بی جے پی کا دارو مدار پی ایم مودی کے 30اجلاس پر

گجرات انتخابات لوگوں کی زبان پر ہیں۔ کانگریس نے پوری طاقت وہاں پر جھونک دی ہے اور بی جے پی بھی اپنی پوری توانائی گجرات انتخابات میں لگانے جارہی ہے۔ کانگریس کی تشہیری مہم نے بی جے پی کو تھوڑا تو پریشان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نریدنر مودی کے گجرات میں تابڑ توڑ 30 اجلاس کی تیاری بی جے پی نے کی ہے۔ اب گجرات انتخابات میں گجرات سرکار کے کام، گجرات سرکار کی کابینہ، گجرات سرکار کے وزیر اعلیٰ ایشو نہیںہیں۔ وہاں پر پہلا بڑا ایشو نریندر مودی کی شبیہ ہے۔ اگر گجرات انتخابات میں بی جے پی کوکم سیٹیں ملیں یا یہ انتخابات ہار گئی یا 10 سیٹوں کے تناسب سے جیت پائی تو نریندر مودی کی سارے ملک میں سبکی ہوگی ۔ بی جے پی میںہمارے ذرائع بتا رہے ہیں کہ اسی وجہ سے امیت شاہ نے نریندر مودی کو30 اجلاس کرنے کے لئے تیار کیا۔ مطلب گجرات کے ایک ضلع میں وہ دو سے تین بار جائیںگے۔ ایسا کیوں ہورہاہے؟کیوں بی جے پی کو گجرات میں اپنے کام پر بھروسہ نہیں رہا؟
دوسرا جھٹکا الیکشن کمیشن نے بی جے پی کو دیا۔ بی جے پی نے بہت سے تشہیری مواد چھپوا رکھے تھے، جس میں کانگریس کے خلاف مہم چھیڑ نے کی بات کی تھی۔ اس میں’ پپو‘ لفظ کا استعمال کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ’ پپو‘ لفظ کا استعمال نہیںکرسکتے ہیں۔ وہ پورے مواد بیکار ہو گئے۔ اس پیسے کا حساب بھی الیکشن کمیشن لے گا۔اب جلد ی جلدی نئے تشہیری مواد تیار کرنے کی کوشش گجرات بی جے پی کر رہی ہے۔
لیکن مزیدار بات یہ ہے کہ گجرات کا الیکشن اس ایشو پر نہیں ہو رہاہے کہ کانگریس کیا کام کرے گی یا بی جے پی نے اب تک کیا کام کئے اور آگے کیا کرے گی؟گجرات کے انتخابات ہورہے ہیں سیکس سی ڈی کو لے کر۔ اس سیکس سی ڈی میں سیکس ہے ہی نہیں، بلکہ صرف سی ڈی ہے۔ لیکن بی جے پی نے اسے میڈیا کے ذریعہ سیکس سی ڈی کہہ کر تشہیر کی۔سی ڈی میں اگر ہاردک پٹیل اکائیوں کے ساتھ ہے، بیٹھ کر باتیں کر رہے ہیں۔ کسی ہوٹل کے کمرے میں یا کسی ریسٹورنٹ میں تو اس میں غلط کیا ہے؟ساتھ میں اور بھی لوگ ہیں۔کسی نے کپڑے نہیں اتارے،کوئی فحش حرکت نہیں کی۔ پھر بھی اسے سیکس سی ڈی کہہ کر تشہیر کی جارہی ہے۔

 

 

 

 

 

جانکار بتاتے ہیں کہ آج جیسی ٹکنالوجی ہے، اس طرح کی کلپ بنانا بہت آسان کام ہو گیا ہے۔ میں نے گجرات کے عام لوگوں سے پوچھا کہ کیا گجرات انتخابات میں اس کا کوئی اثر پڑے گا۔لوگوں نے کہا کہ اس کا اثر تو تب پڑے گا جب وہ سچ ہوتی۔ ہاردک پٹیل پہلے ہی اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ بی جے پی میری کردار کشی بھی کرسکتی ہے اور پاٹیدار سماج سے کچھ لوگوں کو بھٹکانے کی کوشش کرسکتی ہے۔ لوگ بھٹکے بھی ہیں۔ لگ بھگ 12سے 16 فیصد لوگ،میری جانکاری کے حساب سے، ہاردک پٹیل کی اس سی ڈی سے تھوڑے پریشان ہوئے ہیں اورانہوں نے یہ مانا ہے کہ ہم ہاردک پٹیل کو ووٹ دیں یا نہ دیں، اسے لے کر وہ پس و پیش میں پڑ گئے ہیں۔ کچھ لڑکیوں میں یہ بات آئی ہے کہ ہاردک پٹیل ایسے ہیں کیا؟سوال ہے کہ کیا بی جے پی یہ انتخاب سیکس سی ڈی کی بنیاد پر لڑنا چاہتی ہے۔
میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ سیکس سی ڈی کیوں آتی ہے؟بی جے پی کے بہت بڑے لیڈر کے خلاف جے پور میں ایک سیکس سی ڈی آئی تھی۔ اس سی ڈی کی سرکار نے جانچ کرائی۔ جانچ میں پتہ چلا کہ یہ سیکس سی ڈی نقلی تھی۔ بڑی ہوشیاری سے کسی ایکسپرٹ نے اسے بنایا تھا۔ لیکن کب پتہ چلا ،جانچ کے بعد۔اس بیچ میں کیا ہوا؟اس انتہائی سینئر بی جے پی لیڈر کا کیریئر چوپٹ ہو گیا۔ بی جے پی تو سمجھ رہی ہوگی کہ میں کس کی طرف اشارہ کررہا ہوں۔ اس کا کیریئر چوپٹ ہو گیا، اس سے استعفیٰ لے لیا گیا اور یہ وہ لیڈر ہیں، جس کی وجہ سے وزیر اعلیٰ نریندر مودی ممبئی میں ہونے والے بی جے پی کے نیشنل ورکنگ میں شامل نہیں ہو رہے تھے۔ انہوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ جب تک یہ لیڈر ممبئی میںرہے گا یا سیشن میں رہے گا،میں سیشن میں نہیں آئوں گا ۔ اس لیڈر کو وہاں سے ہٹایا گیا۔ بی جے پی سے اس لیڈر کو ہٹایا گیا۔ وہ پارٹی میں تنظیم سکریٹری تھے۔ جب یہ پتہ چل گیاکہ سیکس سی ڈی جھوٹی ہے، تب بھی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی ہمت نہیں ہوئی کہ اس آدمی کو دوبارہ سنگھ میں یا بی جے پی میں اسی عہدہ پر واپس لایا جائے۔ سنگھ چیف اور سنگھ کے لیڈر اس لیڈر سے ملتے تو ہیں، چوری چوری چپکے چپکے لیکن اسے کوئی عہدہ یا کوئی خاص کام دینے کی ہمت ابھی نہیں جٹا پارہے ہیں۔ لیکن آج بھی وہ لیڈر جہاں جاتاہے، ہزاروں کی بھیڑ تو جاتی ہے۔ جب اس کا جنم دن ہوتاہے تو بی جے پی کے وزیر،ممبران پارلیمنٹ ،ایم ایل اے ، کارکنان کا ہجوم ان کے گھر نارتھ اوینیو پہنچ جاتاہے۔
ہاردک پٹیل کو لے کر 2 سی ڈی آئی ہے۔میں سی ڈی سے متعلق تکنیکی سوال کے بجائے سیاسی سوال اٹھانا چاہتا ہوں۔ اس سی ڈی نے ہاردک پٹیلکو ملک میں مشہور کر دیا۔ جو ہاردک پٹیل ایک سیاسی لیڈر کے طور پر جانے جاتے تھے، اب ایک ایسے نوجوان کے طورپر بھی لوگوںکے سامنے آئے ہیں،جن کی تصویر پلے بوائے کی ہے۔ بی جے پی کچھ ایسا ہی کرنا چاہتی ہوگی لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوا۔

 

 

 

 

 

 

ہمارے یہاں جیسے جیسے ٹکنالوجی بڑھی ہے، ایک نئی چیز شروع ہوئی ہے کہ آپ کسی کا چہرہ جوڑ کر کسی کی بھی کردار کشی کر سکتے ہیں۔ ہم نے آج سے چار سال پہلے ایک لیڈ اسٹوری کی تھی’’ چوتھی دنیا‘‘ میں ۔ہم نے موساد کو لے کر کے دو تین بڑی اسٹوری کی تھی’’ چوتھی دنیا‘‘ کے 2010 کے شمارہ میں اور جب ہم نے موساد کو لے کر کے اسٹوری کی، تب میرے پاس کچھ خبر آئی۔ اب چونکہ آپ جانتے ہیں کہ میڈیا کے لوگ اور جو سمجھدار صحافی ہیں، ان کے روابط ہوتے ہیں کہ کہاں کیا کون جاسوس کیا کررہا ہے۔ ہمارے پاس خبر آئی کہ موساد کے لوگ ایک پلان بنا رہے ہیں ۔میں چونکا کہ کیا پلان کر رہے ہیں۔ہم نے پتہ لگایا ۔پتہ چلا کہ کچھ لوگ ہیں جو یہ پلان کررہے ہیں کہ چونکہ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے اس ملک میں موساد کی سرگرمیوں کا خلاصہ کیا ہے،اس لئے وہ لوگ ہمیں سیکس اسکینڈل میں پھنسانے کی اسکیم بنا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ فوراً اس اسٹوری کو کرنا چاہئے، ہم نے وہ اسٹوری بھی کی اور شاید اس وجہ سے ان کا پلان تھم گیا۔
آج ٹکنالوجی کے ذریعہ لوگ اتنا بڑا جرم اور پاپ کررہے ہیں جس کے بارے میں کیا کہا جائے۔ ہم نے ایک اسٹوری کی تھی پورنو گرافی کو لے کر کہ کیسے یہ سماج میں رشتوںکو تار تار کر رہاہے۔لوگ اس کو دیکھ رہے ہیں۔ہم نے اپنے یہاں ریسرچ کرایا تو پتہ چلا کہ یہ تو بہت مزے کی دنیا ہے۔بہت پیسہ بھی ہے لیکن اس میں رشتہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ لوگوںکے دماغ کو کنورٹ کرنے میں،لوگوںکے دماغ کو آلودہ کرنے میں پورن ویب سائٹ کا بہت بڑا حصہ ہے۔یہ کام وہی لوگ کررے ہیں، جو سیکس سی ڈی کے نام پر اسکیم بناتے ہیں کہ کیسے کسی کا خاندان،کیسے کسی کے رشتہ کو ختم کر دیا جائے۔یہ سنگین بات ہے، گجرات انتخابات میں۔ اس سیکس سی ڈی کا کوئی اثر نہیں ہونے والا ہے۔
یشونت سنہا نے 14 نومبر کو گجرات کے ایک ہال میں تقریر کی۔انہیں سننے کے لئے بھاری بھیڑ آئی تھی۔ یشونت سنہا کی اس تقریر کو سب کو سننا چاہئے۔ آپ سب کو سننا چاہئے کہ کیسے ایک سمجھدار سابق وزیر خزانہ صورت حال کا تجزیہ کرتا ہے۔ انہوں نے کوئی الزام کسی کے اوپر نہیں لگایا۔ بس صورت حال سامنے رکھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ کیسی جمہوریت ہے، جہاں پر اگر کوئی اپنی بات کہنا چاہے تو وہ آدمی کا ملک غدار ہو جاتاہے۔ جمہوریت میں تو سب کی آواز اٹھتی ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے۔اس لئے انہوں نے کہا کہ لوک شاہی ہونی چاہئے۔ انہوں نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی سچائی سامنے رکھی ۔ان کی تقریر کہیں ٹیلی ویژن پر شائع نہیں ہوئی ۔
ایک اور چیز میں اپنے قارئین کے دھیان میں لانا چاہتا ہوں۔ ہم نے آج سے پانچ مہینے پہلے رافیل سودے کے اوپر لیڈ اسٹوری کی تھی۔ فرانس سے جو رافیل ہوائی جہاز آرہاہے، اسے لے کر ہم نے ایک لیڈراسٹوری کی تھی۔ کسی لیڈر نے تب کوئی سوال نہیں اٹھایا۔آج خبر آرہی ہے کہ اس رافیل ڈیل کے اندر کیا کیا ہے۔کانگریس آج تلملا کر بول رہی ہے۔ 6 مہینے پہلے اگر بولتی تو شاید اثر ہوتا۔ 5 مہینے کے بعد آج جاکر رافیل ڈیل کو لے کر خلاصہ ہو رہاہے۔ یہ ہے ہمارے ملک کے اپوزیشن کا دماغی دیوالیہ پن، جنہیں موضوع ہی سمجھ میں نہیں آتا۔
بہر حال ہم پھر گجرات پر آتے ہیں اور گجرات پر ہی اپنی بات ختم کرتے ہیں کہ وزیرا عظم کے تابڑ توڑ 30 اجلاس بتاتے ہیں کہ گجرات میں کانگریس نے کچھ کرنے کی کوشش کی ہو یا نہیں لیکن گجرات کے عوام کہیں کچھ ہل گئے ہیں۔ انہوں نے جس پیار اور ہمت کے ساتھ 2012 کا الیکشن جتایا تھا، وہ اس وقت اس موڈ میں نہیں نظر آتے ہیں۔ عوام پھر سے 2012والے موڈ میں آئیں، اس کے لئے وزیراعظم نریندرمودی تابڑتوڑ 30 اجلاس کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔آخری پڑائو کیسا ہوگا، یہ تو جب ووٹ پڑے گا تبھی پتہ چلے گا لیکن ابھی کچھ اسپیڈ بریکر نظرآرہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *