گوگل کا معروف اردوادانشورمرحوم عبدا لقوی دسنوی کوخراج عقیدت

abdul-qavi-desnavi
اردو کے مشہور مصنف اور ادیب اور مبصر عبدا لقوی دسنوی کوگوگل نے آج اپنے ڈوڈل کے ذریعے ان کی 87 ویں سالگرہ مناتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ یعنی انکے اعزاز میں گوگل نے اپنی علامت ڈوڈل(لوگو) کو اردو طرزا سکرپٹ میں ڈیزائن کیا ہے،اوراردوکے چندالفاظ کے درمیان ان کی اسکیچ فوٹوتصنیف وتالیف میں غرق ہوتے دکھائی ہے۔اردوکے کسی ادیب کوگوگل کا خراج عقیدت پیش کرناخودایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔
عبدالقوی دسنوی کی ولادت دسنہ، بہار کے گاؤں کے آستھاوان بلاک میں ہوئی تھی۔ یہ بہار (بھارت) کے نالندا ضلع میں آتا ہے۔ ان کا خاندان نامور عالم دین سید سلیمان ندویؒ سے تعلق رکھتا ہے۔یہ سید محمد سعید رضا کے فرزند تھے جو سینٹ زیوئرس کالج، ممبئی میں اردو، عربی اور فارسی زبان کے پروفیسر تھے۔ ان کے دو بھائی تھے۔ بڑے بھائی پروفیسر سید محمد محی رضا اور چھوٹے بھائی سید عبدالوالی۔
عبدالقوی دسنویؒ نے ابتدائی تعلیم بہار کے آراہ شہر میں مکمل کی۔ انہوں نے سینٹ زیوئرس کالج، ممبئی سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن اول درجے میں حاصل کیا۔وہ فروری 1961ء میں سیفیہ پوسٹ گریجویٹ کالج میں مقرر ہوئے۔ وہیں وہ پروفیسر اور صدر شعبہ اردو بنے۔ وہ ایک ادیب اوردانشورکے طور پر شہرت پائے۔ وظیفے کے بعد وہ کئی اعزازی عہدوں پر فائز ہوئے جن میں حسب ذیل شامل تھے:زائد پرنسبل، سیفیہ پوسٹ گریجویٹ کالج، بھوپال،معتمد، مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، بھوپال ،منتخب رکن انجمن عام ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی ،رکن آل انڈیا انجمن ترقی اردو بورڈ، نئی دہلی ،رکن پروگرام مشاورتی کمیٹی، آل انڈیا ریڈیو، بھوپال ،رکن، ایگزیکیٹیو کونسل، برکت اللہ یونیورسٹی، بھوپال ،صدرنشین، بورڈ آف اسٹڈیز، اردو، فارسی وعربی، برکت اللہ یونیورسٹی، بھوپال ،ڈین، فیکلٹی آف آرٹس،برکت اللہ یونیورسٹی ،رکن مجلس عاملہ، تاج المساجد، بھوپال ۔ان کی تصانیف ہیں:یادگارِ سلیمان،ایک شہر پانچ مشاہیر،اقبال انیسویں صدی میں،متاحِ حیات (سوانح)،بمبئی سے بھوپال تک،اْردو شاعری کی گیارہ آوازیں،ابوالکلام آزاد،اقبال کی تلاش،اقبال اور دارالاقبال بھوپال،مطالعہ غبار خاطر،تلاش و تاثر،سات تحریریں،مطالعہ خطوط غالب،بھوپال اور غالب،علامہ اقبال بھوپال میں،حسرت کی سیاسی زندگی،ایک اور مشرقی کتب خانہ۔عبدالقوی نے ہندوستان میں اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران اردوادب کے فروغ کے لیے کئی کتابیں لکھیں اوران کاانتقال 7 جولائی، 2011 کو ہوا۔ مگر6برس بعدبھی علمی طورپرزندہ ہیں اوریادکئے جاتے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *