اصل مسئلہ کیسے ہو فوڈ پروسیسنگ ؟

سوال یہ ہے کہ اگر ہمیںقطب مینار پر چڑھنا ہے تو ہم نیچے سے چڑھیںگے یا قطب مینا ر کے اوپر سے چڑھنا شروع کریں گے اور نیچے کی طرف آئیںگے؟ دراصل ہمارے ملک میںپالیسیاںبنانے والے کچھ اسی طرح کا کام کرتے ہیں آج ملک کی پالیسی صلاح دینے والے لوگ سرکار کو اور وزیر اعظم کو قطب مینار پر اوپر سے نیچے چڑھنے کی صلاح دیتے ہیں اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم اس جال میں جلدی پھنس جاتے ہیں۔ حال ہی میں انھوںنے کہا کسانوں کی پیداوار کو کھیت میں ہی پروسیس کرنے کے لیے، یعنی فوڈ پروسیسنگ کو کسانوںکے دروازے تک لے جانے کے لیے تاکہ کسان کی فصل پروسیس ہوکر لوگوںکے پاس پہنچ جائے، کسان کو فائدہ ہو، اس کی فصل کا اسے اچھا منافع ملے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ کاری جٹائی جائے اور جب سرمایہ کاری آجائے تب فوڈ پروسیسنگ کی یونٹس لگیںگی اور تب کسان کو دوگنا فائدہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح کا آئیڈیا ہے۔ظاہر ہے ہر آدمی ہر میدان کا ماہر نہیں ہوتاہے۔ وزیر اعظم بھی زرعی شعبے کے بار ے میں اپنی وزارت زراعت کے اپنے افسروںسے ہی پوچھتے ہوںگے ۔ یہ افسران ہی ہیں، جو اب تک اس ملک کو برباد کررہے ہیں۔
حقائق پر نظر
ہندوستان میںفوڈ پروسینسگ پر بات کرنے سے پہلے ان حقائق پر بھی نظر ڈالنا چاہیے۔ ایک حقیقت یہ ہے کہ جتنی بھی کھانے کی اشیاء ہندوستان میںبرباد ہوجاتی ہے ، اتنی برطانیہ جیسے بڑے ملک میںفوڈ پروڈکشن کے برابر ہے۔ ملک میںپھل اور سبزیوںکے اسٹوریج کے لیے جتنے کولڈ اسٹوریج ہیں، تقریباً اتنے ہی اور چاہئیں۔ ملک میںحالیہ دور میں6500 کولڈ اسٹوریج ہیں، جن کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 3.1 کروڑ ٹن ہے لیکن ضرورت ہے 6.1 کروڑ ٹن صلاحیت والے کولڈ اسٹوریج کی۔
وزارت زراعت کی فصل ریسرچ یونٹ سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ ہارویسٹ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سیفیٹ) کی رپورٹ کے مطابق ملک میں قریب 67 لاکھ ٹن کھانے کی اشیاء کی بربادی ہر سال ہوتی ہے۔ ان غذائی اشیاء کی قیمت 92 ہزار کروڑ روپے ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔ یعنی کسان کی فصل برباد نہ ہو،اس کا انتظام کرنا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے پروسیسنگ کا۔ اس کے لیے ایک بہت چھوٹا سا فارمولہ ہے۔ جس بلاک میںجو خاص فصل پیدا ہوتی ہے، اس کی پروسیسنگ یونٹ اسی بلاک میںلگائی جائے۔ اس کے لیے سرمایہ کاری جٹانے کی ضرورت نہیںہے۔ سرمایہ کاری وہاں پر ہے۔ سرکار کو صرف قواعد کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ مان لیجئے ، ایک بلاک میںارہر پیدا ہوتی ہے یا سویا بین پیدا ہوتی ہے یا سورج مکھی پیدا ہوتی ہے یا سرسوںپیدا ہوتی ہے، وہیںپر اس کی پروسینسگ کی یونٹ لگادی جائے۔

 

 

 

 

 

 

 

ضلع کو ایک یونٹ مان لیجئے اور اس ضلع کے ہر بلاک میںجو سب سے زیادہ پیدا ہو، وہاںپر اس کی پروسیسنگ یونٹ لگانے کے ضابطوں کو آسان کردیجئے۔ انھیںلائسنس کے لیے رشوت دینا یا لائسنسنگ آفیسر کے پاس سالوں نہ دوڑنا پڑے،یہ انتظام سرکار کردے۔ کسانوںکو بجلی کیسے فراہم ہو، اس کا بندوبست کیا جائے۔ آج سرکاریں کسانوں کو 24 گھنٹے بجلی دینے کا وعدہ کرتی ہیں لیکن 6-8 گھنٹے دیہی علاقوں میںبجلی جاپارہی ہے۔ اس کا بھی حل ہے۔ سرکار اس بلاک کے لوگوںسے،اسی ضلع کے لوگوںسے کہہ دے کہ آپ اگر چاہیںتو اپنی ضرورت کی بجلی کی پیداوار اپنے بلاک یا اپنے ضلع میںکرسکتے ہیں۔ سولر انرجی کی اجازت سرکار نے دے دی ہے۔ بس اس میںلائسنسنگ سسٹم ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکا رصرف بجلی پیدا کرنے کی چھوٹ دے۔اگر گاؤںمیںبجلی دینی ہے تو اس کی لاگت وہیںسے وصول ہوسکتی ہے۔ اس طرح بجلی بھی سستی ہوگی اور فراہمی بھی جلدی ہوجائے گی۔ جو کسان اپنی پیداوار کو لے کر پروسیسنگ انڈسٹری اپنے بلاک میںلگانا چاہیںتو انھیں اس کی اجازت ملے۔ اس کی اطلاع صرف علاقے کے بی ڈی او کو کسان دے دے۔ بی ڈی او کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ وہاںپر اتنی یونٹ نہ لگ جائیں کہ فصل کی پیداوار اَن پروڈکٹو ہوجائے۔ مطلب یہ کہ پیسہ اس کا کم ملے۔ اس لیے منصوبہ بندی کے ساتھ، جتنی بلاک میںچاہیے، اتنی ہی یونٹ لگانے کی اجازت بی ڈی او دے۔ ایسا کرنے میںکیا دقت ہے؟ اس کے لیے سرکار کو کسی اڈانی،کسی امبانی، کسی امریکن ، کسی مانسینٹو کی ضرورت کیا ہے؟
2015میں ہندوستان میںفوڈ پروسیسنگ کا کاروبار 258 بلین ڈالر تھا، جس کے 2020 میں482 بلین ڈالر ہوجانے کاامکان ہے ۔ بہرحال اس کام کے لیے سرمایہ کاری جٹانے کا آئیڈیا جس افسر نے سرکار کو دیا،کہیںاس کا ارادہ یہ تو نہیں ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھوں میںہندوستان کی کھیتی دے دی جائے؟ سرکار کہیںکسانوںکو یہ تو نہیںسمجھانا چاہتی ہے کہ کنٹریکٹ فارمنگ کریں؟ اس کمپنی کو سارے کھیتوں کا کنٹریکٹ دے دیں اور اپنے ہی کھیت میںمزدور بن جائیں۔وال مارٹ جیسی کوئی ملٹی نیشنل کمپنی وہیںپر انڈسٹری لگائے اور وہ فصل کو پروسیس کرکے ملک میںبیچے۔ کیا سرکار کا ایسا کوئی ارادہ ہے؟ اگر ایسا ارادہ ہے تو یہ خطرناک ارادہ ہے۔
اگر ایسا ارادہ ہے تو اس ملک کی زراعت کو اس ملک کے انسان کو اور اس ملک کے کسان کو غلام بنانے کا ارادہ ہے۔وزیر اعظم صاحب کو سمجھنا چاہیے کہ اس میں ایک پیسے کا خرچہ نہیںہے۔ صرف پالیسیوںکو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ صرف یہ قانون بنادیجئے، ریاستی سرکاروں سے یا مرکزی سرکار سے یا جہاںجہاںآپ کی سرکار ہے، ان سے یہ قانون بنوادیجئے کہ اگر کسان بلاک میں اپنی فصل کو لے کر کوئی انڈسٹری لگانا چاہے، اس کے لیے کسانوں کو کہیں بھگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ صرف بی ڈی اوکے دفتر میں جائے، درخواست دے۔ افسر صرف اتنی پلاننگ کرلیں کہ اس بلاک میں اس سال اتنی فصل ہوئی، اگلے سال اتنی فصل ہوگی، اس کے اگلے سال ا تنی فصل ہوگی اور اس کے حساب سے اسے یونٹ لگانے کی اجازت دے دیں۔ زیادہ فصل ہونے لگے تو زیادہ یونٹ کی اجازت دے دیں۔ صرف اتنی پلاننگ کردیں ۔ اس پورے عمل میں کہیں بھی رشوت یا بدعنوانی نہ ہو۔ آپ کسانوں کو صحیح ڈھنگ سے تیار ہونے کا موقع دیں۔ کسانوںکے پاس پیسہ ہے،اسی بلاک میںوہ ایک یونٹ لگا لیں گے ۔ پروسیسنگ یونٹ لگا لیںگے اور جب وہ یونٹ لگ جائے گی تو کمپنیاں اس بلاک میں دروازے پر جائیںگی، اس پروسیس مال کو خریدنے کے لیے۔ اپنے آپ مارکیٹنگ کو آپریٹوز کھڑی ہوجائیں گی۔ سرکار گاؤں میںہی پیداوار ہونے دے ، لیکن جس افسر نے یا جس وزارت نے وزیر اعظم کو سرمایہ کاری جٹانے کا سجھاؤ دیاہے، اس وزارت یا افسر نے اس ملک میںاڈانی اور امبانی جیسے کے لیے ایک نیا وسیع میدان کھول دیا ہے کہ وہ کسانوں کو لوٹیں اور وال مارٹ جیسی کمپنیاں ان کے پیچھے رہ کر اس ملک کے کسانوں کی کھیتی کے اوپر براہ راست یا بالواسطہ طور پر قبضہ کرلیں۔ اپنے منمانے حساب سے فصل پیدا کریں اور پانچ سال ہوتے ہوتے ہم دوبارہ نئے سرے سے غلام ہو جائیں جیسے ڈنکل نے ایک تجویز رکھی تھی اور ہم سے ہمارا بیج پیدا کرنے کا حق چھین لیا تھا۔ اس کی مخالفت 1993-96میںہوئی تھی۔لیکن کچھ نہیںہوپایا کیونکہ اس وقت کی سرکاریں، خاص طور سے نرسمہاراؤ راؤ کی سرکار، نے اس کے اوپر کچھ دھیان نہیں دیا۔دیوے گوڑا اور گجرال سرکار ایک ایک سال کے لیے تھی۔ ان کے ہاتھ میںکچھ تھا نہیں اور پھر اٹل جی کی سرکار نے بھی اس کے اوپر کچھ نہیںکیا۔ ہماری کھیتی کے لیے ہم پہلے اپنا بیج پیدا کرتے تھے، وہ بیج اب ملٹی نیشنل کمپنیوںکے ہاتھ میںچلا گیا۔ اب وہ بیج پیدا کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہمارے ملک میںاپنے بیج بیچتی ہیں ، جس سے صرف ایک فصل ہوتی ہے۔ وزیر اعظم صاحب اگر کھیتی سے متعلق ہوتے یا ان کے یہاںکھیتی ہوتی یا وہ کسان خاندان سے آئے ہوتے تو انھیںاس کے پیچ بھی پتہ ہوتے، اس کا درد بھی پتہ ہوتا اور اس کا مستقبل بھی پتہ ہوتا کہ اس ملک کی کھیتی کا مستقبل کہاںجانے والا ہے۔ ہم سارے ملک کے کسانوںکی زمین مفت میں ملٹی نیشنل کمپنیوںکے ہاتھ میںدینے کی بنیاد ڈال چکے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس ملک کی کھیتی کو ملٹی نیشنلس کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے سرکار کو سوچنا چاہیے۔ آج سرکار اگر کسانوں کو نہیںبچائے گی تو کل کسان مہاسنگرام کرے گا۔ سرکار آج ان کسانوں کو بچانے کا کام کرے، نہیںتو کل کو وال مارٹ جیسی کمپنیاںشروع میں ہندوستانی کمپنیوںکی آڑ میں اس ملک کے کسانوںکا شکار کریںگی،انھیں اپنے قبضے میںلیںگی اور سرمایہ کاری اکٹھاکرنے کے نام پر اپنی صنعتوںکا جال یہاںپھیلائیں گی۔ یہ جال ہندوستان کے لیے بہت خطرناک ہوگا ۔ لوگ کہتے ہیںکہ تاریخ اپنے کو دوہراتی ہے۔ انگریز جب یہاں آئے تھے تو تاجر بن کر۔ کیا وہ تاریخ دوہرائی جانے والی ہے؟ انگریزوں نے بھی پہلے تجارت کرنے کی اجازت مانگی تھی اور بعدمیںملک کا اقتدار اپنے ہاتھ میںلے لیا۔ 200 سال سے زیادہ وہ یہاںپر رہ گئے۔ کیا وہ تاریخ پر دوہرائی جانے والی ہے۔ سرکار کو اس سے بچناہوگا۔

 

 

 

 

 

2015 میں ہندوستان میںفوڈ پروسیسنگ کا کاروبار 258 بلین ڈالر تھا،جس کے 2020 میں482 بلین ڈالر ہوجانے کا امکان ہے۔
فوڈ ریٹیل،انویسٹمنٹ انفراسٹرکچر پر ایسوچیم گرانٹ تھارنٹن کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں 2024 تک فوڈ پروسیسنگ شعبے میں90 لاکھ لوگوںکو روزگار ملنے کا امکان ہے اور ریاستوں میںراست طور پر 8 ہزار اور بالواسطہ طور پر 80 ہزار روزگار پیدا ہونے کا امکان ہے۔
وزارت زراعت کی فصل ریسرچ اکائی سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ ہارویسٹ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سیفیٹ) کی رپورٹ کے مطابق ،ملک میںتقریباً 67 لاکھ ٹن غذائی اشیاء کی بربادی ہر سال ہوتی ہے۔ ان غذائی اشیاء کی قیمت 92ہزار کروڑ روپے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
کھانے کی جتنی اشیاء ملک میںبرباد ہوجاتی ہے،اتنی برطانیہ جیسے بڑے ملک کے فوڈ پروڈکشن کے برابر ہے۔
ملک بھرمیں پھل سبزیوںکے اسٹوریج کے لیے جتنے کولڈ اسٹوریج ہیں، تقریباً اتنے ہی اور چاہئیں۔ملک بھر میںحالیہ وقت میں6500 کروڑ کولڈ اسٹوریج ہیں، جن کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 3.1کروڑ ٹن ہے لیکن ضرورت ہے 6.1 کروڑ ٹن صلاحیت والے کولڈ اسٹوریج کی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *