا ہے۔ ایک اسٹیج ایسی آتی ہے جب وہ گرمی برداشت نہیںکرتا اور مرجاتا ہے۔ ہمارا ملک بھی اسی حالت میںجارہا ہے۔ جب ایمرجنسی لگائی گئی تب وہ ابلے پانی کی طرح تھی۔ عوام نے جھٹک کر سرکار کو باہر پھینک دیا اور اپنی آزادی بچالی۔ اب ساڑھے تین سال سے جو ہورہا ہے، اس میںپانی کا درجہ حرارت دھیرے دھیر بڑھایا جارہا ہے۔ نوٹ بندی اس کی ایک خاص مثال ہے۔ نوٹ بندی کے ایک سال بعد سرکار ٹیلی ویژن اور اخبارات کے ذریعہ یہ بتا رہی ہے کہ نوٹ بندی کا کتنا فائدہ ہوا ہے، یعنی اصلیت اور بات چیت میںکوئی ربط نہیںہے۔ ہر شخص اس کی اصلیت جانتا ہے۔ اگر کوئی بہت لبرل تبصرہ کرے گا تو بھی یہ کہے گا کہ ایک بیکار قدم تھا۔ لیکن اگر سرکار کہے کہ یہ بہت بہتر قدم ہے اور اس سے معیشت سدھرنے والی ہے تو پھر یہ تو ستم ظریفی ہی کہی جائے گی۔
جمہوریت کا مطلب بات چیت ہوتا ہے۔ بات چیت کا مطلب ہوتا ہے دو یاد و سے زیادہ فریقوں کے بیچ دلیل اور آرگومینٹ ہو ۔ اب جو ہورہا ہے، وہ تو دلیل کی بھی ستم ظریفی ہے۔ہٹلر کے انفارمیشن منسٹر گوئیبلس صاحب تھے۔ ان کی تھیوری تھی کہ اگر ایک جھوٹ کو 100 بار بولیں تو وہ سچ ہوجاتا ہے۔ یہ سرکار اسی راستے پر چل رہی ہے۔ اب نوٹ بندی کو بڑا انقلابی قدم ثابت کرنے کے لیے لوگوں سے مضامین لکھوائیں، تو یہ بڑا مضحکہ خیز ہوگا۔ کوئی بھی ماہر اقتصادیات (جو ان کے خلاف ہیں، میںان کی بات نہیںکر رہا ہوں) جو سرکار کے حامیوںمیں ہیں، وہ حقیقت جانتے ہیں لیکن سرکار کو نقصان نہیںپہنچانا چاہتے ہیں تو لکھتے ہیںکہ اس کے بہتر دوررس نتائج ہوں گے۔ نوٹ بندی کے دور رس نتائج کچھ ہیں ہی نہیں۔ نوٹ بدلنے تھے، بدل دیے گئے۔ وہ 6 مہینے کا مختصر مدتی معاملہ تھا، وہ ختم ہوگیا۔ اب اس پر بحث کرنا بیکار ہے۔

 

 

 

 

 

دراصل نوٹ بندی کی جھینپ مٹانے کے لئے سرکار نے جلد بازی میں جی ایس ٹی لاگو کر دیا۔ جی ایس ٹی پر ملک میں 20سال سے بات چل رہی تھی۔ اسے جلد بازی میں لاگو کرنے کی وجہ سے غلطیاں رہ گئیں۔12بجے رات کو پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں اس طرح سے فنکشن کیا گیا جیسے نئی آزادی آگئی۔یہ اپنے آپ میں بہت تنگ سوچ ہے۔ ٹیکس طریقہ کار میں بدلائو کو آپ انقلاب بتا رہے ہیں۔ آپ تو ملک کے ان مجاہدین آزادی کی بے عزتی کررہے ہیں جو آزادی کی جدو جہد میں جیل گئے،جنہوں نے اپنی جان گنوائی۔ جوان ملک پر اپنی جان نچھاور کر رہے ہیں، آپ ان کی بھی توہین کررہے ہیں۔ جی ایس ٹی کا نتیجہ کیا ہوا۔جو چھوٹے چھوٹے دھندے کرنے والے ہیں، کیرانے والے، سبزی بیچنے والے، ڈھابے چلانے والے، سب کا دھندہ ٹھپ ہو گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ مودی جی کے مشیر کار کون ہیں؟ لیکن جو بھی ہیں ، وہ زمین سے بہت دور ہیں۔ ملک میں منظم سیکٹر کے کل مزدوروں کی تعداد تین کروڑ ہے۔ اس تین کروڑ میں سرکاری ملازمین اور پولیس سب شامل ہیں۔ ملک میں منظم سیکٹر سے کہیں زیادہ تعداد غیر منظم سیکٹر کے مزدوروں کی ہے۔ ان میں کوئی ڈھابے پر کام کرتا ہے، کوئی دکان میں کام کرتا ہے۔ ان کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ سرکار کے رخ سے لگتا ہے کہ اسے صرف منظم سیکٹر کے تین کروڑ لوگوں کی ہی فکر ہے،اسے باقیوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔یہ سمجھ سے باہر ہے کہ ان کا کلکولیشن ہے کیا؟اگر اس کے بعد بھی وہ انتخاب جیت جاتے ہیں تو وہی مینڈک والی بات ہو گئی کہ دھیرے دھیرے ہمارا ملک ہی ختم ہو جائے گا۔
نوٹ بندی کا سب سے زیادہ فائدہ کسے ہوا؟اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ چین کو ہوا۔ ہندوستان میں چین کی درآمدات کافی بڑھ گئیں۔سب سے پہلے تو اس پر بحث ہونی چاہئے کہ ہمار اقتصادی نظام ہمارے ملک کے لئے ہے یا چین، جاپان اور امریکہ کے لئے ہے۔ ہر بات میں امریکہ کرن ،ہر بات میں چین ،ہر بات میں جاپان اس ملک کے حق میں نہیں ہے۔ یہاں سوا سو کروڑ لوگ رہتے ہیں،جو دنیا کی آبادی کے ایک چھٹویں حصہ ہیں۔ ہندوستان کی کئی اور خصوصیات بھی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ دنیا میں ہندوستان جیسا کوئی دوسرا ملک نہیں ہے۔،جہاں اتنے اقسام کے لوگ امن سے ایک ساتھ رہتے ہوں۔ میں صرف مذہب کی بات نہیں کررہا ہوں، وہ تو ہے ہی۔یہاںہر قصبے میں، ہر محلے میں سبھی طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ اب یہ جو ہندو -مسلمان کی بات کرتے ہیں،انہیںیہ سمجھنا چاہئے کہ کوئی ملک ایک مذہب کو الگ کرکے چل ہینہیں سکتاہے۔ ہندوستان جیسا ملک تو قطعی نہیں چل سکتا ہے۔یہاں سوا سو کروڑ کی آبادی میں14.2فیصد مسلمان ہیں۔ سکھ ، پارسی ،عیسائی ہیں، وہ الگ ہیں۔میں تو کہتا ہوںکہ اس طرح کی تفریق سے ایک محلہ، ایک قصبہ تک نہیں چل سکتا،آپ ہندوستان کی بات تو چھوڑ ہی دیجئے۔لیکن اب مجھے دوسرا ڈر ستانے لگا ہے ۔ گجرات الیکشن بھی ہو جائیںگے۔ مان لیجئے بی جے پی جیت گئی تو ان کو لگے گا کہ ہم صحیح کررہے ہیں۔ یہ کہیں گے ،دیکھو نوٹ بندی کو لوگوں کی حمایت ہے۔اب تو سرکار الیکشن موڈ میں چل رہی ہے۔ ہر سرکار انتخابات کو نظر میں رکھتے ہوئے عوامی فیصلے لیتی ہے۔ لیکن جب آپ جیت جائیں تو ملک کے لئے کچھ تو کام کیجئے۔ ایک انتخاب جیتتے ہی اگلے انتخاب پر نظر ہے؟انہیں ملک سے کوئی مطلب نہیں رہتا ہے۔ ہم بہت خطرناک صورتحال میں جارہے ہیں، جسے کوئی سمجھ نہیں رہا ہے۔ جیسے وہ مینڈک ہے، ویسے ہی ہم سب انسان ہیں۔حرارت بڑھتی جارہی ہے لیکن ہم سب سمجھ نہیں رہے ہیں۔ ایک حالت ایسی آجائے گی، جب ہم بے بس اور مایوس ہو جائیںگے اور کچھ کر نہیں پائیںگے۔ اس کی طرف دانشوروں کو دھیان دینا چاہئے ۔ انہیں سرکار کو سجھائو دینا چاہئے کہ کیسے اس صورتحال سے باہر نکلا جائے اور کیسے ملک کو واپس ترقی کی راہ پر لایا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *