ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوری پیدا کرنا گجراتیوں کو پسند نہیں

گجرات اور ہماچل پردیش کے انتخابات ہورہے ہیں۔ ہماچل پردیش میں 9 نومبر کو اور گجرات میں 9اور 14 دسمبر کو ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ جب انتخابات آتے ہیں تو سبھی پارٹیاں اپنی اپنی باتیں کہتی ہیں۔ ان میں کچھ مبالغہ آرائیاں ہوتی ہیں، کچھ ایک دوسرے پر الزام لگاتی ہیں۔ گجرات میں گجرات کے لوگ اور پارٹی کے لوگ تشہیر کریں، وہاںتک ٹھیک ہے لیکن اس بار بی جے پی نے یوگی آدتیہ ناتھ کو گجرات بھیجا۔ وہ اترپردیش کے انتخابات جیتے ہیں۔ وہ کیسے جیتے ہیں، وہ انتخابات ٹھیک تھے یا نہیں، اسے لے کر کئی سوالات ہیں۔لیکن اسے چھوڑ دیجئے،وہ جیتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہیں۔ان کو گجرات بھیجا گیا۔ ان کی میٹنگ سے لوگ کیوں اٹھ کر جارہے تھے؟اس لئے کہ یو پی میں آپ ہندو- مسلم ،بابر، اکبر یا تاج محل پر سوالیہ نشان لگا سکتے ہیں ،لیکن گجرات میں اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔
کوئی ملک اگر اپنے ماضی کو سنوار نہیں سکتا تو وہ اپنے مستقبل کو بھی سنوار نہیں سکتا ہے۔ ہندوستان کا بہت ہی قابل فخر ماضی رہا ہے۔ اگر رامائن، مہا بھارت اور دیگر گاتھائیں ہیں ،ان کی تاریخی سچائی پر شک کرتے ہوئے انہیں الگ بھی کر دیں، تو بھی ہندوستان کی تاریخ قابل فخر ہی رہے گی۔ ہندو یا مسلمان کی نظر سے اسے دیکھیں گے تو آپ کو فخرمحسوس نہیں ہوگا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان دنیا کے دوسرے ملکوں کے مسلمانوں سے الگ ہیں، کیونکہ وہ یہیں کے ہیں، عرب کے نہیں ہیں۔ آج میں اپنا مذہب بدل سکتا ہوں۔ میں ہندو سے عیسائی بن سکتا ہوں، لیکن یوروپین تو نہیں بن سکتا۔ ہندو سے میں مسلمان بن جائوں گا لیکن عربی تو نہیں بن سکتا ۔یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جو ہندوستانی ہے، وہ ہندوستانی ہی ہے۔ اس کا مذہب کیا ہے؟وہ کیا کھانا کھاتا ہے؟اس کے سیاسی نظریات کیا ہیں؟یہ سب بہت چھوٹی باتیں ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی ایسا ملک نہیں ہے، جہاں لیفٹسٹ پارٹیوں یا کمیونسٹ پارٹیوں کو جمہوریت میں اعتماد ہو اور جمہوری طریقے سے انتخابات لڑ کر اقتدار میں آتے ہوں۔ اس معاملے میں ہندوستان ایک انوکھا ملک ہے۔اپنی اس طاقت کو سنوارنا ہے، توڑنا نہیں ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ جیسے لوگ تاج محل پر سوال کھڑے کر رہے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی تعلیم میں کہیں نہ کہیں کمی ہے۔ تاج محل کیا ہے، وہ سمجھ ہی نہیں پائیں گے۔ تاج محل دیکھنے زیادہ ہندو جاتے ہیں یا مسلمان؟ ظاہر ہے، زیادہ ہندو جاتے ہیں، کیونکہ ان کی تعداد زیادہ ہے۔ تاج محل ملک کا ایک زیور ہے ۔اپنے ملک میں جتنے غیر ملکی سیاح آنے چاہئے، اس کے پانچ فیصد بھی نہیں آتے ہیں۔ لیکن جو بھی آتے ہیں، ان میں سے کم سے کم 50فیصد تاج محل کی وجہ سے ہی آتے ہیں۔

 

 

 

 

 

آپ انتخابات جیتئے ، اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن یہ کوشش مت کیجئے کہ کسی کو آپ گالی دینے کے لئے کھڑا کر دیں۔ ایک سنگیت سوم صاحب ہیں، وہ گالی دے رہے ہیں۔ گالی گلوچ یا نازیبا زبان سے ہندوتو کا کوئی بھلا نہیں ہوگا۔ میں سناتنی ہندو ہوں۔ میں ہندو دھرم کی ہر بات میں یقین رکھتا ہوں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ سنگیت سوم جیسے لوگ سناتنی ہندو ہیں۔وہ سیاسی ہندو ہیں۔ وہ ہندوئوں کا ووٹ بینک بناناچاہتے ہیں۔ جیسے بی جے پی کے لوگ کانگریس پر الزام لگاتے ہیں کہ کانگریس مسلمانوں کا استعمال ووٹ بینک کی طرح کرتی ہے۔ اس بات میں سچائی ہوسکتی ہے، کیونکہ اگر کانگریس نے مسلمانوں کا بھلا کیا ہوتا تو 70 سالوں میں مسلمانوں کی حالت ٹھیک کیوں نہیں ہوئی؟وہ آج بھی غریب ہیں۔ پسماندہ مسلمانوں کی تو بات ہی چھوڑ یئے ۔یہ کیوک فکس معاملہ نہیں ہے، اس لئے یہ لوگ جو کر رہے ہیں (چاہے یہ ان کے خاص لوگ ہوں یا حاشئے کے عناصر ہوں یا پھر آر ایس ایس سے ہدایت ملتی ہو)، اس سے کسی کا بھلا نہیں ہونے والا ہے۔ ملک کا تو بالکل نہیں ہوگا۔ ہندو دھرم کا تو بالکل ہی نہیں ہوگا۔
اس میں ایک اور ستم ظریفی ہے۔میری رائے میں ہندو درشن (اور اس میں پارٹنر ہو سکتا ہوں کیونکہ میں ہندو خاندان میں پیدا ہوا ہوں ) اتنا وسیع ہے کہ سنگیت سوم جیسے دو چار لوگ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، بدنام بھی نہیں کر سکتے۔ اس کی تخلیق نو تو ناممکن ہے۔ آپ کون ہیں اس کی تخلیق نو کرنے والے ؟میں سمجھتا ہوں کہ مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو بھی ہماری تنقید سے بلند ہیں۔ آج یہ الیکشن جیتنے کے لئے نہرو کے خلاف بولتے ہیں۔ نہرو ایک ایسے شخص تھے، جو دس سال جیل میں رہے۔ انہیں پتہ نہیں تھا کہ ہندوستان آزاد ہوگا کہ نہیں، وزیر اعظم بننے کا خیال تو بالکل ہی نہیں تھا۔ ٹویٹر پر لوگ لکھتے ہیں کہ نہرو خاندان کا ہر آدمی بغیر محنت کئے وزیر اعظم بنا دیا گیا ہے۔یہ کیسے انپڑھ لوگ ہیں؟کہاں آگئے ہیں ہم لوگ؟
آپ الیکشن کو ایک لکشمن ریکھا مان لیجئے۔ چونکہ آپ کو انتخابات جیتنا ہے اور ووٹروں کو متاثر کرنا ہے، اس لئے ذاتیات پر حملوں کو یہیں تک محدود رکھئے۔ لیکن تاریخ کو جھٹلانا اور ایسی باتیں کرنا، جیسے ہندوتو کی تخلیق آپ نے ہی کی ہے،یہ غلط ہوگا۔
ایک ا ور بات کہنا چاہتاہوں۔سیکولرزم ،سوشلزم اور ڈیموکریسی ،یہ تین الفاظ آج کل رائج نہیں ہیں۔ لوگ ناراض ہیں۔ سیکولر اور سوشلسٹ لفظ انہیں پسند نہیں ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ہندو مذہب سیکولر ہے ۔ہندو مذیب سوشلسٹ ہے۔ ہندو مذہب ڈیموکریٹک ہے۔ اب آپ پوچھیںگے کہ میں کیا بول رہاہوں؟ ہم نے جو ہندو خاندان دیکھے ہیں، ان میں بڑے بزرگوںکا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔ لیکن جب بزرگ فیصلے لیتے ہیں توبچوں اور چھوٹوں سے پوچھ کر لیتے ہیں۔ ووٹ نہیںہوتا،لیکن یہ ایک ڈیموکریٹک طریقہ ہے۔ سوشلزم میںسب لوگ مل بانٹ کر رہتے ہیں۔ مشترکہ خاندان کا سسٹم سوشلزم نہیںتو پھر اور کیا ہے؟ کس کے کتنے بچے ہیں؟ خاندان میںکسی کے دو بچے ہیں،کسی کے پانچ بچے ہیں لیکن سب کو برابر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ مشترکہ خاندان سوشلزم کی ایک مثال ہے۔ ہندو مذہب تو سیکولر ہے۔ پانچ ہزار سال پرانا مذہب ہے۔ اس میںیہ بولنے کی گنجائش نہیںہے کہ جو بت پرست ہیں،وہ ٹھیک ہیں اور جو بت پرست نہیںہیں، وہ ٹھیک نہیںہیں۔ یہ تو بعد کے مذہبوں میںآیا کہ بت پرستی خراب ہے۔ یہ ان کا مسئلہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

پہلے آپ طے کیجئے کہ آپ کے آدرش کیا ہیں؟ کیا آپ کا آدرش پاکستان بننا ہے یا آپ کا آدرش تنگ بننا ہے یا پھر آپ کاآدرش اپنے ملک کی ترقی کرنا ہے جو دنیا میں ایک مثال بنے،آپ کا ہدف کیا ہے، یہ بہت اہم ہے۔ میںسمجھتا ہوں کہ اس میں ہم لوگ کہیں بھٹک گئے ہیں۔ پچھلے تین سال میں بھٹک گئے ہیں۔ آئین بنانے والے بابا صاحب امبیڈکر ہوں، چاہے جواہر لعل نہرو ہوں، چاہے مولانا آزاد ہوں، انھوںنے ایک فلسفہ دیا تھا جو لمبے عرصے تک سب کو ساتھ میں لے کر چلے گا۔ بیچ بیچ میں غلطیاں ہوئیں۔ اندرا جی نے آئین کی 42 ویںترمیم کی، اس سے بھی نقصان ہوا۔ 44 ویں ترمیم میں، اسے ٹھیک کر لیا گیا۔ جمہوریت میںایسا ہوتا ہے۔ ایک بار جو صورت حال آتی ہے،تو اس صورت حال سے عوام کو نمٹنا پڑتا ہے۔ لیکن اب تین سال سے جو ہورہا ہے، اس میںکہیں کسی کو غلط فہمی ہے۔ اگر آر ایس ایس ایس ایسا سوچتا ہے کہ وہ ہندوستان پر اپنے تخیل کا ہندو فلسفہ تھوپ دے گا، تو وہ غلط فہمی میںہے۔ ہندو درشن اتنا وسیع ہے کہ ان کا بھی مت گنا جائے گا۔ ویر ساورکر ، جن کو یہ لوگ اپنا سب سے بڑا لیڈر مانتے ہیں،وہ کہتے تھے کہ ہندوتو کلچرل نیشنلزم ہے۔ انھوں نے کبھی اس کو مذہب سے نہیںجوڑا۔ وہ خود ناستک تھے۔ ویر ساورکر مندر نہیںجاتے تھے۔ بھگوان کی پوجا میںانھیںیقین نہیںتھا۔
اب یوگی آدتیہ ناتھ اس کو دوسری طرف لے جارہے ہیں۔ ایودھیا میںپہلی بار دیوالی اس وقت منائی گئی تھی، جب رام بنواس سے واپس آئے تھے۔ را م جس ایودھیا میںواپس آئے تھے،وہ ایودھیا ہے کیا؟ اس کا کوئی ثبوت ہے؟ بنارس میں دیوالی کی رات ایک لاکھ دیے جلتے ہیں تو ایودھیا میںیوگی آدتیہ ناتھ نے ڈیڑھ لاکھ دیے جلائے۔ کیا وہ نریندر مودی سے مقابلہ کررہے ہیں؟
اترپردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ پر مودی جی کو نظر رکھنی چاہیے۔ اگر اترپردیش میںگڑبڑ ہوگئی تو ملک کو سنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔ اتر پردیش،بہار اور مہاراشٹر میںفیصد کے لحاظ سے مسلمانوںکی زیادہ تعداد ہے۔ مدھیہ پردیش اور ہریانہ میںبہت کم ہے۔ گجرات کے مسلمان کاروباری ہیں۔ ان میںخاص طور سے کچھی میمن یا بوہرے شامل ہیں۔ وہاںآپس میںا تنی نفرت نہیںہے۔اس لیے جب یوگی یہاںآئے تو ان کی سبھا میںلوگوںکی موجودگی کم تھی۔ ہندو مسلم کے بیچ میںدوری پیدا کرنا گجراتیوںکو بالکل پسند نہیںہے۔ اس لیے ملک کو سنبھالیے۔
راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے ایک بے ڈھنگا بل لے کر آئیں۔ کوئی بھی شخص اسے دیکھ کر کہے گا کہ یہ آئین کے خلاف ہے۔ اس بل کے مطابق ، پولیس تفتیش نہیں کرے گی۔ تفتیش کے بعد پولیس کہے کہ سچائی نہیںہے تو یہ الگ بات ہے۔ تفتیش کرنے کے لیے سرکار کا حکم چاہیے، یہ بالکل غلط ہے۔ عوام نے اس کی مخالفت کی۔ سرکار کو عقل آئی اور اس نے اس بل کوسیلیکٹ کمیٹی کوبھیج دیا۔ مجھے لگتا ہے کہ معاملہ ختم ہوا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کا بل لانے کی سرکار کی ہمت کیسے ہوئی؟ یہ سب اپنے آپ ہورہا ہے یا امت شاہ کے اشارے پر ہو رہا ہے۔ میںنہیںمانتا کہ مودی جی کا ان باتوںکے لیے اشارہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ سرکار چلارہے ہیں اور خود بھی جانتے ہیںکہ سرکار چلانے میںکتنے مسائل آتے ہیں؟
میںہندو مذہب کے خلاف ہو ہی نہیںسکتا لیکن کوئی بھی کام عوام کو ساتھ لے کر کریے۔ آپ تفریق پھیلاکر مسلمانوںکو کچل کر انھیںذلیل کر کے اس ملک کو بڑا بنادیںگے تو ایسا نہیںہوسکتا۔ ملک اس طرح کبھی بڑا نہیںبنے گا۔ کوشش کرکے دیکھ لیجئے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *