جمہوریت سے کھلواڑ خطرناکت

ایک سال قبل، یعنی اکتوبر 2016 میںکوئی تصور بھی نہیںکر سکتا تھا کہ ایک سال کے اندر ملک میں اتنی تبدیلی آجائے گی ۔ اس کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ کیونکہ مئی 2014 میںسرکار مکمل اکثریت سے آئی تھی ۔ عدم استحکام کاکوئی سوال ہی نہیں تھا اور اقتصادی حالت بھی ان کے حق میںتھی۔ دنیا میںتیل کی قیمتیں کافی کم ہوگئی تھیں۔ اس سے بجٹ میںکئی لاکھ کروڑ کا فائدہ ہوگیا اور افراط زر بھی تقریباً عمومی تھا۔ وزیر اعظم نے بڑے بڑے اعلانات کیے ، جس سے لگا کہ نئی صنعتیں لگیں گی، لوگوںکو روزگار ملے گا۔ مجموعی طور پر ایسا لگا کہ ملک دھیر دھیرے ترقی کی جانب بڑھے گا۔بدقسمتی سے ایک سال میںصورت حال پوری طرح سے بدل گئی، کیوں؟ وزیر اعظم نے نوٹ بندی کا ایک قدم اٹھایا۔ بغیر کسی ماہر اقتصادیات سے پوچھے ، اسٹڈی کیے بغیر، بغیر کسی سمجھ کے کہ اس کا اثر کیا ہوگا، اچھا یا برا۔ اس کے کیا نتیجے ہوںگے، بغیر کسی کیلکلیشن کے۔
وزیر اعظم نے ایک طرح سے تاریخ رقم کرنے کے لیے خود ایک قدم کا اعلان کردیا، نوٹ بندی۔ 8نومبر 2016کو انھوں نے اعلان کیا اور 31 دسمبر تک کا وقت دیا کہ آپ نئے نوٹوں کی جگہ پرانے نوٹ بدل لیجئے۔ بینکوں میںجو روپے جمع نہیں کریں گے،وہ روپے بعد میںخارج ہو جائیںگے۔ اس وقت لوگوںکی یہ سمجھ میںنہیںآیا کہ اس کے کیا دور رس نتائج ہوسکتے ہیں۔ افرا تفری مچ گئی۔ چھوٹے لوگ، کسان، غریب، مزدور، جن کی عادت ہی روکڑے میںروز کا کام کرنے کی تھی، وہ کشمکش میں مبتلا ہوگئے کہ کیا کریں؟ نئے نوٹ دستیاب نہیںتھے،اے ٹی ایم خالی تھے، لوگوں میں افراتفری مچ گئی۔ کئی لوگ قطار میںکھڑے ہوکربے ہوش ہوگئے،کئی حادثے ہوئے ۔
خیر کسی طرح وہ وقت دھیرے دھیرے نکل گیا۔ یہ ہندوستان ہے، 5000 سال پرانا ملک ہے۔ یہاںغلامی کا لمبا دور رہا۔ 1947 میںمہاتما گاندھی کی انتھک کوششوں سے آزادی ملی اور مجاہدین آزادی سبھاش چندر بوس، مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت نہرو، سردار پٹیل سب مل کر آزادی لائے۔ ویسے دیکھا جائے توآزادی کی اپنی تاریخ صرف 70 سال پرانی ہے، لیکن ملک بہت پرانا ہے۔ ان دونوں باتوں کو نظر انداز نہیںکرنا چاہیے،جو ملک کی پرسنالٹی ہے ، جو یہاں کے لوگوںکی ذہنیت ہے، جو سوچ ہے، وہ پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ ہماری پانچ ہزار سال پرانی تاریخ رامائن، مہابھارت، بھگود گیتا، قرآن، بائبل، گرو گرنتھ صاحب کا مرکب ہے۔ کوئی یہ سمجھے کہ 1947سے یہاںکی تاریخ شروع ہوئی تویہ ایک مذاق ہے۔ 1947 میں آزادی ملی ، 1950 میںآئین ملا، 1952 سے الیکشن شروع ہوئے، یہ سب ٹھیک ہے، لیکن ملک اس سے پرانا ہے۔

 

 

 

 

 

 

زندہ رہنے اور آزادی کا حق ہمیںپہلے سے ہے
اندرا گاندھی نے 1975میں ایمرجنسی لاکر ایک غلطی کی تھی۔ ایمرجنسی کے تحت انھوںنے لوگوں کے فنڈا منٹل رائٹس سسپینڈ کر دیے تھے۔ لوگوںکو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیتے تھے، وجہ بھی نہیں بتاتے تھے۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ آیا تو اس وقت کے اٹارنی جنرل نیرین ڈے سے سپریم کورٹ نے پوچھا کہ، یہ بتائیے کہ زندہ رہنے اور آزاد رہنے کا جو حق ہے، وہ تم سسپینڈ کیسے کر سکتے ہو؟ جو عوام کے وکیل تھے، انھوں نے سوال اٹھایاکہ کیا سرکار کوئی چیز واپس بھی لے سکتی ہے؟ لیکن وہی لے سکتی ہے، جوانھوں نے دی ہے۔ زندہ رہنے اور آزاد گھومنے کاحق تو ہمیں پہلے بھی تھا۔ 1950 کا آئین آیا، اس میں آپ نے یہ حقوق لکھے۔ لیکن ا س سے پہلے بھی ہم آزاد تھے، زندہ تھے، سانس لیتے تھے۔ آپ کون ہوتے ہیں حق واپس لینے والے؟ خیر سپریم کورٹ کچھ زیادہ نہیںکر پایا۔ 19 مہینے کے اس اندھیرے کے بعد عوام نے فیصلہ کر دیا۔ جب الیکشن ہوا، تب عوام نے کہا کہ آپ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
ایک دن میں تاریخ نہیں بدلتی
نریندر مودی کو ہم نے اس لیے نہیں چنا تھا۔ آپ اپنی حدود میںرہ کرہمارے لیے جو بھلا کرسکتے تھے، کریے، نہیںکرسکتے تو پانچ سال کے بعد نئی سرکار آئے گی۔ شاید آپ کو واپس چن لیا جائے گا۔ پانچ ہزار سال پرانا ملک ہے، آپ سمجھتے ہیں کہ پانچ سال میں اسے بدل دیں گے، تو یہ نہیں ہوسکتا۔ یہ منطقی بات نہیںہے۔ اندرا گاندھی جی نے وہ بھول کی، اس کی ان کو سزا مل گئی۔ 1977 میںعوام نے دوسری سرکار چن لی۔ انھوںنے معافی مانگی۔ 1980 میں وہ پھر چن کر آگئیں ، اب ان وزیر اعظم کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ آپ ایک دن میںتاریخ نہیںبدل سکتے۔ اس پورے ملک میںسوا سو کروڑ لوگ ہیں۔ انکم ٹیکس پیئر ہیں ڈھائی کروڑ یعنی دو فیصد۔ یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک غریب ملک ہے۔ کسانوںکی انکم ، انکم ٹیکس فری ہے۔ یہ جو آپ بلیک منی اور کرپشن کی بات کرتے ہیں، جو بیرونی ممالک میںروپیہ پڑا ہے، کس کا پڑا ہے؟ ان دو فیصد لوگوںکا ہی پڑا ہے اور دو فیصد میںسے 10 فیصد کا ہی پڑا ہوگا۔ اس کے لیے آپ پورے ملک میں غریبوں، مزدوروں اور مظلوموں کی روز کی زندگی تہس نہس کردیں، صرف اس لیے کہ ہم چور پکڑیںگے، اس لیے تو آپ کو نہیں چنا تھا۔ لوگوں نے جب آپ کو ووٹ دیا تھا تو آپ کو یہ سوچ کر ووٹ دیا تھا کہ نئے روزگار لائیں گے،جدید یت کریں گے،نئے روڈ بنیںگے،نئی ریل کی پٹریاں بچھیںگی، نئے تعلیمی ادارے کھلیں گے، نئے اسپتال کھلیں گے۔ عام آدمی روزمرہ کی زندگی کی چیزیں دستیاب کرناچاہتا ہے، اس نے اس امید سے آپ کو بنایا تھا۔ میںتو وزیر اعظم کو جانتا ہوں۔ ایک سال قبل اچانک جو بھی ہوا،انھوںنے سمجھا،اس سے بہت بڑاچمتکار ہوجائے گا، لیکن وہ الٹا پڑ گیا۔
پرانے ٹیکس کا صرف سدھار ہے جی ایس ٹی
ایک غلطی اور ہے اس سرکار میں کہ وہ اپنی غلطی جلدی نہیںمانتی ہے۔ یہ سب سرکاروں میںہے۔ اس غلطی کو سدھارنے کی بھی کوشش نہیںکرتے ہیں۔ ایک پرانے ٹیکس کا سدھار ہے جی ایس ٹی۔ اس ملک میںبیس سال سے اس پر بحث ہورہی ہے۔ اس کو ایک جولائی سے اچانک لاگو کردیا۔ یہ دوسری بھول تھی۔ ہونا چاہیے، نہیں ہونا چاہیے، میںیہ کہہ رہا ہوں، لیکن جس ڈھنگ سے ، جس جلد بازی میں، اس کا نتیجہ سوچے سمجھے بغیر لاگو کردیا،تو وہ جلے پر نمک چھڑکنے کی بات ہوگئی۔
عام آدمی پہلے نوٹ بندی سے پریشان تھا۔ عام آدی سے میرا مطلب ہے جو کیرانہ دکان، چھوٹی صنعتیں یا بہت چھوٹا کاروبار کرتا ہے،اچانک اس پر یہ مصیبت اور آپڑی۔ بڑے کارخانوںکی بات میںنہیںکر رہاہوں،ان پر کوئی اثر نہیںہے۔ اس لیے نہیںہے،کیونکہ ان کے پاس کمپیوٹر ہے،سب سہولتیںہیں۔ لیکن جو ایک کیرانہ کی دکان چلا رہا ہے، اگر اس کو بھی آپ 37 فارم بھرنے کے لیے کہیں ، تو پانچ ہزار روپے مہینہ تو اس کو کمپیوٹر کا خرچ لگے گا۔ اگر وہ اپنا کمپیوٹر نہ خریدیں تو بھی وہ نہیں کر سکتا۔شاید اتنی استطاعت اس کی نہیں ہے، تو ایک مصیبت اور آگئی۔
کل ملا کر ایک سال میںاقتصادی حالت بے وجہ چرمرا سی گئی ہے۔ ا س بیچ کوئی ایسی بات نہیںہوئی ہے۔ کوئی دنیا میںتیل کے دام نہیں بڑھے، کوئی خسارے کا سبب پیدا نہیںہوا، صرف سرکار کی دور رس سوچ نہیںہونے کی وجہ سے انھوں نے جلد بازی میںقدم اٹھالیے اور اس کے نتائج کو وہ کنٹرول نہیںکرسکے۔ اب حالت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ وجے دشمی کے دن آر ایس ایس کے سر سنگھ چالک موہن بھاگوت نے بھی اپنے بھاشن میںکہہ دیا کہ چھوٹے تاجروں کے ساتھ آپ ایسا نہیںکرسکتے۔ اب آر ایس ایس ان کی پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ان کی بات کو وہ نظر انداز نہیںکرسکتے۔ انھوں نے کچھ صحیح قدم اٹھائے۔ چھوٹی صنعتوں اور چھوڑے کاروباروں کے لیے ریٹرن کے فارم کم کردیے،کچھ لمٹ بھی بڑھادی لیکن یہ بہت چھوٹے قدم ہیں ، بیماری بہت گہری ہوگئی ہے،قدم چھوٹے ہیں۔ اس کا حل کم وقت میںنہیںنکل سکتا ہے۔
سرکار وہ غلطیاں کررہی ہے، جن سے اب تک بچی تھی
ان سے ایک اور جلدی ہوگئی، گجرات الیکشن آگیا۔ ریاست کے الیکشن تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ اتنا بڑا ملک ہے۔ 29-30 اسٹیٹ ہیں لیکن گجرات ان کے لیے اہمیت کا حامل ہے ۔ کیونکہ یہ جو ابھی وزیر اعظم ہیں، کبھی وہاںکے وزیر اعلیٰ تھے ، آر ایس ایس نے کوئی اندرونی سروے کرایاہے،جس میں یہ آیا کہ ان کو شاید اکثریت نہ ملے، تو اس سے ان کو تھوڑی اور تشویش ہوگئی ہے۔ لیکن یہ سب کرنے سے معاملہ حل نہیںہوگا۔ پہلے دو سال یعنی مئی 2014 سے اکتوبر 2016 تک جو میںکہہ رہا تھا، مجھے کبھی نہیںلگا تھا کہ ملک میں اس طر ح سے کوئی تبدیلی آجائے گی۔ اب یہ دو قدم الٹے پڑ گئے۔ اس کا نتیجہ دیکھئے، اب انھوں نے وہ غلطیاںکرنی شروع کردیں، جن سے وہ اب تک بچ کرچلے۔ سیاسی طور پر کوئی معیار توڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اب الیکشن کمیشن جو کم از کم 20-25 سال سے اپنے اختیار کا بھرپور استعمال کررہا تھا ، جس سے سیاسی پارٹیوں کو بھی ڈر لگنے لگاتھا۔ زیادہ خرچ کرنے سے امیدوار بھی ڈرنے لگے تھے۔ اچانک اس الیکشن کمیشن کو کیا ہوگیا؟ گجرات میںراجیہ سبھاکا الیکشن تھا۔ صرف دوو وٹوں کی بات تھی۔ اس کے لیے چھ کابینہ وزیر اپنے حق میںآرڈر دلانے کے لیے رات بھر چیف الیکشن کے پاس بیٹھے رہے۔ لیکن میںکہوںگا کہ چیف الیکشن کمشنر نے سمجھداری دکھائی۔ انھوںنے ان کی نہیںسنی اور فیصلہ ان کے خلاف چلا گیا۔ ا س کے بعد یہ تھوڑا ڈر گئے۔ ان کو تھوڑا غصہ آگیا۔ اس کے بعد تیسرا الیکشن کمشنر جو انھوںنے چنا، وہ کافی سوچ سمجھ کر ایسے آدمی کو چنا جو 2019 میں چیف الیکشن کمشنر بنے گا۔ تو اب پہلے تو 2014 سے شروع ہوئے تھے کہ ہم ملک کو ترقی کی راہ پر لے جائیں گے۔ کانگریس نے کرپشن کیا، اسکیم کیا، ہم نہیں کریں گے۔ دو ڈھائی سال تک ایک دم ٹھیک چلا۔ اس پر بحث ہوسکتی ہے کہ آپ نے کتنی ترقی کی، کتنی نہیںکی لیکن کوئی اعتراض نہیںکرپارہا ہے کہ انھوںنے کوئی اسکیم کیا، کوئی غلط کام کیا۔ دو قدم الٹے پڑنے سے اب سیاسی طور پر بھی ہر کام غلط کررہے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے چھیڑ خانی کرنے سے تو لوگوںکا انتخابی عمل سے ہی بھروسہ اٹھ جائے گا،پھر کیا ہوگا؟
معقول مشورہ
2019 کے الیکشن کا جو بھی نتیجہ آئے، لیکن پبلک کو اگر یہ بات لگ گئی کہ فیئر الیکشن نہیں تھا تو یہ مناسب نہیںہوگا۔ افریقہ ایک ملک ہے۔ وہاں 25سال سے ایک آدمی راج کررہا ہے۔ ہر پانچ سال میںوہاںالیکشن ہوتے ہیں ۔ الیکشن کا رزلٹ ان کے خلاف جاتا ہے، تب بھی وہ راج کرتے رہتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ وہ اعلان کرادیتے ہیں کہ میںجیت گیا۔ یو این اور فارین سے جو بھی آتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ الیکشن قابل اعتماد نہیںتھا لیکن وہاں کی سرکار کہتی ہے کہ قابل اعتماد تھا۔ آرمی بھی اس کو سپورٹ کرتی ہے کیونکہ وہاںآرمی سویلین اتھارٹی کے انڈر میںہے۔اصل میںوہاںعوام کی چنی ہوئی سرکار نہیںہے،وہ نان ریپریزنٹیٹو سرکار وہاں چل رہی ہے ۔ وہاں تو نام کے واسطے جمہوریت ہے، یہ ڈھکوسلہ ہے۔ یہ سرکار کو سمجھنا چاہیے ۔ میںنے پہلے کہا کہ ہمارا پانچ ہزار سال پرانا ملک ہے۔ یہاں 70 سال سے ڈیموکریسی ہے، چھیڑخانی مت کریے۔ اس کے نتائج بہت سنگین ہوںگے۔پاکستان او رہم ایک ہی دن آزاد ہوئے تھے۔پاکستان میں 1947 سے 1958 کے بیچ 11 سال میںسات وزیر اعظم بدل گئے۔ جمہوری نظام جم نہیںپایا۔ جنرل ایوب خان نے1958 میںٹیک اوور کرلیا، آرمی رول لے آئے۔ پاکستان آج تک اس کا نتیجہ بھگت رہا ہے۔ ڈیموکریسی آتی ہے، جاتی ہے، ان کی انتظامیہ میںآرمی کا بڑا دخل ہے۔ لوگ تو یہاںتک کہتے ہیںکہ پاکستان کا سپریم کورٹ بھی ا ن سے متاثر ہے۔ میں نہیں جانتا اور میرایہ سبجکٹ بھی نہیںہے، پاکستان،کچھ بھی کرے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کو پاکستان بننا ہے کیا؟ ہمیںپاکستان بننے سے بچنا ہے کہ نہیں۔ چاہے یہ جواہر لعل نہرو کو جتنا برا بولیں۔ پہلے سترہ سال میں انھوںنے جمہوری اداروں کو قائم کردیا۔ چاہے وہ آرمی ہو جو سویلین رول کے انڈر میںرہے گی،چاہے سپریم کورٹ ہو، سرکار سپریم کورٹ کی سنے گی،چاہے وہ پریس ہو، جس سے کوئی چھیڑ خانی نہیںکرے گا۔ جیسا میںنے کہا کہ اندرا جی اس کے بعد آئیں، وہ بھی رہیں انھوںنے تھوڑی سی گڑبڑ کی۔ اس کا جواب عوام نے فوراً دے دیا۔ اس کے بعد ایشور کی مہربانی سے سب ٹھیک چل رہا ہے۔
اقتصادی حالات کے لیے انجیکشن ضروری تھا
1991 میں نرسمہاراؤ جی کے دوران منموہن سنگھ وزیر خزانہ تھے۔ ملک کی اقتصادی حالت بہت خراب ہوگئی تھی۔ انھوںنے اقتصادی پالیسیوں میںایک بڑی تبدیلی کی۔ سماجوادی لوگ اس سے متفق نہیںتھے لیکن اس وقت یہ ضروری تھا۔ ایک انجیکشن ضروری تھا۔ 1991 سے 2014 تک 23 سال میںپانچ سال نرسمہاراؤ ،ایک سال دیوے گوڑا،ایک سال گجرال، چھ سال اٹل بہاری واجپئی اور دس سال منموہن سنگھ،23 سال قریب قریب ملک کی معیشت ٹھیک چل رہی تھی لیکن اس حالت میںبھی کوئی ایسی بات نہیںآئی کہ کچھ تہس نہس ہوجائے گا۔
2010 اور 2013 کے بیچ کانگریس کے خلاف بہت شکایتیں آگئی تھیں، کئی اسکیم آگئے۔ ایک سی اے جی صاحب نے ایک رپورٹ دے دی حالانکہ جس کی معتبریت شک کے دائرے میںہے۔ ایک صورت حال پیدا ہوگئی جب عوام کو لگا کہ یہ سرکار ہم سے ٹھیک سلوک نہیںکررہی ہے۔ اس نے بڑے جوش اور امید کے ساتھ نریندر مودی کو اکثریت دے دی۔ تین سال میں جو جوش، مقبولیت اور یقین انھوںنے پیدا کیا تھا، وہ تین سال میںاتنی جلدی گر جائے گا، یہ پتہ نہیںتھا۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے ۔ پہلے بھی ایک بار یہ ہوا ہے۔ جب راجیو گاندھی 1985 کے الیکشن میں400 سیٹ جیت گئے۔ ہندوستان کی تاریخ میںایسا کبھی نہیں ہوا۔ اندرا جی کا قتل ہوگیا تھا،چلیے جیت گئے۔ ڈھائی سال لگا ان کو اپنی گڈول ،اپنا اچھا اعتماد ختم کرنے میں۔ ایک بوفورس کا چھوٹا سا سودا، میںکہوںگا پورے ہندوستان کی تاریخ میںوہ کچھ معنی نہیںرکھتا، اس سے ان کی امیج ختم ہوگئی۔ آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔
2014 میں جس سدبھاؤنا سے مودی کا الیکشن ہوا تھا، لوگوںنے ان کو گلے لگایا تھا، آج وہ صورت حال نہیںہے۔ اب تشویش کی بات یہ ہے کہ وہ اور غلط قدم اٹھا رہے ہیں، جو ان کو نہیںاٹھانے چاہئیں۔ گجرات کا الیکشن ان کو فیئر کرانا چاہیے، ہاریں یاجیتیں۔ الیکشن ہر پانچ سال میںہوتا ہے۔ ہماچل اور گجرات کا الیکشن ساتھ اناؤنس کرنا تھا۔ الیکشن کمیشن کی یہ حالت کردی کہ اس نے صرف ہماچل کی تاریخ اناؤنس کی اور گجرات کی اس کے ساتھ نہیںکی آخر کیوں؟ کیونکہ مودی جی کو اور پانچ پروجیکٹ اناؤنس کرنے تھے۔ یہ تو عوام کی توہین ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں ، عوام آپ کو اس لیے ووٹ دیتے ہیںکہ آپ ایک پل اور بنا دیں گے، ایک اور ڈیم بنا دیںگے۔ یہ غلط ہے، جھوٹ ہے۔ جو بھی مودی جی کو گائڈ کررہا ہے،دراصل وہ مس گائڈ کررہا ہے ۔

 

 

 

 

 

 

فوج کو دعوت دے رہے ہیں!
ملک کا تو یہ جتنا ابھی نقصان کررہے ہیں،وہ ڈراؤنا ہے۔ فوج بھی سوچتی ہے، آرمی میںمشینیںتو نہیں ہیں، انسان ہیںوہاں۔ پاکستان میںجو ہوا، آپ دھیرے دھیرے ہندوستان میںاسی چیز کو دعوت دے رہے ہیں۔ آرمی کو یہ پیغام دے رہے ہیںکہ ہم جو ملک کے لیڈر ہیں، الگ الگ پارٹیوںکے سیاست داںہیں، اب ہماری صلاحیت ختم ہورہی ہے۔ اب ہم سرکاری مشینری کا استعمال کرکے اپوزیشن کو دبائیںگے۔ چاہے وہ سی بی آئی ہو،چاہے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ہو، چاہے انٹیلی جنس بیورو ہو، چاہے لوکل پولیس ہو، یہ اچھاٹرینڈ نہیںہے۔ راجستھان نے ایک آرڈیننس پاس کردیا کہ سرکارکی اجازت کے بغیر آپ انکوائری نہیںکرسکتے، انویسٹی گیشن نہیںکرسکتے۔ کورٹ کو اسے خارج کرنے میںپانچ منٹ نہیںلگیںگے۔ یہ اچھا ہوا کہ عوام کے دباؤ میںسرکار نے اب اس سلیکٹ کمیٹی کو سونپ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کا بل لانے کی حماقت کیسے کی بی جے پی نے؟ ایک بات میںواضح کرنا چاہتا ہوںکہ میںکانگریس میںنہیںہوں۔ ایک ذہنیت ان لوگوںکی ہے کہ جو ان کے خلافبولے تو سمجھتے ہیںکہ وہ کانگریسی ہے۔ میں سماجوادی تحریک کا حصہ ہوں۔ کانگریس جیتے ، اس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیںہے۔ بی جے پی رہے یا ہارے، اس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیںہے لیکن ملک کی اسمتا رہنی چاہیے۔ آپ نے ملک کے جو ادارے بنائے ہیں،ان کی معتبریت برقرار رہنی چاہیے۔ الیکشن کمیشن میں اگر آپ نے نقب لگادی تو اس ملک کے لیے یہ سب سے خراب کام ہوگا۔ الیکشن کمیشن کو بچائیے۔ انھوںنے ہماچل اور گجرات کی تاریخ ایک ساتھ اناؤنس نہیںکی۔ یہ بہت غلط کیا۔ یہ تو ان پر ایک کلنک ہے۔
15-20 سال راج کرنے کے لیے صبر چاہیے
پانچ سال کے لیے اتنی گڈ ول کے ساتھ آپ پاور میںآئے ہیں۔ 15-20 سال آپ کو راج کرنا چاہیے۔ لیکن15-20 سال راج کرنے کے لیے بہت صبر چاہیے۔ بہت سمجھ بوجھ چاہیے۔ اتاؤلاپن نہیںچلے گا۔ ایک دن میںدنیا بدلنے کا آپ کا ارادہ ہے، ایک دن میںتو سرکار ہی بدلتی ہے، دنیا نہیںبدلتی۔ آپ سمجھتے ہیںکہ ایک دن میںسب لوگ ہندوتو میں ڈھل جائیںگے۔ یہ میں واضح کردوں کہ ، ہندوتو ایک ثقافتی لفظ ہے۔ ساورکر جی نے کہا تھا کہ کلچرل نیشنلزم۔ اس کا دھرم، مذہب اور سناتن دھرم سے کوئی واسطہ نہیںتھا۔ اب آج جو آپ کے حامی ہیں، وہ اقلیتوں کے تئیںسلوک کی بات پر کہتے ہیں کہ پاکستان میںاقلیت ہندوؤں کے ساتھ کیسا سلوک ہوریا ہے؟ کہیںنہ کہیں ان کے من میں ہے کہ ہمیںپاکستان کی پیروی کرنی چاہیے۔ہم کو پاکستان بننا ہے۔ پاکستان بننے میںبڑے خطرے ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر اپنی جگہ ہے وہاںمولوی ہیں،یہاںپنڈت ہوںگے۔ وہاںفوج ہے، یہاں بھی فوج ہوگی۔ سوال یہ ہے ، جو ہم نے بنایا ہے، سنجویا ہے، غلطیوںکے ساتھ،اس کا ناس کرنا ہے کیا؟ اگر ہاں،تب تو ٹھیک ہے لیکن وزیر اعظم مودی جی جو بھاشن دیتے ہیں کہ یہاں سب برابر ہیں، ترقی ہوگی،نوکری ملے گی، تب پھر یہ طرزعمل نہیںچلے گا۔ الیکشن کمیشن سے فوری طور پر بات کرکے ان کو آزادی دیجئے،ان کو اپنا کام کرنے دیجئے۔ یہ فکر مت کریے کہ 2019 میںچیف الیکشن کمشنر کون ہوگا؟ الیکشن کمشنر کے ہاتھ میںکیا ہے؟ وہ پبلک کو تو نہیںبتا سکتا کہ اس کو ووٹ دو یا نہ دو۔ چھوٹی چھوٹی مدد سے سرکار کو کوئی خاص فائدہ ہونے والا نہیںہے۔ اس سے سرکار اور الیکشن کمیشن کی معتبریت کم ہوتی ہے اور عوام میںبھی غصہ پیدا ہوتا ہے۔ ایک عام آدمی کبڈی یا کرکٹ کے کھیل میںگڑبڑی ہونے پر فوراً کہتا ہے کہ یہ ان فیئر ہوا۔ ایل بی ڈبلیو غلط دے دیا یا یہ بال غلط پھینک دی۔ آج عام جنتا سمجھ گئی ہے کہ ہماچل کے ساتھ گجرات الیکشن کی تاریخ اناؤنس نہیںکرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کمزور وکٹ پر ہیں۔
ماہر اقتصادیات کا کام ان کے اوپر چھوڑ دیجئے
راجستھان سرکار کے آرڈیننس لانے کا مطلب بھی یہی ہے کہ ان کو کہیںنہ کہیں کوئی ڈر ہے، کوئی نہ کوئی انکوائری پھر ان کے خلاف چلی جائے گی۔ جے امت شاہ کا معاملہ ہے، وہ تو پارٹی کے ممبر نہیںہیں، جیسے رابرٹ واڈرا نہیںتھے۔ کانگریس نے کبھی رابرٹ واڈرا کی سائڈ نہیں لی۔ وہ تو بزنس مین ہیں،اپنا خود دیکھیںگے۔ یہاںتو امت بھائی شاہ بیان دے رہے ہیں، کیبنٹ منسٹر پیوش گویل پریس کانفرنس بلا کر کہہ رہے ہیںکہ جے امت شاہ کی کوئی غلطی نہیںہے۔ ارے بھائی، تم سرکار ہو، یہ کیوںبھول رہے ہوں؟ آ ل ان آل مودی جی کے لیے یہ الارم بیل ہے۔ آپ اپنا معاملہ صاف کریے، آپ جس سد بھاؤنا کے ساتھ پاور میںآئے ہیں، اس کو برقرار رکھیے۔
افراد کی پرواہ مت کریے۔ جو آپ نے وعدے کیے تھے۔ ان میں کچھ پورے ہوئے ، کچھ نہیںہوئے۔سب وعدے پورے بھی نہیںہوسکتے۔ آپ نے کہا تھا کہ روپیہ غیرممالک سے آئے گا،لیکن نہیںآیا۔ وہاںکے قانون ہیں، اس میںآپ کیا کریںگے؟ آپ نے کوشش کی ، آپ کوشش چالو رکھیے، لیکن تلخیاں پھیلانا،لوگو ںمیںدوریاںبڑھانا اور مذہب کی بنیاد پر ہندومسلمان میںفاصلے بڑھانا، اس سے ملک کا فائدہ نہیںہوگا۔ آج بھی مودی جی انڈیا کے لیڈر ہیں اور ڈیڑھ سال تو ہیں ہی۔ جاگ جائیے، ماہر اقتصادیات کا کام ان کے اوپر چھوڑ دیجئے۔ آپ نے فنانس میںلیڈر شپ دکھائی، جہاںضرورت نہیںتھی، وہ آپ کا سبجکٹ نہیںہے۔ نوٹ بندی ہو، چاہے جی ایس ٹی ہو، وہ ماہر اقتصادیات کا کام ہے۔
آپ سیاسی لیڈر شپ دکھائیے۔ ہار جیت چھوڑئے۔ جیسے کانگریس راج کرتی آئی ہے، کبھی راج میںتھی، کبھی راج میںنہیںتھی، پھر آجاتی ہے۔ 2004 میں کسی نے نہیں سوچا تھا کہ اٹل جی ہاریں گے اور کانگریس پاور میںآجائے گی اور دس سال رہے گی۔ ہمارے جیسے آبزرور نے بھی نہیںسوچا تھا۔ لیکن جمہوریت میںایسا ہوتا ہے۔ یہی ڈیموکریسی کا مزہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *