ڈابیٹیزسے شروع میں احتیاط کرکے بچاجاسکتاہے

dr-mahboob-waris
آنے والا14؍نومبر دنیا میں ڈابٹیز(شوگر)کے دن کے طورپرمنایاجائے گا۔ماہرڈاکٹرمحبوب وارث (موبائل نمبر:9650554668)کاکہناہے کہ ہندوستان ڈابٹیز کا گھر بن چکا ہے کیونکہ اس ملک میں تقریباً سات کرور لوگ شوگر کے مریض ہیں ۔دس میں سے ایک عورت شوگر کی مریضہ ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آدھے سے زیادہ لوگوں کو اس جان لیوا بیماری کے بار ے میں جانکاری نہیں ہے ۔
کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کا ہمیں فوراً علم ہو جاتا ہے جیسے سردی ،زکام ،بخار ،پیٹ کی خرابی وغیرہ ۔مگر کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جو بہت بعد میں ظاہر ہوتی ہیں اور وہ جسم کو دھیرے دھیرے کھوکھلا کردیتی ہیں۔ایسی بیماریوں کو شروع میں ہی پتہ لگانے کے لئے امریکہ اور دوسرے ممالک کے ماہرین نے 3Dًٓباڈی اسکین کا طریقہ ایجاد کیا ہے۔اس سسٹم سے جسم کے اندر پنپنے والی بیماری بہت شروع میں ہی پتہ چل جاتی ہے اور اس کا علاج کراکر انسان صحت مند ہو جاتا ہے ۔
جن لوگوں نے 3Dباڈی طریقے سے اپنی جانچ کروائی ان کو اس عمر میں ہی شوگر ہونے کا پتہ چلا جس سے وہ لوگ بہت متعجب ہوئے ۔آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ شوگر ایک خاموش قاتل کی طرح انسانی جسم پر حملہ آور ہوتا ہے ۔ٹائپ ٹو شوگر کی بیماری تو اتنی خطرناک ہے کہ یہ اندر ہی اندر جسم میں اتنا بڑھ جاتی ہے کہ اسکا ہمیں پتہ ہی نہیں چل پاتا ۔اس کی وجہ سے جسم کے اندرونی اجزا خراب ہونے لگتے ہیں اور بعد میں مریض کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔جب تک مریض کو شوگر کا پتہ چلتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور جسم کے بہت سے حصے جیسے گردے ،دل ،آنکھ کی بینائی ،نسوں کی تکلیف ،دل اور دماغ کے دورے پڑنے لگتے ہیں ۔یہاں تک مریض اندھا ہو جاتا ہے۔اگر شوگر کا اثر پیروں تک پہنچ جائے تو انہیں کاٹنے تک کی نوبت آجاتی ہے ۔اس کی وجہ شوگر کا انفکشن پیروں تک ہو جاتا ہے ۔
اگر شوگر کا ابتدائی دور میں پتہ چل جائے تو ساری پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے ۔3Dباڈی اسکین ایک ایسا ہی طریقہ ہے جس سے شوگر کی ابتدائی حالت میں پتہ لگالیا جاتا ہے۔یہ امریکہ وغیرہ میں بہت مشہور ہے اور U.S-F.D.Aسے منظور شدہ ہے ۔اس طریقے میں مریض کو بیماری کی ساری جانکاری صرف چار منٹ میں دے دی جاتی ہے ۔
3Dباڈی اسکین کے فائدے
1۔یہ طریقہ کسی بھی طرح سے نقصاندہ نہیں ہے ۔2۔اس میں جسم کے کسی حصے کا ریڈیشن نہیں ہوتا جیسا کہ X.rayاور e.tاسکین وغیرہ میں ہوتا ہے ۔3۔اس طریقے میں خون پیشاب وغیرہ کی جانچ کرنا ضروری نہیں ہوتا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *