تعلیمی کارواں نے سرسید کی تحریک کو زندہ کردیا ہے

 

1857کے بعد جس طرح نظام اور حالات بدلے، اس سے مسلمان پچھڑ گئے۔ اس وقت سرسید نے ٹکرائو کے بجائے تعلیم کے ذریعہ ترقی کا راستہ دکھایا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ معاشرہ کی ترقی رائج معیاری تعلیم سے ہی ممکن ہے۔ جب تک اس کے حصول کو اپنا ہدف نہیں بنایا جائے گا،تب تک سماج خوشحال نہیں ہوسکتا۔ اس لئے سر سید نے اہل وطن خاص طورپر مسلمانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ کیوںکہ حکومت کی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثرمسلمانوں پر پڑا تھا اور وہ ہر اعتبار سے پیچھے ہوگئے تھے۔ سرسید نے اپنی سوچ کو زمینی حقیقت میں بدلنے کیلئے 1857 میں مدرسۃ العلوم مسلمانان ہند علی گڑھ میں قائم کیا، جو دوسالوں میں محمڈن اینگلو اور ینتل کالج بن گیا۔ اس سے قبل وہ بجنور اور مرادآباد میں اسکول قائم کرچکے تھے۔ اسی محمڈن کالج نے سرسید کی خواہش کے مطابق 1920 میںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل اختیار کی۔
سرسید احمد خاںکی پیدا ئش کو 17؍اکتوبر کو دوسوسال ہوگئے۔ تعلیمی اعتبار سے مسلمان تب بھی پیچھے تھے اور آج بھی ہیں۔ جبکہ سرسیدنے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے ذریعہ پورے ملک کو جدید معیاری تعلیم سے جوڑنے کی کوشش کی۔ کانفرنس کا جہاں بھی اجلاس ہوتا، وہاں اسکول قائم کیا جاتا۔ اس کی و جہ سے قابل ذکر مسلم آبادی والے شہروں وقصبات میں بہت سے اسکول قائم ہوئے۔ ان میں سے کچھ انٹر اور ڈگری کالج بن گئے لیکن کئی کی حالت خستہ ہے۔ خاص طورپر شمالی بھارت میںبڑے بڑے مسلم ادارے کمیٹی کے آپسی اختلافات کی وجہ سے برباد ہوگئے۔ جن کالجوں کو یونیورسٹی بن جاناچاہئے تھا وہ آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مسلم کالجوں میں مسلم طلبہ کی تعداد میں کمی کا سوال بھی پریشان کرنے والا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم کو لے کر اب بھی مسلمان شاید سنجیدہ نہیں ہیں۔

 

 

 

 

 

تعلیمی کارواں آگے بڑھ رہا ہے
زندہ قومیں اپنے اسلاف کو نہ صرف اچھے ناموںسے یاد کرتی ہیں بلکہ ان کی سماجی خدمات وتعلیمات کو عام کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ سرسید کے دوسوسالہ یوم ولادت کے موقع پر منعقد تقریبات کی جو خبریں آئیں، وہ بہت امید افزانہیںہیں۔ کئی نے سمینار، سمپوزیم کے ذریعہ تو کئی نے ڈنر کھاکر سرسید کو یاد کیالیکن کچھ لوگوں نے اس موقع پر مسلمانوں کی تعلیمی طورپر کایا پلٹ کا عہد کیا ہے۔ ایسی ہی ایک کوشش آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ اور سید حامد فائونڈیشن کے ذریعہ نکالے گئے تعلیمی کارواںہے،جس میں شریک ہوکر اسے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں ایسی کئی باتیں اور تجربے سامنے آئے جن سے استفادہ کیا کاجاسکتا ہے۔ سید حامد فائونڈیشن کے قیا م کی افتتاحی تقریب میں سابق نائب صدر جمہوریہ سیدحامد انصاری نے شرکت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی ہمت افزائی ابتدائی، مڈل اور ثانوی سطح پر اچھی کارکردگی کرنے والے طلبہ وطالبات کو انعام دے کر کرنی چاہئے۔ انہیں آگے کی پڑھائی کیلئے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا انتظام کیا جانا چاہئے۔ یہ کام اسکول کے ذمہ دار یا پھر رضاکار تنظیمیں کرسکتی ہیں۔
تعلیمی کارواں 17اکتوبر کو سرسید کی چوکھٹ علی گڑھ سے روانہ ہوا۔ یہ تیرہ دنوں میں ملک کی دس ریاستوں کے 18 مقامات سے گزرا۔ کارواں یوپی، بہار، آسام، بنگال، اڑیسہ، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان سے ہوتے ہوئے دہلی پہنچا۔ پہلی مرتبہ تعلیمی کارواں اپریل 1992 میں شمالی ہند کی ریاستوں میں سید حامد سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سرپرستی میں اڈوانی کی رتھ یاترا کے فوراً بعد نکالا گیا تھا۔ اس وقت کارواں سے مسلمانوں کو حوصلہ بھی ملاتھا اور قومی یکجہتی کو مضبوطی بھی حاصل ہوئی تھی۔ اس بار کارواں کے ممبران نے محسوس کیا کہ مسلمان تعلیم کو لے کر فکر مند ہیں، وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانا چاہتے ہیں۔ لیکن غربت اور افلاس کی وجہ سے بیشتر افراد کے خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوپاتے۔ گفتگو کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مولانا آزاد فائونڈیشن اور اقلیتی کمیشن سے ملنے والے وظائف سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ساتھ ہی مقامی سطح پر ایسا نظم ہوجس سے وہ بچے جوپڑھنا چاہتے ہیں ان کی پڑھائی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ یہ مشورہ بھی آیاکہ صاحب حیثیت لوگ بچوں کی ذمہ داری لیں اور اپنی استعداد کے مطابق بچوںکو اڈاپٹ کریں۔
اعلیٰ تعلیم میں مسلم نمائندگی
مسلم سماج کی اعلیٰ تعلیم میں نمائندگی تشویشناک حد تک کم ہے۔ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوٹس کے ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے تعلیمی تجربات ساجھاکرتے ہوئے کہا کہ بچوں کیلئے تعلیم میں ثانوی سطح بہت اہم ہوتی ہے ۔اگر اس مرحلے کو بچے اچھی طرح پار کرلیتے ہیں تو پھر وہ زندگی میں کہیں نہیں رکتے۔ وہ ایک ہزار بچے اور بچیوں کو سرکاری میڈیکل کالجوں میں سیٹ دلا چکے ہیں۔ کارواں کے نمائندوں نے آرٹی (لازمی تعلیم کے حق ) ایکٹ سے فائدہ اٹھانے اور سرکاری اسکولوں کو پڑھائی پر توجہ دینے کا دبائو بنانے کو کہا۔ یہ بات بھی ابھر کر سامنے آئی کہ کیوںنہ مالدار مسلمان تعلیم کا کاروبار کریں۔ وہ اچھے معیاری تعلیم کے ادارے بنائیں اور جو فیس دے سکتے ہیں، ان سے فیس لیں۔ 25 فیصد غریب بچوں کو مفت میں معیاری تعلیم دیں تاکہ ادارے میں فیس نہ دے پانے والوں کا بوجھ نہ پڑے اور انہیں معیاری تعلیم بھی مل جائے۔ تعلیم کے کاروبار میں عزت، دولت اور نام تینوں چیزیں مل جائیںگی، ساتھ میں غریبوں کی دعا بھی مل جائے تو یہ ادارے آخرت میں سرخروئی کا ذریعہ بھی بن جائیںگے۔
لڑکیاں، عورتیں تعلیم میں پیچھے ہیں، یہ احساس ہر جگہ دیکھنے کو ملا۔ قرآن نے مسلم مردوں و عورتوں پر علم کے حصول کو یکساں طورپر فرض قرار دیا ہے۔ پھر بھی مسلم خواتین تعلیم کے معاملے میں مردوں سے پیچھے ہیں، جبکہ ایک لڑکا پڑھتا ہے تو اس سے ایک گھر کا بھلا ہوتا ہے لیکن اگر ایک لڑکی پڑھتی ہے تو اس کا اثر پورے خاندان پر پڑتا ہے۔ ہر سال دسویں و بارہویں کے نتائج میں لڑکیوں کے زیادہ پاس ہونے کی خبر آتی ہے۔ اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ لڑکیاں زیادہ پڑھ رہی ہیں۔ بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد کیا ہے؟ کارواں کے دوران لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں پر بھی تفصیل سے بات ہوئی۔ مثلاً اسکول آنے جانے کے دوران لڑکیوں کی حفاظت، اسکول میں ان کیلئے صاف ستھرا بیت الخلائ، اسکول جانے کیلئے سواری کا انتظام، گھر کے لوگوں کی طرف سے پڑھنے کیلئے لڑکیوں کی ہمت افزئی وغیرہ۔

 

 

 

 

 

مدارس کی شروعات سکندر لودی نے کی
بھارت میں عام لوگوں کیلئے سب سے پہلے سکندر لودی نے مدرسے بنائے تھے۔ اس سے پہلے عام لوگ تعلیم حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ پڑھائی لکھائی صرف اعلیٰ ذات کے لوگوں کیلئے مخصوص تھی۔ اب تعلیم سب کیلئے ہے۔ اس لئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو علم سے جوڑنے کیلئے مقامی سطح پر تعلیمی کارواں نکالنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ بھی طے پایا کہ اس کے ذریعہ لیڈر شپ ابھارنے، معاشی حالت بہتر بنانے،انتظامیہ میں شمولیت اور پروفیشنل کورسیز میں داخلہ لینے کیلئے بچوں کی ہمت افزائی کی جائے گی۔ آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کے صدر امان اللہ خاں نے بتایا کہ تعلیمی ترقی کیلئے سید حامد فائونڈیشن معاون کرے گا۔ انہوںنے کہاکہ اگلے سال سے صوبائی سطح پر کارواں نکالے جائیںگے تاکہ صوبائی یونٹ بعد میں فالواپ کرسکے۔ نئے اداروں کے قیام پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ شمالی ریاستوںمیں اکیڈمک آئی سیو (Remedial Class) شروع کیا جائے گا۔ اس میں ان بچوں کو دو تین ماہ رکھا جائے گا جو میتھ، سائنس یا انگریزی میں کمزور ہونے کی وجہ سے تعلیم میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ یہی بچے اسکول چھوڑنے والے بن جاتے ہیں۔ بچوں کو ڈراپ آئوٹ ہونے سے بچانے کیلئے یہ قدم انتہائی ضروری ہے۔
کارواں کے دوران معیاری تعلیم کے ساتھ اخلاقی تعلیم وتربیت کی ضرورت پر بھی تفصیل سے بات ہوئی۔ خواجہ شاہد سابق پرووائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسٹی، ممدوحہ ماجد، ڈاکٹر سید فاروق، صفی انوری، عبدالرشید سکندر اصلاحی،تعلیم فلاحی، عبدالقیوم انصاری وغیرہ نے مختلف موضوعات پر گفتگو
کی۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ مدرسوں کے نظام کو نہ صرف قائم رکھا جائے بلکہ انہیں اور بہتر بنایا جائے۔ کارواں کا اختتام دہلی میں ہوا۔ اس موقع پر دہلی سرکار کے وزیرتعلیم منیش سسودیا نے کہاکہ’’ آج صرف نصاب کی تکمیل کو تعلیم سمجھ لیا گیا ہے جبکہ یہ ثانوی چیز ہے جبکہ تعلیم کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ جو پڑھایا جارہا ہے وہ بچے کی سمجھ میں آئے۔ نصاب پر زور ہونے سے بچوں میں ڈراپ آئوٹ کا ریٹ بڑھ رہا ہے۔ دسویں کلاس تک کم وبیش چوہتر فیصد بچے ایسے ہوتے ہیں جو درمیان میں اسکول، تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ تعلیم اگر ہمارے اخلاق پر اثرانداز نہیں ہوتی تو وہ ہمارے لئے مفید نہیں ہوسکتی۔ تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ سماج میں فرق نظرآنا چاہئے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم شروع سے بچے کو اخلاقیات سکھائیں گے‘‘۔ آج یوگ نہیںگیان یوگ کی ضرورت ہے تاکہ تعلیم سماج کا ایجنڈا بن سکے اور سب کی ترقی ہو، ہرہاتھ کو کام اور ہرگھر خوشحال ہو۔ تعلیم کو سماج کا ایجنڈا بنانا چاہئے اسی سے سب کی ترقی ہوگی اور محرومی دور۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *