ہادیہ نے سپریم کورٹ میں کہا’مجھے اپنی آزادی چاہئے‘

hadiya
کیرل لوجہادمعاملے میں آج 27نومبرکوسپریم کورٹ میں اکھیلاعرف ہادیہ کی پیشی ہوئی ۔ہادیہ کے وکیل کپل سبل نے کہاکہ بالغ ہادیہ کوزندگی کے فیصلے لینے کا حق ہے۔این آئی اے کہاکہ ہادیہ کومجبورکیاگیاہے۔ہادیہ کے والدنے کہاکہ جان کوخطرہ ہے، بندکمرے میں سنوائی کیجئے۔اگلی سنوائی جنوری کے تیسرے ہفتے میں ہوگی۔ہادیہ کوواپس سیلم کے ہیومیوپیتھی کالج بھیجا، اپنی انٹرشپ پوری کرے گی۔یادیہ نے سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ اپنے شوہرسے ملناچاہتی ہے۔ہادیہ نے عدالت میں کہاکہ پچھلے 11مہینے کافی ہراساں والے رہے،فی الحال میں کیلی کٹ میں اپنے دوست کے گھرجاناچاہتی ہوں جہاں میں جاکرتھوڑاآرام کرسکوں۔
سپریم کورٹ پوچھاکہ آپ کے مستقبل کے پلان کیاہے،ہادیہ نے کہاکہ مجھے آزادی چاہئے۔سنوائی کے دوران عدالت نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ کیااس طرح کے کبھی حالات ہوسکتے ہیں کہ جب کوئی بالغ بھی جوفیصلہ لے رہاہووہ فیصلے لیتے وقت اپنادماغ کااستعمال نہ کرپارہاہو۔ہادیہ کیس میں سپریم کورٹ کے جج نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ کے معاملے میں بھی ایساہواہے لیکن کچھ ایک معاملے ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں پرایک بالغ شخص بھی سوچ سمجھ کرفیصلہ لینے میں قابل نہیں ہوتا۔
ہادیہ کے وکیل کپل سبل نے کہاکہ اس کومذہبی رنگ نہ دیاجاناچاہئے ۔یہ ہادیہ کی زندگی ہے ،اسکوفیصلہ لینے کا حق ہے۔اگریہ بھی مان لیاجائے کہ ہادیہ جس سے نکاح کیاوہ غلط انسان ہے لیکن پھراگروہ اس کے ساتھ رہناچاہتی ہے تواس کی مرضی ہے۔
عدالت نے ہادیہ کے والدکے وکیل سے پوچھاکہ آپ کیاچاہتے ہیں کہ پہلے ہم اس معاملے میں ہادیہ سے بات کریں اورپھریہ جوباتیں کہی گئی ہے کہ وہ کسی طرح کے دباؤمیں ہے یاپھرکسی سازش کے تحت کسی طریقے سے اس کوپھنسایاگیاہے اس بات پرغورکریں۔یاپھرآپ چاہتے ہیں کہ پہلے ہم باقی پہلوؤں پرغورکریں اورپھرہادیہ سے بات بعدمیں کریں۔کپل سبل نے کہاکہ یہاں پریہ معاملہ نہیں ہے کہ وہ بالغ ہے اورکیا وہ کسی دباؤ میں ہے یانہیں۔یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کیااسکواس طرح سے حراست میں رکھاجاناچاہئے؟۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *